Voice of Asia News

کشمیریوں کے قاتل بھارت سے تعلقات کی بحالی شروع: محمد قیصر چوہان

 
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان 5 اگست کو کیا تھا۔سقوط کشمیر کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف عملی اقدامات کے بجائے چند نمائشی اقدامات کیے تھے جس میں بھارت کے ساتھ براہ راست تجارت ، ڈاک کا سلسلہ ، سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس سروس کومعطل کرنا اور سفارتی تعلقات کو ہائی کمشنر کی سطح سے نیچے لاکر ڈپٹی ہائی کمشنر کی سطح پر لانا تھا۔ سقوط کشمیر کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں اور افسران کے ساتھ ساتھ سول آبادی کا بھی جانی و مالی نقصان ہورہاہے۔ اس کے جواب میں کرتار پور بارڈر پر پاک بھارت لیڈر شپ جھپیاں ڈالتی رہی۔5 اگست سے لے کر آج تک مقبوضہ کشمیرمسلسل محاصرے کی حالت میں ہے۔ وہاں پر مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور کسی کو بھی ریاست سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے ، کاروبار بندہے ، چھاپے مارے جارہے ہیں ، ہزاروں نوجوان حراستی مراکز میں قید ہیں ، کشمیری خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی ریاست میں ضم کرنے کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ ان سب بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کی قیادت نے بھارت کے ساتھ عملی طور پر سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ اب ساری بھارتی جارحیت کو بھلا کر وزیر اعظم عمران خان نیازی نے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے شروع کردیے ہیں۔ پہلے خاموشی سے تجارتی تعلقات بحال کیے گئے اور اب دونوں ممالک کے درمیان ڈاک کا نظام بھی بحال کردیا گیا ہے۔ چند دنوں کے بعد ہی دونوں ممالک کے ہائی کمشنر بھی اپنے اپنے فرائض ادا کرنے پہنچ چکے ہوں گے۔ پھر سقوط بنگال کی طرح سقوط کشمیر بھی بھلا دیا جائے گا۔ سقوط بنگال کے سارے کردار ایک دوسرے پر اس کا الزام عائد کرتے رہے اور یوں وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہے۔ سقوط کشمیر میں پوری صورتحال عوام کے سامنے ہے اور اب ان کے علم میں آچکا ہے کہ اس معاملے میں حزب اختلاف ، حزب اقتدار اور ان کے سلیکٹر سب ایک صفحے پر ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 110 سے زائددن گزر چکے ہیں، اسے کسی بھی آبادی کو بلا خوراک کے جیل میں بند کرنے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس عرصے میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر رکھ دیے ہیں۔ کوئی بھی عاقل اور بالغ شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب کسی علاقے کا محاصرہ 110 سے زائدروز سے جاری ہو اور وہاں پر روز بھارتی فوج کسی بھی گھر پر ٹوٹ پڑے ، اس کے نوجوانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جائے اور خواتین کی منظم آبرو ریزی کی جائے تو اس علاقے میں بسنے والے لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ اس تمام صورتحال کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی بہت کچھ سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ اس کا پہلا سبق تو یہ ہے کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات اور دوسرا سبق بھی یہی ہے کہ اس دنیا میں طاقت کا اصول رائج ہے اور تیسرا سبق بھی یہی ہے کہ جو لوگ اپنا دفاع نہیں کرسکتے ، وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی برادری یا اس کی انجمن اقوام متحدہ اس ضمن میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو عجلت میں علیحدہ کرنے والی اقوام متحدہ کو 72 برسوں سے کشمیر میں بہتا خون نظر نہیں آرہا۔ اگروزیر اعظم عمران خان نیازی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے بارے میں رتی برابر بھی سنجیدہ ہیں تو پہلے قدم کے طور پر بھارت کا معاشی مقاطعہ تو کریں۔ پاکستان پر سے بھارتی فضائی کمپنیوں کے گزرنے پر پابندی ، بھارت کو افغانستان کیلئے تجارتی راہداری کی سہولت واپس لینے ، بھارت کو قیمتی پاکستانی پہاڑی نمک کی فراہمی کو روکنے جیسے اقدامات تو کریں۔ فوجی آپشن تو سب سے آخری آپشن ہے۔ افسوس کی بات تو یہی ہے کہ عمران خان پہلا قدم ہی اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں روس اور امریکا کا مقابلہ کسی باقاعدہ فوج نے نہیں کیا بلکہ یہ جذبہ ایمانی سے سرشار لوگ تھے جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں دنیا کی طاقتور ترین افواج کو خاک چٹادی۔ اس بہترین سرمائے کے ہوتے ہوئے عمران خان کی اگر بھارتی نیتاؤں کے سامنے گھگھی بندھی ہوئی ہے اور وہ معاشی مقاطعہ جیسا پہلا قدم بھی اٹھانے کو تیار نہیں ہیں بلکہ ان کی حکومت نے خاموشی سے بتدریج بھارت کے ساتھ تعلقات پرانی سطح پر لانے کا عمل شروع کردیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اور وہاں پر مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے لاکھوں بھارتیوں کو جائیداد الاٹ کی جارہی ہے۔ تاہم پاکستان میں ردعمل محض کالی پٹی باندھنے ، جمعہ کو آدھا گھنٹہ نیم دلانہ احتجاج کرنے اور بیان بازی تک ہی محدود ہے۔عمران خان نیازی نے تو بھارت کے خلاف پاکستانی سرحدیں تک بندنہیں کی ہیں۔ ایک جانب بھارت روز لائن آف کنٹرول پر بمباری کرکے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو شہید کررہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کرتار پور بارڈر بھارتیوں کے لیے بلا ویزا اور بلا پاسپورٹ کھول کر بھنگڑے ڈال رہا تھا۔ سقوط کشمیر پر یوں خاموشی اختیار کرنے کو کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ غداری ہی کہا جاسکتا ہے۔محب وطن پاکستانی سقوط کشمیر پر چپ سادھنے والے ایک صفحے پر موجود سارے کرداروں کو مجبور کریں کہ وہ پاکستانی عوام کے جذبات کا پاس کریں اور پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارتی استبداد سے بچانے کیلئے عملی کردار ادا کریں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •