Voice of Asia News

والدین حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے قسمت نے کرکٹر بنا دیا پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق کا ’’وائس آف ایشیا’‘‘ کو خصوصی انٹرویو :محمد قیصر چوہان

مشکل ترین حالات میں اس کی کریز پر موجودگی سب کچھ بدل کر رکھ دیتی ہے کیونکہ وہ دباؤ کے عالم میں خود کو پرُ سکون رکھتے ہوئے مخالف باؤلرز کے تمام تر وار سہہ کر اپنی باکمال تکنیک اور صلاحیت کو بڑی سمجھداری سے استعمال کرتے ہوئے سنگل اور ڈبل کی حکمت عملی اپنا کر کھیل کا نقشہ بدل ڈالتا ہے۔ 28 جنوری 1986 کو کراچی میں جنم لینے والے اسد شفیق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بحر ان کی حالت میں ڈٹ کر کھیلنے کا فن جانتا ہے اور بحرانوں میں پھنسی رہنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایسے بیٹسمین کی عرصہ دراز سے ضرورت بھی رہی ہے جو کہ اچانک ڈھے جانے والی بیٹنگ کی عمارت کو سنبھال کر پھر سے تعمیر کر سکے اور اسد شفیق کی شکل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن کا نیا سورج طلوع ہو چکا ہے اس نے ٹیسٹ کرکٹ کے سخت ترین امتحان میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے کئی بار شکست کے منہ سے فتح چھین کر پاکستان کی جھولی میں ڈال کر میچ ونر کھلاڑی کے طور پر ایک ساکھ بنا لی ہے۔ اسد شفیق مہارت سے بھرپور ایک ایسا باصلاحیت بیٹسمین ہے جس کے پاس تمام اسٹروکس کا خزانہ موجود ہے اس کا فٹ ورک اور ٹائمنگ ہر لحاظ سے قابل دید ہے اور عقابی نگاہ کسی سرمائے سے کم نہیں ہے اور یہ اس کی خدا داد صلاحیت ہی ہے جس نے اسے کھیل کی تینوں طرزوں میں کامیابی سے ہمکنار کرایا ہے۔ وہ گیند کو نفاست کے ساتھ فیلڈ میں موجود خلاء میں دھکیلنے کی اہلیت کے ساتھ لمبی اننگز کھیلنے کے فن سے بھی آشنا ہے۔ اس کی تمام تر توجہ اپنے بچاؤ پر مبذول رہتی ہے اور یوں ہاتھ سے نکلا ہوا میچ بھی اس کی مٹھی میں قید ہو جاتا ہے۔اسد شفیق نے محمد یوسف جیسے عظیم بیٹسمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو خلاء پیدا ہو گیا تھا اس کو پرُ کر دیا ہے۔ محمد یوسف جیسے میچ ونر کھلاڑی کی شکل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن کا ایک اہم ترین ستارہ ڈوب گیا تھا لیکن اسد شفیق کی شکل میں نئی صبح کاجو جگمگاتا ہواسورج طلوع ہو اتھااس کی کرنیں روشنیاں بکھیر رہی ہیں۔2007-2008 کے ڈومیسٹک سیزن میں اپنے فرسٹ کلاس ڈیبیو سیزن پر ڈبل سنچری بنا کر خود کو نمایاں کرنے والا بیٹسمین اسد شفیق آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سے ہر راستہ عظمت کی طرف جاتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے بیٹنگ کے فن کو انتہائی آسان بنا دیا ہے جو کمال مہارت کے ساتھ محض کلائی کے معمولی گھماؤ کے سہارے گیند کا رُخ کہیں بھی موڑ سکتا ہے اس کی بے پناہ مہارت کے پیچھے اس کی عرق ریزی کے ساتھ کی گئی مشق بھی ہے کیونکہ وہ ایک محب وطن نوجوان ہے جسے پاکستان اور کرکٹ کے کھیل سے بے حد محبت ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر حاصل کردہ تجربے کے سہارے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن میں نمایاں کردار کے طور پر اُبھرا ہے۔اسد شفیق چھٹے نمبر پر اپنی صلا حیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے اب تک 12 سنچریاں اور 23 نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔ انہوں نے 69 ٹیسٹ میچوں کی 117 اننگز میں 39.71 کی اوسط سے 4323 رنز بنا رکھے ہیں۔60 ون ڈے انٹر نیشنل میچوں کی 58 اننگز میں 9 نصف سنچریوں کی مدد سے 1336 رنز بنائے ہیں جبکہ 10 ٹی ٹونٹی میچوں میں 192 رنز بنا رکھے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں نمائندہ ’’وائس ؤف ایشیا‘‘ نے ایک ملاقات کی اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمیں اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
اسد شفیق: میرے آباؤ اجداد کا تعلق انڈیا کے معروف علاقے راجپورت سے تھا وہ بٹوارے کے دوران ہجرت کر کے پاکستان آکر آباد ہو گئے تھے۔ میرے والد محترم کا نام شیخ محمد شفیق ہے ۔ وہ دادا بھائی سیمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرتے تھے پیشے کے لحاظ سے میرے ابو سول انجینئر ہیں۔ ہماری رہائش حیدرآباد کے معروف علاقے لطیف آباد نمبر 6 میں تھی۔ ابو کی ٹرانسفر کراچی میں ہو گئی تو انہوں نے فیملی کو کراچی میں شفٹ کر لیا۔ پہلے ہماری رہائش واٹر پمپ کے علاقے میں تھی پھر گلبرگ میں شفٹ ہو گئے۔اب اﷲ کا شکر ہے کہ فیڈرل بی ایریا میں میرا اپنا گھر ہے۔ ہم 9 بہن بھائی ہیں چار بھائیوں اور پانچ بہنوں میں میرا نمبر سب سے آخر پر ہے۔ میں شادی شدہ ہوں۔ میری اہلیہ کا نام سدرہ ہے میری دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام اقراء جبکہ دوسری کا نام نادیہ ہے۔ شادی کے بعد میری زندگی سنبھل گئی ہے۔ میری بیوی نے میری کامیابیوں میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
سوال: آپ نے کرکٹ کو اپنا کیریئر بنانے کا فیصلہ کب کیا تھا؟
اسد شفیق: بچپن ہی سے کرکٹ کا کھیل میری توجہ کا محور رہا ہے۔ کم عمری میں ہی کرکٹ کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ واٹر پمپ اور گلبرگ کے علاقے کی گلیوں میں ٹینس بال سے کرکٹ کھیل کر اپنے شوپ کو پروان چڑھایا۔ ان دنوں ٹیلی ویژن پر ہونے والے میچز کو دیکھنے کا بے پناہ شوق تھا اور جو بلے باز سب سے زیادہ رنزاسکور کرتا تھا۔ میں گلی میں کھیلنے کے دوران اسی بلے باز کے بیٹنگ سٹائل کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ میں ان دنوں سچن ٹنڈولکر کی بیٹنگ کادیوانہ تھا اسی لیے اپنے محبوب بلے باز کے بیٹنگ سٹائل کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ کرکٹ کھیلنے پر والدہ محترمہ سے کافی ڈانٹ پڑتی تھی کیونکہ امی مجھے حافظ قرآن بناناچاہتی تھیں اور اس مقصد کیلئے انہوں نے مجھے ایثار فاؤنڈیشن میں داخل کروایا تھا۔ جہاں پر میں قرآن پاک حفظ کیا کرتا تھا۔ ابھی چند سورتیں ہی حفظ کی تھیں کہ میں نے مزید قرآن پاک حفظ کرنے سے انکار کر دیا۔ جس پر امی مجھ سے کافی خفاء ہوئیں، پھر والدین نے مجھے میٹروپولیس اکیڈمی میں داخل کروا دیا اور پھر میں نے نصابی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ میں کرکٹ کے کھیل کو اپنا پروفیشن بنانا چاہتا تھا لیکن ابو نے شرط عائد کی ہوئی تھی کہ اگر میٹرک کا امتحان اے گریڈ میں پاس کرو گے تو کھیلنے کی اجازت ملے گی ورنہ نہیں، اس کے بعد میں نے تعلیم پر اپنا فوکس کر لیا اور میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد مجھے والد صاحب کی طرف سے کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملی۔ میں نے میٹرک کے بعد سینٹ پیٹرک کالج سے ایف اے کیا اس کے بعد با قاعدہ کرکٹ کی طرف متوجہ ہوا جس کی وجہ سے تعلیمی سفر رک گیا لیکن پھر میں نے سیفی کا لج حیدر آباد سے بی کا م مکمل کر لیا۔
سوال: کرکٹ کے شوق کو پروان چڑھانے کیلئے آپ نے کون سا کلب جوائن کیا تھا؟
اسد شفیق: گھر والوں سے کرکٹ کھیلنے کی باقاعدہ اجازت ملنے کے بعد میں نے اپنے کھیل میں نکھار لانے کیلئے 2004 میں اے زیڈ کرکٹ اکیڈمی کو جوائن کیاتھا۔ پھر ہمدم کرکٹ کلب میں پریکٹس شروع کر دی۔ اس کے بعد پاکستان کرکٹ کلب کو جوائن کیا اور آج تک اسی کلب سے وابستہ ہوں۔
سوال: ابتدائی عرصے میں آپ کو آگے بڑھانے میں کن لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا؟
اسد شفیق: میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے کرکٹ کیریئر کے آغاز پر مخلص اور محنتی کوچز ملے جنہوں نے میری صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ طلال بھائی، اعظم خان، حارث خان، توفیق بھائی، عظمی بھائی اور ون ڈے کرکٹ میں سب سے پہلے ہیٹرک کا کارنارمہ سرانجام دینے والے جلال الدین صاحب شامل ہیں۔ اسی طرح ظفر بھائی نے بھی میرے کیریئر کو آگے بڑھانے میں میری بھرپور مدد کی۔ میرے بڑے بھائیوں نے بھی مجھے بھرپور سپورٹ کیا اور مجھے کسی قسم کی کوئی مالی پریشانی نہیں آنے دی۔ اسی وجہ سے میرا فوکس فکر معاش کے بجائے کرکٹ کے کھیل پر مرکوز رہا اور میں فکر معاش کمانے کی غرض سے آزاد ہو کر اپنا کرکٹ کیریئر پوری مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھاتا رہا۔
سوال: کرکٹ کو پروفیشن بنانے کے بعد کس کھلاڑی کو آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی ؟
اسد شفیق: سچن ٹنڈولکراورمحمد یوسف میرے آئیڈیل کھلاڑی ہیں ۔ان کے علاوہ ویرات کوہلی کی بیٹنگ کا بھی بہت بڑا مداح ہوں۔
سوال: پہلا بریک کب ملا جب یہ احساس ہوا کہ ’’میں بھی کچھ بن سکتا ہوں‘‘؟
اسد شفیق: میں نے ہارڈ بال سے کرکٹ کھیلنے کا باقاعدہ آغاز 18 برس کی عمر سے کیا تھا ا سی لیے مجھے صرف ایک برس ہی کراچی کی طرف سے انڈر 19کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔ لیکن اس سطح پر کھیل کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر میں نے اپنی بیٹنگ کی خامیوں پر قابو پا کر سخت محنت کو اپنا وطیرہ بنا لیا تو ضرور کامیاب ہو جاؤں گا۔ انڈر 19کے بعد مجھے سینئر انٹر ڈسٹرکٹ چمپئن شپ کھیلنے کا موقع ملا تو میں نے تین سنچریاں بنا کر اپنی اہلیت ثابت کی۔ ان دنوں میرا شمار بہترین افتتاحی بیٹسمینوں میں ہوتا تھا۔ میں نے ان دنوں کئی اننگز ون ڈاؤن کی پوزیشن پر بھی کھیلیں تھیں۔
سوال:آپ نے سب سے پہلا ڈپارٹمنٹ کون سا جوائن کیا تھا؟
اسد شفیق: سابق فرسٹ کلاس کرکٹر ظفر بھائی نے مجھے (کے ای ایس سی ) کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی کرکٹ ٹیم میں شامل کرایا تھا اور یوں مجھے کرکٹ کھیلنے کے عوض پیسے ملنے لگے تھے۔ ظفر بھائی نے مجھے کرکٹ کھیلنے کے مواقع فراہم کئے اور میری بیٹنگ کی خامیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سوال: اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ کیریئر کے آغاز بارے کچھ بتائیں؟
اسد شفیق: میرا فرسٹ کلاس کرکٹ ڈیبیو بڑا ڈرامائی انداز میں ہوا تھا۔ میں 2007-2008 کے فرسٹ کلاس سیزن میں کراچی کی ایک ٹیم کا حصہ تھا ہمارا حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم میں حیدر آباد کی ٹیم کے ساتھ فرسٹ کلاس میچ ہو رہا تھا اسی دوران خالد لطیف کو پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے بلالیا گیا۔ تو اس کی جگہ پر ٹیم انتظامیہ نے حیدر آباد کی کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ سے اجازت لے کر مجھے شامل کر لیا اور یوں میرا فرسٹ کلاس ڈیبیو ہواتھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہوئے مجھ پر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ میں اپنے کرکٹ کیریئرکے حوالے سے بہت ذیادہ پر یشان ہو گیا تھا۔اس دوران میری والدہ نے میری بہت ذیادہ ہمت بند ھائی اور مجھے تلقین کی کہ بیٹانتائج کی فکر کرنے کی بجائے اپنی کرکٹ پر توجہ دو۔
سوال: وہ کون سی ایسی کارکردگی جو آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم تک لانے میں معاون ثابت ہوئی؟
اسد شفیق: میں نے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس سیزن میں ڈبل سنچری بنا کر سلیکٹروں کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ پھر اگلے ہی سیزن میں 12میچ کھیل کر 1244 رنز 49.76 کی اوسط سے بنا کر ٹاپ کیا تھا۔ پھر اسی سیزن کے ڈومیسٹک ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹ میں 7 میچ کھیل کر 379رنز 54.15 کی اوسط سے بنا کر اپنی اہلیت ثابت کر دی تھی۔ یہی کارکردگی مجھے 2010کے ایشیاء کپ کیلئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں لے آئی تھی۔
سوال:پہلی مرتبہ پاکستان ٹیم میں نام آنے اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو پر آپ کے کیا احساسات تھے؟
اسد شفیق: کسی بھی کھلاڑی کیلئے وہ وقت بڑا یادگار ہوتا ہے جب وہ اپنے ملک کی قومی ٹیم کیلئے منتخب ہوتا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں نام آنے پر میں بہت زیادہ خوش تھا کیونکہ میں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سخت محنت کر کے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا مجھے اﷲ تعالیٰ نے اس کا صلہ قومی ٹیم میں شمولیت کی صورت میں دے دیا تھا۔ جب میں بنگلہ دیش کے خلاف ایشیاء کپ کا میچ کھیلنے کیلئے دمبولا کے میدان میں اتر تو بے حد خوش تھا۔ میں نے اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں 17رنز بنائے تھے۔ وقار یونس صاحب نے مجھے میچ میں ایک دن قبل ہی ڈیبیو کے بارے میں بتا دیا تھا۔ شاہد آفریدی بھائی کپتان تھے۔ انہوں نے مجھے بڑا سپورٹ کیا تھا۔ میں نے ڈیبیو پانچویں نمبر پرکھیلتے ہوئے کیا تھا۔
سوال:آپ نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کیا تھا، اس وقت آپ کیسا محسوس کر رہے تھے؟
اسد شفیق: ون ڈے کرکٹ کھیل کر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ انٹرنیشنل لیول پر کھیلتے ہوئے کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو میں نے جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلنے کیلئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا۔ اسی لیے میں نے ابو ظہبی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں ڈیل اسٹین اور مورکل جیسے دنیا کے بہترین باؤلرز کے خلاف 61 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔میں نے چھٹے نمبر پر اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور اب تک اسی نمبر پر ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہا ہوں۔
سوال:بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلتے ہوئے کن کرکٹرز نے آپ کی رہنمائی کی؟
اسد شفیق: سب سے پہلے تو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد کا نام لوں گا کیونکہ یہی وہ انسان ہے جس نے مجھے ایک کامیاب کھلاڑی بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ اعجاز بھائی نے ہمیشہ مجھے دباؤ کے عالم میں پرُ سکون انداز سے اننگز کو تعمیر کرنے کے فن سے آشنا کیا۔اعجاز بھائی نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میری خامیوں کی نشاندہی اور کہاکہ اگر ان پر قابو پا لو گے تو تمہیں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ان کے علاوہ شاہد خان آفریدی، یونس خان، محمد یوسف، وقار یونس، سچن ٹنڈولکر، مشتاق احمد، گرانٹ فلاور، مصباح الحق، جیک کیلس اور اے بی ڈویلئرز نے مجھے بیٹنگ میں بہتری لانے کیلئے مفید مشورے دیئے جن پر عملدرآمد سے میرے کھیل میں واضح نکھار پیدا ہوا ہے۔ 2011کے ورلڈ کپ کے دوران میری سچن ٹنڈولکر سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے مجھے اپنا نیچرل کھیل کھیلنے کی تلقین کرتے ہوئے بیٹنگ میں نکھار لانے کیلئے مفید مشورے دیئے تھے۔ جن پر عمل کرنے سے میرے کھیل میں بہتری آئی ۔
سوال:آپ نے بتایا کہ ٹیسٹ کرکٹ ابھی تک آپ نے چھٹے نمبر کی پوزیشن پر بیٹنگ کی ہے تو کیا لوئر مڈل آرڈر پر کھیلنا نقصان دہ نہیں ہوتا کہ آپ توجہ سے کھیلتے ہوئے ساتھیوں سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں؟
اسد شفیق: ظاہر سی بات ہے کہ چھٹے نمبر پر کھیلتے ہوئے آپ کو ایک مستند بیٹسمین کا ساتھ ملتا ہے جو کہ عموماً وکٹ کیپر یا آل راؤنڈر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ٹیل شروع ہو جاتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں تو بیٹنگ نہیں کرنا ہوتی لہٰذا آخری کھلاڑیوں کے ساتھ بھی احتیاط سے کھیل کر آپ اننگز کو بنا سکتے ہیں اور اسٹرائیک ریٹ اپنے پاس رکھیں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
سوال: اس کی کیا وجہ ہے کہ بہت اچھے اور پر اعتماد آغاز کے بعد آپ کسی اننگ کے وسط میں اچانک پھنس کر کھیلنے لگتے ہیں؟
اسد شفیق: اصل بات یہ ہے کہ جب آپ ٹیل اینڈرز کے ساتھ کھیل رہے ہوں تو بہت سے اسٹروکس بلاک کرنا پڑتے ہیں اور ایسے وقت کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ موقع محل کے لحاظ سے ٹیم کو بھی آپ کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وکٹ پر قیام کیا جائے اور سمجھداری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری اسٹروکس سے گریز کیا جائے جس کی وجہ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ میں پھنس کر کھیل رہا ہوں یا گھبراہٹ کا شکار ہوں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔
سوال: ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے آپ کی کامیابی کا کیا راز ہے؟
اسد شفیق: میں صبر کے ساتھ کھیلنے والا بیٹسمین ہوں اور جلد بازی میں مبتلا ہونے کے بجائے ہٹ کرنے کیلئے درست گیندوں کا انتخاب کرتا ہوں۔ میں خود کو ہر قسم کے ماحول میں ڈھال لینے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ بیٹنگ کرتے ہوئے میری حتی الامکان کوشش یہ ہوتی ہے کہ کم سے کم خطرات مول لوں کیونکہ اسی طرح میں اننگز کے اختتام تک وکٹ پر رک کر ٹیم کی بھرپور انداز سے مدد کر سکتا ہوں۔ خطرات میں کمی کر کے کھیلنا میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ میں نے چھٹے نمبر کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے ٹیسٹ میچوں میں12سنچریاں بنارکھی ہیں۔
سوال: دباؤ میں رہتے ہوئے آپ کی بہترین کارکردگی سامنے آتی ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
اسد شفیق: جب پاکستان ٹیم مشکلات میں پھنسی ہو اس وقت وکٹ پر ٹھہر کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کے بل پر بہترین کارکردگی دکھا کر مجھے بڑا اطمینان ملتا ہے۔ میں چونکہ ذہنی طور پر مضبوط ہوں لہٰذا یہی چیز مجھے دباؤ کے عالم میں بہترین کارکردگی دکھانے پر اکساتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ ’’اسد شفیق کو آؤٹ کر لو تو میچ جیت جائیں گے‘‘ میں اتنا مستحکم کھلاڑی بننا چاہتا ہوں کہ مجھے آؤٹ کر کے میچ میں واپس آنے کی تمنا کی جائے۔ دباؤ کے عالم میں کھیلنا میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ کرکٹ تو نام ہی دباؤ کا ہے اور جس نے یہ دباؤ جھیل لیا وہ عظمت پا لے گا۔ اس کیلئے ذہنی مضبوطی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ذہن ایک اہم پہلو ہے کیونکہ ذہن کی درستگی کے ساتھ ہی آپ بہترین انداز میں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ کر سکتے ہیں۔ تجربے کے ساتھ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے نہ صرف کیریئر کے نشیب و فراز سے بلکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میچز میں افتتاحی پوزیشن سے لے کر ون ڈاؤن کی بیٹنگ پوزیشنوں پر کھیل کر بھی کیونکہ چھٹے نمبر پر کھیلنا میرے لیے قدرتی سی بات نہیں تھی مجھے نہیں معلوم تھا کہ ٹیل اینڈرز کے ساتھ کس طرح کھیلتے ہیں یوں میرے لیے ذہنی پہلو بڑا اہم تھا اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر میں فخر کرتا ہوں جبکہ دباؤ کے عالم میں کھیلی گئی اپنی اننگز پر بھی میں فخر اور خوشی محسوس کرتا ہوں۔ میں دباؤ کے اوقات میں زیادہ بہتر کھیلتا ہوں اور ذہنی مضبوطی نہ ہو تو پھر آپ ایسے حالات میں قطعی ٹیم کو نہیں بچا سکتے۔
سوال:آپ خراب وکٹوں کے بھی بہت اچھے بیٹسمین ہیں؟
اسد شفیق: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسی وکٹوں پر کافی رنز کئے ہیں جہاں تیسرے اور چوتھے دن گیند بھی بیٹ کے درمیان نہیں آتی اور رنز کیلئے آپ کو سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ تجربہ میرے لیے بڑا مدد گار ثابت ہوا ہے مگر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ میں اس طرح کے چیلنج کو پسند کرتا ہوں۔
سوال:کسی میچ سے قبل آپ کس طرح تیاری کرتے ہیں؟
اسد شفیق: میں بہت زیادہ بیٹنگ پریکٹس کرتا ہوں، کسی میچ سے قبل میں دوسروں کے مقابلوں میں کہیں زیادہ گیندیں کھیلنے کا عادی ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے باؤلرز کا تجزیہ بھی کرتا رہوں جس میں وقت لگتا ہے کیونکہ کسی باؤلنگ اٹیک میں پانچ باؤلرز ہوں تو ہر ایک کا تجزیہ کرنے میں ذمہ داری کے ساتھ وقت لگانا پڑتا ہے۔ میں نے یہ بات سیکھی ہے کہ آپ کی کارگردگی اس کا محض ایک حصہ ہوتی ہیں اور تیاری دراصل آپ کو اوپر یا نیچے لے جاتی ہے۔ اگر آپ محض کارکردگی کو آگے بڑھنے کی تحریک کے طور پر بنیاد بناتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ تیاری بھول گئے ہیں حالانکہ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔
سوال: کلائیوں کے گھماؤ کے علاوہ اچھی ٹائمنگ بھی آپ کیلئے کیا قدرت کا ایک تحفہ ہے؟
اسد شفیق: یہ ہمیشہ سے ایک قدرتی امر رہا ہے کہ میں گیند کو درست ٹائم پر ہٹ کرتا ہوں یاد رکھیں کہ گیند کو ہٹ کرتے ہوئے اچھے احساس کا عنصر بھی بہت اہم ہے جس کے لیے خاصی مشق درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ کہ یہ ایک قدرتی سا وصف ہے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے سخت محنت اور مشق کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مجھے بیٹنگ سے عشق ہے اور میں نیٹ پر گھنٹوں بیٹنگ کر سکتا ہوں۔
سوال: شہرت اور تقدیر کے چیلنجز کا سامنا کس طرح کرتے ہیں؟
اسد شفیق: میرا خیال ہے کہ یہ سب قدرتی طور پر نہیں ہوتا بلکہ تجربہ آپ کو یہ سب سکھاتا ہے۔ نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آپ ابتدا میں نہیں آگے چل کر بہت کچھ جان لیتے ہیں۔ پہلے ہمیں صرف اپنے کھیل پر دھیان دینے کی فکر ہوتی تھی مگر اب تو پوری شخصیت پر توجہ دینا پڑتی ہے لہٰذا چیلنجز کا مقابلہ مشکل ہو گیا ہے اور ذرا بھی توجہ نہیں رہی تو کھیل پر اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کا ذہن ٹھیک ہے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ آج کل کے بیشتر کھلاڑی بڑے ذہین ہیں جن کا اعتماد اور انرجی لیول خاصا بلند ہے اور وہ تجربے کے ساتھ ہی پختگی حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔
سوال:اسد کچھ لوگ آپ کا موازنہ محمد یوسف سے بھی کرتے ہیں تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟
اسد شفیق: محمد یوسف کا شمار کرکٹ کے کھیل کے عظیم بیٹسمینوں میں ہوتا ہے یہ میری خوش قسمتی ہے کہ لوگ میرا موازنہ ایک عظیم بلے باز سے کرتے ہیں۔ میں لوگوں کی ستائش پر ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔ مجھے ان کے مقام تک پہنچنے کیلئے سخت محنت کرنا ہو گی کیونکہ یوسف بھائی ایک میچ ونر بیٹسمین تھے۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو میچ ونر بیٹسمین کے روپ میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاؤں۔
سوال: عام طور پر پاکستانی بیٹسمین ڈیل اسٹین کو زیادہ بہتر نہیں کھیلتے، آپ کو وہ کیسا باؤلر محسوس ہوا؟
اسد شفیق: اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیل اسٹین ایک ورلڈ کلاس باؤلر ہے اور ہر ملک میں کامیاب رہا ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کی طرف سے وکٹیں حاصل کرنے کے لحاظ سے نمایاں باؤلرز میں سے ایک ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے مثبت انداز سے کھیلنے کے سبب وہ میرے اوپر حاوی نہ آسکا۔ میں اس کی ہر بال کو میرٹ پر کھیلتا رہا اور کسی موقع پر طیش میں آنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے میں اعتماد کے ساتھ کھیلتا رہا اور موقع ملنے پر میں نے اپنے اسٹروکس بھی کھیلے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی اتنا بڑا باؤلر نہیں ہے کہ اوور میں ایک یا دو ڈھیلی گیندیں نہ کرے۔
سوال: آپ کی یادگار اننگز کون سی ہیں؟
اسد شفیق: ٹیسٹ کرکٹ میں میری یادگار ترین اننگز جنوبی افریقہ کے خلام ہے۔ میں نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کے مضبوط ترین باؤلنگ اٹیک کے خلاف سنچری اسکور کی تھی۔ جبکہ ون ڈے کرکٹ میں 2011 کے ورلڈ کپ کے دوران آسٹریلیا کے خلاف اہم ترین میچ میں پریشر کے عالم میں 48 رنز اسکور کئے تھے اور عمر اکمل کے ساتھ مل کر ایک پارٹنر شپ بنا کر ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا تھا۔ آسٹریلیاکے خلاف سنچری یادگار اننگز ہے۔
سوال: یونس خان اور مصباح الحق جیسے سینئر ترین بیٹسمینوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے کیسا محسوس کرتے تھے؟
اسد شفیق: یونس خان اور مصباح الحق جیسے بلے باز کے ساتھ کھیلتے ہوئے مجھ سمیت دیگر نوجوان کھلاڑیوں کوبہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ میرے لیے یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا ہی اعزاز کی بات ہے۔یونس اور مصباح بھا ئی ہر موقع پر جونیئر کھلاڑی کی بھرپور مدد کرتے تھے۔ مخالف ٹیموں کے باؤلرز سے نمٹنے میں بھی ہمیں کافی مدد فراہم کرتے تھے۔ میری کوشش ہے کہ میں بھی ٹیم اور ملک کی کرکٹ میں اسی طرح خدمت کروں جیسے یونس اور مصباح بھائی نے کی ہے۔
سوال: ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کی کارکردگی شاندار رہی ہے لیکن ون ڈے ٹیم میں آپ مستقل جگہ برقرار رکھنے میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، آخر کیا وجہ ہے کہ تمام تجزیہ کاروں کی جانب سے آپ کو اسٹائلش اور بہترین بیٹنگ تکنیک کا مالک قرار دیئے جانے کے باوجود آپ ون ڈے اسکواڈ میں جگہ نہیں بنا پا رہے ہیں؟
اسد شفیق: اس کو آپ پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ کی بھرمار بھی کہہ سکتے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں اکثر تیز کھیلنا ہوتا ہے اور حریف ٹیم کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بیٹسمین کو رنز بنانے سے روکیں جبکہ اب سو سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی کچھ الگ سے کرنا پڑتا ہے اور اس کوشش میں اکثر ہی بیٹسمینوں سے غلطیاں ہوتی ہیں کچھ بیٹسمین خوش قسمت ہوتے ہیں جن کو غلطیوں کے باوجود بھی موقع مل جاتے ہیں جبکہ میرے ساتھ ایسا کم ہوتا ہے لیکن میں بھرپور محنت کر رہا ہوں اس سلسلے میں سینئر بیٹسمینوں سے بھی مدد لے رہا ہوں تاکہ اپنی خامیوں پر قابو پا سکوں۔ پھر ایک اور وجہ بھی ہے ٹیسٹ کرکٹ میں گزشتہ کئی برس سے ہر بیٹسمین کو پتہ ہے کہ اسے کس نمبر پر بلے بازی کرنی ہے جبکہ ون ڈے میں ایسانہیں ہے۔ اکثر بیٹسمینوں کا نمبر تبدیل ہو جاتا ہے جس سے تھوڑا فرق پڑتا ہے بطور پروفیشنل کرکٹر ہم کوئی جواز نہیں دے سکتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بیٹسمین کچھ نہ کچھ سوچ کر ہی پریکٹس کرتا ہے۔ پھر وہ نئی گیندوں کی وجہ سے بھی جب ٹاپ آرڈر جلد برباد ہو جائے تو مڈل آرڈر کیلئے بھی سنبھلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ میری کوشش ہے کہ میں ون ڈے ٹیم کا مستقل رکن بن جاؤں۔
سوال: آپ کئی بار ٹیم کا حصہ بننے کے باوجود اکثر آپ کی اننگز کسی غلط شارٹ کا شکار ہو جاتی ہے تو کیا آپ اس پر ورک نہیں کرتے کہ ان مسائل سے نجات حاصل کر لیں؟
اسد شفیق: کون نہیں چاہتا کہ وہ ہر میچ میں بڑی اننگز کھیلے، سچ پوچھیں تو میری خواہش ہوتی ہے کہ ففٹی کو اسی اور اسی کو سنچری میں بدل دوں لیکن پھر بھی اکثر غلطیاں ہو جاتی ہیں جن سے نمٹنے کیلئے میں کوچز کی نگرانی میں کام کر رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں ٹیم کے کام آؤں، ٹیسٹ میچز میں تو میں اس میں کسی حد تک کامیاب رہا ہوں لیکن ون ڈے میں اب بھی مجھے بہت محنت کی ضرورت ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں ہر بیٹسمین کو بہت زیادہ چانس نہیں مل سکتے۔ اس لیے کہ یہاں ہر پوزیشن کا ایک سے بڑھ کر ایک بیٹسمین موجود ہے اس لیے میں اپنی خامیوں پر جلد سے جلد قابو پانا چاہتا ہوں اور پھر پانچ سال سے زائد عرصے کے بعد میں بھی چاہتا ہوں کہ ٹیم اور مینجمنٹ مجھے ٹیم کا مستقل حصہ سمجھے اور کپتان اور مینجمنٹ کے اعتمادد پر پورا اتروں، میں اپنی شارٹس پر کام کر رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ جلد ہی میں کچھ نئی شارٹس پر مہارت حاصل کر کے اپنے اسٹرائیک ریٹ میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ اس کے ساتھ میں فیلڈنگ اور باؤلنگ پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہوں کہ میں تینوں شعبوں میں ٹیم کے کام آسکوں کیونکہ موجودہ دور میں کسی ایک شعبے کے ’’اسپیشلسٹ‘‘ کے طور پر ون ڈے اور ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں جگہ برقرار رکھنا اکثر ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے میری کوشش ہے ٹیم میں جگہیں بھر سکوں جو شاید آفریدی اور مصباح الحق کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں۔
سوال: ون ڈے میچوں میں آپ کا اسٹرائیک ریٹ 70 کا بھی نہیں ہے تو کیا اس اسٹرائیک ریٹ کے باوجود بھی آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ون ڈے ٹیم میں جگہ بنا سکتے ہیں؟
اسد شفیق: یہی تو میں کہتا ہوں کہ میرا اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ مجھے پر اسٹرائیک ریٹ بڑھانے کا جنون سوار ہے جس پر میں قابو پان کی کوششوں میں مصروف ہوں اور اس کوشش میں میری توجہ کا مکز اپنے تکنیک اور شارٹس سلیکشن کو بہتر کرناہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیریز اور ٹور، بائے، ٹوور ہر باؤلر کے خلاف بھی میں حکمت عملی بنا رہا ہوں تاکہ جب بھی سلیکٹرز میرا موازنہ کریں تو میں ان کی ہر کسوٹی پر پورا اتروں۔ مجھے خود اس بات کا احساس ہے کہ مجھے پانچ سالوں میں خود کو ون ڈے اسکواڈ کا مستقل رکن بنا لینا چاہیے تھے اور ایسا نہ کرنا کسی حد تک میری ناکامی ہے لیکن میں ٹیسٹ کرکٹ انجوائے کرتا ہوں، فرسٹ کلاس بھی میری پسندیدہ کرکٹ ہے لیکن میں خود کو کسی ایک فارمیٹ کا بیٹسمین بنانا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ میں ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں جب میری ضرورت ہو جس جگہ بھی ضرورت ہو میں ڈٹ کر کھیلوں اور ٹیم کی فتح میں اہم کردار اداکروں۔ میرے خیال میں سنچری یا ڈبل سنچری سے بھی زیادہ اہم وہ اننگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے آپ کی ٹیم کی مشکل ٹل جائے اور ٹیم جیت جائے چاہے وہ 20رنز ہی کیوں نہ ہوں جو کسی اہم موقع پر بنائے جائیں جب آپ کی ٹیم کو ضرورت ہو، میری نظر میں وہ 20 رنز جس کی وجہ سے ٹیم جیتے، اس ٹرپل سنچری سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جس کے ہوتے ہوئے بھی آپ کی ٹیم نہ جیت سکے۔
سوال: کرکٹ ماہرین آپ میں ایک اچھے کپتان کی صلاحیت کو دیکھ رہے ہیں، کیا آپ نے کبھی پاکستان ٹیم کی کپتانی کے خواب دیکھے ہیں؟
اسد شفیق: پاکستانی ٹیم کی قیادت ایک اعزاز کی بات ہے لیکن میری توجہ تینوں فارمیٹ میں ٹیم کا مستقل رکن بننے پر ہے۔ میں اپنی تکنیک پر بھی کام کر رہا ہوں اور سنگل ڈبلز کے ساتھ باؤنڈریوں میں اضافے پر کام کر رہا ہوں نئے قوانین اور فیلڈنگ کی پابندیوں میں نرمی کے بعد بیٹسمینوں کو اچھی تکنیک کی اور بھی ضرورت پڑے گی۔ اس لیے میری کوشش ہے کہ میں جب کریز سے اونچی شارٹ کھیلوں تو وہ یقینی چھکے کیلئے ہی ہو اور اسی طرح میں گیپ میں بیٹنگ پر بھی توجہ دے رہا ہوں موجودہ دور میں رنز کا فلو برقرار رکھنا بہت اہم ہے کیونکہ ون ڈے میں تین تو رنز تو اب بن جانا کوئی مسئلہ ہی نہیں لیکن تین سو رنز چیس کرنا ہمیشہ یہ مسئلہ رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ہدف کے تعاقب کیلئے ایک اچھے اسٹرائیک ریٹ کی اہمیت اپنی جگہ ہوتی ہے، چوکے چھکوں کے ساتھ سنگل ڈبل کرنے کی صلاحیت بڑھانی ہو گی کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارا اسکور رُک سا جاتا ہے جس سے ٹیم پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے بھی ہم کافی محنت کر رہے ہیں۔
سوال:جس تیزی سے انٹرنیشنل کرکٹ میں مقابلے کا رجحان بڑھ رہا ہے تو کیا آپ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس ہی رفتار سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلے کا رجحان موجود ہے؟
اسد شفیق: میرے خیال میں اس پر بہت بات ہو چکی ہے ہم سب اسی ڈومیسٹک کرکٹ سے آئے ہیں ہاں انٹرنیشنل کرکٹ کا اپنا دباؤ ہوتا ہے لیکن ہم جو کچھ بھی سیکھتے ہیں وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر ہی سیکھتے ہیں تو میرے خیال سے ہر چیز میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے اور اس کیلئے بورڈ اپنی ذمہ داری بھی پوری کر رہا ہے اور دن بدن ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بھی بہتر ہو رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ بھی بہت جلد انگلش اور آسٹریلیا کے معیار کی ہو جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا کام کھیلنا ہے اور انتظامی معاملات بورڈ کا کام ہے تو ہمیں صرف اپنی کارکردگی پر ہی توجہ رکھنی چاہیے۔ یہی ایک اچھے کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی توجہ ذاتی کارکردگی پر رہے کیونکہ اچھی کارکردگی ہی ٹیم کے کام آتی ہے باقی ساری چیزیں ایک کھلاڑی کے لیے ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں تو کوشش کرتا ہوں کہ اپنی بیٹنگ کو بہتر سے بہتر کروں۔ اس سلسلے میں جب بھی کسی لیجنڈ سے ملنے کا موقع ملتا تو میں اس سے تکنیک اور بیٹنگ کی خامیوں پر بات ضرور کرتا ہوں۔ میری اس وقت ایک ہی خواہش ہے کہ ایسی اننگز کھیلوں جس سے میرے ملک کے عوام خوش ہوں اور ٹیم جیتے کیونکہ ہم اپنے ملک کے عوام کی ایک یہی خدمت کر سکتے ہیں اور ہمیں اس خدمت کو اچھے طریقے سے کرنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
سوال : زمبابوے ،پاکستان سپر لیگ کے دو فائنل ،ورلڈ الیون کے بعد سری لنکا کی ٹیم پاکستان آ کرٹی ٹونٹی اورون ڈے انٹرنیشنل میچزز کھیل چکی ہے ، پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحال ہونے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
اسد شفیق: پاکستان کرکٹ بورڈ کی محنت سے زمبابوے کی ٹیم پاکستان آئی تھی،اس کے بعد پاکستان سپر لیگ کے دو فائنل میچز ہوئے تھے پھر سری لنکا کی ٹیم پاکستان آکر ایک ٹی ٹونٹی کھیلی تھی ،اس کے بعد پھر سری لنکن ٹیم نے پاکستان کا ٹور کیا اور تین ٹونٹی ٹونٹی اور تین ون ڈے انٹر نیشنل میچز کی سیریز کھیلی ہے ۔جس سے پوری دُنیا کو یہ پیغام گیا کہ پاکستان پُر امن ملک ہے ۔ تو یہ میرے لیے بہت خوشی کاموقع تھا لیکن کراچی میں میچز نہیں ہو سکے۔ میری خواہش ہے کہ اگلی بار کوئی ٹیم پاکستان آئے تو کراچی میں بھی میچز منعقد ہوں۔میری دعا ہے کہ وہ وقت جلد آئے جب بھارت، انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ کی ٹیمیں بھی پاکستان آکر کھیلیں اور ہمارے شائقین اچھی کرکٹ گراؤنڈ میں آکر دیکھیں۔ ہم بھی جب بین الاقوامی ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو ان کے کھلاڑیوں کو بتاتے ہیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔پاکستان کے لوگ کرکٹ کے کھیل اور کھلاڑیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •