Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں پیر کو120ویں روز بھی فوجی محاصرہ بدستور جاری رہیں

سرینگر( وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گزشتہ 120روز سے فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ کی معطلی مسلسل جاری ہے اوران چار ماہ کے دوران صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ا?ئی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے کپوارہ اور سرینگرمیں دو کشمیری نوجوانوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرکے ان کو سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا ہے۔محمد افضل لون اورفیاض احمد گنائی کوبھارتی پولیس نے بھارت مخالف مظاہروں کا اہتمام اور پتھراؤ کرنے کا الزام لگاکر گرفتارکیا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر میں نظربند سیاسی رہنماؤں میں سے چند رہنماؤں کو اپنے گھروں میں منتقل کرکے ان کے گھروں میں نظر بند کرے گی۔بظاہر گھروں میں منتقلی کی وجہ ہوسٹل میں جس کو سب جیل قراردیا گیا ہے ، سہولیات کی عدم فراہمی بتایا جارہا ہے۔رپورٹ میں منتقل کئے جانے والے رہنماؤں کا نام ظاہر کئے بغیر کہاگیا ہے کہ علیل اور بزرگ رہنماؤں کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے دو نظربند رہنماؤں حکیم محمد یاسین اور محمد اشرف میر کوہوسٹل سے رہا گیا تھا تاہم انہیں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء جاپان نے کہاہے کہ ان کا ملک کشمیر کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری اختلاف سے ا?گاہ ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ اس مسئلے کا مذاکرات کے ذیعے پرامن طریقے سے حل نکالا جائے گا۔یہ بات نئی دہلی میں بھارت اور جاپان کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان ملاقاتوں کے بعدجاپان کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •