Voice of Asia News

چلتی کا نام گاڑی ۔۔ محمد نوازطاہر

جب پہلی بار’’ چلتی کا نام گاڑی ہے ‘ سنا تو سمجھا تھا کہ یہ ریل گاڑی کے بارے میں کہا گیا ، تب یہ معلوم نہیں تھا کہ کار سمیت رینگنے ، چلنے اور بھاگنے والی ایجاد کو گاری کہا جاتا ، اُس وقت تک گاڑی سے مراد ریل گاڑی تھی، کالا انجن ( کوئلے اور پانی کی مدد سے بھاپ سے چلنے والا اسٹیم انجن )سیاہ بادلوں کے ساتھ پیلے ، ہرے ، سلور اور سرخ ڈبے کھینچتے ہوئے ریل گاڑی لاتا تھا ، کچھ ہرے انجن بھی تھے کچھ پُر کشش چہرہ رکھنے والے دھاری دارپیلے ہرے انجن تھے، ہرے انجنوں پر ’تعاون ریاستہائے امریکہ‘ اس کے جھنڈے کے رنگوں میں لکھا ہوا ہوتا تھا، پیلے ہرے دھاری دار پیلے ہرے انجن دھواں چھوڑے بغیر برقی رو سے ایک خاص روٹ( مغل پورہ ،لاہور ، خانیوال سیکشن ) پر چلتے تھے، برانچ لائنوں پر نہ جاسکتے تھے ، نہ وہاں دکھائی دیتے تھے۔ جب رات کے وقت یہ گاڑی گذرتی تولگتا جیسے آسمان زمین پر بھاگ رہا ہے، پھر واضح ہواکہ ریل گاڑی تو اپنی جگہ چلتی ہی ہے’ چلتی کا نام گاڑی ہے ‘ جو رک گئی وہ گاڑی کیسی ؟ جو چل رہی ہے وہی گاڑی ، بھلے کچے راستوں پر ہانکتے بیلوں سے کھینچی جانے والی بیل گاڑی (گَڈ)یا گوشت پوست کے نحیف مگر پہاڑ جذبوں والے محنت کشوں کی ہاتھ گاڑی ہو یا چاند گاڑی ۔۔۔۔
قومی ادارے پاکستان ریلوے پر بھی ایسا وقت آیا تھا جسے مسافر ’ بلوری ٹائم ‘ (جب غلوم احمد بلور ریلوے کے وزیر ریلوے کے حالات بہت خراب تھے یا مجوزہ نجکاری کی غرض اور محنت کشوں کی زبان میں اونے پونے داموں بیچنے کی سازش کا پلان تھا) ،سے یاد کرتے ہیں۔بروقت نہ پہنچنے پر ریل گاڑی ،بیل گاڑی کہلا رہی تھی، ریل کی پٹڑی سُونی ، زنگ آلود ہو کر اپنی چمک کھوچکی تھی ، لیکن اب پھر سے یہ پٹڑیاں چمکنے لگی ہیں اور ٹرینیں بروقت چلنے لگی ہیں ۔ حادثات کائنات، زندگی کا حصہ ہیں ، چھوٹی موٹی کمی کوتاہی اور کمزوریوں کے باوجود پاکستان میں ریل آج بھی سستا ، محفوظ اور آرام دہ سفر ہے ۔ ریل کی پٹڑی جہاں جہاں ’سانس‘ لیے رہی ہے، ان علاقوں میں سفر کی آواز کان میں پڑتے ہی میرے جسم میں گدگدی، کانوں میں ریل کے انجن کے ہارن کی آواز اور آنکھوں کے سامنے ریل کے گارڈ انچارج کی ہری جھنڈی کے ساتھ پلیٹ فارم پر اُداس، آبدیدہ ،مسکراتے ہوئے مسافروں کو خیر باد کہتے چہرے اور ایک جہاں چند لمحوں میں اوجھل ہوتا تصورمیں گھوم جاتا ہے اور میں ٹرین پر سفر کے ’حالات‘ پیدا کرنا شروع کردیتا ہوں میرے اسی شوق کی وجہ دوست لوگ مجھے پیار ، مذاق میں ’مسافر‘ بھی پکارتے ہیں۔ یہ ’مسافر‘ ریل کے بند سیکشن خانپور چاچڑاں شریف اور لاہور چک امرو کی بحالی کے خواب کی تعبیر کب دیکھے گا معلوم نہیں؟ البتہ بلوچستان میں سبی ، ہرنائی سیکشن مکمل ہوچکا ہے اورکسی بھی وقت اس سیکشن کے صحرا ، وادی اور پہاڑوں میں ریل کے ہارن کی آواز گونجنا شروع ہوجائے گا م بس تھوڑا سا انتظار باقی ہے، بلوچستان کی صوبائی حکومت کی طرف سے سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کے گرین سگنل کا۔۔جیسے ہی یہ گرین سگنل ملے گا، ٹرین ملکی معیشت کے معاون گاڑی کی طرح یہاں بھاگنا شروع ہوجائے گی ، تاجروں کی سستا ذریعہ نقل وحمل ، شہریوں کو محفوظ سفر اور پاکستان ریلوے کو بزنس خاص طور پر فریٹ کا بزنس ملنا شروع ہوجائے گا ، یوں ویرانوں میں حیات انگڑائی لے گی۔رواں سال کے دسویں ،گیارہویں اوربارہویں مہینے میں لاہور ، کوئٹہ، کراچی سفر کیا، یہ سفر میری صحافتی ٹریڈ یونین کی زندگی کے یادگار ترین اورتاریخی سفر ثابت ہوئے ہیں ۔ اسی سفر کے دوران پاکستان کے محروم ، پسماندہ اور قدرتی نعمتوں سے مالا مال صوبے بلوچستان کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس( پی ایف یو جے) کی صدارت کی حکمتِ عملی کا آغاز شدید گرم دِن کی خنک شب پریس کلب کی چھت پر ہوا جس میں کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان ، بی یو جے کے صدر ایوب ترین اور بنارس خان سمیت دیگر ساتھیوں جبکہ بی یوجے کی پوری تنظیم نے کلیدی کردار اور ملک بھر کے ترقی پسند صحافیوں نے کھلے دل سے تعاون کیا اور ممکنہ’ جملہ‘ رکاوٹیں اس حکمتِ عملی میں حائل نہ ہوسکیں۔ بلوچستان کو پی یایف یو جے کی قیادت سونپ کر نیا پاکستان بنایا گیا ، بلوچستان پاکستان ،خاص ذہنیت رکھنے والوں کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان سب کا ہے جو یہاں بستا ہے ، وہ اپنی ذات میں خودپاکستان ہے ، بلوچستان کم از کم مجھے تومستقبل میں پاکستان کا اقتصادی لیڈر دکھائی دے رہا ہے ۔بلوچستان میں کوئی طبقہ یہ نہ سمجھے کہ وہ تنہا محروم ہیں ، پسماندگی اور محرومیاں ملک کے بہت سے حصوں میں ہیں بس ذہن پسماندہ نہیں ہونا چاہئیں ، صحافیوں کے تو بالکل ہی نہیں ، پھر زرخیز مذاحمتی مٹی کے سامنے کسی کی بھی عددی برتری کے سامنے کیسے سر جھکایا جاسکتا ہے ، بس مضبوط ارادے ،نیک نیتی اور موثر پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہیویسے بھی جہد کی کامیابی استقامت کے تابع ہے۔
پی ایف یو جے کا الیکشن کراچی میں ہوا ، جس میں ملک بھر کے صحافیوں کو دوردراز کا سفر کرکے پہنچنا تھا ، سفر تو سفر ہوتا ہے ، کچھ نہ کچھ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ، معاشی بحران کا شکار میڈیا اندسٹری کے کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا تھا ۔ یہ سفری مشکلات کم کرنے میں پاکستان ریلوے نے قابلِ تحسین معاونت کی ۔ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد ، ان کے ذاتی اور سرکاری عملے ، شعبہ تعلقات عامہ کی سربراہ قراۃ العین فاطمہ ، محمد طاہر ، اعجاز شاہ ، جاوید، سی سی ایم ، جی ایم پسینجر، اور رننگ سٹاف خاص طور پر کنڈکٹر گارڈ سبھی نے یوں تعاون کیا جیسے خاندان میں کسی پہلی بارات کی روانگی و استقبال کے وقت سارا خاندان ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا رہا ہوتا ہے۔ پشاور ، راولپنڈی ، اسلام آباد ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد ، لاہور ، ملتان ، بہاولپور اور رحیم یار خان کے کم و بیش دو سو صحافیوں کیلئے خصوصی طور پر بوگیاں لگائی گئیں ۔ اگرچہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایسا تعاون پہلی بار نہیں کیا گیا بلکہ روایت زندہ برقراررکھی گئی لیکن موجودہ حالات میں جبکہ پاکستان ریلوے کو بوگیوں کی شدید ضرورت ہے ، بہت بڑی بات ہے ، ریلوے انتظامیہ خصوصی بوگیوں کے ایسے انتظامات بروقت رجوع کرنے پر عام مسافروں کو بھی فراہم کرتی ہے ، لال شہباز قلندر ؒ کا عرس ، رائیونڈ کا اجتماع، بھارتی یاتریوں کی آمد کے مواقع پر ایسے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔اس سفر میں چند لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ یا پھر ایک طویل مدت کے بعد سفر کیا ، پہلی بار بذریعہ ریل آدھا پاکستان جبکہ’ ریل کا پاکستان ‘ پون سے زائد دیکھا جیسے پونے تین سال قبل کوئٹہ میں ہونے والے الیکشن کے موقع پر دیکھا تھا۔ اس طرح پی ایف جے کی نو ماہ تک ویرانے میں کھڑی تاخیر کاشکار گاڑی ریلوے کے تعاون سے اپنی منزل پر پہنچی۔
اب سمجھ میں آجانا چاہئے کہ ’ چلتی کا نام گاڑی ہے‘ بھلے بیل گاڑی ہو یا چاند گاڑی یا ریل گاڑی ہو، پاکستان ریلوے کی گاڑی بھی حکام کی بہت سی توجہ اور تعاون کی طلبگار ہے ریل کے وزیر شیخ رشید تو ریل کی اس توجہ طلبی کو تسلیم کرتے ہیں مگر پوری حکومت شائد ایسا نہ سمجھتی ہو اور اگر سمجھتی ہو تو درکار بھاری فنڈز سخت موسمی حالات کی طرح آڑے آرہے ہوں جہاں تک قوم کا تعلق ہے تووہ صرف ریل سے تعاون کرکے ہی اسے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ جہاں تک پی ایف یو جے کی تاخیر کا شکار مشکلات و مصائب اور کارکنوں کی بے روزگاری جیسے مسائل کے باعث’ بلوری گاڑی ‘ کا تعلق ہے تواس گاڑی کو شعبہٗ صحافت کی بدحالی اور ’ کمزور پٹڑی‘ کے باوجود تیز رفتار’ پاکستان ایکسپریس‘ بننا پڑے گا ۔ اس کا ڈرائیور( شہزادہ ذوالفقار) بلوچستان کی زرخیز ، تحریکی و مذاحمتی مٹی کا بیٹا ہے جبکہ اس کا’ گارڈ انچارج‘(ناصر زیدی )بھی ’غازی‘ ہے۔ اس گاڑی کو بھی کارکنوں اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ’معامالات‘ میں میڈیا مالکان کا تعاون بھی ناگزیر ہے تبھی یہ گاڑی اپنی منزل پر بروقت پہنچ سکے گی ، دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کا خواب ریل کا منصوبہ’ ایم ایل ون ‘ اپنے چیلنج پچھاڑتا ہوا اپنی گاڑی پہلے منزل پر پہنچاتا ہے یا درپیش بہت سے چیلجنز سے نمٹتی پی ایف یو جے کی گاڑی بروقت منزل پر پہنچتی ہے ، مسافر کامیابی کیلئے دعا گو ہے ۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •