Voice of Asia News

توہین مذہب، پورنوگرافی کے فیس بک اکاؤنٹ معطل کرنے کی درخواست

اسلا م آباد(وائس آف ایشیا)پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے توہین مذہب، پورنوگرافی، بے حیائی، توہین آمیز اور غیرریاستی مواد سے متعلق تمام فیس بک اکاؤنٹس معطل کرنے کی درخواست کردی۔پی ٹی اے نے اعلامیے میں کہا کہ ’مذکورہ اقدام کا مقصد سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ صارفین کو دستیاب وائس آف ایشیا نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے‘۔اس ضمن میں مزید کہا گیا کہ ’پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی کہ وہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے تحت انٹرنیٹ پر غیر قانونی مواد کو بلاک کرے یا ہٹائے‘۔واضح رہے کہ حال ہی میں فیس بک نے اپنی رپورٹ پاکستان میں مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 2 ہزار 203 سے زائد پوسٹس یا ویڈیوز بلاک کردی تھیں، جو کسی بھی ملک میں جنوری سے جون 2019 تک سب سے زیادہ مواد پر پابندی تصور کی گئی۔اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 15 ہزار 337 اشیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔پی ٹی اے نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کہ سیاسی پوسٹس پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا اور کہا تھا کہ جعلی خبروں کو فیس بک نے بھی ایک چیلینج اور حساس مسئلہ قرار دیا۔پی ٹی اے نے کہا ’فیس بک کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ سمجھنا غلط ہے کہ مقامی قوانین کو مخالف سیاسی آواز کو خاموش کرنے یا وائس آف ایشیا آزادی کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ اس نے تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کی تائید کی ہے اور اس کی ضمانت آئین پاکستان اور متعلقہ قوانین نے دی۔پی ٹی اے نے کہا کہ پی ٹی اے اور فیس بک دونوں جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے کام کر رہے ہیں۔ان کے مطابق گمنام اکاؤنٹس اور صفحات کو ہٹانا شامل ہیں جو جعلی خبریں یا پراپیگنڈا پھیلاتے ہیں دریں اثنا فیس بک کے ایک عہدیدار نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کے کہنے پر سیاسی عناصر اور میڈیا کو محدود کیا گیا ہو۔تاہم فیس بک پر عدالیہ مخالف اور ملک کی آزادی سے متعلق مذموم مواد پر پابندی لگائی گئی۔پی ٹی اے نے کہا کہ فیس بک کی پالیسی ہے کہ نہ صرف اداروں یا تنظیموں بلکہ افراد کے خلاف بھی جعلی خبروں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
وائس آف ایشیا20نومبر2019 خبر نمبر18

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •