Voice of Asia News

پاکستان ریلویز کو منافع بخش ادارہ بنانا مشن ہے پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،سینئر جنرل منیجر اعجاز احمد بریرو کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو، فرخ ریاض بٹ

 
پاکستان ریلویز کو ملکی ٹرانسپورٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے یہ محکمہ اپنے اندر عروج و زوال اور پھر استحکام کی تاریخ لیے ٹریک پر چلے جا رہا ہے، ایک اندازے کے مطابق ریل کے ذریعے سالانہ کروڑوں افراد سفر کرتے ہیں اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کیلئے بھی اس محکمے کی خدمات گراں قدر ہیں۔پاکستان ریلویز جس کا سابقہ نام 1947سے فروری 1961تک شمال مغربی ریلوے ، فروری 1961سے مئی 1974تک پاکستان مغربی ریلوے تھا، حکومت پاکستان کا ایک وفاقی محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کامرکزی آفس لاہور میں ہے اور یہ وزارت ریلوے کے تحت کام کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہم ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمد و رفت کی سستی تیز رفتار اور آرام دہ سہولیات فراہم کرتا ہے۔موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز 13 مئی 1861ء میں ہوا جب کراچی سے کوٹری 169 کلومیٹر ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 24 اپریل 1865کو لاہور ۔ملتان ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا۔ 6 اکتوبر 1876کو دریائے راوی،دریائے چناب اور دریائے جہلم پر پلوں کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لاہور سے جہلم ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ یکم جولائی 1878کو لودھراں سے پنوعاقل 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 27 اکتوبر 1878کو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا۔ رک سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام جنوری 1880 میں مکمل ہوا۔اکتوبر 1880میں جہلم سے راولپنڈی 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا۔ یکم جنوری 1881ء کو راولپنڈی سے اٹک کے درمیان 73 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔ 1 مئی 1882کو خیرآباد کنڈسے پشاور 65 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر مکمل ہو گئی۔ 31 مئی 1883 کو دریائے سندھ پر اٹک پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پشاورسے راولپنڈی سے بذریعہ ریل منسلک ہو گیا۔1885 تک موجودہ پاکستان میں چار ریلوے کمپنیاں سندھ رتھیں۔ 1885 میں انڈین حکومت نے تمام ریلوے کمپنیاں خرید لیں اور 1886میں نارتھ ویسٹرنیلوے، انڈین فلوٹیلا ریلوے، پنجاب ریلوے اور دہلی ریلوے کام کرتیں اسٹیٹ ریلوے کی بنیاد ڈالی جس کا نام بعد میں نارتھ ویسٹرن ریلوے کر دیا گیا۔مارچ 1887کو سبی سے کوئٹہ ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ 25 مارچ 1889کو روہڑی اور سکھر کے درمیان لینس ڈاؤن پل کا افتتاح ہوا۔ اس پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کراچی سے پشاور سے بزریعہ ریل منسلک ہو گیا۔ 15 نومبر 1896 کو روہڑی سے حیدرآباد براستہ ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔ 25 مئی 1900کو کوٹری پل اور 8 کلومیٹر طویل کوٹری سے حیدرآباد ریلوے لائن مکمل ہو گئی۔ اس سیکشن کے مکمل ہو جانے کے بعد پاکستان ریلویز کی کراچی سے پشاور موجودہ مرکزی ریلوے لائن بھی مکمل ہو گئی۔نارتھ ویسٹرن ریلوے کو فروری 1961میں پاکستان ویسٹرن ریلوے اور مئی 1974میں پاکستان ریلویزمیں تبدیل کر دیا گیا۔قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں تین مختلف براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں استمال ہوتی تھیں۔ جن میں سے کچھ میٹر گیج اور نیرو گیج ریلوے لائنیں براڈ گیج میں تبدل کر دیں گئیں ہیں اور باقی بند ہوچکی ہیں۔ اب پاکستان ریلوے کے نظام میں صرف براڈ گیج ریلوے لائنیں استعمال ہو رہی ہیں۔ کراچی سے لاہور ریلوے سیکشن کے کچھ حصوں پر ٹرینیں 120سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتیں ہیں۔ پاکستان ،بھارت، ایران اور ترکی سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔پاکستان، بھارت کے ساتھ لاہور سے دہلی اور میرپور خاص سے جودھ پور ریلوے لائنوں کے ذریعے ملا ہوا ہے۔جبکہ پاکستان، ایران کے ساتھ کوئٹہ سے زہدان ریلوے لائن سے بذریعہ ریل منسلک ہے۔ ایران میں کرمان سے زاہدان ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد پاکستان ترکی اور یورپ سے بھی بذریعہ ریل منسلک ہو گیا ہے۔ پاکستان میں چلنے والی ٹرینوں میں علامہ اقبال ایکسپریس،عوام ایکسپریس، فرید ایکسپریس،کراچی ایکسپریس،بہاؤالدین ذکریاایکسپریس،بولان میل،ہزارہ ایکسپریس،جعفرایکسپریس،قراقرم ایکسپریس،خوشحال خان خٹک ایکسپریس، خیبر میل ،اسلام آبادایکسپریس،ملت ایکسپریس، نائٹ کوچ ایکسپریس،پاک بزنس ایکسپریس ،پاکستان ایکسپریس، اکبر ایکسپریس (کوئٹہ ایکسپریس)راول ایکسپریس، سمجھوتہ ایکسپریس ،شاہ رکن عالم ایکسپریس،شالیمار ایکسپریس، سبک خرام ایکسپریس، سبک رفتار ایکسپریس، سکھر ایکسپریس،سپر ایکسپریس،تیزگام، تیزروتھر ایکسپریس ،زاہدان مکسڈ پیسنجرشامل ہے۔ریل گاڑی بارش ،آندھی اورطوفان میں بھی محفوظ ترین سفر ہے جس میں ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز میسر ہوتی ہے۔
پاکستان ریلویز ان دنوں مشکلات کا شکار ہے ،ادارے کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے انتظامیہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔اعجاز احمد بریرو بھی اسی کوشش میں مصروف ہیں۔انہوں نے پاکستان ریلوے کو15اکتوبر1989کو گریڈ 17میں بطور اسسٹنٹ مکینکل انجینئر جوائن کیا تھا وہ ملتان، سکھر، مغلپورہ ، کراچی، اسلام آبادمیں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ جبکہ آج کل وہ پاکستان ریلوے میں بحیثیت چیف ایگزیکٹو آفیسر سینئر جنرل منیجر کے عہدے پر فائز ہیں۔گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیا‘‘ نے پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر،سینئر جنرل منیجر اعجاز احمد بریرو سے ان کے آفس میں ایک ملاقات کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال:آپ نے اس مشکل وقت میں جنرل منیجر کا عہدہ سنبھالا جب پاکستان ریلویز خسارے میں ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
اعجاز احمد بریرو: میں تو اپنے ادارے سے مطلق پُرعزم ہوں اگر جذبہ تعمیر زندہ ہو اور خلوصِ نیت سے کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو یقیناً ریلویز کی ڈوبتی ہوئی ساکھ کوبہتر بنا کر مزید لگن، محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کر کے پاکستان ریلویز کو منافع بخش ادارہ بنایا جاسکتا ہے۔
سوال: امریکا اور چین سے منگوائے گئے ریلوے انجن چند سال چلنے کے بعد ناکارہ کیوں ہو ئے؟
اعجاز احمد بریرو:اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں بھارت کی طرح پرانے انجن خواہ ڈیزل سے چلنے والے ہوں یاکوئلے اسٹیم یا پھر بجلی سے چلنے والے انجن ، اْن کی مرمت کرنے اور ان کیلئے پرانے پرزے تیار کرنے والی فیکٹریاں ، ہیوی مشینری سب بھارت میں رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انجنوں کی بڑی تعداد خراب پڑی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دور ِ حکومت میں رسالپور میں جاپان کی کمپنی ہٹاچی کے تعاون سے جو ڈیزل انجن تیار کئے گئے وہ آج بھی کامیابی سے پشاور اورراولپنڈی کے درمیان چل رہے ہیں دیگر انجنوں کی مرمت بھی رسالپور فیکٹری میں جاری ہے۔
سوال:ڈیزل انجنوں کے مسائل کب تک ختم ہوں گے؟
اعجاز احمد بریرو:کافی حد تک خراب انجنوں کی مرمت جاری ہے۔ اس کے علاوہ امریکن انجن3826اور اس طرز کے مزید 10انجن ہم نے محفوظ کیے ہیں جلد ہی انہیں سبی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے چمن کے درمیان چلائیں گے یوں سیروسیاحت کو فروغ ملے گا۔ بالکل اسی طرح ہم جلد ہی کراچی سے لاہور ، پنڈی، نوشہرہ سے مردان، درگئی تک تاریخی ٹرین تیز رو جلد بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سوال:سیر و سیاحت کے فروغ کیلئے آپ کے کیا اقدامات ہیں؟
اعجاز احمد بریرو:سیاحت کے فروغ کیلئے پاکستان ریلوے نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے شمالی علاقہ جات جہاں ریلوے ٹریک موجود ہیں انہیں از سرِ نو مرمت کر رہے ہیں ، خاص کر نوشہرہ سے مردان، دریائے کابل پر پُل ، رشکئی، گجر گڑھی ، سنحا کوٹ، ہاتھیان، تخت بھائی اس کی تہذیب ساڑھے چھ ہزار سال پرانی ہے۔ یہاں دنیا کے بدھ مت کی مقدس ترین عبادت گاہیں ہیں یہاں ہم تخت بھائی اسٹیشن کی بھی از سرِ نو مرمت کروا رہے ہیں۔ یہاں بڑی ملیں، فیکٹریاں ، کارخانے موجود ہیں۔ اس لئے روزانہ کی بْنیاد پر کراچی، لاہور، راولپنڈی، مردان، درگئی کے درمیان جلد ہی مال گاڑیاں چلانے کا پختہ ارادہ ہے۔ ریل سروس کے ذریعے سیروسیاحت کے ساتھ ریل تجارت بھی چلے گی۔
سوال:آپ کے خیال میں ریلوے آئندہ بحرانوں پر قابو پالے گا؟
اعجاز احمد بریرو:الحمد ﷲ آج ریلوے نے کافی حد تک بحرانوں پر قابو پالیا ہے۔ہم پاکستان ریلویز کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ ہم برطانیہ دور کے بند ریلوے اسٹیشن اور ٹریک بحال کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔جیسا کہ بھارت نے دُنیاکے ممالک سے آنے والے سیاحوں سے تجارت کے ذریعے اربوں روپے کما رہا ہے۔ ہم بھی سیروسیاحت اور تجارت کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں۔
سوال:سمجھوتہ ایکسپریس کب تک کھولنے کا ارادہ ہے؟
اعجاز احمد بریرو:ہماری وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید سے بات چیت جاری ہے جلد ہی پاک بھارت ریل سروس بحال ہو جائے گی۔
سوال:کیا آپ لنڈی کوتل سائیڈ سے اور چمن سائیڈ سے افغانستان تک ریلوے لائن بچھانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اعجاز احمد بریرو:جی ہاں اگر ہم نے پاکستان ریلوے کو عالمی سطح پر اْجاگر کرنا ہے اور ریلوے کو عالمی ادارہ بنانا ہے تو ہم پاکستان ریلوے کو خیبر پختونخواسائیڈ سے تورائیگہ سے آگے کابل تک اور چمن سے قندھار تک ریلوے ٹریک لے جائیں گے۔
سوال:کیا آپ لنڈی کوتل سیکشن بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
اعجاز احمد بریرو:جی ہاں ضرور جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ویڑن ہے کہ سیروسیاحت تجارت کو فروغ دیا جائے اور نوشہرہ سے درگئی سیکشن بحال ہو ، تاریخی ٹرین تیز رو کے علاوہ مال گاڑیاں چلیں اور پشاور سے لنڈی کوتل، لنڈی خانہ لوارگی توڑہ تیگہ تک ریل سروس بحال ہو۔ ان سیکشنوں کو جلد بحال کرنے کی غرض سے اگر ہمیں FWOکی مددکی ضرورت پڑی تو ہم FWOسے ہر ممکن مدد لیں گے تاکہ یہ رُکے ہوئے قومی منصوبے جلد پایہ تکمیل کو پہنچیں۔
سوال: شاہدرہ سے بادامی باغ لاہور سیکشن کے درمیان ریل کار سروس کب تک بحال ہو رہی ہے؟
اعجاز احمد بریرو: ہم جلد ہی شاہدرہ سے وہی خوب صورت ریل کار سسٹم شروع کر رہے ہیں یہ ایک جرمن ریل کار ہے جو دونوں سائید سے چلتی ہے۔ لوگ اس میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں اور لوگوں کامطالبہ ہے اسے جلد از جلد بحال کریں اور ہم کر رہے ہیں۔
سوال:اگر بھارت نے ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنی مال گاڑیاں لاہور سے خیبر پختونخوا کے راستے افغانستان کے درمیان چلانا چاہتا ہے تو آپ اجازت دیں گے؟
اعجاز احمد بریرو:جی ضرور ہم پہلے وفاقی حکومت سے مشاورت کریں گے پھر اجازت ملنے پر پاک بھارت افغانستان کے درمیان مال گاڑیوں کی آمد ورفت کو کھولیں گے۔ لاہور سے افغانستان تک گزرنے کا بھارت سے کرایہ وصول کریں گے یوں پاکستان ریلوے نہ صرف اپنا مالی خسارہ پورا کرے گا بلکہ ریلوے اور ملازمین میں خوشحالی و تعمیر و ترقی کے نئے باب کھلیں گے۔ پاکستان ریلویز افغانستان اور چین سے بھی ریل کے ذریعے جڑنا چاہتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •