Voice of Asia News

غریب مکاؤ مشن :محمد قیصر چوہان

 
پاکستان کی غریب عوام کو ترقی وخوشحالی کے سبز باغ دکھانے والی تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے ، یہ امر ریکارڈ پر ہے کہ مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ، صنعتیں بندہو ئی ہیں اور بے روزگاری نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔روپے کی بے قدری ، ٹیکسوں میں بے انتہا اضافہ ، بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں ہر چند دن کے بعد اضافے نے نجی شعبے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس پر شرح سود میں زبردست اضافے نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اس کے نتیجے میں صنعتی یونٹ روز بند ہورہے ہیں اور زرعی شعبہ بھی زبردست خسارے کا شکار ہے۔ پاور لومز ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جان ہیں۔ فیصل آباد میں پاور لومز بند پڑی ہیں اور ہزاروں افراد کے گھروں کا چولہا بجھ گیا ہے۔عمران خان نے الیکشن سے قبل ایک انتخابی تقاریر میں ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرکے بے گھر لوگوں کو دینے کے وعدے کیے تھے مگر اقتدار میں آنے کے بعدعمران خان حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ایک کروڑ لوگ مزید بے روزگار ہوگئے ہیں۔ نئے گھر تو کیا تعمیر ہوتے ، نجی شعبے میں جو تعمیرات جاری تھیں وہ بھی منجمد ہوکر رہ گئی ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کے ساتھ ساتھ جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں میں زبردست اضافہ ہے۔ عمران خان مہنگائی کی ان وجوہات کو تو کیا ختم کرتے ، انہوں نے مزید ٹیکس لگانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب معیشت کا پہیہ ہی نہیں گھوم رہا اور لوگوں کے پاس روزگار ہی نہیں ہے تو وہ کس سے ٹیکس وصول کریں گے۔ عمران خان نے عجیب و غریب طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے کہ پہلے اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگوں کو بے روزگار کرو ، انہیں نان شبینہ سے محتاج کردو اور پھر لنگر خانے کھولنے کا اعلان کردو۔ ستم بالائے ستم یہ لنگر خانے بھی محض اعلان اور افتتاح تک ہی محدود رہے۔ افتتاح بھی ایک فلاحی تنظیم سیلانی کے لنگر خانے پر کیا گیا اور سرکار نے اس سلسلے میں کہیں پر کچھ بھی نہیں کیا۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے تو ٹیکسوں کی تعداد کو کم سے کم کرکے ان کی شرح کو بھی کمترین سطح پر لائیں۔ اس کے علاوہ ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو بھی سادہ ترین بنائیں۔ اس کے برعکس وزیر اعظم عمران خان کی اپنی منطق ہے کہ ٹیکس کی شرح کو مسلسل بڑھاتے چلے جاؤبھلے اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کی تعداد کم ہوجائے۔ عمران خان کے مشیر عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین ہیں جن کا مقصد پاکستان کو ایک ناکام ریاست میں تبدیل کردینا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی پالیسیاں ملک کے مفاد میں نہیں ہیں اور یہ پالیسیاں ملک کو ترقی کے بجائے ایک ناکام ریاست کی طرف لے کر جارہی ہیں۔ عمران خان کو تو سیاست و حکومت کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس اس طرح کا کوئی وژن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگلیاں عمران خان سے زیادہ ان کے سلیکٹروں پر اٹھ رہی ہیں کہ کم از کم عمران خان کو اچھی ٹیم ہی جمع کرکے دے دی ہوتی۔ عمران خان کی صرف معاشی ٹیم ہی ملک دشمنی کا ثبوت نہیں دے رہی بلکہ خارجہ، داخلہ ، تعلیم سمیت ہر شاخ کا ایک جیسا ہی منظر ہے۔ وزارت خارجہ کی کارکردگی کو سقوط کشمیر کے پس منظر میں بہتر طور پر جانچا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی کارکردگی کا افغانستان، عراق اور فلسطین کی وزارتوں سے ہی تقابل کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان ان جنگ زدہ اور کمزور ممالک سے بھی کم تر درجے میں موجود ہے۔
نیا پاکستان بنانے کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت نے خاموشی کے ساتھ بجلی کے استعمال شدہ یونٹوں پر پچاس فیصد ٹیکس عائد کردیا ہے۔ یہ ٹیکس پہلے سے عائد فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، ود ہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے علاوہ ہے۔ بجلی کے استعمال شدہ یونٹوں پر پچاس فیصد ٹیکس عائد کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب ہر صارف کا بجلی کا بل مزید پچاس فیصد بڑھ جائے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بجلی کے نئے بل آنے کے بعد کس طرح سے مہنگائی کا ایک نیا سونامی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ عمرانی حکومت کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ، شرح سود کو دگنا کرنے اور بجلی ، پٹرول و گیس کی نرخوں میں زبردست اضافے کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سے ابھی تک عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں کہ حکومت نے ایک اور ڈائنامائٹ فٹ کردیا ہے۔ معیشت کے سارے ہی اشاریے ایک ہی سمت میں اشارہ کررہے ہیں کہ عوام کی اکثریت خط غربت کے نیچے جاچکی ہے اور بقیہ لوگ بھی بمشکل سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے حکم پر عمران خان کی جانب سے بجلی کے بلوں میں پچاس فیصد اضافے کا مطلب تباہی پر مزید تباہی ہے۔ عمران خان آخر یہ بات کیوں سمجھنے پر تیار نہیں ہیں کہ معیشت کا پہیہ گھومے گا تو حکومت کو ریونیو ملے گا۔ جب معیشت ہی کساد بازاری کا شکار ہے اور آئے دن صنعتیں بند ہورہی ہیں تو وہ ٹیکسوں کی شرح پچاس فیصد تو کیا پانچ سو فیصد بڑھادیں ، حکومت کو حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی ہی آئے گی۔ کیا ہی بہتر ہو کہ عمران خان آئی ایم ایف کی پاکستان دشمن ٹیم سے چھٹکارا حاصل کریں اور محب وطن اہل افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دیں۔ عمران خان کی معاشی اور خارجی پالیسیاں دیکھ کر کہیں سے اندازہ نہیں ہوتا کہ پاکستان پر ایک پاکستانی ہی حکمراں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان پر عالمی بینک کی حکمرانی ہے اور رسمی طور پر جو لوگ اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھائے گئے ہیں وہ عملی طور پر عالمی بینک کے کارندے ہیں۔
عالمی ادارے ای سی اے کے مطابق افراط زر میں ہوشربا اضافے کے باعث آئندہ سال بھی پاکستانی شہریوں کیلئے مشکل ترین سال ہوگا۔ ای سی اے نے کہا ہے پاکستان میں تنخواہوں میں اضافہ محض دس فیصد کیا گیا ہے جبکہ مہنگائی کا اندازہ 13 فیصد سے زائد ہے جس کے باعث ملازمین کی قوت خرید میں کمی واقع ہوگی ٍ۔ اس طرح سے عملی طورپر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے بجائے تین فیصد کمی ہی واقع ہوگی۔ حکومت کی جانب سے کیا جانے والا تنخواہوں میں اضافہ بھی صرف سرکاری اداروں میں کیا گیا ہے جبکہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ عمران خان کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہونے کے نقطے سے بھی نیچے چلی گئی ہیں اور ہر طرف کساد بازاری کا دور دورہ ہے جس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر عمران خان نیازی کی ٹیم شرح سود میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کی وجہ ہی بتادے۔ صرف ان دووجوہات نے ملک کی معاشی صورتحال کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اس وجہ سے درآمدات کی مالیت تقریباً دگنی ہوگئی اور ملک میں جاری منصوبوں کیلئے بینکوں سے سرمائے کا حصول ناممکن ہوگیا۔ درآمدات کی مالیت دگنا ہونے کی بنا پر پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بھی بڑھانا پڑی۔ چونکہ پاکستان میں بجلی کا بڑا حصہ فرنیس آئل سے پیدا ہوتا ہے ،اس لیے بجلی کی قیمت میں خودکار طریقے سے اضافہ ہوگیا۔اس کے علاوہ پاکستان نے بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے بجلی خریدنے کا معاہدہ پاکستانی کرنسی کے بجائے ڈالر میں کیا ہوا ہے ، اس کے اثرات علیحدہ سے بجلی کے بل پر پڑے۔ پاکستان اپنے ملک سے نکلنے والی قدرتی گیس بھی عالمی قیمت کے مطابق ڈالر میں خریدتا ہے ، یوں قدرتی گیس کے دام بھی اسی تناسب سے بڑھ گئے۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے مل کر ہر چیز کی قیمت کو پر لگا دیے اور ان کی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ اس کے اثرات عام آدمی بھگت رہا ہے کہ اب کوئی سبزی بھی ایک سو روپے فی کلو سے کم پر دستیاب نہیں ہے۔ یہ سب کیا دھرا تو عمران خان کی ٹیم ہی کاہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے مگر وہ اس کا دوش بھی دوسروں ہی کو دیتے ہیں۔ عمران خان لنگر خانوں ، راشن گھروں ، یوٹیلٹی سٹورز ، بجلی وگیس اور برآمدات پر ہزاروں ارب روپے کی زرتلافی دینے کے بجائے اپنی معاشی پالیسیوں کو درست کریں تو سب کچھ ازخود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔عمران خان کی کارکردگی جو بھی ہو مگر ان کے سلیکٹروں کو سوچنا چاہیے کہ اس سے ان کی اپنی نیک نامی پر دھبا آرہا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •