Voice of Asia News

پانچ اگست کے بعد سے مقبوضہ کشمیرمیں38کشمیری شہید اور 853زخمی

 
سرینگر(  وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ چار ماہ سے جاری محاصرے اورسخت پابندیوں ک ے دوران دو خواتین اورتین لڑکوں سمیت اڑتیس کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے فوجی محاصرے کو ا?ج چار ماہ مکمل ہونے کے موقع پر جاری ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس میں سے سات کشمیریوں کو جعلی مقابلے یا حراست کے دوران شہید کیاگیا۔اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں ، پیلٹ گنز اور ا?نسو گیس کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے 853کشمیری شدید زخمی ہوئے۔ حریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد القیوم ، نذیر احمد رنگا ، کشمیر چیمبر کے سابق صدر مبین شاہ ، اور کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یاسین خان ،سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداﷲ، عمر عبد اﷲ اور،محبوبہ مفتی سمیت کم سے کم گیارہ ہزار چار سو ایک حریت رہنماؤں، کارکنوں، سیاست دانوں ، تاجروں اور سول سوسائٹی کے ارکان مسلسل گھروں میں نظربند ہیں۔اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں نے زبردستی گھروں میں گھس کر 39خواتین کی بے حرمتی یا عصمت دری کی۔ قابض انتظامیہ نے 5 اگست کے بعد سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت بھی نہیں دی۔مقبوضہ علاقے میں دفعہ144کے تحت لگائی گئی پابندیوں کے باعث نظام زندگی مسلسل مفلوج ہے ، بیشتردکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ بعض تعلیمی ادارے اور دفاتر کھلے ہوئے ہیں۔انٹرنیٹ پر پابندی برقرارہے اور پری پیڈ موبائل اورایس ایم ایس سروسز بھی مسلسل معطل ہیں۔شدید سرد موسم نے بھی کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •