Voice of Asia News

حکومت سنوکر کھیل اورکھلاڑیوں کی سرپرستی کرے سنوکر ورلڈ چمپئن محمد آصف کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو: محمد قیصر چوہان

کامیابی کسی کی میراث نہیں ہوتی یہ کبھی بھی کسی کے بھی قدموں کی باندی بن سکتی ہے نہ یہ پیسے سے خریدی جا سکتی ہے اور نہ غریبی اسکی راہ میں حائل ہوسکتی ہے ،یہ تو قسمت میں لکھی ہوتی ہے جوکوشش اور انتھک محنت کے بعدانسان کی دسترس میں آنے میں ذرا دیر نہیں کرتی اور عموماً یہ غربت کی گود میں ہی جنم لیتی ہے ۔کہتے ہیں نہ کہ ’’ہیرا کوئلے کی کان سے ہی ملتا ہے‘‘ اور ’’کنول کے خوبصورت پھول کو کھلنے کیلئے سرسبز باغوں اور خوبصورت گلستانوں کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘۔اسی طرح بے مثال کامیابی حاصلِ کرنے اور اعلیٰ مقام پر پہنچنے والے اکثر لوگوں کے پیچھے دشوار گذار اور پرُ خار راستے موجود ہوتے ہیں جو انکی محنت اور ثابت قدمی کی گواہی دیتے ہیں ۔بیشک ایسے ہی لوگ کامیابی کے اعلیٰ مرتبے پر پہنچنے کے اصل حقدار ہوتے ہیں۔ایسے ہی باہمت لوگوں میں ایک نیا نام ہمارے سامنے ابھرا جس نے نہ صرف پوری قوم کے دلِ جیت لئے بلکہ پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سنوکر چمپئن محمد آصف نے کسمپرسی کی زندگی گزارنے
کے باوجود اپنے عزم کو زندہ رکھا اور ڈٹے رہے اس مقصد کے حصول کیلئے کہ ایک دن پاکستان کو سنوکرکاورلڈ چمپئن بنائیں گے، درحقیقت ان کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ ایک مشکل ترین عزم تھا مگر کہتے ہیں نہ کہ ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہوتلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے۔محمد آصف نے پہلی بار سنوکر کی ورلڈ چمپئن شپ 2012 میں بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں جیتی تھی جبکہ دوسری بار انہوں نے ترکی کے شہر انتالیہ میں ہونے والی ورلڈ چمپئن شپ 2019میں فلپائن کے جیفری روڈا کو 5-8 فریم سے شکست دی ۔محمد آصف نے ایشیئن سکس ریڈ بال چمپئن شپ کا انفرادی ٹائٹل ایک بار اور ٹیم چمپئن شپ ٹائٹل دو بار جیتا ہے تاہم اتنی زیادہ کامیابیوں کے باوجود محمد آصف حکومتی سرپرستی سے محروم رہے ہیں اور ماضی میں حکومتی سپورٹس پالیسی کی بنیاد پر انہیں جو مالی انعام ملنا چاہیے تھا اس کی پوری رقم بھی نہیں مل سکی۔سنوکر ان چار کھیلوں میں شامل ہے جن میں پاکستان عالمی چمپئن بنتا رہا ہے لیکن برائے نام سرکاری گرانٹ کے سبب پاکستان بلیئرڈ اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن اپنی کوششوں سے وسائل اکٹھے کر کے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کیلئے بھجتی رہی ہے۔گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیا‘‘ نے دوسری مرتبہ سنوکرکا ورلڈ چمپئن بننے والے محمد آصف سے جو گفتگو کی وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال:آپ کو دوسری مرتبہ سنوکر ورلڈ چمپئن بن کر کیسا لگ رہا ہے؟
محمد آصف:جب میں نے سنوکر کھیلنا شروع کیا تو کبھی بھی سنوکر کا ورلڈ چمپئن بننے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔کیونکہ ان دنوں تو میرے پاس سنوکر کی اچھی کیو(سٹک )خریدنے کیلئے پیسے تک نہیں تھے۔جیسے جیسے میرے کھیل میں بہتری آتی گئی اور لوگوں نے حوصلہ افزائی شروع کی تو میرے دل میں بھی محمد یوسف کی طرح سنوکر کا ورلڈ چمپئن بننے کی خواہش نے جنم لیا۔ اورپھر میں پاکستان کو سنوکر کا ورلڈ چمپئن بنوانے کا خواب آنکھوں میں سجا کر مزید محنت شروع کردی ۔جب میں پہلی مرتبہ سنوکر کا ورلڈ چمپئن بنا تھا تو خوشی سے آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔اب جب میں نے دوسری مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا ہے توبھی ایسی ہی صورتحال تھی۔میں اس کامیابی پر اﷲ کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔
سوال:پاکستانی قوم کے ہیرو تو آپ بن چکے ہیں اور یقینا لوگ اپنے ہیرو کے خاندانی پس منظر کے بارے میں ضرور جاننا چاہیں گے؟
محمد آصف:میرا تعلق فیصل آباد سے ہے،میرے والد کا نام محمد انور ہے،ہم 9 بہن بھائی ہیں 4 بھائی اور5 بہنیں ان میں میرا نمبر ساتواں ہے ،میری تعلیم انڈر میٹرک ہے، 2002 میں میری شادی گھر والوں کی پسند سے ہوئی تھی ۔
سوال:آپ نے بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں برطانوی کیوئسٹ گیری ولسن کو فائنل میں شکست دی تھی جبکہ دوسری بار آپ نے ترکی کے شہر انتالیہ میں ہونے والی ورلڈ چمپئن شپ میں فلپائن کے جیفری روڈا کو شکست دی کیا آپ کو یقین تھا کہ آپ ان مضبوط حریفوں کو شکست دے کر سنوکر کے کھیل کے ورلڈ چمپئن بن جائیں گے؟
محمد آصف:دونوں مرتبہ جب فائنل میں پہنچا تو یقین سو فیصد نہیں تھا کہ میں فائنل میچ جیت لوں گا۔ لیکن میں نے اﷲ سے فتح حاصل کرنے کی بہت دعائیں کی تھیں اس لیے پوری امید تھی کہ میں فائنل جیت لوں گا۔ صرف فائنل ہی نہیں جب میں یہاں سے گیا تھا تب سے ہی میں نے سوچ لیا تھا کہ میں اپنی بیسٹ پرفارمنس دونگا، میں نے ایسا ہی کیا پوری ایمانداری سے محنت کی اور اﷲ نے میرا ساتھ دیا ،اور کامیابی میرا مقدر بنی میں بہت خوش ہوں کہ میں ملک کیلئے کچھ ایسا کرپایا جو تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔دوسری مرتبہ سنوکر کا ورلڈ چمپئن بن کر عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے پر ہمیشہ فخر رہے گا ۔ورلڈ چمپئن بننے کے بعد خوشی کے آنسو میری آنکھوں میں آگئے کہ خدا ہماری لاکھ کوتاہیوں کے بعد بھی کس طرح اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے رکھتا ہے۔میں نے اپنی پہلی فتح کو پاکستانی قوم کے نام کیا تھا جبکہ اپنی دوسری فتح کو میں نے کشمیری عوام کے نام کیا ہے۔
سوال:آپ اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دیتے ہیں؟
محمد آصف: اﷲ ہی سب دینے والا ہے ،اور میرے والدین نے میرے لئے بہت دعائیں کیں ہیں یہ سب میرے والدین کی ہی دعاؤں کا نتیجہ ہے کیونکہ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اﷲ اپنی رحمت کی برسات مجھ پہ کرتا بے شک یہ میرے والدین کی دعاؤں کی ہی قبولیت ہے۔
سوال:جب آپ پہلی پرتبہ سنوکر ورلڈ چمپئن بنے تھے تو یاد ہے کہابتداء میں آپ کوچمپئن شپ کیلئے نہیں بھیجا جا رہا تھا مگر بعد میں یہ ممکن ہو ہی گیا تو ’’نہیں‘‘ سے ’’ہاں‘‘ کا یہ مرحلہ کیسے طے ہواتھا؟
محمد آصف: بلغاریہ نہ جانے کی وجہ یہی تھی کہ پاکستان سپورٹس بورڈ سے فنڈز ریلیز نہیں ہو رہے تھے کافی کوشش کی مگر ممکن نہ ہوا تو ہماری سنوکر فیڈریشن کے صدر عا لمگیر شیخ صاحب نے اپنے دوستوں اور ایسوسی ایشن کے کمیٹی ممبرز سے مل کر اسے ممکن بنایا آپ یوں سمجھ لیں کہ مجھ کو چندہ جمع کر کے بلغاریہ کے شہر صوفیہ بھجوایا گیا تھا۔
سوال:اس وقت جب ہر لڑکا کرکٹ کے گلیمر کے پیچھے بھاگ رہا ہے تو آپ نے سنوکر کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
محمد آصف: اتنے بڑے لیول پر کھیلوں گا یہ تو میں نے سنوکر کے بارے میں بھی نہیں سوچا تھا ،بس شوقیہ کھیلتا تھا اور کھیلتے کھیلتے اتنا اچھا کھیلنے لگا کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا ،خود تو انسان کو اپنے بارے میں اتنا پتہ نہیں ہوتا یہ تو سامنے والا بتا سکتا ہے مجھے بھی میرے دوستوں نے کہا کہ تم بہت اچھا کھیلتے ہو انٹرنیشنل لیول پر بھی کھیل سکتے ہو بس سب کے کہنے سے میرا شوق بڑھتا گیا اور میری گیم میں نکھار آتا گیا پہلے میں پاکستان چمپئن بنا ، ٹرائل میچز کھیلے پھر پاکستان کی سطح پہ کھیلا کامیاب ہوتا رہا تو باہر کے ٹور کیلئے سلیکٹ ہوا اور اﷲ نے اس میں مجھے کامیابی عطا کی یہی میرے لئے بہتر راستہ تھا شاید کسی اور گیم میں اتنا کامیاب نہ ہوتا جتنا سنوکر میں ہوں۔
سوال:وہ کونسی جگہ تھی جہاں سے آپ نے اپنے کھیلنے کی ابتداء کی اسی یوں کہہ لیں کہ کس جگہ پہ آپ جیسے ہیرے کی تراش خراش ہوئی؟
محمد آصف: بہت شکریہ جی یہ آپ لوگوں کی محبت ہی ہے جس نے مجھ جیسے عام انسان کو ہیرا بنایا۔میں ابتداء میں اپنے دوست وقار ملک کے کلب میں کھیلا کرتا تھا وہیں سے یہ شوق پروان چڑھا اس کے بعد لاہور آکر سنوکر کھیلتا رہا۔ سنوکر کے کھیل میں میرے اُستاد شاہد صاحب ہیں۔
سوال:ایک شخص کی کامیابی کے پیچھے بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس کا مقصد پورا کرنے کیلئے اپنے بہت سے حقوق اور ذمہ داریوں سے اسے بری الذمہ کردیتے ہیں آپ کیلئے کن کن لوگوں نے ایسا کیا؟
محمد آصف: جی بالکل ایسا ہی ہے میرے ساتھ میرے گھر والوں کی فُل سپورٹ رہی 1999میں میں نے کھیلنا شروع کیا میرے گھر والوں نے بہت سی ذمہ داریاں میرے شوق کو دیکھتے ہوئے نہیں دالی مجھ پہ میرے بھائیوں نے میرے حصے کے بہت سے کام کرکے مجھے اس پر فوکس کرنے کیلئے ریلیکس دیا جبکہ میرے گھر میں فنانشل پرابلم تھیں ، پھر شادی کے بعدتو کھیل اور گھر میں توازن رکھنا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے نہ انسان کھیل کی طرف توجہ دے سکتا ہے،نہ گھر کو ٹائم دے پاتا ہے اور معاشی مسائل سونے پر سہاگے کا کام کرتے ہیں اس لئے بیگم کا بھی بہت ساتھ رہا اس نے بھی کبھی مجھے مسائل میں الجھانے کی کوشش نہیں کی حالانکہ میں والدین ، بہن بھائیوں ،بیوی یہاں تک کہ بچوں کو بھی وقت نہیں دے پاتا تھا ، سنوکر لیٹ نائٹ کا کھیل ہے مگر میں دن میں زیادہ ٹائم دیتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ12بجے تک گھر چلا جاؤں ، ہمارے یہاں جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور سب نے میرے ساتھ بھر پور تعاون کیا اگر یہ سب ایسا نہ کرتے تو میں کبھی اتنا ریلیکس ہو کر نہیں کھیل پاتا۔
سوال:آپ نے کہا آپ کے معاشی حالات بھی ٹھیک نہیں تھے اور بظاہر سادہ نظر آنے والے اس کھیل میں بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے تو آپ یہ کیسے مینج کرتے تھے؟
محمد آصف: ابتداء میں تو میرے بھائیوں نے ہی سپورٹ کیا تھا میں نے کافی مشکلات میں اپنے شوق کو پروان چڑھایا ہے بس گھر والوں کی سپورٹ سے اﷲ نے یہاں تک پہنچادیا ۔
سوال : آپ کے بھائی کیا کام کرتے ہیں؟
محمد آصف: ا ن کااپنا کاروبار ہے دال ماش تیار کرنے کا ،غلہ منڈی سے لے کر اس کو تیار کرتے ہیں اور پھر اسے غلّہ منڈی میں بیچ دیتے ہیں ،شکر اس مالک کا کہ بہت ٹھیک ٹھاک گزارا ہو جاتا ہے۔
سوال: وہ نوجوان جو سنوکرکھیلنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی معلومات کیلئے بتائیں کہ اس کھیل میں اندازاً کتنا خرچ آتا ہے؟
محمد آصف: جب ایک نارمل پلیئر ہوتا ہے تو اس کوخود خرچ کرنا پڑتا ہے بہت زیادہ تو نہیں مگر شوق کی انتہا جتنی ہوگی خرچہ بھی اتنا ہی ہوگا مگر جب پلیئر اچھا کھیلنے لگتا ہے تو پھر کلب والے بھی سپورٹ کرنے لگتے ہیں وہ ایک ٹیبل دے دیتے ہیں2 سے 3 گھنٹے کھیلنے کیلئے لیکن ایسا بہت اچھا کھیلنے پر ہی ہوتا ہے دوسری صورت میں پیسہ ہی خرچ ہوتا ہے۔
سوال: اب آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟
میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر ایک سنوکر کلب بنایا ہواہے جہاں سے آمدنی کا سلسلہ ہوجاتا ہے۔ پھر سینٹرل کنٹریکٹ بھی چل رہا ہے ایسوسی ایشن کے ساتھ وہاں سے بھی آمدنی ہوتی ہے۔
سوال:کرکٹ اور سنوکر دو ایسے کھیل ہیں جن پر سٹہ لگتا ہے آپ کو کبھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہوا؟
محمد آصف: دیکھیں جی میں نے آپ کو بتایا کہ میں گھر والوں کی سپورٹ اور کلب کی قلیل آمدنی میں بھی گذارا کر لیتا تھا مشکل ضرور تھا مگر نا ممکن نہیں تھا ، میں نے کبھی سٹہ وغیرہ کے بارے میں الحمداﷲ نہیں سوچا، دوستوں سے قرض لینا منظور کر لیتا تھامگر جس کام سے اﷲ نے منع فرمایا اس سائیڈ پر کبھی نہیں گیا۔
سوال: لیکن اب آپ دنیائے سنوکر کے ہیرو بن چکے ہیں اب آپ کو ہزاروں کی نہیں لاکھوں کی بھی آفر ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان کو کسی اعزاز سے محروم کرنے کے لئے بہت سے ممالک اپنی خدمات پیش کرنے میں دیر نہیں لگاتے اس صورت میں آپکا فیصلہ کیا ہوگا؟
محمد آصف: دیکھیں جی اﷲ رب ا لعزت دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی اور میرے رب نے مجھے میری حیثیت سے بڑھ کر نوازا ہے اور اب میرا کام ہے کہ میں اس کاشکر کیسے ادا کرتا ہوں اور جو شخص اپنے کام سے اپنی محنت سے اور اپنے ملک سے مخلص نہیں ہوگا تو اسے اﷲ کامیاب بھی نہیں کرتا ، انشاء اﷲ میں کبھی اپنے رب کے فرمان سے کوتاہی نہیں کروں گا کیونکہ اگر میں بھول گیا تو اﷲ ایک پل میں یہ سب مجھ سے لے بھی سکتا ہے اس لیے کتنی ہی بڑی آفرز آجائیں میں صر ف اپنے وطن کیلئے ایمانداری سے کھیلوں گا چند روپوں کیلئے میں اپنے ہم وطنوں کی ان دعاؤں سے محروم نہیں ہو سکتا جو میرے ساتھ قدم قدم پر رہیں ،میں اب بھی یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ لوگ میرے لئے کس طرح دعاؤں میں مشغول تھے۔
سوال:محمد یوسف نے 1994 کا ورلڈ کپ جیتا ان کے ساتھ ملک میں کیا گیا ناروا سلوک آپ کے سامنے ہے ،صالح محمد جو 2003 میں فائنل تک پہنچے تھے مگر ان کے ساتھ بھی کچھ ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ وہ پاکستان چھوڑ کرافغانستان چلے گئے، اس کے علاوہ فرحان مرزا نے سوئیڈن کو ترجیح دی ان حقائق کی روشنی میں آپ اپنا مستقبل کہاں دیکھتے ہیں؟
محمد آصف: میں اس کیلئے یہی کہوں گا کہ دوسرے گیمز کی طرح سنوکر کو بھی سپورٹ ہونی چاہئے ،کرکٹ جیسے بڑے گیم میں ہم نے ایک ورلڈ کپ 1992میں جیتا تھا اور دوسرا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2009 میں جیتا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے پاس سنوکر کے کھیل کے تین انفرادی ٹائٹل،ایک سینئر ٹائٹل اور
ہیں جو چھوٹی بات نہیں ،جیسا ماضی میں ہوا وہ یقینا نہیں ہونا چاہئے تھا مگر مجھے لگتا ہے کہ اب وقت کچھ بدلا ہے میڈیا نے سپورٹ کرنی شروع کی ہے ،آپ میڈیا کے لوگ ہمیں سپورٹ کریں گے تو انشاء اﷲ مزید بہتری پیدا ہو جائے گی ۔اپیل تو میری حکومت اور اسپورٹس بورڈ سے یہی ہے کہ اس کھیل میں بھی پیسہ لے کر آئیں کم از کم اتنا کہ پلیئر کو یہ فکر نہ ہو کہ وہ اپنا وقت اس میں صرف کرے گا تو اس کا گھر کیسے چلے گا،اس میں بھی ڈیپارٹمنٹ ہونے چاہئیں تا کہ کھلاڑی فکر معاش سے آزاد ہو کر ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔
سوال: پاکستان سنوکر فیڈریشن کتنی فعال ہے اور آپ کے ساتھ کتنا تعاون کررہی ہے؟
محمد آصف: فیڈریشن کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ ٹھیک ہی کام کر رہے ہیں مگر فنڈز نہ ہوں تو وہ کیا کر سکتے ہیں جیسا ابھی ہوا کہ پاکستان سنوکر اینڈ بلیئرڈ ایسوسی ایشن نے چندہ جمع کر کے مجھے سنوکر ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے بلغاریہ بھیجا گیا تھا اس مرتبہ بھی پاکستان سنوکر اینڈ بلیئرڈ ایسوسی ایشن کی محنت اور بھرپور تعاون سے ہی میں ترکی میں سنوکر کی ورلڈ چمپئن شپ میں شرکت کیلئے گیا تھا۔ حکومت اور پاکستان سپورٹس بورڈ کا جب تک ہمارے ساتھ تعاون نہیں ہوگا تب تک فیڈریشن بھی مسائل کا شکار رہے گی۔
سوال:قومی سطح پر کھلاڑیوں کا انتخاب آپ کے خیال میں میرٹ پر ہوتا ہے؟
محمد آصف: جی بالکل انتخاب میرٹ پر ہوتا ہے پہلے صوبے کی سطح پر کھیلنا پڑتا ہے ،پھر کافی ٹورنامنٹ ہوتے ہیں ان میں پرفارم کرنا ہوتا ہے پھر وہاں سے انٹر نیشنل مقابلوں کے لئے سلیکشن ہوتی ہے اس میں کسی جعلسازی یا پسند نا پسند کا عمل دخل نہیں ہے۔
سوال:اچھا تو پھر کیا وجہ ہے یہ کھیل پنجاب پر ہی مہربان ہوتا رہا ہے اور پچھلے دس سالوں میں صوبہ سندھ کا کوئی کھلاڑی قومی سطح تک نہیں جا سکا؟
محمد آصف: دیکھیں جی پنجاب میں اسنوکر کا بڑا ٹیلنٹ ہے لڑکوں میں کافی رجحان محمد یوسف کی فتح کے بعد بھی پیدا ہوا بس یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے لڑکے اس طرف زیادہ آرہے ہیں ،میں یہی کہوں گا کہ لڑکے دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں کافی دشواریاں ہیں ان کاسامنا نہیں کر پاتے اور زیا دہ آگے جانے سے پہلے ہی راستہ بدل لیتے ہیں جسکی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
سوال:آپ پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہے اور وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ،تو حکومتِ پاکستان نے اس کا صلہ آپ کو کس طرح دیا ہے؟
محمد آصف: ابھی تو ایسا کچھ نہیں ہوا ہے لیکن ہماری ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ ہم سب سے اعلان کروائیں گے ،صدرِ پاکستان اور دوسرے عہدیداران سے کیش کے سلسلے میں بھی اور پلاٹ وغیرہ بھی دلوائیں گے اس لیے جی بس امید ہے کہ جس طرح ماضی میں سب کو سپورٹ کیا جاتا رہا ہے تو مجھے بھی اسی طرح حق دیا جائے گااور یہ بھی امید کروں گا کہ جو اعلان کیا جا ئے گا اسے پورا بھی جلد کیا جائے گا۔
سوال: آپ کی باتیں سن کر اندازہ ہوا کہ آپ خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والے انسان ہیں اس میں ماحول اور تربیت کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے ،آپکی فیملی مذہبی ہے؟
محمد آصف: جی بالکل میں گھر والوں سے یہی سیکھا کہ ہر قسم کے حالات میں صبر شکر سے کام لینا چاہئے میری فیملی مذہب سے بہت قریب ہے بلکہ میں خود بھی مذہب کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں یہی اصل زندگی ہے مذہب کو ہم اپنی زندگی سے کیسے دور رکھ سکتے ہیں۔
سوال: آئندہ کے کیا ارادے ہیں؟
محمد آصف: بس یہی کوشش ہوگی کہ جس طرح یہ جیتا ہے اسی طرح اور کامیابیاں اپنے وطن کی جھولی میں ڈالوں اور پروفیشنل اسنوکر ورلڈکپ بھی جیت کر ملک وقوم کو خوشیاں دوں۔اگر مجھے سپورٹ کیا گیا تو پاکستان کا نام اور زیادہ روشن کروں گا انشاء اﷲ بس آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •