Voice of Asia News

آئین کا آرٹیکل چھ،جنرل پرویز مشرف اورعمران خان کی حکومت : محمد قیصر چوہان

 
پاکستانی آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت آئین کو توڑنے اور ایسا کرنے والے کی مدد کرنے والے تمام افراد ریاست سے’’سنگین بغاوت ‘‘کے اس جرم میں برابر کے شریک تصور کیے جائیں گے، جن کی سزا پارلیمنٹ نے عمر قید یا موت تجویز کی ہے۔آئین کی شق چھ پر عمل کیلئے پارلیمنٹ نے جو قانون منظور کر رکھا ہے اس کے مطابق سنگین بغاوت کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے۔پارلیمنٹ نے ’سنگین بغاوت کی سزا کے قانونن ،کے ذریعے اس کا مقدمہ درج کیے جانے کی تمام تفصیلات طے کر رکھی ہیں۔ اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمے یا شکایت درج کروانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت ہی کو حاصل ہے۔آئین میں آرٹیکل چھ کی تین ضمنی دفعات ہیں۔(1) کوئی فرد جو تنسیخ کرے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کو کوشش یا سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یا کسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے، وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہوگا۔(2) ایسا فرد جو مدد یا تعاون کرے اس اقدام کی جو شق نمبر ایک میں درج ہے، وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔(3) مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کرے گی۔چودہ اگست انیس سو تہتر کو آئین کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد چھبیس ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دیے تھے۔آئین کی اس شق پر عمل کرنے کیلئے بنائے گئے ’’سنگین بغاوت ‘‘کی سزا کا قانون انیس سو تہترکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی شکایت کر سکتا ہے لیکن وہ یہ شکایت عدالت میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے پاس جمع کروائیگا جو اپنے نامزد کردہ فرد کے ذریعے اس شکایت کو عدالت کے پاس لیجا سکتی ہے۔(1) اس قانون کا نام ’’سنگین بغاوت کی سزا کا قانون انیس سو تہتر ،، ہو گا۔(2) ایسا فرد جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہوگی۔ یہاں پر آئین سے مراد تئیس مارچ انیس سو چھپن کے بعد سے لاگو ہونے والے تمام آئین ہیں۔(3) کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکایت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کیلئے اختیار دیا ہو۔اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکایت نہیں کر سکتا۔کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی شکایت کر سکتا ہے لیکن وہ یہ شکایت عدالت میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے پاس جمع کروائیگا جو اپنے نامزد کردہ فرد کے ذریعے اس شکایت کو عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ حکومت کی جانب سے اس شہری کی شکایت کو عدالت نہ لے جانے کے خلاف متعلقہ شہری یہ معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے۔’’جیسا کہ ہمارے ملک میں اکثر ہوتا ہے کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے کتراتی ہے اس صورت میں سائل عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور وہ ایف آئی آر عدالتی مداخلت کے بعد درج کرلی جاتی ہے۔ سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے‘‘۔
یہ دنیامیں واحد مثال ہوگی کہ کوئی حکومت اپنا پورا زور کسی مجرم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے بجائے اس کے دفاع میں لگادے مگر پاکستان میں عمران خان کے دور حکومت میں سب کچھ ممکن ہوچکا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے ساتھ کیا کچھ کیا اور وہ کس سزا کا حقدار ہے ، اس کا فیصلہ اصولی طور پر عدلیہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر حکومت کو اپنی عدلیہ پر اعتماد ہے تو اسے فیصلہ کرنے دے اور اگر عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی تو پھر عدلیہ کو درست کرنے اور پورے نظام انصاف میں انقلابی تبدیلیاں لانے پر توجہ کرنی چاہیے۔ مگر پاکستان میں عجیب و غریب صورتحال درپیش ہے کہ عدلیہ کو املا کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فیصلہ حکومت کی منشا کے مطابق دیا جائے۔ ذرا سی بھی سن گن مل جائے کہ فیصلہ مرضی کے برخلاف آنے کا اندیشہ ہے تو عدلیہ کو فیصلہ سنانے سے ہی روک دیا جائے۔ مشرف غداری کیس میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ جس خصوصی عدالت کے ممکنہ فیصلے پر اعتراض کیا جارہا ہے ، اس عدالت میں مشرف کے خلاف کیس وفاقی حکومت نے داخل کیا تھا اور وہی استغاثہ ہے ، اس خصوصی عدالت کی تشکیل حکومت نے کی اور اس میں سرکاری وکلاء گزشتہ چھ برس سے حاضر ہورہے ہیں اور انہیں اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔ اگر عدالت کی تشکیل درست تھی تو گزشتہ چھ برس تک سرکار کہاں سوتی رہی اور اس کو تشکیل دینے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔ عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے کہے پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ اقتدار میں آنے سے قبل انہوں نے جتنے بھی وعدے اور دعوے کیے تھے ، اقتدار میں آنے کے بعد ا ن کا عمل ان تمام وعدوں اور دعوں کے برعکس ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ مشرف کو اس کے کیے کی سزا دلوائیں گے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سزا دلوانے کے بجائے عمران خان نے جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اکتوبر میں انہوں نے استغاثے کی پوری ٹیم ہی بیک جنبش قلم فارغ کردی تاکہ عدالتی کارروائی کو بیجا طول دیا جاسکے۔ خصوصی عدالت میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کو چلتے ہوئے چھ سال مکمل ہونے والے ہیں۔ خصوصی عدالت میں کسی بھی مقدمے کی سماعت کیلئے چھ سال کا عرصہ انتہائی طویل ہے۔ عدالتوں کو طاقتور کو نہ پکڑنے کا طعنہ دینے والے خود ایک بھگوڑے جرنیل کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ ملکی تاریخ میں آئین اور اداروں کے ساتھ ایسے مذاق اور ظلم کی مثال نہیں ملتی جو عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ سنجیدہ حلقے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ عمومی طور پر ماتحت عدالتوں کے فیصلوں سے اعلیٰ عدلیہ اتفاق نہیں کرتی اور اس کے برخلاف فیصلے دیتی ہے۔ لیکن اگر ماتحت عدالتیں درست فیصلے دینے کی اہل نہیں ہیں تو اس طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے کہ اس سے انصاف کا خون ہوتا ہے اور اعلیٰ عدلیہ پر بھی کام کے دباؤمیں اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مظلوم کو انصاف ملنے میں تاخیرہوتی ہے بلکہ بسا اوقات اسے سزا کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ اور اگر صورتحال اس کے برعکس ہے کہ ماتحت عدالتیں درست فیصلے کررہی ہیں تو پھر اعلیٰ عدالتوں کے کیے گئے فیصلوں پر جوڈیشیل کونسل کو نوٹس لینا چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف غداری کیس میں بھی یہی صورتحال ہے کہ اعلیٰ عدالت کو اس امر کا یقین نہیں ہے کہ خصوصی عدالت میں انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں، اس لیے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی عدالت کو اس کے اعلان سے روک دیا تاہم خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ حتمی نہیں ہے اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کے کئی فورم موجود ہیں ، مگر اسی مرحلے پر عدالت کو فیصلے سے روکنے کی کوشش کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔سیاستدانوں اور بیوروکریسی پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے ، فوج بھی اب غیر جانبدار نہیں رہی ہے۔ عدلیہ اس وقت پاکستانیوں کے لیے امید کی واحد کرن ہے ، اگر اعلیٰ عدلیہ نے اس کا وقار خود مجروح کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس سے ملک میں انارکی کا دروازہ کھلے گا۔ بہتر ہوگا کہ عدلیہ کو اس کا کام کرنے دیا جائے۔ سرکار اس میں مداخلت کرنے کے بجائے انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ اب عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا ہے کہ وفاق پانچ دسمبر تک نیا پراسیکیوٹر مقرر کرے۔ گویا اب نئے سرے سے مقدمہ شروع ہوگا۔ ایک معزز جج نے تبصرہ کیا ہے کہ حکومت یہ مقدمہ چلانا ہی نہیں چاہتی۔ جنرل پرویز کی غداری کے مقدمے کو طول دینے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس وقت عمران خان کی کابینہ کی نصف تعداد کا تعلق پرویز مشرف سے رہا ہے۔ موجودہ وزیر داخلہ بھی پرویز مشرف کے چہیتے رہے ہیں جو یہ ماننے ہی کو تیار نہیں کہ پرویز مشرف غداری کا مرتکب ہوا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •