Voice of Asia News

وکلا گردی سے دہشت گردی تک: محمد قیصر چوہان

 
دہشت گردی کے بعدپاکستان کی تاریخ میں وکلاگردی کی اصطلاح سامنے آئی ہے،کہیں معزز عدالتوں کے جج صاحبان وکلاء گردی کا شکار ہوئے تو کہیں ان پر جوتے برسائے گئے، کہیں عدالتوں میں پیشی پر پولیس افسران ،کہیں عدالتی اہلکار اور کہیں بد نصیب سائلین وکلاگردی کی ذد میں آئے۔گیارہ دسمبر بروز بدھ کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی پر وکلا کے جتھے نے جو کچھ کیا وہ محض غنڈہ گردی نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ کالے کوٹوں میں ملبوس یہ دہشت گرد اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہیں، الٹے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بار کے ایک عہدے دار عمر بلوچ تو جمعرات کو بھی اپنی مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے دھمکیاں دے رہے تھے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بھی دھمکیاں دیں جو ان کے خیال میں یکطرفہ تصویر دکھا رہے تھے۔ لیکن وکلا کی یہ مکروہ تصویریں تو پورے ملک ہی نہیں پوری دنیا نے دیکھی ہیں۔ وکلا اپنے آپ کو قانون دان اور قانون کا محافظ کہتے ہیں لیکن ان کا عمل قانون شکنوں والا ہے۔ ایک اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ امراضِ قلب کے ہسپتال پی آئی سی پر حملے میں خواتین وکلاء بھی شامل تھیں۔ خواتین بھی اتنی سفاک ہو سکتی ہیں کہ دل کے مرض میں مبتلا مریضوں پر حملے کی قیادت کریں۔وہ خواتین وکلاہی تھیں جنہوں نے ہسپتال کے بند دروازے پر چڑھ کر اسے کھولنے کی کوشش کی۔ ویسے توحملہ آور تمام وکیلوں کو گرفتار کر لینا چاہیے جن کی شکلیں ہر چینل پر دکھائی گئیں۔ تمام حملہ آوروں کی شناخت آسان ہے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سب کے لائسنس معطل نہیں منسوخ کر دیے جائیں خواہ کچھ بھی ہو۔ لیکن ان وکلاء کی غنڈہ گردی اتنی منظم ہے کہ شاید ان کا کچھ نہ بگڑے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ قانون اپنا راستہ بنائے گا لیکن قانون کئی بار راستہ بھٹک چکا ہے۔ ان کالے کوٹ والوں کا یہ کارنامہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے کئی بار اپنی وحشیانہ طاقت اور جتھ بندی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔
پنجاب میں گزشتہ دس برس کے دوران تشدد کرنے پر تین ہزار سے زائدوکیلوں کے خلاف260 سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں۔ قانون کے رکھوالوں نے گزشتہ دس برس کے دوران پولیس، عدالتی عملے اورسول ایڈمنسٹریشن کے درجنوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔وکلا نے سب سے زیادہ پولیس کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے160 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، پولیس پر تشدد کرنے کے مقدمات میں1760 وکلا ء نامزد ہوئے۔سول ایڈمنسٹریشن کے افسران پر تشدد کے 51 مقدمات میں 740 وکلا کو نامزد کیا گیا۔ ججز اورعدالتی عملے پر تشدد اور بدتمیزی پروکلا کے خلاف50 سے زائدمقدمات درج کیے گئے۔ پنجاب بھر میں عدالتی عملے پر تشدد کرنے کے الزام میں 490 وکلا کے خلاف کیسز رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔عدالت کا سب سے زیادہ وقت وکلاء حضرات سرکاری افسران اور عوام پر جھوٹی اور من گھرٹ پٹیشن دائر کرکے ضائع کرتے ہیں۔قانون کے غلط استعمال ،عدلیہ کو گمراہ کرنے اور عوام کو بلیک میل کرنے والوں کا احتساب کیے بن قانون کی حکمرانی کا خواب ادھورا ہے۔عوام اور اداروں کو بلیک میل کرنے کیلئے جھوٹی پٹیشن دائر کرنے کی ریت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہاں ہر کسی کو بلیک میل کیا جائے گا، پٹیشن کے بہانے کورٹ بلاکر سرعام لوگوں پر تشد د کیاجائے گا ۔احاطہ عدالت میں کسی کو مارا گیا تمانچہ حقیقت میں عدلیہ کو تھپر رسید کرنے کے مترادف ہوتا ہے ،جھوٹی پٹیشن دائر کرنے والے بلیک میلرز کی حوصلہ شکنی ضروری ہے پٹیشن غلط ثابت ہونے پر وکیل کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے ،اکثر وکلاء نے جھوٹی درخواستیں دائر کرنے کیلئے ٹاؤٹ رکھے ہوتے ہیں۔
عدالتوں میں ججوں پر حملے یا ان کو کمرے میں بند کرنے سمیت متعدد وارداتیں ان نام نہاد وکلا سے منسوب ہیں اور ان کے خلاف مقدمات درج ہیں لیکن کسی عدالت میں بھی یہ ہمت نہیں کہ مجرموں کو سزا دلوا سکے۔ اس سے ان کے حوصلے بلند تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان وکلاء کی اسناد اور ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔ جگہ جگہ کھلے ہوئے لا کالجوں سے اسناد حاصل کر کے کالا کوٹ پہن لیا جاتا ہے اور ڈگریاں کس طرح بٹتی ہیں یہ کوئی راز نہیں۔ ایسے وکلاء کا علم ان کے عمل سے واضح ہے۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی پر حملہ کر کے بری طرح توڑ پھوڑ مچانے والوں کے پاس اس دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں تھا گو کہ ان بدمعاشوں کے وکلا ڈاکٹروں پر الزام ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ڈنڈے لئے بیٹھے تھے یا انہوں نے بھی پتھراؤ کیا۔ وکلا نے دس دسمبر کو اپنے عزائم کی پریس ریلیز جاری کی تھی جس پر ڈاکٹروں کا احتیاطی اقدام قابل فہم ہے۔ انہوں نے بار بار 15 پر پولیس کا اطلاع دی مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ یہ غنڈہ عناصرایون عدل سے پیدل چل کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی تک پہنچے اور راستے بھر نعرے لگاتے رہے کہ آج ڈاکٹروں کا آپریشن کریں گے، ان کے اسٹنٹ ڈالا جائے گا۔ اس کے باوجود پنجاب کے شیرشاہ سوری کی پولیس نے انہیں کہیں بھی نہیں روکا۔ عثمان بزدار وزیر داخلہ بھی ہیں اور پوری پولیس ان کے ماتحت ہے۔ جب تادیر حملے جاری رہے تب پولیس حرکت میں آئی اور آبی توپ استعمال کی گئی۔ ڈاکٹروں نے دل کے مریضوں کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے مناظر محفوظ ہو گئے ہیں۔ جن مریضوں کے ماسک لگا ہوا تھا اور انہیں آکسیجن فراہم کی جا رہی تھی ان شقی القلب حملہ آوروں نے ان کے ماسک بھی اتار پھینکے۔ مریض اپنی جان بچاتے پھرے اور 6 افراد کی موت واقع ہو گئی۔ اس موقع پر تو قانون نے اپنا راستہ نہیں بنایا اور اب دیکھتے ہیں کہ کتنے کالے کوٹ والوں کو سزا ہو گی۔ انہوں نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے، ایسے لوگوں کے لائسنس تو منسوخ کیے جائیں۔ ڈاکٹروں پر ایک الزام ہے کہ انہوں نے ایک ایسی وڈیو جاری کی جس میں وکلا کا مذاق اڑایا گیا۔ اس پر ڈاکٹروں نے معذرت بھی کر لی تھی اور صلاح، صفائی ہو گئی تھی لیکن اس وڈیو میں ایسا کچھ نہیں جس کو جواز بنا کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کاڈیالوجی پر حملہ کیا جاتا اور قیمتی مشینیں بھی برباد کر دی جاتیں۔ پنجاب کے بڑ بولے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ہیرو بننے کیلئے بیچ میں کود پڑے جن کی پٹائی ہوئی اور بقول ان کے انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ حسب توقع انہوں نے وکلاء کی غنڈہ گردی کا الزام بھی مسلم لیگ (ن) لیگ پر لگا دیا۔ ان سے یہی امید تھی کہ گزشتہ 16 ماہ سے پاکستان تحریک انصاف ہر الزام اپوزیشن پر لگاتی آرہی ہے۔ حملہ آوروں میں وزیراعظم عمران خان کا بھانجا حسان نیازی بھی شامل تھا۔اب انتظار اس بات کا ہے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف عدلیہ اور حکومت کیا کارروائی کرتی ہے۔ کیایہ وحشی معاشرے میں کھلے پھریں گے؟چیف جسٹس صاحب دوسروں کے خلاف سوموٹو لینے سے پہلے اپنے گھر میں جھانکنے کی ضرورت ہے اگر تیزی سے بڑھتی ہوئی وکلاء گردی کو لگام نہ ڈالی گئی توسارے ملک میں لاقانونیت کا راج ہوگا اور وکلاء گردی سے تنگ عوام کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔جب کسی حقدار کا حق چھین لیا جائے گا یا بے گناہ پر ظلم کیا جائے گا تو اس کے پاس مرنے یا مارنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •