Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر‘غیر انسانی لاک ڈاؤن مسلسل 106ویں روز بھی جاری رہا

سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر وادی کشمیر اور جموں کے بعض حصوں میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن مسلسل 106 ویں روز بھی جاری رہا ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں حالات معمول پر نہیں آسکے ہیں اورجہاں کشمیریوں میں بھارتی حکومت کے کشمیر دشمن اقدامات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل نیٹ ورکس پر مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ دفعہ 144 کے تحت بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ سردیوں کے آغاز نے بھی کشمیریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیاہے۔وادی کشمیرمیں لوگ تعلیمی اداروں اور دفاتر سے دور رہ کر بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف خاموش احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکاندار بھی صبح چند گھنٹے اپنی دکانیں کھولنے کے سوا دن بھر بند رکھتے ہیں۔تاہم سرینگر میں ہفتہ وار اتواربازار پورا دن کھلا رہا ۔بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات نے وادی کشمیرکے کیبل آپریٹرز کو پاکستان ، ایران ، ترکی اور ملائشیا کے کسی ٹی وی چینل کی نشریات اپنے نیٹ ور ک کے ذریعے نشر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔یہ ہدایات گزشتہ روز سرینگر میں وزارت کے سینئر عہدیدار وکرم سہائے اور آپریٹرز کے درمیان ہونے والی ایک طویل ملاقات کے دوران دی گئیں۔ اس موقع پرکیبل آپریٹروں کو ان مسلم ممالک کے چینل بند کرنے کی ہدایات دی گئیں۔سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیرمیں سرکاری محکمے کو انٹرنیٹ کی مشروط اجازت دی جاسکتی ہے کہ اس کے غلط استعمال کا ذمہ دار اس محکمے کے سربراہ کو سمجھا جائے گا۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کے سربراہ کو پولیس کو انٹرنیٹ کی بحالی کیلئے اپنا بیان حلفی پیش کرنا ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قابض انتظامیہ نے گزشتہ روز5اگست سے سرینگر کے ایک ہوٹل میں قید تمام 34 سیاسی نظربندوں کوشدید سردموسم میں ناکافی انتظامات کی بنا پر شہر کے ایم ایل اے ہاسٹل میں منتقل کردیا ہے ۔
وائس آف ایشیا18نومبر2019 خبر نمبر92

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •