Voice of Asia News

ماحولیات کا بحران ناقابلِ واپسی مقام پر پہنچ چکا ہے، انتونیو گوٹیرس

میڈرڈ( وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات سے خبردار کیا ہے جو انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عالمی بحران ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گوٹیرس نے یہ بات اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ماحولیات سے متعلق سربراہ اجلاس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ کانفرنس میں 196 ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ گوٹیرس کا کہنا تھا کہ انسان کئی دہائیوں سے کرہ ارض کے خلاف جنگ کی حالت میں ہے اور اب اس سیارے (زمین) نے انسان کے خلاف لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بڑے اقتصادی ممالک کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج پر روک لگانے کے واسطے کی جانے والی ناکافی کوششوں پر سخت نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عالمی ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ناقابل واپسی کا مقام زیادہ دور نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے سامنے ہے اور تیزی سے ہماری جانب بڑھ رہا ہے۔گوٹیرس کے مطابق ماحولیات سے متعلق سنگین بحرانات پہلے سے کہیں زیادہ تکرار کے حامل، مہلک اور تباہ کن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی صحت اور غذائی امن خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مربوط فضائی آلودگی سالانہ 70 لاکھ افراد کی موت کا سبب ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے نام لیے بغیر واضح طور پر اْن ممالک کو مخاطب کیا جو دنیا بھر میں گرم گیسوں کے نصف سے زیادہ اخراج کے ذمے دار ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے نتیجے میں رواں برس کے اختتام تک ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکا کی علاحدگی سامنے آ جائے گی۔
وائس آف ایشیا2 0دسمبر2019 خبر نمبر40

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •