Voice of Asia News

رضیہ سلطانہ :سیف اعوان

اس کے گیارہ بھائی تھے ۔اس کا والد سمجھتا تھا کہ اس کی اکلوتی بیٹی اپنے بھائیوں سے زیادہ ذہین اور عقل مند ہے۔اس کیخلاف تین بڑی بغاوتیں ہوئی اس کو عورت سمجھنے والے بار بار اس سے پٹتے رہے۔یہ تھی دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی دنیا کی واحد خاتون مسلمان حکمران رضیہ سلطانہ۔رضیہ سلطانہ وہ خاتون تھیں جس نے بڑے بڑے امراء اور طاقتوں لوگوں کو معافی مانگنے پر مجبور کردیا۔یہ 1210کی بات ہے جب ہندوستان کا پہلا سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں پولیو میچ کھلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گیا۔قطب الدین ایبک کی موت کے بعداس کے داماد شمس الدین التشمش نے قطب الدین کے بیٹے آرام شاہ سے دہلی کا تخت چھین لیا۔قطب الدین ایبک خود بھی افغان حکمران سلطان محمد غوری کا غلام تھا التشمش بھی غلام رہ چکا تھا۔اس لیے دہلی کا یہ شاہی خاندان خاندان غلاماں سے مشہور ہوا۔سلطان التشمش نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے ایک سے بڑ کر ایک قابل اساتذہ کی خدمات حاصل کی۔لیکن تعلیم و تربیت کے معاملے میں اس کی بیٹی اپنے بھائیوں پر بازی لے گئی۔اس نے تلوار بازی ،نیزہ بازی اور گھوڑ سواری میں مردوں سے زیادہ تربیت حاصل کرلی۔التشمش اس سے ہر موقعہ پر مشہورے لیتا تھا وہ جب دہلی سے باہر جاتا تو رضیہ سلطانہ ہی اس کے بعد دربار چلاتی۔سلطاان التشمش کو اپنی بیٹی پر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے بیٹی کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔اس کے درباریوں نے سخت احتجاج کیا کہ سلطان اپنے گیارہ بیٹوں کی موجودگی میں ایک بیٹی کو ترجیحی دے رہا ہے۔سلطان ان درباریوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا کیونکہ یہ ’’ترکان چہل گانی‘‘یا ’’چالیس کا گروہ ‘‘ کہلاتا تھا اور بہت پاور فل درباری تھے۔سلطان نے ان چالیس لوگوں کو بھی خاص تربیت دلوائی تھی کہ اگر سلطان کی موت ہوجائے تو ان میں سے کوئی جانشین بن جائے۔اس لیے سلطاان ان کی دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا۔جبکہ سلطان کی فیملی میں بھی رضیہ سلطانہ کو جانشین بنانے پر لڑائی چل رہی تھی ۔ان سب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سلطان نے فی الحال رضیہ سلطانہ کو اپنا جانشین بنانے کا ارادہ ترک کردیا۔1236کو سلطان التشمش کا انتقال ہوا تو سلطان رکن الدین نے دہلی کا تخت سنبھال لیا۔رکن الدین صرف نام کا سلطان تھا جبکہ نظام کوئی اور چلارہا تھا۔چند عرصے بعد ہی رکن الدین کیخلاف بغاوت ہو گئی اس کا وزیر اعظم بھی اس کیخلاف ہو گیا۔رکن الدین باغیوں کو کچلنے کیلئے نکلا تو اس کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑگیا۔جن درباریوں نے پہلے رضیہ سلطانہ کے جانشین بننے کی مخالفت کی وہ اب شرمندہ ہو رہے تھے۔رکن الدین کے جانے کے چند دنوں پر رضیہ سلطانہ کو تخت پر بٹھادیا گیا۔یوں 10اکتوبر 1236کو ہندوستان کی پہلی خاتون سلطان کی تاج پوشی ہوئی۔پھر اس کے نام کے سکے جاری ہوئے اور دیگر سلطنتوں نے بھی اس کی حکمرانی کو تسلیم کرلیا۔رضیہ سلطانہ جانتی تھی کہ ترک صرف مردوں کو ہی بطور حکمران پسند کرتے ہیں اس لیے رضیہ سلطانہ نے مردوں جیسا لباس اور چال ڈھال اپنا لیا۔وہ اپنی فوجوں کی کمان خود کرتی تھی۔رضیہ سلطانہ نے حقیقی معنوں میں اسلامی قوانین لاگو کیے اور جلد ہی اس نے ثابت کردیا کہ سلطان التشمش کا اس کو جانشین بنانے کا فیصلہ درست تھا۔ابھی تک جو درباری رضیہ سلطانہ کی حکمرانی کیخلاف تھے انہوں نے بغاوت کردی۔نظام الدین محمد جنیدی سابق وزیراعظم ان باغیوں کا لیڈر تھا ۔رضیہ سلطانہ ایک سمجھدار اور ذہین سیاستدان کے ساتھ کامیاب اور تربیت یافتہ فوجی بھی تھی۔اس نے اس کامیابی سے بغاوت کو کچل دیا کہ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی بچ گئی۔رضیہ سلطانہ نے سازشیوں کا اتحاد توڑ دیا جس کے بعد وہ اپنی فوجیں لے کر الگ ہو گئے۔پھر رضیہ سلطانہ نے ایک ایک کرکے سب باغیوں کو شکست دے دی۔بغاوت کچلے جانے کے بعد سلطنت سمیت قریبی سلطنتوں میں بھی رضیہ سلطانہ کی دھاگ بیٹھ گئی۔اب رضیہ سلطانہ نے دربار میں اپنے قابل بھروسہ لوگ تعینات کرکے اپنی پوزیشن اور بھی مضبوط کرلی۔رضیہ سلطانہ نے معزالدین کو اپنا وزیر اعظم بنایا اور ملک سیف الدین کو فوج کا سربراہ بنادیا۔بغاوت کچلے جانے کے بعد اعزالدین کبیر خانی سمیت کئی باغی نے اپنے معافی نامے رضیہ سلطانہ کو بھیجنا شروع کردیے۔رضیہ سلطانہ نے ان سب کو معاف کردیا۔
آج ایک ایسی ہی رضیہ سلطانہ دوبارہ جانشین بننے کی کوششوں میں ہے لیکن اس کے باپ کے چند ایک درباری پہلے مسلسل اس کی مخالفت کررہے تھے ان درباریوں میں ایک اس کے والد کا سابق وزیر داخلہ تھا جو کہتا تھا کہ بچے کبھی لیڈر نہیں بن سکتے پھر ایک درباری اس کے چاچا وزیر رہ چکا تھا جو کہتا تھا میں بوٹ پالش نہیں کرسکتا۔ان دونوں درباریوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ دونوں آج اسمبلیوں سے باہر ہیں ۔ایک سابق درباری وزیر داخلہ کہتا تھا کہ ’’مجھے پارلیمنٹ پہنچنے کیلئے کسی بلی یا بلے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔میرا خیال ہے اب اس درباری کو بلی اور بلے کی اہمیت پتہ چل گئی ہو گی۔اس رضیہ سلطانہ کے والد کو عدالت عالیہ کے پانچ ججوں نے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹادیا۔سٹوری میں اس نئے سین کے بعد رضیہ سلطانہ کے والد کے بہت سے درباری ساتھ چھوڑ گئے اور منظر عام سے غائب بھی ہو گئے۔لیکن رضیہ سلطانہ نے اپنے والد کا ساتھ نہ چھوڑا۔ہر فورم اور ہر جگہ اپنے والد کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔اسی دوران رضیہ سلطانہ کی والدہ کو گلے کا کینسر ہو گیا اور ان کو علاج کیلئے دوسری سلطنت میں بڑے طبیبوں کے پاس علاج کیلئے بھیج دیا گیا ۔رضیہ سلطانہ اور اس کا والد زندگی اور موت کی کشمش میں مبتلا اپنی بیوی کے پاس موجود تھے کہ رضیہ سلطانہ اور ان کے والد کو ایک اور کیس میں سزا سنادی گئی ۔رضیہ سلطانہ اپنی والدہ کو اﷲ تعالی کے سپرد چھوڑ کر اپنے والد کے ہمراہ واپس اپنی سلطنت میں پہنچ گئی اور دونوں باپ بیٹی جیل میں چلے گئے اسی عرصے کے دوران ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔پھر اس کے بعد دونوں باپ بیٹی کو رہا بھی کردیا ۔پھر اچانک ان کے والد کو ایک اور کیس میں گرفتار کرلیا جاتا ان کے بعد رضیہ سلطانہ کا اپنا نمبر بھی آجاتا وہ بھی گرفتار ہو جاتی ہیں لیکن رضیہ سلطانہ کے بیانیے میں کوئی فرق نہیں آتا ۔دونوں باپ بیٹی مسلسل عدالت میں پیش ہو رہے تھے اسی دوران رضیہ سلطانہ کے والد کی طبیت سخت ناساز ہو جاتی ہے اور ان کو بھی دوسری سلطنت میں علاج کیلئے بھیج دیا جاتا ان کے والد کے جانے کے بعد ان کو بھی رہائی مل جاتی ہے لیکن رہائی کے بعد رضیہ سلطانہ کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور وہ مکمل خاموش ہوجاتی ہیں ۔اب رضیہ سلطانہ بھی اپنے والد کے پاس جانا چاہتی ہے اس کیلئے رضیہ سلطانہ نے عدالت سے رجوع کیا کہ مجھے بھی اپنے والد کی تیمار داری کیلئے جانے کی اجازت دی جائے ۔اب بات یہ ہے کہ اگر رضیہ سلطانہ کا والد اور وہ خود دوسری سلطنت میں چلی جاتی ہیں تو ان کی جانشینی ، سلطنت میں دوبارہ واپسی اور دربار تک رسائی کیسے ممکن ہو گی ۔یا رضیہ سلطانہ اس بار کوئی مصلحت کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •