Voice of Asia News

قومی ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنا میرا مشن ہے پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم سے خصوصی انٹرویو: محمد قیصرچوہان

اپنے کھیل سے گہری وابستگی، بے مثال حوصلہ اور آہنی عزم ہی کسی کھلاڑی کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچاتا ہے اور انتھک محنت ہی وہ کنجی ہے جس سے کامیابی کے ہر دروازے کا تالا کھلتا چلا جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے تو غلط نہیں ہے کہ محنت میں ہی عظمت ہے۔ بابر اعظم نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگر جی لگا کر محنت کی جائے تو بہت کچھ بدلہ جا سکتا ہے۔ 15 اکتوبر 1994 کو لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم میں وہ خوبیاں موجود ہیں جو کہ کسی بہترین بیٹسمین میں چاہئیں۔ اس نوجوان کھلاڑی کی نگاہ کوکسی سنار سے بھی مشابہہ قرار دیا جا سکتا ہے جو کہ باریک سے باریک کام کو بھی بڑی نفاست کے ساتھ سر انجام دیتا ہے بابر کھیل کے آداب سے واقف ہے میدان کے اندر اور باہر بہترین رویہ کا حامل کھلاڑی کھیل کے بارے میں غورو فکر کرنے کا عادی اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے والا بیٹسمین ہے۔ ذہنی مضبوطی اس کا سب سے اہم ترین ہتھیار ہے جس کے بل بوتے پر وہ وکٹوں کے چاروں جانب اسٹائلش انداز سے خوبصورت و دلکش اسٹروکس کھیلتا ہے۔ لاہور کے گلی کوچوں میں ٹیپ اور ٹینس بال سے کرکٹ کھیل کر منظر عام پر آنے والے اس نوجوان بیٹسمین میں کسی وقت دفاع ہے اور کسی وقت جارح مزاجی دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کا اصل مقصد صرف رنز کا حصول اور کامیابیوں کی تلاش ہے وہ کرکٹ کے صف اول کے باؤلرز کے خلاف ہر شارٹ بڑی عمدگی اور مہارت سے کھیلتا ہے بابر اعظم خود غرضی سے پاک ایک ایسا بیٹسمین ہے جو اپنے بجائے اپنی ٹیم کیلئے سوچتا ہے۔ جس کا ثبوت انڈر 15 اور انڈر 19 ورلڈ کپ کے مقابلوں میں شاندار بیٹنگ تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان اے کرکٹ ٹیم اور پھر پاکستان کرکٹ ٹیم میں اس کے جس فارمیٹ بھی اسے آزمایا گیا اس نے اپنی عمدہ بیٹنگ کے بل بوتے پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔بابر اعظم نے کرکٹ کو اپنانے کے بعد سخت محنت کو اپنا شعار بنا لیا اور پھر نو عمری میں ہی جونیئر کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کے ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔ خدا داد صلاحیتوں کا حامل یہ دائیں ہاتھ کا کھلاڑی پاکستان کی جونیئر کرکٹ کی پیداوار ہے جو دفاع اور جارح مزاجی کے امتزاج کے ساتھ گیند کو ہٹ کرتے ہوئے بیٹ کا پورا چہرہ کھلا اور واضح رکھتا ہے۔ وکٹ خواہ کیسی ہو، مخالف باؤلرز کتنے ہی خطرناک ہوں اس کا خوبصورت فٹ ورک ہر چیز پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس اسٹروکس کا خزانہ ہے اور وہ مخالف باؤلرز کی گیندوں کو بلا جھجھک باؤنڈری کا راستہ دکھاتا ہے۔ بابر اعظم ایک محب وطن اور کھیل سے جنون کی حد تک محبت کرنے والا نوجوان ہے۔ جارحانہ انداز سے مخالف باؤلرز پر ٹوٹ پڑنے والا نوجوان بلے باز اپنی حالیہ کارکردگی کے سبب خود کو منوانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اگر اس کے پیٹ سے نکلنے والا رنزوں کا سیلاب اسی روانی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو جلد ہی اس کا شمار بھی عالمی کرکٹ کے عظیم بیٹسمینوں کی فہرست میں ہو گا۔گزشتہ دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم سے ملاقات ہوئی تواس دوران ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال : جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے آپ کو پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا تو آپ کے کیا احساسات تھے؟
بابر اعظم : پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنا میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے یہ میرے لیے ایک چیلنج بھی ہے جس پر پورا اترنے کی میں ہر ممکن کوشش کر وں گا۔میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی ،چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کا بے حد ممنون ومشکور ہوں جنہوں نے مجھ کو پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا۔ان کے علاوہ میں ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کا بھی بڑا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میرے کاندھوں پر جو ذمہ داری ڈالی ہے میں اسے قومی ذمہ داری سمجھ کر بڑی ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔ ویسے میں آپ کوبتانا چاہتا ہوں کہ کپتانی کبھی بھی میرا مسئلہ نہیں رہا۔اور نہ ہی میں کپتانی کے پیچھے کبھی نہیں بھاگا ہوں بلکہ کپتانی نے میرا تعاقب کیا ہے۔ میں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بننے کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ تو بس اﷲ تعالیٰ کا مجھ نا چیز پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے اتنی عزت سے نوازا ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی بہت ہی مشکل اور ذمہ داری والا کام ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا تاج ہے۔ ایک چھوٹی سے غلطی آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے بڑا محتاط ہو کر چلوں گا۔ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھوں گا۔
سوال :آپ نے اپنے مستقبل کی کیا پلاننگ کی ہے؟
بابر اعظم : میری اولین ترجیح ہمیشہ پاکستانی ٹیم کی فتوحات رہی ہیں میں خود کو ہمیشہ ایک ٹیم مین کی حیثیت سے دیکھتا ہوں میرا اولین مقصد اور مشن پاکستان کرکٹ ٹیم کو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔ ایک ایسی ٹیم بنانا ہے جو ہر میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑتی رہے جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہو۔ کپتان بننے کے بعد میرا اولین ٹارگٹ یہی ہے کہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک مرتبہ پھر سے ورلڈ نمبر ون ٹیم بنا دوں۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ لوگ شکست کو تسلیم نہیں کرتے اگر قومی ٹیم ہار جائے تو اس پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ جس سے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اگر ٹیم جیت جائے تو کھلاڑی کو آسمان پر لا کھڑا کیا جاتا ہے جیتنے پر ہیرو اور ہارنے پر زیرو تو یہ تاثر ختم کرنا ہو گا کیونکہ شکست کے پیچھے ہی جیت چھپی ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں کچھ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو کہ ٹیم کی پوزیشن کمزور ہوتے ہی اس پر شدید تنقید کرنی شروع کر دیتے ہیں تنقید برائے تنقید سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر مجھے تھوڑا سا ٹائم دیا گیا تو میں قومی ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کر دوں گا۔ میرا مقصد یہی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہمیشہ فتح کیلئے بے چین اور بے تاب رہنے والے اسکواڈ میں تبدیل کردوں ایک قومی کھلاڑی اور کپتان ہونے کے ناطے میرا مقصد صرف یہی ہے کہ میں آنے والے چیلنجز میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کروں تاکہ ٹیم کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکوں یہی اس وقت میری اہم ذمہ داری ہے جس کا مجھے پوری طرح سے احساس ہے میں میدان میں تمام صلاحیتیں اور توانائیاں جھونک دینے کا عادی ہوں میں جہاں سینئر کھلاڑیوں کی قدر کرتا ہوں اور ان سے مشاورت کر کے آگے چلتا ہوں وہاں جونیئرز کے ساتھ بھی میرا رویہ بڑا بہترین ہو گا۔ بطور کپتان میرا مقصد یہی ہے کہ کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلندی پر لہرائے میرا مقصد یہی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے پیارے وطن پاکستان کیلئے فتوحات کی راہیں تلاش کروں۔
سوال : آپ کے خیال میں ایک اچھے کپتان میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟
بابر اعظم : میرے خیال میں اچھا کپتان اپنے کھلاڑیوں سے مکمل انصاف کرے، اپنے ساتھیوں کی بھرپور مدد کرے، پریکٹس کرے اور اپنی فٹنس کا خیال رکھے اچھا کپتان ہمیشہ بہادر اور جذبہ مسابقت رکھنے والا ہوتا ہے جسے آخری گیند تک جیت کیلئے لڑنا ہوتاہے تاہم ہار کی صورت میں وہ پھر مقابلے کیلئے خود کو اور ٹیم کو تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس میں ٹیلنٹ، جذبہ اور دماغی صلاحیتیں دوسروں سے زیادہ ہوں کیونکہ باقی کھلاڑی بھی اپنے کپتان کو دیکھ کر ہی حوصلہ پکڑتے ہیں ایک اچھے کپتان میں بر وقت فیصلے کرنے کی صلاحیتیں دوسروں سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے وہ جس حد تک اور جہاں تک ہو سکے ٹیم میں بہتری پیدا کرے تاکہ ٹیم مزید آرگنائز اور مضبوط ہو جائے۔
سوال : پاکستان ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنے کیلئے کیا آپ سابق کپتانوں سے مشاورت کریں گے؟
بابر اعظم : بطور کپتان اور بیٹسمین میرا مشن پاکستان کرکٹ ٹیم کو وننگ ٹریک پر گامزن کرنا ہے اس مشن کی تکمیل کیلئے میں سابق کپتانوں سے مشاورت کر وں گا۔
سوال: آپ پاکستان کے کامیاب ترین بیٹسمین کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔ آپ کوبعض مبصرین اور ماہرین ’’مسٹر قابل اعتماد اور مردبحران جیسے الفاظ سے بھی پکارنے لگے ہیں کیونکہ بحرانی حالات میں آپ کی بیٹنگ بہت نکھر کر سامنے آئی ہے، یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟
بابر اعظم : میں نے ہمیشہ مثبت سوچ اور اپروچ کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے میں ہر میچ کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہوں میں ہمیشہ چیلنج کو قبول کرنے والا کھلاڑی ہوں اور میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ خوب سے خوب تر پرفارمنس کا مظاہرہ کروں تاکہ قومی ٹیم فتوحات سے ہمکنار ہوسکے۔
سوال: اس وقت آپ کا شمار پاکستان کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کا سا ہے آپ نے کس طرح خود کو اس روپ میں ڈھالا؟
بابر اعظم : میرے ارادے کی پختگی اور میری انتھک محنت، لگن اور جنون نے ہی مجھے اس روپ میں ڈھالا ہے یہ میرا عزم اور شب و روز کی سخت ترین محنت ہی تھی جس نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے۔ میں مشکل حالات میں کھیلنا پسند کرتا ہوں، مجھے زندگی میں کوئی بھی چیز آسانی کے ساتھ نہیں ملی چنانچہ سخت محنت اور جدوجہد میری زندگی کا حصہ اور میری عادت بن چکی ہے۔
سوال: جب آپ بیٹنگ کرنے کیلئے میدان میں اترتے ہیں اور کریز پر کھڑے ہوتے ہیں تو پورے ملک کی امیدوں کا مرکز ہوتے ہیں اس وقت کیا محسوس ہوتا ہے؟
بابر اعظم : میں جب بھی کھیلنے کیلئے میدان میں اترتا ہوں تو میری اولین خواہش یہی ہوتی ہے کہ میں اپنی زندگی، اپنے کیریئر کی بہترین اننگز کھیلوں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر عمدہ پرفارم کروں۔ میں ہر بار نئے جذبے، لگن اور توجہ سے کھیلنے کا ٹھوس عزم لے کر میدان میں اترتا ہوں میں جانتا ہوں کہ لوگ اپنی ٹیم کو ہمیشہ جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب ہم کھیلتے ہیں تو کروڑوں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں اور میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ لوگ مجھ سے عمدہ کارکردگی کی توقع کر رہے ہوتے ہیں میں جب میدان میں اترتا ہوں تو سب کی نظریں مجھ پر جمی ہوتی ہیں چنانچہ میں پوری ایمانداری اور پوری یکسوئی کے ساتھ کھیلتا ہوں میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں ملک و قوم اور سلیکٹرز کے اعتماد پر پورا اتروں میں اپنی بیٹنگ کے معیار کو مزید بہترین بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوں اور میرا خیال ہے کہ میری کارکردگی میں بہتری آرہی ہے۔
سوال: کیا آپ انفرادی کارکردگی پر یقین رکھتے ہیں؟
بابر اعظم : میں انفرادی کارکردگی پر قطعی یقینی نہیں رکھتا میں نے ہمیشہ ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کو اولین ترجیح دی ہے میرا فلسفہ بالکل سادا اور آسان ہے کہ میرے ساتھی کھلاڑی میدان میں جا کر اپنی حقیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کریں تاکہ پاکستان کے لیے فتوحات تلاش کی جا سکیں۔ میری یا کسی بھی کھلاڑی کی کسی ایسی سنچری یا ڈبل سنچری کا کیا فائدہ جو ٹیم کو فتح نہ دلا سکے۔ میں اجتماعی کارکردگی پر بہت زیادہ یقین رکھتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ انفرادی کھیل ہر گز نہیں ہے۔ جب تمام کھلاڑی مل جل کرکھیلیں گے تو اس کا ٹیم کو فائدہ ضرور ہو گا یعنی وہ فاتح ٹیم میں کھیل رہے ہوں گے۔
سوال : بابر بھائی اب آپ ہمارے قارئین اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
بابر اعظم : میرے والد محترم محمد اعظم صدیق بتاتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کا تعلق بھارتی شہر ہوشیار پور سے تھا میرے دادا جی محترم جناب محمد صدیق اسی شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ پھر جب 1947 میں پاکستان بنا تو وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور خان پور سے تقریباً 25 کلو میٹر دور کوٹ سمابہ نامی گاؤں میں آباد ہو گئے۔ میرے دادا جی مسجدیں تعمیر کرنے کے ماہرترین کاریگر تھے۔ میرے والد محترم کا نام محمد اعظم صدیق ہے ان کے بڑے بھائی میرے تایا محمد اکمل صدیق، محمد اجمل صدیق اور محمد اکرم صدیق ہیں۔ ان سب کی پیدائش گاؤں کوٹ سمابہ کی ہے۔ میرے والد اپنے دیگر بھائیوں کے ہمراہ 1968 میں لاہور آکر فردوس مارکیٹ گلبرگ کے پڑوس میں واقع ماڈل کالونی کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ میرے والد محترم کا نام محمد اعظم صدیق اور والدہ محترمہ کا نام فرزانہ اعظم ہے۔ میرے ابو کنسٹرکشن کے شعبے سے منسلک ہیں۔ میں 15 اکتوبر 1994 کو لاہور میں پیدا ہوا۔ چار بہن بھائیوں میں میرا نمبر تیسرا ہے۔
سوال : یہ بتائیں کہ آپ کا بچپن کیسا گزرا اور آپ کی تعلیم کتنی ہے؟
بابر اعظم : میرے بچپن کے دن بڑے ہی یاد گار تھے۔ بچپن میں کافی شرارتیں تھا۔ محلے کے دیگر بچوں کے ہمراہ شام کے وقت لوگوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جایا کرتا تھا۔ گھروں کے باہر لگے ہوئے بلب اور ٹیوب لائٹس پتھر اور کبھی شرلے والی گن سے توڑ کر بھاگ جاتا تھا۔ بچپن میں پتنگ بازی کا جنون تھا۔ میں پانچ سال کا تھا کہ میرے دادا محمد صدیق نے مجھے کہا کہ بیٹا پیسے لینے ہے یاپتنگ تو میں نے کہا تھا کہ مجھے پیسے نہیں بلکہ پتنگیں چاہیے۔ میں نے ابتدائی تعلیم علی ایجوکیشن سے حاصل کی ہے۔ میں سکول سے گھر واپسی پر سکول بیگ بستر پر پھینکتا اور کھانا کھانے کے فوری بعدچھت پر پتنگیں اڑانے کیلئے چلا جاتا تھا۔ ابو کو میرا پتنگیں اڑانا اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس لیے اکثر وہ مجھے پتنگیں اڑانے سے روکتے باز نہ آنے پر کبھی کبھار پٹائی بھی کرتے تھے۔ میں اکثر والدہ سے پیسے لے کر پتنگ خرید لیتا پھر اس کو تندی کی مدد سے اڑا کر کٹی ہوئی پتنگیں چموڑ کر جمع کرتا اور پھر بسنت پر خوب پیچ لڑایا کرتا تھا۔
سوال : یہ بتائیے کہ آپ کو کرکٹ سے محبت کس عمر میں ہوئی اور کیا آپ سے پہلے بھی خاندان میں کوئی کرکٹ کھیلتا تھا؟
بابر اعظم : خاندان میں میرے تایا محمد اکمل صدیق کے تین بیٹے کامران اکمل، عمر اکمل، عدنان اکمل ٹیسٹ کرکٹرز ہیں۔ ان کے علاوہ میرے تایا محمد اکرم کے بیٹے عاقل اکرم بھی بڑے اچھے فاسٹ باؤلر ہیں اور وہ جنوبی افریقہ کا ٹور کر چکے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ بھی ایک دن ٹیسٹ کرکٹر بن کر پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ جہاں تک میر ی بات ہے تو مجھے پانچ برس کی عمر میں کرکٹ سے محبت ہو گئی تھی۔ بچپن میں دو ہی کام ہوتے تھے پتنگیں اڑانا اور کرکٹ کھیلنا۔ ابتدا میں گلی میں اپنے کزنوں کے ساتھ ٹینس اور ٹیپ بال سے کرکٹ کھیلتا تھا۔ ابو مجھے پڑھا لکھا کر ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے لیکن مجھے پتنگیں اڑانے اور کرکٹ کھیلنے کا جنون تھا۔ ہفتے کی رات کو ہم سب کزنز گلی میں لائٹس لگا کر رات گئے تک کرکٹ کھیلتے تھے۔ میرے تایا ابو محمد اکرم کو باؤلنگ کا شوق تھا وہ ہمیں باؤلنگ کرتے اور میں بیٹنگ کرنے کا شوقین تھا۔ میں پتنگیں اڑانے کا شوقین تھا۔ میں پتنگیں چمو ڑکر اور لوٹ کر جمع کر لیتا ان میں سے بڑے سائز کی خوبصورت اور صاف پتنگیں فروخت کر تا اور اس رقم سے اپنے لئے نیا بیٹ خرید لیتا تھا۔ میں رمضان المبارک کے مہینے میں پورے روزے رکھتا تھا اس وجہ سے عید والے دن عید کی مد میں بھی کافی پیسے مل جاتے تھے ان پیسوں سے بھی میں کرکٹ کا بیٹ گیند خرید لیتا تھا۔ ان دنوں کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن پاکستان کی انڈر 15 اور انڈر 19 کرکٹ ٹیموں کی کپتانی کروں گا اور پھر فرسٹ کلاس کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس دکھا کر پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کروں گا۔
سوال : آپ نے ہارڈ بال کے ساتھ باقاعدگی سے کرکٹ کھیلنا کب شروع کی تھی؟
بابر اعظم : شروع میں تو والد صاحب کرکٹ کھیلنے سے منع کرتے تھے لیکن پھر ایک دن مجھے بڑے تایا محمد اکمل صدیق نے کھیلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے میرے ابو سے کہا کہ یار میں نے اعظم کو پہلی مرتبہ کھیلتے ہوئے دیکھا ہے تو مجھے یوں محسوس ہوا ہے کہ یہ دوسرا راہول ڈریوڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو کلب کرکٹ کھلاؤ۔ اس کے بعد مجھے میرے تایا محمد اکرم صدیق اپنے ساتھ کرکٹ سنٹر کلب ماڈل ٹاؤن لے گئے اور مجھے کلب میں داخلہ لے دیا۔ میرے تینوں تایا زاد بھائی کامران اکمل، عدنان اکمل اور عمر اکمل بھی اسی کلب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ میں نے کرکٹ سنٹر کلب میں جا کر نیٹ پریکٹس شروع کر دی۔ ان دنوں میں لارڈز سکول میں پڑھتا تھا تو مجھے اپنے سکول کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا اور میں نے اپنے اولین ہارڈ بال کے میچ بھارتی شہر امرتسرکی سکول ٹیم کے خلاف کھیلا یہ 2006 کی بات ہے اور ان دنوں میری عمر تقریباً 12 سال کی تھی۔ میں نے اس میچ میں بطور افتتاحی بیٹسمین شرکت کی اور 65 رنز کی شاندار اور یادگار اننگز کھیلی تھی۔ ہماری ٹیم نے ٹوٹل 130 رنز بنائے تھے۔ ہم نے یہ میچ جیت لیا تھا اور مجھے مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا تھا۔ اس کے بعد میں نے نیپال کی سکول ٹیم کے خلاف بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ جب ہارڈ بال کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کی تو اس دنوں میرے کزن عدنان اکمل نے مجھے کافی گائیڈ کیا۔مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے مابین قذافی اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ ہو رہا تھا تو میں اس میچ میں باؤنڈری لائن کے باہر بال پکر کیڈیوڈی سر انجام دے رہا تھا۔تو میں نے اس میچ کے دوران ہی اپنی آنکھوں میں ٹیسٹ کرکٹر بننے کے سپنے سجا لئے تھے۔
سوال : جب سنجیدگی کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کر دی تو کس کھلاڑی کو آئیڈیل بنا کر محنت شروع کی؟
بابر اعظم : عمر اکمل اور جنوبی افریقہ کے بلے باز اے بی ڈویلیئرز میرے آئیڈیل کھلاڑ ی ہیں میری خواہش ہے کہ میں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کروں۔ ان جیسا بلے باز بننے کیلئے میں صبح 11 بجے سے لے کر شام 7 بجے تک سخت محنت کرتا ہوں۔ میں صبح ایک گھنٹے رننگ کرنے کے بعد فزیکل ٹریننگ کرتا۔ پھر آدھا گھنٹہ فیلڈنگ پریکٹس کرتا۔ اس کے بعد جب کلب کی نیٹ پریکٹس شروع ہوتی تو سینئرز کے ساتھ پریکٹس کرتا۔ جب پریکٹس ختم ہوتی تو سپرنٹیں لگاتا اور پھر نیٹ اتار کر کمرے میں رکھ دیتے۔ میں کرکٹ سنٹر ماڈل ٹاؤن سے فردوس مارکیٹ گلبرگ کے ساتھ ماڈل کالونی گلی نمبر ایک میں واقع اپنے گھر کئی مرتبہ پیدل ہی آتا تھا۔ یہ روٹین میری کافی عرصے تک رہی۔
سوال : آپ کی پہلی شناخت تو انڈر 15 کرکٹ تھی؟
بابر اعظم : 2006میں لاہور ریجن انڈر 15 کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کیلئے ٹرائلز کرکٹ سنٹر کلب ماڈل ٹاؤن میں ہوئے اس وقت اظہر خان، محسن کمال اور ڈاکٹر جمیل سلیکٹرز تھے۔ میں نے بھی ٹرائلز دیئے اور عمدہ پرفارم کیا جس پر مجھے لاہور ریجن کی انڈر 15 کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ کر لیا گیا۔ مجھے تین میچ کھلائے گئے میں نے40 رنز سکور کئے چونکہ میری کارکردگی اچھی نہ تھی اس لیے جب نیشنل کرکٹ اکیڈمی لگی تو اس میں ٹریننگ کرنے والوں کی فہرست میں میرا نام نہیں تھا تو میں نے عزم کیا کہ اب مجھے عمدہ پرفارم کرنا ہے اور خود کو منوانا ہے۔ میں نے 10 مہینے دن رات سخت محنت کی اور اپنے کھیل میں موجود غلطیوں کو دور کیا۔ 2007 میں پھر میرا نام لاہور ریجن انڈر 15 کرکٹ ٹیم میں آیا پہلا میچ ملتان میں تھا میں نے اس میچ میں 165 رنز ناٹ آؤٹ بنائے تھے۔ میں نے اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جس پر مجھے ٹورنامنٹ کا بیسٹ بلے باز کا ایوارڈ ملا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے بعد 2008 میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں 40لڑکوں کو بلایا گیا تھا جنہوں نے ریجن انڈر 15 میں عمدہ پرفارم کیا تھا تو میرا نام بھی اس میں شامل تھا۔
سوال : یہ بتائیں کہ آپ کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ کون سا تھا؟
بابر اعظم : جب پہلی مرتبہ میرا نام نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں انڈر 15 لڑکوں کے کیمپ میں آیا تو یہ میرے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اکیڈمی میں مدثر نذر، علی ضیاء اور منصور رانا نے میری بھرپور مدد کی۔ انہوں نے میری بنیادی تکنیکس میں بہتری لانے کیلئے مفید مشورے دیئے جن پر عمل کرنے سے میرے عمل میں نکھار آیا۔
سوال : وہ کون سی کارکردگی تھی جو آپ کو پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم میں لانے میں معاون ثابت ہوئی اور آپ پاکستان انڈر 15 ٹیم کے کپتان بن گئے؟
بابر اعظم : نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں موجود انڈر 15 کے کیمپ میں جو 40 لڑکے تھے ان کے آپس میں میچز ہوئے تھے میں ان میچز کاٹاپ اسکور تھا۔ 2008 میں ویسٹ انڈیز میں انڈر 15 ورلڈ کپ کھیلا جانا تھا تو اس میں شرکت کرنے والی پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کے ٹرائلز انہی 40 لڑکوں میں سے ہوئے تو میں بھی ٹیم میں منتخب ہو گیا اور مجھے پاکستان کرکٹ بورڈ نے نائب کپتان بنا دیا۔ اس کے بعد پوری ٹیم کے کلائی ٹیسٹ ہوئے تو عمر صدیق جو ٹیم کے کپتان تھے زائد عمر نکل آئے۔ جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا۔
سوال : جب آپ کو پاکستان انڈر 15 کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تو آپ کے کیا احساسات تھے؟
بابر اعظم : مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میں کپتان بن گیا ہوں۔ میں بہت زیادہ خوش تھا۔ میں نے نماز پڑھ کر اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا میرے ابو نے محلے اور میری کلب اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے سٹاف میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔
سوال : انڈر 15 ورلڈ کپ میں آپ کی انفرادی کارکردگی اور پاکستان ٹیم کی پرفارمنس کیا رہی تھی؟
بابر اعظم : میں نے ایک سنچری اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے 338 رنز بنائے تھے اور پوے ٹورنامنٹ میں رنزوں کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر تھا جبکہ میں نے 10کیچ پکڑے تھے جس پر مجھے ورلڈ کپ کا بہترین فیلڈر قرار دیا گیا تھا۔ میں نے بنگلہ دیش کے خلاف70 رنز، امریکا کے خلاف 165 رنز ویسٹ انڈیز کے خلاف 67 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھیں۔ پاکستان انڈر 15 ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے ساتھ فائنل کھیلا تھا اور میں نے فائنل میچ میں بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 70 رنز بنائے تھے۔ بد قسمتی سے ہم انڈر 15 ورلڈ کپ کا فائنل میچ ہار گئے تھے۔ جس پر پوری ٹیم افسردہ تھی میں تو رو پڑا تھا کہ ہم اتنی محنت سے فائنل میں پہنچے تھے لیکن ورلڈ چمپئن نہ بن سکے تھے۔ میں کئی دنوں تک اس صدمے میں مبتلا رہا تھا۔
سوال : یہ بتائیں کہ وہ کون سی کارکردگی تھی جو آپ کو پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں لے آئی تھی؟
بابر اعظم : 2008 میں انٹر سکولز چمپئن شپ منعقد ہوئی میں مسلم ماڈل ہائی سکول کی طرف سے کھیل رہا تھا۔ میں نے اس ٹورنامنٹ میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 436 رنز بنائے اور 6 کیچز بھی کئے تھے مجھے اس ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹسمین قرار دیا گیا تھا اس کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف جو ان دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے نے ہمارے سکول ٹیم کو جنوبی افریقہ کا ٹور کرایا۔ میں نے کیپ ٹاؤن اور پورٹ الزبتھ میں کھیلے جانے والے میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پہلے میچ میں 135 رنز جبکہ دوسرے میچ میں 96 رنز بنا کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا اور 327 رنز بنا کر بہترین بلے باز کا ایوارڈ بھی جیتا۔ اس کے بعد 2009 میں دوبارہ انڈر 15 ریجن ٹورنامنٹ ہوا تو لاہور ریجن کی کپتانی کرتے ہوئے میں نے اسلام آباد کے خلاف 178 رنز بنائے۔ میں نے ایک سنچری اور تین نصف سنچری کی مدد سے 300 سے زائدرنز بنائے اور لاہور کو ریجن انڈر 15 چمپئن شپ کا ٹائٹل جتوایا۔ اس کے بعد کیمپ لگا اور پھر زمبابوے کے ٹور کیلئے پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ٹرائلز ہوئے تو اعلان کردہ ٹیم میں میرا نام بھی شامل تھا میں زمبابوے چلا گیا۔ وہاں میری پرفارمنس نارمل رہی اس کے بعد ریجن شروع ہو گئی تو این سی اے کو لٹس کی ٹیم کا کپتان بن گیا اور میں نے اس ٹورنامنٹ میں 350 رنز بنائے۔ اس کے بعد قومی انڈر 19 ٹیم کے ہمراہ سری لنکا کے خلاف میچز کھیلنے کا موقع ملا۔ میں نے پہلے میچ میں 104 رنز جبکہ دوسرے میں 127 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں اور دونوں میچوں میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ میں انڈر 19 ورلڈ کپ منعقد ہونا تھا اس میں شرکت کیلئے انڈر 19 ٹیم کے ٹرائلز مریدکے میں اعجاز احمد، الیاس محمد اور اظہر خان نے لیے جس میں عمدہ پرفارمنس دی اور انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں سلیکٹ ہو گیا۔
سوال: جب آپ کو نیوزی لینڈ میں کھیلے جانے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی پاکستانی ٹیم میں منتخب کر لیا گیا تو یہ خبر آپ کیلئے یقینی طور پر خوشی کا باعث ہو گی؟
بابر اعظم : مجھے ہی کیا میرے والدین اور خاندان کے لوگوں کو بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی۔ وہ میرے لیے کافی دعائیں کر رہے تھے۔ میں نے عزم کیا تھا میں ورلڈ کپ میں عمدہ پرفارم کر کے پاکستان کو چمپئن بنواؤں گا۔
سوال : انڈر 19 ورلڈ کپ میں آپ کی کارکردگی کیا رہی؟
بابر اعظم : میں نے زمبابوے کے خلاف وارم اپ پریکٹس میچ میں سنچری بنائی۔ پھر اس کے بعد 15 جنوری سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کے ابتدائی میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 129 رنز کی یادگار میچ وننگ اننگز کھیلی۔ اس کے بعد پابوانیوگئی کے خلاف 43 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ بھارت کے خلاف کواٹر فائنل سے قبل بارش ہو رہی تھی اگر پاکستان ٹیم میچ نہ بھی کھیلتی تو رن ریٹ کے لحاظ سے پاکستان سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر جاتا لیکن پوری ٹیم کا یہی کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے میچ کھیلنا ہے اور روایتی حریف کو شکست سے دو چار کر نا ہے۔ میں نے بھارت کے خلاف 6 رنز بنائے تھے لیکن ایک آؤٹ کیا اور ایک کیچ کر کے پاکستان کی تاریخی فتح میں حصہ ڈالا۔ بھارت کو ہرانے پر پوری ٹیم بہت خوش تھی کیونکہ بھارت نے آئی پی ایل کو بو لی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے نامور ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کو نظر انداز کر دیا تھا اس لیے انڈر 19 ٹیم کے لڑکے بھارت کو ہرا کر بدلہ لینا چاہتے تھے۔ بھارت کو شکست دینا زندگی کا یادگار ترین واقعہ ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیمی فائنل تھا تو میں نے اس میچ میں 10 رنز بنائے تھے جبکہ پاکستان کی فتح میں ایک وکٹ حاصل کر کے اور ایک کیچ کر کے حصہ ڈالا تھا۔ آسٹریلیا کے خلاف فائنل میں 28 رنز امپائر نے مجھے غلط آؤٹ دے دیا تو میں کچھ دیر تک وکٹ پر کھڑا رہا بعدازاں واپس پوئلین لوٹ آیا۔ اس وقت پاکستان کا سکور 70 رنز تھا اور دوسرا میں آؤٹ ہوا تھا۔ اگر امپائر مجھے غلط آؤٹ نہ دیتا تو میں پاکستان کو ورلڈ چمپئن بنوا کر ہی پوئلین لوٹتا۔ بد قسمتی اور امپائرز کی مہربانی سے پاکستان 25 رنز سے ورلڈ کپ ہار گیا۔
سوال : انڈر 19 ورلڈ کے فائنل تک رسائی کے بعد ٹیم کو آخر یا ہو گیا تھا کہ وہ ناکامی کا شکار ہو گئی؟
بابر اعظم : ہم لوگ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے فائنل میں پہنچے تھے مگر 30 جنوری کا دن ہمارے لیے خوشگوار نہیں تھا۔ کسی بھی ٹیم کی طرح ہم بھی جیت کی امید لے کر میدان میں اترے تھے مگر قسمت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور کچھ امپائرنگ بھی ہمارے خلاف گئی اور ہم 25 رنز سے شکست سے دو چار ہو گئے۔
سوال : انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست آپ کے لیے بھی بہت بڑا صدمہ ہو گی کیونکہ آپ بھی اس اعزاز کے حصول کیلئے لڑی جانے والی جنگ میں فتح گرسائیڈ پر کھڑے ہونے کے متمنی ہوں گے؟
بابر اعظم : اس وقت کے احساسات کا تو میں بتا ہی نہیں سکتا ہوں کہ بس میں رویا نہیں تھا۔ جب فائنل میں شکست ہوئی تو اس کے بعد کئی دنوں تک یہ حال تھا کہ جیسے کوئی چیز کھو گئی ہو۔ جب ہم پاکستان واپس آئے اور کراچی ایئر پورٹ اور پھر لاہور ایئر پورٹ پر اترے تو عوام نے ہمارا جو شاندار استقبال کیا وہ دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہوئی کہ قوم ہارنے کے باوجود ہم سے کتنا پیار کرتی ہے اگر ورلڈ کپ جیت کر آتے تو یقینا لوگ ہمیں اپنی پلکوں پر بٹھاتے۔ ورلڈ کپ کافائنل ہارنے پر مجھے یوں لگا جیسے کوئی دیرنیہ خواب ٹوٹ گیا ہے۔ میں ان لمحات میں محسوس ہونے والے درد کو بھی بھلا نہ سکوں گا۔
سوال : آپ جونیئر کرکٹ سے ابھرنے والے کھلاڑی ہیں اور آپ یہ بات زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں کہ اس طرز کی کرکٹ نوجوانوں کو سنوارنے میں کس حد تک معاون ثابت ہوتی ہے؟
بابر اعظم : میرا خیال یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ابھرنے کے لیے کرکٹ درکار ہوتی ہے خواہ انڈر 19 کرکٹ ہی کیوں نہ ہو جہاں ہر کھلاڑی کچھ کر دکھانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر ہی اسے آگے چانس ملتا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ کھلاڑیوں کو جونیئر کرکٹ کے بعد پاکستان کیلئے کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے کیونکہ اس طرح ان کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کا اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جونیئر کرکٹ کا بہت اہم کردار ہے جس کی وجہ سے کھلاڑی جلد اعلیٰ درجے کی کرکٹ تک جا پہنچتے ہیں۔
سوال : کیاانڈر 19 کرکٹ کھیلنے سے اتنی ذہنی مضبوطی مل جاتی ہے کہ آپ اس کے بعد اطمینان کے ساتھ پاکستان کیلئے کھیل سکیں؟
بابر اعظم : میرا خیال ہے کہ کرکٹ ملنے کا فائدہ ہی ہوتا ہے جبکہ مختلف سطح کی کرکٹ کھیلتے تجربہ حاصل ہوتا رہتا ہے۔A ٹیموں کیلئے کھیل کر قدرے مختلف تجربات ہوتے ہیں سینئر ٹیم میں جا کر بعض دوسری باتوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ صرف انڈر 19 کرکٹ سے آپ قومی ٹیم میں جا پہنچیں اور کارنامے دکھانے لگیں، یہ توقع کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ دونوں طرز کی کرکٹ میں بہت فرق ہوتا ہے۔
سوال : دورہ بنگلہ کیلئے آپ کا نام پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں آیا تو آپ کے کیا احساسات تھے ؟
بابر اعظم : میں جونیئر کرکٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے بل بوتے پر قومی کرکٹ ٹیم میں آیا ہوں۔ پاکستان ٹیم میں نام آنے پر میں بہت زیادہ خوش تھا ۔وہ خوشی میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔
سوال : یہ بتائیں کہ کیا ٹی ٹونٹی، ون ڈے اور طویل دورانیے کی کرکٹ کھیلتے ہوئے تکنیک تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟
بابر اعظم : آج کی کرکٹ ماضی سے بالکل مختلف ہے جس میں عمدہ پرفارمنس دینے والا ہی ٹیم میں رہ سکتا ہے یہ خاصا مشکل کام ہے اور بعض اوقات تو آپ کو ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں ہی اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ آپ ٹیم مینجمنٹ کی منصوبہ بندی کے تحت کھیلتے ہوئے پویلین واپس لوٹ آتے ہیں۔ ٹونٹی 20 اور ون ڈے میچوں میں تو آپ کو پہلی گیند سے ہی اٹیک کرنا پڑتا ہے جبکہ اس کے برعکس طویل دورانیے کے میچوں میں نئی گیند کو رف کرنے کیلئے اسے زیادہ سے زیادہ لیفٹ (چھوڑا) جاتا ہے اور شارٹ پچ گیندوں پر بھی نئی گیندوں کے ساتھ اسٹروکس نہیں کھیلے جاتے۔
سوال : آپ کے نزدیک ایک اچھے بلے باز میں سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے جو اسے کامیابی سے ہمکنار کراتی ہے؟
بابر اعظم : میرے نزدیک ایک اچھے بیٹسمین میں ثابت قدمی، مثبت سوچ، ٹمپرامنٹ، شاٹس آف کلیکشن اور ذہنی مضبوطی کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے علاوہ اس کے ریفلیکسز بھی بے مثال ہونے چاہئیں اور اس کی گیندوں کو پرکھنے کی صلاحیت بھی ہو اور کی شاٹ آف کلیکشن بھی کمال کی ہو۔ توجہ اس کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے موجودہ دور کی تیز کرکٹ میں وہی کھلاڑی کامیاب ہوتا ہے جو ذہنی طور پر مضبوط ہو کیونکہ ایک ذہنی طور پر پختہ کھلاڑی ہی میدان کے وسط میں جا کر اچھا پرفارم کرے گاایک اچھے اوپننگ بیٹسمین کیلئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ وہ گیندوں کو چھوڑنے میں بھی مہارت رکھتا ہو اور گیند کو درست تکنیک کے ساتھ کھیلتا ہو۔ اﷲ کا کرم ہے کہ یہ تمام خصوصیات میرے اندر موجود ہیں۔
سوال : کھیل میں کیا چیز آپ کو متحرک رکھتی ہے؟
بابر اعظم : جذبہ حب الوطنی ہی مجھے متحرک رکھتا ہے۔ میری ہمیشہ سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کارناموں سے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتا رہوں کیونکہ پاکستان نے ہمیں عزت، شہرت اور دولت سبھی کچھ دیا ہے اور اسی کی وجہ سے دنیا میں ہماری پہچان ہے۔ مجھے پاکستانی کہلوانے میں بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان ہماری آن بان شان اورپہچان ہے۔ میں اپنے پیارے وطن کا مقروض ہوں جس کی بدولت دنیا میں کرکٹ کا ہر پرستار میرا نام عزت اور احترام سے لیتاہے۔ ہمیں پیارے ملک پاکستان نے اتنا کچھ دیا ہے کہ ہم اس کے احسانوں کابدلہ کسی صورت بھی ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کھیل کے ذریعے دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کریں۔ میں اپنے پیارے وطن پاکستان سے جنون کی حد تک محبت کرتا ہوں اور وطن سے محبت کا جذبہ ہی مجھے متحرک رکھتا ہے۔ میں ہمیشہ اسی جذبے کے ساتھ کھیلتا ہوں کہ میں نے پاکستان کی کامیابیوں کے گراف کو مزید بلند کرنا ہے۔
سوال: عزت، دولت اور شہرت میں سے اگر آپ کو کسی ایک چیز کا انتخاب کرنے کو کہا جائے تو آپ کس کا انتخاب کرنا پسند کریں گے؟
بابر اعظم : دولت اور شہرت تو ثانوی چیزیں ہیں اور یہ آنی جانی شے ہے صرف عزت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا دھیان رکھنا ہمہ وقت ضروری ہوتا ہے۔ میرایہ اصول ہے عزت کر اور عزت کراؤ۔ میرے نزدیک عزت سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہے۔ انسان کو دولت اور شہرت کی تمنا ضرور ہوتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کی عزت ہے تو سب کچھ ہے۔
سوال: عزت، دولت اور شہرت ان تینوں چیزوں کی تمنا اور خواہش ہر انسان کرتا ہے، خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں اپنی زندگی میں یہ تینوں چیزیں مل جاتی ہیں۔ آپ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ ان خواہشات کی تکمیل کے بعد آپ کے رویئے میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
بابر اعظم : اﷲ تعالیٰ کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے عزت، دولت اور شہرت سے نوازا ہے لیکن میں آج بھی پہلے کی طرح دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہوں۔ غرور اور تکبر نام کی کسی چیز کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔ قومی ٹیم کی کپتانی ملنے کے بعد میری ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ میں ہمیشہ لوگوں میں محبتیں بانٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔
سوال : کرکٹ کے علاوہ کون سے کھیل پسند کرتے ہیں؟
بابر اعظم : صرف کرکٹ ہی پسند ہے اس کے علاوہ مجھے کوئی اور کھیل اچھا نہیں لگتا، اس لیے اگر مجھے کرکٹ دیکھنے اور کھیلنے کو نہ ملے تو میں بور ہو جاتا ہوں۔ جب تک کرکٹ کھیلتا ہوں خوش رہتا ہوں۔ کرکٹ کے بغیر میں اداس ہو جاتا ہوں۔
سوال : آپ کے نزدیک زندگی کا مقصد کیا ہے؟
بابر اعظم: میں طویل عرصے تک پاکستان کیلئے کامیابی کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اگر میں کسی کی بھلائی کیلئے کچھ نہیں کر سکتا تو کسی کا نقصان بھی نہ کروں۔ میں کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا۔ کوشش کرتا ہوں کہ کوئی مجھ سے ناراض نہ ہو۔ میں ہر ممکن دین اسلام کے بتائے ہوئے روشن راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔
سوال : آپ کی زندگی کا سنہری اصول؟
بابر اعظم: ہمیشہ سچ بولو، وقت کی پابندی کرو، والدین اور سینئرز کا ادب و احترام کرو، کبھی کسی شخص کا برامت سوچو، ہر ایک کی مدد کرو اور صرف اﷲ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کیونکہ وہی ذات عزت دیتی ہے۔
سوال: پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے آپ نوجوان کھلاڑیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
بابر اعظم : نوجوان کھلاڑیوں کیلئے میرا پیغام یہی ہے کہ وہ محنت کو اپنا وطیرہ بنائیں کیونکہ محنت کے سمندر میں ڈوب کر ہی عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ابھرا جا سکتا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو محنت کے ساتھ ساتھ میدان میں بے فکر ہو کر اپنے کھیل پر توجہ دینی چاہیے۔ دباؤ میں کبھی نہیں آنا چاہیے۔ جو کھلاڑی توجہ اور استحکام کے ساتھ کھیلتے ہیں وہ کبھی بھی دباؤ میں نہیں آتے۔ باؤلرز کو ہمیشہ مخالف بلے بازوں کی خامیوں کو بھانپ کر لائن اور لینتھ پر باؤلنگ کرنی چاہیے اسی طرح بلے باز کو ہر گیند کو پرکھنے اور زیادہ سے زیادہ کریز پر ٹھہرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو کرکٹ کھیلنے کے ساتھ اپنی تعلیم پر بھی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
سوال: آپ شائقین کھیل کو کیا پیغام دیں گے؟
بابر اعظم : بس یہی کہ وہ جیتنے پر خوش ہونے کے ساتھ ہار کو بھی برداشت کریں۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہار اور جیت تو ہوتی رہتی ہے۔ کھلاڑیوں پر بے جا تنقید سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر عوام اپنے کھلاڑیوں کو سپورٹ کریں تو وہ آئندہ آنے والے مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں عوام کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے۔ آج کل کرکٹ بہت زیادہ کھیلی جا رہی ہے کہ ہر دوسرے دن آپ کو میچ کھیلنا پڑتا ہے ایسے میں کبھی آپ اسکور کرتے ہیں اور کبھی ناکام ہو جاتے ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کی بجائے انہیں بھر پور سپورٹ کیا جائے تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی فارم میں واپس آکر پھر سے رنز اسکور کرنا شروع کردیں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •