Voice of Asia News

آخر کار وہ چلا گیا :سیف اعوان

میاں نوازشریف پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔1999میں 425 دن جیل میں رہے۔2018سے 2019 تک 307 دن جیل میں رہے۔ 130 بار پیشیاں،65 پیشیوں پر مریم نواز میاں نواز شریف کے ساتھ تھیں۔ مریم نواز69 اور کیپٹن صفدر 74 دن اڈیالہ جیل میں رہے تھے۔25 دسمبر 1949 کو پیدا ہونے والے محمد نواز شریف نے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کے والد ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ ستر کی دہائی میں سیاست میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد انھیں پہلی بار حکومت میں کام کرنے کا موقع ملا جس میں وہ بطور وزیر خزانہ تعینات ہوئے۔1985 کے غیر جماعت انتخابات کے بعد نواز شریف نے وزیر اعلیٰ بن کر صوبہ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے سیاسی کیرئیر کا صحیح معنوں میں آغاز کیا۔ 1988 کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے ابھرنے والی پارٹی کے ساتھ انھیں وفاق میں حکومت نہ مل سکی لیکن ایک بار پھر وہ وزیر اعلی بن گئے۔
لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے گرنے کے بعد 1990 کے انتخابات میں انھوں نے (آئی جے آئی) کی قیادت سنبھالی اور کامیاب انتخابی مہم چلانے کے بعد پہلی بار وزارت اعظمیٰ کا تاج ان کے سر پر سجا۔لیکن محض تین سال میں صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کے باعث ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس فیصلے پر نواز شریف نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا جہاں جسٹس نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں ان کی حکومت کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔مگر یہ بحالی صرف وقتی تھی اور ایک بار پھر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات ختم نہ ہوئے جس کے بعد نواز شریف کو حکومت چھوڑنی پڑی۔1993 میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی بینظیر بھٹو نے کامیابی حاصل کرلی لیکن کرپشن کے الزامات پر ان کے اپنے ہی صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت ختم کر دی۔مارچ 1997 میں ہونے والے انتخابات میں نواز شریف نے تین چوتھائی کی واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور دوسری دفعہ وزیر اعظم بن گئے۔دوسرے دور حکومت میں انھوں نے انڈیا سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور اس وقت کے اپنے انڈین ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کو لاہور دعوت دی۔اس کے علاوہ 1998 میں انھیں کے دور حکومت میں پاکستان نے پہلی بار جوہری تجربہ کیا جب بلوچستان میں چاغی کے مقام پر پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔اس بار بھی نواز شریف اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے اور 1999 اکتوبر میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کی سربراہی سنھال لی۔پرویز مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پر مختلف نوعیت کے مقدمات چلائے جس میں سابق وزیر اعظم کو جیل جانا پڑا۔اس دور میں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے فوجی آمر کے خلاف مخالفت کی مہم چلائی۔پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ ہونے کے سبب نواز شریف نے سزا معطل ہونے کے بعد سعودی عرب میں جلا وطنی اختیار کر لی اور ان کی غیر موجودگی میں 2002 میں ہونے والے انتخابات میں ان کی پارٹی نے زیادہ خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی۔2006 میں اپنی روایتی حریف بینظیر بھٹو کے ساتھ لندن میں ملاقات کے دوران دونوں سابق وزرا اعظم نے میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کیے اور ملک میں جمہوری دور کی واپسی اور پرویز مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا کا عہد کیا۔سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ستمبر 2007 میں نواز شریف نے وطن واپسی کی کوشش کی لیکن مشرف انتظامیہ نے انھیں جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی اور ائیر پورٹ سے ہی ان کے جہاز کو واپس سعودی عرب لوٹا دیا۔لیکن صرف دو مہینے بعد انھوں نے ایک بار پھر وطن کا رخ کیا اور لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ پر ان کا فقدید المثال استقبال کیا گیا۔نومبر میں ہی انھوں نے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں جس میں 2008 میں ہونے والے الیکشن کو بائیکاٹ کرنے کے بارے میں گفت و شنید کی گئی۔دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں خود کش حملے میں شہید کر دیا گیا تو نواز شریف ہسپتال پہنچنے والے اولین قومی لیڈران میں ایک تھے۔فروری 2008 میں ہونے والے انتخابات میں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ دوسری اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور انھوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کرنے کے معاہدہ کیا۔لیکن یہ شراکت داری زیادہ عرصے قائم نہیں رہی اور اختلافات بڑھنے کے بعد نواز لیگ نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی اور ان کی نوعیت اتنی شدید ہو گئی کے 2011 میں نواز شریف نے پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل میں سپریم کورٹ میں پٹیشن درج کرائی جس میں نواز شریف بذات خود پیش ہوئے۔دو سال بعد مئی 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف کی جماعت نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی جس کے بعد انھوں نے تیسری بار وزارت عظمیٰ سنبھالی۔لیکن اس بار نواز شریف کے سامنے ان کے نئے سیاسی حریف اور سابق کرکٹر عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف موجود تھے جنھوں نے نواز لیگ پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور حکومت ختم کرانے کے لیے اگست 2014 سے دسمبر 2014 تک اسلام آباد میں مسلسل دھرنے دیے۔نواز شریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں وزارت خارجہ کی ذمہ داری اپنے ذمے لی ہوئی تھیں اور اس دور میں انھوں نے نو منتخب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کیں۔ 2014 میں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں بھی شرکت کی اور دسمبر 2015 میں نریندر مودی نے لاہور کا بلا اعلان ایک دن کا دورہ بھی کیا۔اس کے علاوہ نواز شریف کے دور حکومت کا سب سے اہم منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کا تھا جسے ماہرین نے خطے کے لیے ’گیم چینجر‘ کا خطاب دیا۔لیکن سال 2016 میں نواز شریف زوال کا آغاز ہوا جب مارچ کے مہینے میں پاناما پیپرز کا سکینڈل منظر عام پر آیا اور ان میں شریف خاندان کے افراد کے ناموں کا انکشاف ہوا۔نواز شریف کے بیٹوں نے اپنے صفائی کے لیے مختلف انٹرویو دیے جبکہ نواز شریف نے پارلیمان سے خطاب کے علاوہ ٹی وی پر قوم سے بھی خطاب کیا۔اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے سب سے بڑے حریف عمران خان نے حکومت مخالف مظاہروں کا ایک بار پھر سلسلہ شروع کیا اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا۔چند ماہ تک جاری رہنے والے مظاہروں کے بعد بالاآخر سپریم کورٹ نے نومبر 2016 میں ان الزامات کی تفتیش کے لیے حکم دیا۔اسی سال اکتوبر میں نواز حکومت اور فوج کے مابین اختلافات ابھر کر سامنے آئے جب ’ڈان لیکس‘ کی خبر منظر عام پر آئی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد حکومت کوسخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجتاً پرویز رشید کو اپنی وزارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے تھے۔جنوری 2017 سے شروع ہونے والی سماعتوں کی تکمیل اپریل 2017 کو ہوئی جب پانچ رکنی بینچ نے تین دو سے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا لیکن ساتھ ساتھ ان کے اثاثوں کے بارے میں مزید تفتیش کا حکم دیا۔اس فیصلے کے بعد عمران خان نے اپنے حریف پر تابڑ توڑ حملوں کی مزید بوچھاڑ کر دی اور ’گو نواز گو‘ کے نعرے ملک بھر میں گونجنے لگے۔دوسری تفتیش کی تکمیل جولائی 2017 میں ہوئی جس میں نواز شریف کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کا اقامہ ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر صادق اور امین کی شق کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھیرایا گیا اور پانچ صفر کی اکثریت کے ساتھ انھیں اسمبلی سے نااہل قرار دیا گیا۔اس فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کے خلاف تین ریفرنسز کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔احتساب عدالت میں ستمبر 2017 میں شروع ہونے والی کاروائی کا سلسلہ تقریباً دس ماہ تک جاری رہا جس میں نواز شریف نے 80 سے زائد پیشیوں میں حاضری دی۔اسی اثنا میں ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو کینسر کی وجہ سے لندن میں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔احتساب عدالت میں پیشیوں کے ساتھ ساتھ نواز شریف نے ملک بھر میں ریلیوں کا آغاز کر دیا جس میں انھوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ پیش کیا اور اپنے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائیوں کو ایک سازش قرار دیا۔لیکن گذشتہ سال کی طرح ایک بار پھر جولائی کے مہینے میں عدالتی فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا اور جج محمد بشیر نے نواز شریف پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کی بنا انھیں دس سال قید بامشقت اور آٹھ ملین پاؤنڈ کے جرمانے کی سزا سنائی۔نواز شریف نے یہ سزا اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ اسی اپارٹمنٹ میں سنی جس کی ملکیت کے بارے میں انھیں سزا سنائی گئی۔انھوں نے بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کی صحت بہتر ہونے کے بعد جلد وطن واپس آئیں گے۔ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد 13 جولائی کو نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس لوٹ آئے جہاں انھیں ائیرپورٹ سے ہی حراست میں لے لیا گیا اور اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔حراست میں لیے جانے کے بعد نواز شریف کو جیل سے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست دیکھنی پڑی جہاں ان کے خلاف پاناما پیپرز کا مقدمہ دائر کرنے والے حریف عمران خان کو جیت نصیب ہوئی اور انھوں نے اگست میں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔اگلے ماہ کی 11 تاریخ کو نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کا لندن میں کینسر کے باعث انتقال ہو گیا جس کے بعد نواز شریف کو پیرول پر رہا کر دیا گیا تاکہ وہ ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔ کلثوم نواز کی وفات کے بعد ایک ہفتے کی پیرول ملنے کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی اور داماد کو اڈیالا جیل دوبارہ بھیج دیا گیا۔کلثوم نواز کے انتقال کے چند روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا نتیجہ سامنے آگیا جس نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کر دیا۔لیکن ان مقدمات سے بریت کے باوجود نواز شریف کی عدالتی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ اس سال مئی میں انگریزی اخبار ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو کے نتیجے میں ان پر غداری کا مقدمہ درج ہوا جس کی سماعت کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے انھیں لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونا پڑا۔یہی سلسلہ دسمبر میں بھی جاری رہا جب ان کے خلاف 1986 کا ایک کیس سپریم کورٹ میں پیش ہوا اور وہاں بھی انھیں عدالت کے چکر کاٹنے پڑے۔یہ سلسلہ یہی ختم نہ ہوا اس کے بعد میاں نوازشریف پر چوہدری شوگر ملز کا کیس بھی بنادیا گیا ۔اس کیس میں نوازشریف نے لاہور کی احتساب عدالت میں ایک پیشی پر حاضر ہوئے ۔ قومی احتساب بیورو نے ان کو لاہور آفس میں زیر حراست رکھا تھا جہاں ایک رات بارہ بجے کے قریب ان کی طبیت اچانک خراب ہو گئی اور ان کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں داخل کرلیا گیا ۔جہاں وہ 16دن تک زیر علاج رہے ۔بعدازراں چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرلی ۔لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت ان کے بھائی شہبازشریف کی جانب سے دائر کی گئی ۔لاہور ہائیکورٹ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوازشریف کو چوہدری شوگرملز میں ضمانت دے دی۔دوسری جانب شہبازشریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ کیس میں بھی ضمانت کی درخواست دائر کردی جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کو 8ہفتوں کیلئے ضمانت دے دی۔ڈاکٹرز کے مطابق نوازشریف کو علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے اس لیے ڈاکٹرز نے ان کو فورا بیرون ملک علاج کیلئے جانے کا مشورہ دیا۔ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) میں نام ہونے کی وجہ سے نوازشریف بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے تھے ۔لہذا کیلئے بھی نوازشریف کے چھوٹے بھائی شہبازشریف نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا لیکن وفاقی حکومت نے نوازشریف اور شہباز شریف سے ساڑھے سات ارب کا شیورٹی بانڈ مانگ لیا ۔جس کو میاں نوازشریف ،ان کے بھائی شہبازشریف اور پارٹی نے مسترد کردیا ۔بعدازراں شہبازشریف نے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رابطہ کرلیا ۔جہاں انہوں نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے درخواست دائر کردگی بلآخر دو دن کی سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کومیاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ۔مسلم لیگ نواز کے قائد نوازشریف آج بھی اپنے بیانیے پر قائم ہیں ۔نوازشریف لندن علاج کیلئے جارہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف بھی جارہے ہیں ۔اب پارٹی کی تمام ذمہ داریاں نوازشریف کی بیٹی مریم نواز پر ہیں کیونکہ اس وقت شہبازشریف کے بیٹے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز جیل میں ہیں ۔لہذا اب پارٹی کے منظم رکھنا اور کارکنوں کو لیڈر شپ کی کمی محسوس نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داریاں مریم نواز کے کندوں پر ہیں۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •