Voice of Asia News

انتخاب کیا ہے ؟ کیدو یا رانجھا ۔۔۔۔؟ محمد نوازطاہر

پاکستان اپنے قربی ممالک میں جمہوریت ،جمہوریت کھیلنے والا شائد پہلا ملک ہے اور اس اعتبار سے بھی کہ یہاں جمہوریت صرف ایک کھیل ،شغل اور نعرہ ہے، جبکہ زہنیت اامرانہ اور سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ ہے جس میں مافیانہ تڑکہ بھی لگ چکا ہے اورانداز حکمرانی جمہوری سے زیادہ آمرانہ ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں بار ایسوسی ایشنز واحد جمہوری ادارہ ہیں جہان تواتر سے الیکشن ہوتے ہیں دوسری پوزیشن صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پی ایف یو جے کی تھی ، بعد ایوان ہائے صنعت و تجارت میں بھی جمہوریت چل پڑی جبکہ ٹریڈ یونینز ایک سازش کے تحت این جو اوز اور مصالحانہ و غیر فعال اور سٹودنٹس یونینز منجمد کی جاچکی ہیں جبکہ عدالتی فیصلے اس کی بحالی کے حق میں ہیں اور کئی سیاسی جماعتوں کے منشور میں بھی شامل ہے ۔پاکستان مین جتنے الیکشن صحافیوں ( تمام میڈیا کارکنوں ) میں ہوتے ہیں اتنے تاجر تنظیموں میں بھی نہیں ہوتے ، منشور اور دعوے سبھی کے ایک جیسے ہین ، تحریروتقریر میں سبھی کا جلال کارکنوں کے حقوق کے تحفط اور خوشحالی کیلئے ہوتا ہے مگر حالات بہتری کے بجائے دن بہ دن تنزلی کی طرف جارہے ہیں ، جدوجہد کے یہ نتائج جوشیلی تحریروتقریر اور لیڈروں کے دعوؤں، نعروں ، منشور اور کے برعکس ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جدوجہد کس کیلئے کی جارہی ہے ؟
تاریخ کی نصابی گمراہیوں کی تاریکی کے باوجود کوئی نہ کوئی پارت ایسا روشن مل جاتا ہے جوتاریخ اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ حقائق کی عزت محفوط کرنے میں معاونت کرتا ہے ۔ اس معاون تاریخ کے مطابق حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان مین پہلا قابلِ عمل تحریری آئین پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے ) نے دیا جس میں شہری آزادیوں کے تحففظ کی ضمانت( بذریعہ جدوجہد ) دی گئی یعنی اخباری صنعت ( میڈیا انڈسٹری)سے وابستہ کارکن بنیادی انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کریں گے، اس پرت اتھنے والی میلی نظر کی نشاندہی کرکے خود بھی مزاحمت کریں گے بنیادی حقوق میں’ بولنا‘سب سے پہلا حق ہے جسے اظہارِ رائے کہا جاتا ہے۔ اس اظہارِ رائے سے مراد یہ نہیں کہ میڈیا انڈسٹری سے وابستہ لوگوں ہی کا اظہاررِ رائے بلکہ عام آدمی کے بولنے اور لکھنے اور اس کے شائع و نشر ہونے کا حق، مراد ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ پی ایف یو جے کا آئین ماننے والوں نے اپنے آئین کی اس شق کی تعمیل میں کیا کچھ نہیں جھیلا ۔۔۔ ؟ لیکن کارکنوں کی حالت کیا ہے ؟ سندھ ،بلوچستان اور چولستان کے صحراؤں جیسی۔۔۔قبرستان میں قہقہوں جیسی ۔۔۔میڈیا کارکنوں نے اب تک اپنی بات اس طاقت اور زور سے نہیں کی جتنی سماج کیلئے کی ہے ، دباؤ اورکسی بھی قسم کی پابندیوں سے آزادی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی ، معاشی قانونی حقوق پر عملدرآمد کے ماسوا کارکنوں کا اپنا زاتی دوسرا کوئی مسئلہ اور مطالبہ ہے ہی نہیں لیکن اظہارِ رائے کے مسئلے پر کارکن اپنے ذاتی مسئلے کو پیچھے چھوڑ کراپنے خاندان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور بنیادی ضروریات پوری کرنے سے سے کوسوں دور نکل گئے ہیں ۔ ان کی جدوجہد سے اظہارِ رائے حاصل کرنے والوں نے دورِ حاضر کی ’جنت سمیت ‘بہت کچھ حاصل کرلیا اور ’مجاہدین ‘کو بڑے آرام سے ’ دہشت گرد‘ قراردیدیا ہے ۔ اظہارِ رائے کا حق پانے والوں نے اس حق پر اپنی آمریت ایسے ایسے قائم کی ہے کہ بس خدا پناہ ، ان سے بہت سوں نے سبق سیکھا اور انہیں راستوں پر چل کر طاقت کے کنٹینروں سے راہیں بلاک کردیتے ہیں اور کربھی دی ہیں ، جب اپنا گذرنا دشوار یا ناممکن ہوجاتا ہے تو پھر سے اظہارِ رائے کے حق کا خیال ’اُبل‘ آتا ہے ۔اسے کوئی انڈر سٹینڈنہیں کرتا ، کرکے خاموش رہتا ہے یاپھر سے ’قربانی‘ دیتا ہے تو وہ میڈیا کارکن ہی ہے ۔
ہاں! یہ تسلیم نہ کرنے بھی جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہو کہ میڈیا انڈسٹری میں مافیا اور مافیا اور مافیا کے ایجنٹ اور کارکنوں کے حقوق بیچنے والے موجود نہیں ۔ بدقسمتی سے نظریے پر موقع پرستی غالب کرنے کی سازش پوری طرح سے کامیاب ہوئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حق ، سچ بات کرنے والے موجود نہیں یا پسپا ہوگئے، سیاست ، معیشت، وکالت ، تجارت ، ہر شعبے میں یہ انحطاط موجود ہے اور مزاحمت بھی ساتھ ساتھ ہے مگر مزاحمت مربوط نہیں ہے ۔ صحافت اور سیاست میں مصلحت اور مفاہمت ایک نئی قسم کی ’سفارت ‘ بن کے ابھری ہے اور بڑی کامیابی سے چل رہی ہے ، ماضی قریب کے نصاب میں اس نئی ’سفارت کو منافقت کہا جاتا تھا ، اب اس کا نام سیاسی اور انتخابی مینجمنٹ کے طور پر بھی لیا جاتا ہے ۔ اس’ مینجمنٹ‘ نے اداروں کے استحکام اور ترقی مین مثبت کے بجائے منفی کردار ادا کیا ہے جس کی ایک وجہ میڈیا اندسٹری کے معاشی بحران کی صورت میں بھی سامنے آیا ، اشاعتی اور نشریاتی ادارے بند بھی ہوئے ، ہزاروں چولہے نہ صرف ٹھنڈے ہوئے ہیں بلکہ کئی گھرانوں میں چولہا معمول کے مطابق روشنی پھیلانا ہی بھول چکا ہے ۔ یہ چولہے ہمیں نئی ’سفارت‘ کے آداب و خدمت گزاری سے دور ہونے کے لئے چیخ چیخ کر ہماری توجہ طلب کررہے ہیں ، نہ جانے یہ چیخیں ہمیں سنائی کیوں نہیں دیتیں ، جیسے ہم الیکشن جیتنے کے بعد روٹی کپڑے ، مکان ، بنادی حقوق ، سماجی انقلاب ، انصاف کی فراہمی کا انتخابی منشور ووٹ مانگنے کے لئے بنائی جانے والی پرچی متروک ہونے پر پھینک دیے جانے کی طرح پاؤں میں مسل چکے ہیں اور نظریے پر موقع پرستی کا ہار گلے میں سجانا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں ، اور بھول چکے ہیں کہ تنظیمیں تبھی سماج کی اور کمیونٹی کی خدمت کرسکتی ہیں جب اقتدار سے زیادہ خدمت اور ایثار کا جذبہ عمل سے ثابت کیا جائے جس کی مثالیں ہمارے اسلاف تاریخ میں رقم کر کے گئے ہیں ۔
ہمیں جناح کا پاکستان بنا نے کیلئے صوفیاء کا اندازِ تبلیغ بھی اختیار کرنا ہوگا، اقبال ؒ، غالبؒ ، میرؒ جیسے شعرا، کا وارث بننا ہوگا، ، گنج بخش ؒ، بھٹائیؒ ، رحمان بابا ؒ، محمد بخشؒ ، فریدؒ۔ سچل ؒ، بلھا ؒ، سبھی کو یاد رکھنا ہوگا ،قلندر بننا پڑے گا ورنہ ان کے مزارات پر میلوں میں اٹھکیلیاں ، کھیل تماشے ، موجیں تو لگی ہوئی ہیں اور موجیں کر رہے ہیں موجیں کریں گے یہ جانے بغیر کہ بڑی سے بڑی ، بھلے سونامی ہی کی کیوں نہ ، کتنی بھی بپھری کیوں نہ ہو،موج کی عمر کتنی ہوتی ہے؟ معلوم ہے کتنی عمر ہوتی ہے ؟ مزارعے پر جاگیردار کی خوشی کے اظہار کے لمحوں جتنی، اور حقیقی جدوجہد سے حقدار کو حق دلانے کی حاصل ہونے والے لمحے کا کیف و سکون اور اس کا احساس کیدو کی سازشوں کے بعد بھی ہیر کو پالینے کے خوشی اور احساس کی عمر جیسا ۔۔۔وقت ہے اب انتخاب کا کیدوکے کردار کا بھی اور رانجھے کے رول کا بھی۔۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •