مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی : محمد قیصر چوہان

 
انسانی حقوق کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان کیونکہ جب انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا تو وہ رہن سہن کے طور طریقوں سے زیادہ آشنا نہیں تھا جوں جوں وقت گزرتا گیا اسے بہت سی چیزوں کا ادراک ہوا، دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا تصور پیدا ہوا اس طرح ایک منظم معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا۔ ریاست کا عام شہری ہونے کی حیثیت سے افراد پر جہاں ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہوتے ہیں وہاں شہریوں کیلئے شہریت کے کچھ حقوق بھی متعین کئے گئے ہیں جب منظم معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی فرد کے حقوق کا احساس بھی پیدا ہوا اور جیسے جیسے معاشرتی زندگی میں فرد کی حیثیت نمایاں ہوتی رہی اس طرح انسانی حقوق کا تصور بھی نمایاں ہوتا رہا۔ حقوق معاشرتی زندگی کی وہ شرائط ہیں جن کے بغیر انسان اپنی شخصیت اُجاگر نہیں کر سکتا گویا ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو ایسی سہولتیں فراہم کرے جس سے فرد اپنے مزاج اور صلاحیتوں کے مطابق اسے استعمال کر سکے، انسانی حقوق کو ریاست تسلیم کرتی ہے اور اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ انہیں نافذ کرے اور جب ان حقوق کو آئینی تحفظ مل جاتا ہے تو پھریہ بنیادی انسانی حقوق کی حیثیت اختیارکرتے ہیں یہ ساری کائنات اﷲ کی تخلیق کردہ ہے خدا کی اس واحد تخلیق میں سب سے افضل انسان ہیں جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے آج صدیوں بعد جب انسان شعور کی ان منزلوں کو پہنچا ہے جہاں انسان اور انسانیت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اقوام عالم نے انسانی حقوق کا نعرہ بلند کرنا شروع کیا ہے دنیا بھر میں بے شمار عالمی تنظیم وجود میں آئیں جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔
جنت نظیر کشمیر کو بھارتی حکومت نے عالمی دہشت گرد امریکا اور اسرائیل کی آشیر باد سے جہنم بنا دیا ہے ۔کشمیری عوام گزشتہ چار ماہ سے قید و بند اور غیر انسانی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں کشمیریوں کے مصائب کا اصل سبب بھی تویہ عالمی برادری ہی ہے۔ یہ عالمی برادری فلسطینیوں کے مصائب پر خاموش رہتی ہے۔ یہی عالمی برادری چینی مسلمانوں کے مصائب پر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ منافقت کی انتہا یہ ہے کہ فلسطینیوں سے جن مسلمان ممالک کی سرحدیں ملتی ہیں وہ فلسطینیوں سے یکجہتی کے بجائے اسرائیل سے دوستی کا دم بھر رہے ہیں بلکہ سفارتی تعلقات بھی قائم کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کا معاملہ صرف بھارت اور کشمیریوں کا ہرگز نہیں بلکہ یہ تو براہ راست پاکستان کا معاملہ ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن یہ شہ رگ بھارت کے قبضے میں جانے کے باوجود پاکستانی حکمران اور فوج ٹس سے مس نہیں ہو رہے ،صرف زبانی جمع خرچ ہو رہا ہے۔ دھمکیاں دی جارہی ہیں اور بھارت کے ساتھ خیرسگالی کیلئے ہر کام کیا جارہا ہے۔ بھارتی سرحدیں خلاف ورزیوں پر بھی ہلکی پھلکی کارروائیوں ورنہ ترانے اور نغمے تیار کر کے بھارت کو تباہ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں خصوصاً اس کا نشانہ منظم طور پر مسلمانوں کو بنایا جارہا ہے۔ چین، برما، کشمیر کے علاوہ بھارت بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے گوشت کھانے کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے۔ جانوروں کی طرح حملے کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بابری مسجد کے مقدمے کا نہایت متعصبانہ اور جانبدارانہ فیصلہ دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے، لیکن عالمی برادری کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ کشمیریوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔ بھارت بھر میں 30 کروڑ مسلمان ہیں۔ برما میں اراکان کو قتل کیا جارہا ہے۔ شام میں غیر مسلم قوتیں اور دور دور سے آئی ہوئی افواج کی بمباری کا نتیجہ مسلمان کا قتل ہے۔ پورا مغرب اسلامو فوبیا کا شکار ہے لیکن عالمی برادری کو تکلیف ہوتی ہے تو پاکستان میں توہین رسالت کی ملزمہ کیلئے لال لال ایشیا کے نعرے لگاتے ہوئے سول سوسائٹی والوں کے ملک کے خلاف نعروں پر کارروائی پر تکلیف ہوتی ہے۔ جو طالب علم ہیں نہ سیاسی لوگ۔ اس بے حس عالمی برادری سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کیلئے کسی قسم کی توقع رکھنا عبث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب جبر کے نظام میں جکڑی جا چکی اور اس نظام میں کچھ خود ظلم کے عنوان گھڑ لیتے ہیں، خود ہی کچھ دن مقرر کر لیتے ہیں اور خود ہی کسی کو دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں۔ ساری دنیا میں دہشت گردی کرنے والے امریکا کے پیچھے چلتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب دنیا میں انسانی حقوق نام کی کوئی چیز باقی نہیں اور جہاں تک مسلمانوں کے حقوق کا تعلق ہے تو یہ تو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ اگر مسلمان حکمرانوں میں غیرت باقی ہے، سود اور حرام سے پرورش پانے والوں کے دلوں میں ایمان کی ذرا بھی رمق ہے تو ایک کروڑ کشمیریوں، ایک کروڑ چینی مسلمانوں، لاکھوں برمی مسلمانوں اور لاکھوں فلسطینیوں کیلئے مل کر آواز اُٹھائیں۔ نام نہاد عالمی برادری کا ہر سطح پر مقاطعہ کریں۔ پھر تو کوئی دن منانا سود مند ہوگا ورنہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات تو یہ بتا رہے ہیں کہ انسانی حقوق کا کوئی دن وجود نہیں رکھتا۔
qaiserchohan81@gmail.com