Voice of Asia News

سانس ضروری ہے یا آواز۔۔۔ محمد نوازطاہر

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے )، میڈیا مالکان کی تین تنظیموں ، وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل اور ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور مجریہ انیس سو تہتر کے آرٹیکل انیس کے تحت شہریوں اور خاص طور پر صحافیوں کو حاصل تحفظ کے تحفظ کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے ۔ یہ کمیٹی پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار کی صدارت میں نومنتخب قیادت کا پہلا اور قابلِ تحسین عمل اور بلوچستان کو صحافیوں کی قیادت سونپنے کے شعور کا اظہار ہے ۔صحافیوں کو دیگر کنفلیکٹ زونز کی طرح پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں اپنے گھر تک میں مشکلات کا سامنا ہے ، شائد اس کمیٹی کے قیام کے بعد کوئی دوسرا ’ارشاد مستوئی‘ اپنے دفتر میں رزق حلال کرتے ہوئے نامعلوم افراد کی گولیوں سے’ حلال ‘ ہونے سے بچ جائے ۔بظاہر کنفلیکٹ زون صرف صوبہ کے پی کے کہلاتا ہے حالانکہ بلوچستان بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے ،جہاں دہشت گردی روکنے کیلئے ان گنت قربانیوں اور کوششوں کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی جبکہ پنجاب اور سندھ کو اگر کنفلیکٹ زون جیسی صورتحال سے الگ قراردیا جائے تو درست نہیں ہوگا البتہ حالات قدرے مختلف ہیں ۔
دیانتدارانہ جائزہ لیا جائے تو صحافیوں کیلئے مختلف بنا پر پورا ملک ہی کنفلیکٹ زون ہے ، صحافیوں کو ان کے ذہن ، ضمیر کے مطابق اپنے دفاتر سمیت کہیں بھی آزادانہ طور پر کام کرنے کی جازت نہیں لیکن وہ صحافی جو وڈیروں ،جاگیر داروں ، دہشت گرد ، انتہا پسند گروپوں کی سرگرمیوں والے علاقوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں وہ صرف ’کلرکی‘ کرسکتے ہیں ، جہاں کہیں کسی نے صحافت کی لاج رکھنے کی کوشش کی ، اس کے اپنی لاج نہ رہی ، اب کم و بیش ایسی ہی صورتحال سرمایہ دارانہ نظام میں بڑے شہروں بشمول وفاقی و صوبائی دارلحکومتوں میں بھی ہے ، صحافیوں کو دیانتداری سے فرائض کی انجام دہی میں ریاستی ، حکومتی،سرمایہ دار، گولی و ڈانڈا بردار سب کے مفادات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جبکہ پہلی رکاوٹ کا سامناانہیں اپنے’ گھر‘ سے ہوتاہے۔ جب گھر کے اندر آزادی نہیں تو گلی ،محلے، بازار ، میں کس آزادی کی بات کی جائے ؟ یوں جو کوشش جنرل ضیاء کی آمریت میں کی گئی تھی وہ اب حالات نے کامیاب بنادی ہے اور صحافیوں کی جگہ کام کرنے والے’ بُت‘ واضح طور پر ’کلرک‘دکھائی دیتے ہیں۔
؂ جب یہ ساری رکاوٹیں دیکھتے ہیں تو جنرل ضیاء کی آمریت کی سنسر شپ نے پاکستان میں صحافت کا بھرم رکھا ہوا تھا جس میں اخبارات کے صفحات سے اکھاڑا جانے والا میٹریل واضح کرتا تھا کہ یہ اُس وقت کی حکومت اور ریاست کو قبول نہ ہونے پر اکھاڑ پھینکا گیا ہے حالانکہ صحافی نے تو اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیے تھے، اس سنسر شپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا تھا کہ صحافیوں نے’ مناسب ‘ الفاظ میں سخت زبان لکھنے کا ایسا گُر پختہ کرلیا تھا کہ’ موٹے دماغ‘ والے چھپنے کے بعد سمجھ پاتے تھے کہ یہ الفاظ ان کے ہاتھوں کی بے رحمانہ حرکت سے بچ کیسے گئے ، بعد میں پھراکھاڑنے والوں سمیت کئی لوگوں کووضاحتوں کا سانا کرنا پڑتا تھا لیکن اب تو یہ تکلف ہی برطرف ہوگیا ہے، اب تو کسی کو اس قسم کی ’زحمت‘ ہی نہیں کرنا پڑتی۔یہ کام صحافی اور صحافی گر از خود ہی کرلیتے ہیں ۔ گویا صحافیوں اور صحافی گروں نے صحافت خود ہی ختم کردی ہے ۔ یہ کڑوا سچ ہے جسے ماننا پڑے گا ۔ رہی بات آئین کے آرٹیکل انیس کے حوالے سے وکلا ، ء صحافیوں ، انسانی حقوق اور میڈیا مالکان کی تنظیموں کے اجلاس کی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے پی ایف یو جے کے اس نصب لعین کا تو مفصل جائزہ لیا اور آزادی اظہارِ رائے کی شق پر عملدرآمد یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کیا اور کمیٹی بنادی ہے ،ظاہر ہے کہ پی ایف یو جے کے نومنتخب سیکرٹری جنرل ناصر زیدی آمریت کے کوڑوں کا ’تاج‘ سجائے اظہارِ رائے پر پابندیوں کی مزاحمت کا ماضی بھلا نہیں سکتے اور لمحہ بہ لمحہ درد محسوس کرتے ہیں لیکن کیا اس مشترکہ اجلاس میں پی ایف یو جے کے آئین میں شامل ضابطہ اخلاق کا جائزہ بھی لیا گیاہے ؟ جس کے تحت صحافی کن کن اخلاقی پابندیوں کے تابع ہے؟ آج’ ریٹنگ ‘ اور ’بریکنگ ‘ کی دوڑ نے پیشہ ورانہ ساکھ کو کس قدر نقصان پہچایا ہے اور پہنچایا جارہا ہے ؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین مجریہ سنہ انیس سو تہتر کے تحت آزادی اظہارِ رائے کے ساتھ ساتھ عامۃالناس کے حقوق کیا ہیں ؟ کیا اخبار ، ریڈیو یا ٹی وی کسی ایک شخص ، کمپنی گروہ اور چند افراد کیلئے ہوتا ہے یا عوام الناس کے لئے ہوتاہے ؟
اظہارِ رائے کی اب تک کی جدوجہد نے کس کو کتنی آزادی دی ؟ کیا یہ سوال جملہ باشعور اور سٹیک ہولڈر تنظیموں کے اس مشترکہ اجلاس میں زیر بحث لایا گیا ؟ اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کون آزاد ہیں ؟زبان اور قلم چلانے میں کون مادر پدر آزاد ہیں ؟اور اس مادر پِدر آزادی نے صحافت کی ساکھ کو کہاں لاکھڑا کیا ہے ؟ کون بالکل قید ہیں ؟اس قید نے صحافت اور صحافیوں کا تشخص کتنا مجروح کیا؟ اور اس ساکھ کی بحالی کس طرح ممکن ہے ؟ ایک اہم سوال اور میڈیا انڈسٹری میں معاشی بحران کا بھی ہے کیا کسی نے اس طرف بھی غور کرنا مناسب سمجھا؟ کیا یہ کسی ایک فریق، سٹیک ہولڈر کا مسئلہ ہے ؟ کیا امید رکھی جائے کہ مستقبل میں اس مسئلے پر غور کیلئے بھی کوئی مشترکہ اجلاس ہوگا؟جبکہ ایسا ایک اجلاس وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس میں میڈیا ورکرز اور مالکان سبھی کھلے دل سے شریک ہوں اور جملہ مسائل پر مفصل گفتگو کریں اقور جامع حکمتِ عملی وضع کریں ، یہ بھی طے کریں کہ پہلے سانس چلنا ضروری ہے یا آواز ضروری ہے ؟ کیا بے جان ، بے حس ، ساکت ،بے حرکت جسم میں آواز پیدا کی جاسکتی ہے ؟ جنرل اجلاس نہ سہی جیسا مشترکہ مشاورتی اجلاس ہوا ہے، اگر ایسا اجلاس نہیں ہوتا تو پھر یہ پیشہ ، ادارے کہاں سٹینڈ کرتے ہیں ، معاشرے کیلئے بس کہیں مادر پدر آزاداور کہیں ’کلرک‘ ہونگے جبکہ ذمہ دار آزاد صحافت کے بغیرآزادیِ اظہا ر ممکن نہیں ، جو ممکن ہے اور کس قدر ممکن ہے ،اس کی گواہی ہر سول اور فوجی حکومت کے ادوار دیتے ہیں کہ گُڑ کھاناصرف طاقتور، برسرِاقتدار جماعت ، گروپ اور افراد ہی کیلئے جائز ہے، دوسروں کیلئے گُڑ کھانا جائز اور درست نہیں ۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •