Voice of Asia News

حیدرآباد میں خواتین کے خلاف جرائم اور گمشدگیوں کے معاملے پر ایک تفصیلی رپورٹ

حیدر آباد(وائس آف ایشیا)بھارتی ریاست حیدر آباد میں روزانہ اوسطا 60 افراد لاپتہ ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت کا تعلق حیدرآباد کے نامور علاقوں سے ہوتا ہے۔ آخر یہ گمشدہ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ کیا یہ عادی مجرموں کے ہاتھوں موت کی بلی چڑھ رہے ہیں؟ایک خاندان اپنی معاشی زندگی کو بہتر بنانے کی امید میں شہر کی طرف رخ کرتا ہے۔ اس خاندان میں ایک 16 سال کی بچی بھی ہے جو فارغ وقت میں اپنی ماں کی چائے کی دوکان کو چلانے میں ان کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ اچانک ایک رات جب وہ اپنی ماں کے ساتھ گھر آ رہی ہوتی ہے، وہ غائب ہوجاتی ہے۔ لڑکی کے گھر والے اس کا پتہ لگانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تب وہ تھک ہار کر رات کے 11 بجے بھارت کے جنوبی حیدرآباد کے گچی بالی پولیس اسٹیشن میں لڑکی کی گمشدگی کی شکایت درج کراتے ہیں۔ شکایت درج کرانے کے بعد ماں اس امید سے گھر واپس چلی جاتی ہے کہ اس کی بیٹی جلد ہی مل جائے گی لیکن بے بس ماں کو کیا معلوم کہ دوسرے دن اسے خوفناک خبر سننے کو ملے گی۔ اگلے دن پولیس اطلاع دیتی ہے کہ ایک سنسان علاقے سے ایک لاش برآمد کی گئی ہے۔ اپنی بچی کو بے جان اور شدید زخمی حالت میں دیکھ کر وہ غش کھا کر گرجاتی ہے۔دس دن قبل شمش آباد علاقے سے ایک نوجوان ڈاکٹر دیشا کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ رات کے قریب 9 بجے دیشا نے اپنی بہن کو فون کر کے اپنی پریشانی بتائی۔ وہ خوف میں تھی کہ کچھ لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔بہن سے بات ہونے کے کچھ منٹوں کے اندر دیشا کا فون بند ہوگیا۔ دیشا کے مضطرب والدین نے شکایت درج کرانے کے لیے دو پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا۔ پولیس کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے دیشا کو مردہ حالت میں پایا گیا، اس کی لاش جلی ہوئی ملی۔معاشرے کے تمام طبقات پولیس کی اس لاپرواہی پر غم و غصے میں ہیں کہ صورتحال کی حساسیت دیکھتے ہوئے بھی پولیس نے اپنے کام میں کوتاہی برتی۔شہر کے ہر پولیس اسٹیشن میں گمشدہ لوگوں کی تصویروں سے بھرا ایک ڈسپلے بورڈ موجود ہوتا ہے۔کچھ پولیس اسٹیشن میں انعام کا بھی اعلان کیا جاتا ہے کہ جو بھی فرد کسی فیملی کے گمشدہ ممبر کی جانکاری دیگا اسے انعام سے نوازا جائے گا۔حیدرآباد جیسے بڑے شہر مں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر کو چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ اپنے خاندانی تنازعات کی وجہ سے گھر چھوڑ دیتے ہیں جبکہ کچھ نجی وجوہات کی وجہ سے۔ حیدرآباد میں نومبر میں لاپتہ ہونے والے 40 افراد میں 11 نابالغ اور 14 خواتین شامل ہیں۔ حالانکہ پولیس مسلسل یقین دہانیاں کروا رہی ہے کہ ان کی تلاش جاری ہے، لیکن ان میں سے کسی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ حال ہی میں ایک معاملہ پیش آیا جس میں جبلی ہیلس پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون نے شکایت درج کروائی کہ اس کے شوہر اپنے دو بچوں کو چینئی لے گئے صرف اس لیے وہ ان سے کبھی نہ ملے۔ دوسرے معاملے میں ایک خاتون اپنے عاشق کے ساتھ چلی گئی ، جس کے بعد اس کے والد نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی، لیکن مہینے گزر چکے ہیں ان دونوں معاملوں میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ رواں برس یکم جون سے 10 جون تک 540 افراد گمشدہ ہیں۔ جن سے 303 افراد کا تعلق حیدرآباد، سائبرآباد اور رچاکونڈا کمشنریٹ سے ہے، جبکہ 276 خواتین، 55 بچیاں، 26 لڑکے اور 183 مرد گمشدہ ہیں جس میں سے 222 کا ہی پتہ لگ پایا ہے۔ صرف نومبر میں ان تین پولیس کمشنریٹ کے دائرہ اختیار میں 38 سے 40 گمشدگی کے معاملے درج کرائے گئے ہیں۔والدین کو اس وقت تک سکون نہیں ملتا جب تک انکی نوعمر بیٹیاں محفوظ اور زندہ گھر نہیں پہنچتیں۔ صرف 50 فیصد گمشدہ خواتین اور لڑکیوں کا پتہ چل پایا ہے۔ ان میں سے باقی گمشدہ خواتین کو تلاش کرنا پولیس کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ پولیس گمشدہ معاملات کو شادی اور اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ جانے والی خواتین کے ذیل میں درج کر لیتی ہیں اور کبھی ان کیسز کو اغوا کے طور پر بھی درج کرتی ہے۔کے پی ایچ بی سیکستھ کیس کی رہائشی رمنا اپنے ذہنی طور پر کمزور بھائی کی تلاش کررہی ہیں جو 24 جون سے لاپتہ ہے۔ اسی علاقے میں چوکیدار کی حیثیت سے کام کرنے والے دوگی بالا سوامی نے معاملہ درج کرایا کہ ان کا 17 سالہ گونگا بیٹا راکیش 23 ستمبر سے گمشدہ ہے۔ انہوں نے اپنیعلاقے کے پولیس اسٹیشن میں متعدد بار معاملہ درج کرایا لیکن ابھی تک ان کے بیٹے کا کوئی پتہ نہیں چل پایا۔کے پی ایچ بی فورتھ کے رہائشی وی ایس راجو نے بتایا کہ ان کے دماغی طور پر کمزور 78 سالہ والد 21 جون سے گمشدہ ہیں لیکن اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ ویسے ہی انرا نگر میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والی 40 سالہ گیتا نے مئی 2017 میں گھر چھوڑا تھا اور کبھی واپس نہیں آئیں۔ان کی والدہ نے بالا نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی لیکن ابھی تک پولیس ان کا سراغ نہیں لگا پائی ہے۔ لال گوڈا پولیس اس طرح کے گمشدہ معاملے کو حل کرنے میں مثال قائم کررہی ہے۔انہوں نے بغیر اطلاع کیے ہوئے غائب ہونے والے افراد کو تلاش کرنے کے لیے زبردست کو ششیں کی ہیں۔ انہوں نے لالاپیٹ ، شانتی نگر ، چندرا بابو نگر ، ستیہ نگر ، اندرا نگر ، لال گوڈا اور میٹگوڈا کے دائرہ اختیار کو تین علاقوں میں تقسیم کردیا ہے اور کسی بھی غیر متوقع واقعات پر نگاہیں رکھتے ہیں۔ 2016 سے 2019 کے دوران 69 گمشدہ افراد کے معاملے درج کیے گئے جس میں صرف ایک ہی معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے 68 گمشدہ خواتین کا پتہ لگایا اور انہیں بحفاظت ان کے اہل خانہ کو سپرد کردیا گیا۔کے پی ایچ بی کالونی میں، ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس میں خواتین اپنی مرضی سے گھر چھوڑ رہی ہیں۔کچھ خواتین اپنے لکھے ہوئے خطوط کے ذریعہ اپنے فیصلے سے اہل خانہ کو مطلع کر کے گھر چھوڑ کر جارہی ہیں۔26 سالہ خاتون ڈاکٹر کے بہیمانہ قتل کے بعد گمشدہ خاتون کے والدین اپنی بیٹی کی حالت کے بارے میں جاننے کے لیے بے حد پریشان تھے۔ 2017 میں کے پی ایچ بی پولیس اسٹیشن میں191 گمشدگی کے معاملے درج کیے گئے ہیں جس میں سے 180 افراد کو صحیح سلامت گھر واپس لانے میں کامیابی مل ہے۔ کے پی ایچ بی کے سی آئی لکشمی نارائن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام گمشدہ معاملات کو حل کریں گے۔بیشتر گمشدہ واقعات میں نو عمر لڑکیاں 18 سال کی قانونی عمر کے پہنچنے کے بعد گھر سے باہر بھاگ جاتی ہیں۔ان میں سے کچھ شادی کے بعد اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتی ہیں جبکہ دیگر پولیس والوں کو یہ کہتی ہیں کہ ان کے بوائے فرینڈز نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ جو لڑکیاں شادی کرنے کے لیے گھر سے بھاگ جاتی ہیں پولیس ان کے لیے کاؤنسلنگ سیشن منعقد کرتی ہے۔حیات نگر پولیس اسٹیشن میں گمشدہ معاملات میں بیشتر کا تعلق اولڈ ایج ہوم اور یتیم خانوں سے ہے۔ سننے کی صلاحیتوں میں کمی اور یادداشت کمزور ہونے کی وجہ سے معمر لوگوں کا پتہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ حیات نگر پولیس ریلوے اور بس اسٹیشنوں میں بھیک مانگنے والے بچوں کو ویلفیئر ہسپتال میں منتقل کررہی ہے۔جس میں بیشتر بچے کچھ دن بعد گھروں سے فرار ہوگئے۔اس سال ملکاجی گری پولیس اسٹیشن میں134 گمشدگی کے معاملات درج کیے گئے، ان 134 گمشدہ لوگوں میں 20 فیصد نوجوان خواتین شامل ہیں۔جس میں سے 95 فیصد کو بحفاظت گھر پہنچا دیا گیا ہے۔2014 سے بالا نگر پولیس اسٹیشن میں 303 گمشدہ معاملے درج کیے گئے جس میں سے286 معاملے کو حل کردیا گیا۔لیکن باقی 17 معاملات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔اس پولیس اسٹیشن میں40 سے 70 فیصد معاملات گمشدگی کے ہیں۔بالانگر کے سی آئی کے وحی الدین نے بتایا کہ وہ گمشدگی کے وجوہات جاننے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے مطابق ہی معاملے کو حل کیا جائے گا۔گزشتہ 4 برسوں میں جوبلی ہلس میں گمشدگی معاملات کی تعداد میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔90 فیصد زائد معاملات کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔جبکہ ان گزشتہ چار برسوں میں546 گمشدگی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں جس میں صرف 20 معاملات حل نہیں ہوئے ہیں۔ جوبلی ہلس کے سی آئی پی بالاوانتیاھ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد اور گمشدہ افراد کے جاننے والوں کی تفیتش کرکے معاملات کو حل کررہے ہیں۔بنجارہ ہلس میں گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ چار برسوں میں 735 معاملات درج کیے گئے۔متعلقہ پولیس اسٹیشن نے کہا کہ 90 فیصد معاملات کو ٹیکنالوجی کی مدد سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔بچوپلی میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 194 گمشدگی کے معاملات درج کیے گئیہیں۔سنہ 2018 میں 96 لوگ گمشدہ ہوئے جس میں 51 خواتین اور 12 لڑکیاں شامل ہیں۔جبکہ سال 2019 میں 54 مرد، 39 خواتین، چار لڑکے اور ایک لڑکی غائب ہوئی تھی۔ان 96 معاملات میں پولیس نے 81 لوگوں کو تلاش کرلیا ہے۔گزشتہ چار برسوں میں قطب بلاپور منڈل کے ڈونڈیگل پولیس اسٹیشن میں 576 گمشدگی کے معاملات درج کیے گئے جس میں سے 78 معاملات کو ابھی تک حل نہیں کیا گیا ہے۔ 2018 سے پولیس لڑکیوں کے والدین کی شکایت کی بنا پر اغوا کے معاملات کو درج کررہی ہے۔گزشتہ دو برسوں میں 19 اغوا کے معاملات درج کیے گئے جس میں تین گمشدہ لڑکیوں کے معاملات پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ڈونڈیگل پولیس اسٹیشن کے ایس آئی شیکھر ریڈی کا کہنا ہے کہ شکایت کرنے کی مدت کے ایک سال بعد وہ معاملہ حل نہیں کرپاتے تو وہ یہ کیس بند کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب صورتحال بدل رہی ہے اور وہ گمشدہ نوعمر بچوں یا بچیوں کے والدین کی شکایت کے مطابق اغوا کے مقدمات درج کررہے ہیں۔ 2016 میں13 فروری کو 45 سالہ ہوم گارڈ محمد ابراہیم جو اپنے ڈیوٹی کے کام کے مطابق میڈارم گیا تھا وہ وہاں سے گمشدہ ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے اسکی کوئی بھی خبر نہیں ملی ہے۔ ان کی اہلیہ سلیمہ بیگم نے چندرائن گٹا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کا مقدمد درج کرایا، انہوں نے اپنی شکایت میں ذکر کیا کہ 20 فروری 2016 کو اس کے شوہر نے اپنی ٹھکانے کے بارے میں بتایاتھا اور وہی ان کا آخری فون تھا۔ چندرائن گٹہ پولیس نے ورنگل پولیس کے ساتھ اس کا پتہ لگانے کے لئے کوشش کی ہے لیکن ناکام
وائس آف ایشیا6 0دسمبر2019 خبر نمبر11

وائس آف ایشیا

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •