Voice of Asia News

شاعری ہمیشہ غم کے وجود سے ہی نمو پاتی ہے عہد حاضر کی اُبھرتی ہوئی شاعرہ سفینہ سلیم کا ’’وائس آف ایشیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو:محمد قیصر چوہان

سچی شاعری، سچے موتیوں کی طرح انمول ہوتی ہے اور سچا شاعر کمال ہنر مندی سے خیالوں کے کینوس پر بکھرے قوسِ قزح کے رنگوں کو خوبصورت الفاظ کا لبادہ پہنا کر صفحہ قرطاس کی زینت بنا دیتا ہے۔ سفینہ سلیم ایسی ہی باکمال شاعرہ ہیں جن کے من مندر میں آمد کی شاعری خوبصورت شعروں کے کبوتروں کے غول کی طرح اپنے سفید پروں کو پھیلا پھیلا کے اپنی آمد کا اظہار کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں چاند کی ٹھنڈی کرنوں کی چمک، پہاڑی آب شاروں کی سی روانی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ سفینہ سلیم بنیادی طور پر سہل ممتنع کی شاعرہ ہیں عام فہم،سادہ، سلیس،رواں اور آسان لفظوں، ترکیبوں، استعاروں اور کنایوں سے کام لیتے ہوئے شعر تخلیق کرتی ہیں۔ وہ خود بھی خلوص، وفا، وضع داری، رواداری، اچھی اقدار کی پاسداری، دُکھ اور درد کی آبیاری اور محبت کی سرشاری کی قائل ہیں۔ ان کی شخصیت ان کے کلام کی آئینہ دار ہیں۔ یہ سفینہ سلیم کے سماجی شعور کا ہی کرشمہ ہے کہ وہ انسان پرستی سے محبوب پرستی تک پہنچتی ہیں انہی وجوہ سے ان کی شاعری میں جہاں سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی اقدار کی لہریں ہیں وہاں اہل وطن سے محبت، محبوب سے شفتگی اور ہجر کا کرب بھی چراغ کی طرح لَو دے رہا ہے۔
شاعری سماجی اور ذاتی زندگی کے عملی رویوں کا آئینہ ہوتی ہے چنانچہ انسانی فطرت اور جبلت جس سستی اورجذباتی عمل اور ردعمل سے عبارت ہوتی ہے ان کا اظہار بھی شاعری کا لازمی موضوع ہے اور اظہار کی یہ جہت صرف شعرو ادب ہی کی جاگیر ہوتی ہے۔ جب ہم سفینہ سلیم کی شاعری کی سلطنت میں اتریں تو سب سے پہلے دُکھ ،اداسی ، تنہائی،فکر،انسانی ہمدردی ،ؤطن پرستی ،خامشی کے اندر بسی سادگی ،بیٹی کے دکھ سکھ شرارتیں ،باپ سے دلی لگاؤ ماں سے رؤحانی ؤابستگی کے محلات دکھائی دیتے ہیں۔ ذرا اور آگے بڑھیں تو تاحد نگاہ اس دکھ ، اداسی اور تنہائی کا غلبہ نظر آتا ہے۔ کچھ دیر اس سلطنت میں بسر کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کہیں کہیں مسرت کی ٹمٹماہٹ بھی ہے اور اُمید کی جگمگاہٹ بھی۔ لیکن دُکھ، اداسی اور تنہائی کے آگے یہ جگمگاہٹ اور ٹمٹماہٹ زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔سفینہ سلیم کا دردِ دل بیٹی اؤر اس کے چھؤٹے چھؤٹے خؤاب کی صؤرت حد سے بڑھ چکا ہے اس لیے یہی درد اس کیلئے دوا ہو گیا ہے۔ دُکھ، اداسی اور تنہائی جو کہ انسان کیلئے تکلیف دہ عوامل ہیں۔ انہی سے سفینہ سلیم اپنی شاعری میں لذت کشید کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اور ان کی شاعری کے قارئین کو یہ تکلیف دہ کیفیات بھی پرلطف نظر آنے لگتے ہیں۔ سفینہ سلیم کی شاعری میں سچائی کا جگمگاتا عکس جھلکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے شاعرانہ اسلوب میں بناوٹ اور فنی باریکیاں نہیں ہیں۔ سادگی ہے اور اپنے احساسات و جذبات کا بیان ہے اور یہی چیز ان کی شاعری کو دیگر نوجوان شعراء سے منفرد بھی بناتی ہے اور پراثر دل کشی بھی عطاء کرتی ہے۔ شاعر کو معاشرے کے ساتھ جڑا ہوا بھی ہونا چاہیے اور اس سے الگ تھلگ بھی نظر آنا چاہیے۔ ہجوم میں رہنا اور واضح طور پر الگ نظر آنا ایک ایسی خوبی ہے جوسفینہ سلیم کے کلام میں نمایاں ہے۔ زندگی کی ازلی سفاکی اور کربناکی ہو یا پسے ہوئے محروم و مظلوم طبقے کی آہیں، ماں کی بے بسی اور بے کسی ہو۔ سفینہ سلیم کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور اس کا انسانی محبت سے لبریز دل تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ صدیوں سے استحصال، مجموعی تلخی، عدم توازن، اور معاشی ناہمواریوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے بے بس انسانوں کو دیکھ کر بے چین ہو جاتی ہیں۔ عہد حاضر کی اُبھرتی ہوئی شاعرہ سفینہ سلیم ے گزشتہ دنوں ایڈیٹر ’’وائس آف ایشیا‘‘ نے ایک نشست کا اہتمام کیا اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال : آپ شاعری لکھنے کی طرف کیسے راغب ہوئیں اور آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے؟
سفینہ سلیم: میری زندگی کا سب سے بڑا یقین فنا ہونا ہے
جس دن مجھ پر یہ راز کھلا تو میرے باقی یقین متزلزل ہو گئے میں اس عارضی زندگی میں ہمیشگی کی تلاش ، رشتؤں میں عدم اعتماد اؤر معاشرتی اؤنچ نیچ کؤ محسؤس کرتے کرتے ہی اپنے اندر مؤجود شاعرہ کؤ پہچان پائی۔ احساس فنا کے خوف سے جوں جوں میں لکھتی رہی ہوں موت کا ڈر اترتا جا رہاہے۔ زندگی گزارنے کے دوران آنکھ کے پردہ پر اترنے والے مناظر نے کبھی اشکوں کی صورت اختیار کی اور کبھی کسی نے دکھ، درد، تنہائی اور اداسی کے لمحوں کو جنم دیا۔ کہیں پر یہ منظر کسی تمنا کی صورت میں دل سے باہر ٹپکا تو کسی نظم یا غزل کے پیرایہ میں تبدیل ہو گیا۔ شاعری میرے لیے بڑی اہم ہے کیونکہ اس نے میری ذات کی باطنی ٹوٹ پھوٹ کو کافی حد تک روکا ہوا ہے۔ اس نے زندگی میں مجھے مکمل طور پر بکھرنے سے بچایا ہوا ہے۔ میں جب بھی کسی دکھ کے زیر اثر ریزہ ریزہ ہوئی ہوں اِن غزلوں اورنظموں نے اپنی فگار اُنگلیوں کے ساتھ مجھے ریزہ ریزہ چنا ہے شاید کسی آنے والے دکھ کا ہدف بنانے کیلئے اسی لیے میرے نزدیک یہ شاعری اس بکھرے ہوئے عہد کی نمائندگی کی اہل ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ شاعری اپنے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کا خوبصورت اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ میں زندگی میں اپنی ذات کی نفی کے عمل سے اثبات کی تلاش میں مصروف ہوں، ذات کی نفی کے اس عمل سے کوئی زرخیز لمحہ مجھے ضرور مل جاتا ہے۔ یہ تخلیقی لمحہ میری رائیگانی کو تھوڑی دیر کیلئے آنکھ سے اوجھل کر دیتا ہے تو میں اسی پر اکتفا کر لیتی ہوں۔ اپنی ذات کی نفی اور انحراف کا یہ عمل چونکہ کسی صوفیانہ تجربے کا حاصل نہیں ہے۔ اس لیے تخلیق کے عمل میں مشغول ہونے کے باوجود میں اسباب دنیا سے بے نیاز نہیں ہو سکی کیونکہ میں ایک دنیا دار ہوں، صوفی نہیں ہوں۔ شاعری میں نے اپنے خونِ جگر سے کشید کی ہے۔ یہ شاعری میرا جیؤن ہے ایک ایسا جیون جو میں نے نہیں گزارا، مگر اِس جیون کے لمس تک رسائی کی شدید خواہش نے ہی غزلوں اور نظموں کی صورت اختیار کر لی ہے۔
سوال :آپ کی شاعری کا بنیادی محرک کیا ہے؟
سفینہ سلیم : میری شاعری میں آپ کو زیادہ تر اُداسی،خامشی،انسان دؤستی،معاشرتی رکھ رکھاؤ اور ہجر کے رنگ ہی نظر آئیں گے کہ میرا زندگی میں زیادہ تر اِن ہی رنگوں سے پالا پڑا ہے۔ ان میں کہیں کہیں موجود وصل اور سرشاری کے رنگ ایک ایسے دور، ایک ایسے لمحے کی یادگار ہیں جو کسی سہانے خواب کی طرح ایک پل کیلئے احساس کے کینوس پر روشن ہوا اور پھر یکایک کسی تاریک گلی میں کہیں گم ہو گیا۔ میری شاعری کے بنیادی محرکات میں، اداسی، دکھ، درد، غم، احساس تنہائی اور ہجر ہیں اِردگرد اتنے دُکھ بکھرے ہوئے ہیں کہ خوشی عجیب سی لگتی ہے۔ اگر مجھے فنا ہونے کا خوف نہ ہوتا، اور ہمیشگی کی تلاش نہ ہوتی اور اگر مجھ پر غم اور اداسی اتنی شدت سے طاری نہیں ہوتی تو شاید میں شعر نہیں کہہ پاتی۔ انسان کا المیہ احساس تنہائی اور عدم تحفظ بھی میری شاعری کے محرکات میں شامل ہیں۔ میں نے جب شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو میں نے باقاعدگی سے شعر کہنا اور لکھنا شروع کر دیئے تھے۔
سوال : ابتدائی دنوں میں آپ نے کس سے راہنمائی حاصل کی؟
سفینہ سلیم: میری شعری تربیت فطری انداز میں ہوئی ہے اپنے بابا کؤ شاعری پڑھتے دیکھتی تھی اؤر اپنے ناناکؤ ہمیشہ
اسلامی کتب سے جڑا دیکھابس اسلامی کتابیں پڑھتے بابا کے سرحانے پڑی نسخہ ہائے ؤفا بھی پڑھ ڈالی ۔ میں باقاعدہ کسی کی شاگرد نہیں ہوں۔ مگر دیال سنگھ کالج شعبہ انگریزی کے صدر الطاف حسین چاہت مرحوم سے اصلاح لیتی تھی اصلاح کا یہ عمل گؤجرانؤالہ سے شرؤع ہؤاتھا جب الطاف حسین چاہت مرحوم گورنمنٹ کالج فار بوائز وحدت روڈگوجرنوالہ بطور استاد اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے بعد ابھی اپنی استاد خود ہی ہؤں ہاں کبھی کبھی شہزاد نیر سے کچھ ڈسکس کرلیتی ہوں۔ میری شعری تربیت فنا ہونے کے یقین نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں نے اپنے بابا اور امی کی جدائی سے دُکھ کو سمجھا اور دُکھ ہی میرے فن کی میراث ہے میں سمجھتی ہوں کہ شاعری ہمیشہ غم کے وجود سے ہی نمو پاتی ہے۔
سوال : جب آپ نے شاعری شروع کی تو غزل سے آغاز کیا تھا یا پھر نظم سے؟
سفینہ سلیم: میں نے اپنے لکھنے کا سفر نظم سے شروع کیا تھا۔ پہلی نظم جس کا عنؤان ـماں تھاپھر غزل نعت اؤر سلام لکھ کر بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ میں نے معاشرے میں خواتین پر ہونے والے مظالم پر بھی لکھا۔
سوال : کیا آپ نے کبھی سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے بیعت بازی کے مقابلوں میں حصہ لیا؟
سفینہ سلیم: جی بالکل۔ ہمارے کالج میں ہر سال شاعری کے مقابلہ جات منعقد ہوتا تھے ابھی بھی ہؤتے ہیں۔ ان مقابلؤں میں شرکت کی بیت بازی کے مقابلے جیتے طرحی مصروں پہ غزلیں لکھیں اور کالج کی بہترین شاعرہ کا ایوارڈبھی حاصل کیا۔
سوال :آپ کے شعری اور تخلیقی تجربوں میں کن چیزوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے؟
سفینہ سلیم: میرے شعری تجربوں میں بنیادی اہمیت غم اور اداسی کو حاصل ہے۔ گُل گلزار،چڑیا،رنگ ،دھنک بادل جھرنے ،غم، دُکھ، درد، تنہائی اور اداسی یہ وہ عناصر ہیں جومیری شاعری کی اساس ہیں میری شاعری میں آپ کو اداسی کی ایک خاص فضا ملے گی جو دوسرو ں سے بہت مختلف ہو گی۔ میری اداسی میرے ماحول سے تعلق رکھتی ہے یہ وہ نفسیاتی فضاء ہے جو ہر انسان میں موجود ہوتی ہے۔ ہر محسوس کرنے والے کے اندر یہ فضاء ملے گی۔ قاری لکھنے والا نہیں بلکہ محسوس کرنے والا تو ہے۔ میری شاعری میرے احساس اور جذبے کی تابع ہے اس لیے اس
نے مختلف انداز میں قاری پر اثر کیا ہے اور قاری کے دل کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔
سوال : اپنے قاری کیلئے کیا کہیں گی ؟
سفینہ سلیم:جو ادب کا قاری ہے وہی میری شاعری کا قار ی ہے میرا قاری وہ ہے بس یہی کہہ سکتی ۔جو شعر کو اپنی روح میں بیٹھ کر پڑھتا ہے۔ میں درد مشترک کی شاعرہ ہوں یہی میری شاعری کی بنیاد ہے۔ مجھے نہ ستائش کی تمنا ہے اور نہ صلے کی پروا ہے۔
سوال : آپ کی گفتگو سے لگتاہے کہ آپ جدید فلسفوں سے متاثر ہیں جو انسان کو کائنات میں تنہا ظاہرکرتے ہیں؟
سفینہ سلیم:میں جدید فلسفوں کو پڑھ کر ان سے شعوری طور پر متاثر نہیں ہوئی ہوں۔ بلکہ میرے باطن میں جو سوالات اُبھرتے
ہیں وہ شاعری کا پیکر اختیار کر لیتے ہیں میرے خیال میں یہ شخصیت کا خلاء ہی ہوتا ہے جو انسان کو کسی نہ کسی نوعیت کی تخلیق پر اکساتا ہے۔ زندگی، خدا، انسان اور وقت کے حوالے سے میرے اپنے نظریات ہیں جو کہ میں نے اپنی زندگی کے تجربات، وجدان اور واردات قلبی سے اخذ کئے ہیں۔ جذبات و احساسات کا شاعرانہ اظہار میرا نظریہ شعر ہے۔ میں شاعری کو باطن کے پاتال میں قید کرنے کی قائل نہیں ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ کرب ذات کے اظہار کے ساتھ ساتھ خارجی زندگی، سماجی اور انسانیت سے مکالمہ بھی آپ کے فن کا حصہ ہونا چاہیے۔ میں کنویں میں بیٹھ کر شاعری کرنے کی بالکل بھی قائل نہیں ہوں۔ ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب دونوں رویے اپنی جگہ پر درست ہیں۔
سوال : پاکستان کے مختلف خطوں میں غزل لکھی جا رہی ہے ہر
جگہ کا اپنا ذائقہ اور علاقائی رس اس میں شامل ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
سفینہ سلیم: میں اس جحان کو ایک فطری اور قدرتی رجحان سمجھتی ہوں اور اسے زبان کے حق میں بہت خوش آئند تصور کرتی ہوں۔ زبان دریا کی طرح ہے اور دریا رکاوٹیں قبول نہیں کرتا۔
سوال : معاشرتی ترقی میں شاعری کا کیا کردار ہے؟
سفینہ سلیم: اچھی شاعری اور اچھے ادب کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ انسان کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔
سوال : مادی طور پر ادب کی ضرورت کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
سفینہ سلیم: انسان کی ذہنی، جذباتی اور رومانوی نشوونما میں ادب کا کلیدی رول ہوتاہے۔ لہٰذا مادہ پرستی کے اس دور میں ادب کی ضرورت گزشتہ زمانوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ عہد حاضر میں انسانی رویوں میں تبدیلی کے باعث ادب اپنے سانس اکھڑنے کے باوجود زندہ ہے ۔
سوال :ادب اور سیاست کا آپ کے نزدیک کیا رشتہ ہے؟
سفینہ سلیم: وہی جو شعور کا سیاست سے ہے۔ میرے نزدیک ادب کی بہت ساری تعریفیں ہیں جن میں سے ایک تعریف یہ بھی ہے کہ انفرادی و اجتماعی شعور سے تربیت پانے والی کیفیات کی تصویر کشی ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں ادب اور ادیب کا کردار بہت نمایاں نظر آئے گا۔ ادب کا بنیادی موضوع انسان ہے اور انسان کا جس چیز سے باواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہو گا ادب کا اس سے اتنا ہی لگاؤ ہو گا۔ بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گی کہ ادب کے بغیر سیاسی شعور ادھورا اور ناپختہ رہتا ہے۔ میں ادب کو اعلیٰ ادب اور اس ادیب کو بڑا ادیب نہیں مانتی جو اپنے عہد کی سیاسی صورتحال سے منسلک نہ ہو۔
سوال :پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آپ کے نزدیک ادب اور ادیب کا کیا کردار رہا ہے؟
سفینہ سلیم: پاکستانی معاشرے کی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ اسے کسی بھی شعبے میں غیر جانبدار اور منصف مزاج لوگ بہت ہی کم نصیب ہوئے ہیں یہی حال ہمارے سیاسی یا مزاحمتی ادب کا بھی رہا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی سے منسلک ادیب دوسری پارٹی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں۔
سوال :آپ کے نزدیک شاعری اور زندگی کو نظریے کی پابندہونا چاہیے یا نہیں؟
سفینہ سلیم: ہر انسان کا خاص طور پر ادیب، شاعر، مصور اور فلسفی کا فکرو فن اور حیات و کائنات کے بارے میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہوتا ہے زندگی اگر بے اصولی کی سولی پر چڑھ گئی تو پھر بات ہی ختم ہو جاتی ہے کہ اس کے بعد گہرا سناٹااور ہولناک ویرانی ہے۔ ساری گہماگہمی، جوش و خروش، جہد و طلب اور خوابوں کی مالا پرونے کی للک اور اُمنگ زندگی ہی سے ہے۔ شاعری کوئی سطحی عمل نہیں ہے بلکہ شعوری عمل ہے اور شعور دلالت کرتا ہے اصول و ضوابط پر، اصول اور نظریہ انسان کو بے راہ روی کی دلدل میں نہیں گراتا بلکہ شعور کے عمل کو انہاک کی دولت عطاء کرتا ہے آگے بڑھنے، زندہ رہنے اور دوسروں کو زندہ رہنے پر مائل کرتا ہے جو لوگ نظریے سے محروم ہوتے ہیں، جو لوگ کتابوں کے مطالعے اور انسانوں کے دکھ درد کے احساس کے بغیر انسان بے سمتی کی پاتال میں گر کر عجب سمت کا مسافر ہوجاتا ہے۔
سوال :کن شعراء نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے؟
سفینہ سلیم: مجھے سب سے زیادہ متاثر مرزا غالب، میر تقی میر، فیض احمد فیض، احمد فراز اور پروین شاکر نے کیا ہے۔ میں ان شعراء کو اپنے مزاج سے قریب تر محسوس کرتی ہوں۔ جن کے ہاں شاعری غالب ہے۔ جدید شاعری میں آجکل ایک نام شہزاد نیر کا ہے ان کے اچھی ادبی تخلیق جاری ہے۔ بعض غیرمعروف شعراء کے ہاں بھی اچھے شعر نکل آتے ہیں بڑی شاعری کسی کی میراث نہیں ہے۔ ایک غیرمعروف شاعر بھی ادب کو بڑا شعر دے سکتاہے۔ اچھا شعر وہ ہے جو دل پر اثر کرے۔ اورلفظؤں کی مکمل تصویربنائے میں ہر اچھے شعر اور اچھے شاعرکی دل سے قدر سے کرتی ہوں۔
سوال : شاعری پر تنقید کے حوالے سے نقاد کی تنقید کو آپ کیسا محسوس کرتی ہیں اور یہ کہاں تک ضروری ہے؟
سفینہ سلیم: تنقید برائے اصلاح کی آج کے دور میں اشد ضرور ت ہے۔ میرے خیال میں تنقید ایسی جانچ اور تبصرے کو کہتے ہیں، جو کھرے کھوٹے میں تمیز کرے، جو تخلیقی کارناموں کو، اس کے معیار کو، پرکھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے بتائے۔ تنقید کا بنیادی مقصد و منصب تخلیقی قوتوں کو زندہ اور متحرک رکھنا ہے۔ تنقید کا کام ہے پوری کارکردگی کی چھان پھٹک کر جائزہ لینا۔ تنقید ذہن کی تنظیم کر کے سنجیدہ تخلیقات کی معاون ہوتی ہے۔ تنقید تاریخ زمانے کا تسلسل اور تخلیقی قدریں متعین کرتی ہیں اور زندگی کو پیمانہِ صداقت عطا کرتی ہے، تنقید شعور پیدا کرتی ہے، تنقید مدفت کو پرکھنے کی میزان ہے، تنقید تخلیقات کو صحیح سمت لے جانے میں معاون و مددگار ہوتی ہے، تنقید خامیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی کرتی ہے اور صحت مند تخلیق پیش کرنے کا اشارہ دیتی ہے اور حوصلہ بخشتی ہے۔ تخلیق کا تنقید سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تخلیقات براہِ راست زندگی کے شعور کو بیدار کرتی ہیں، تنقید تخلیقات کی ترجمانی کرتی ہے اور تجزیے کا کام انجام دیتی ہے، تنقید حالات و واقعات کی سچائی اور خیالات کی گہرای کو میزان صداقت پر پرکھنے کا نام ہے۔ تنقید کے بغیر اچھی تخلیق کا پیدا ہونا امرِ محال ہے۔ تنقید ایک صحت مند رویے کا نام ہے۔ نقاد کا فرض ہے کہ تنقید سے پہلے وہ دیانت داری سے ہر تخلیق کا جائزہ لے، پھر تنقید کرے، تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے تنقید کے غلط رویے سے اجتناب کرنا چاہیے تنقید نگاری آسان کام نہیں ہے، بلکہ ہر فن سے زیادہ مشکل اور محنت طلب ہے، تنقید نگاری کے لیے تصدیق اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنقیدی نگاری میں توازن کا ہونا ضروری ہے۔ صرف کمزوریاں بیان کر کے، تخلیق کار کی حوصلہ شکنی تنقید نہیں ہوتی۔ اچھی تنقید سچائی اور انصاف پر مبنی ہونی چاہیے۔ اچھی تنقید صحت مند ادب کی تخلیق میں معاون ہوتی ہے۔
سوال : نوجوان نسل کی ادب سے دوری کی بنیادی وجہ آپ کے خیال میں کیاہے؟
سفینہ سلیم: یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کی زبوں حالی نے ادب اور قاری کے رشتے کو قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ غیر تسلی بخش معیارِ تعلیم کا چاہے کوئی بھی ذمے دار ہو، لیکن یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم کے ذریعے مہنگے داموں جس معیار کی ڈگریاں عطا کی گئیں، اُسی معیار کے اساتذہ تعلیمی اداروں میں پہنچے، ان
اساتذہ کی ذہنی نشوونما، تربیت اور مطالعہ جس معیار کا ہے، اُس کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ان کی ذہنی فکر میں وہ بلندی نہیں ہے۔ اُن کے مطالعے میں وہ گہرائی نہیں ہے اور ان میں فہم و فراست کی وہ وسعت نہیں ہے، جو ایک اُستاد کی میراث سمجھی جاتی ہے اور جو دورانِ تعلیم اُستاد سے شاگرد کو منتقل ہوتی ہے۔ پچھلے پچاس برسوں میں ہونے والے تعلیمی انحطاط کا منظر آپ کے سامنے ہے۔ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ آج سے چالیس سال قبل تک ہمارے اُستاد(اگر ادیب نہ بھی ہوں تو بھی)ادب پر اتنی گہری نظر رکھتے تھے کہ وہ اپنے طلبا کو نصاب سے ہٹ کر شعر و ادب کے مسائل سمجھایاکرتے تھے۔ اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق اور تحریک پیدا کرتے تھے، بلکہ خود طلبا کو پڑھنے کیلئے کتابیں دیتے تھے۔ استاد کا کردار ایک کسوٹی کابھی ہوتا تھا جو جوہرِ قابل کو پہنچانتا، سنوارتا اور
نکھارتا تھا۔ یہیں سے ادیب اور شاعر ابھر کر سامنے آتے تھے۔ ظاہر ہے، ادب لکھنے والے کہاں سے آئیں گے؟ قاری کہاں سے پیدا ہوگا؟ کتاب کا قاری سے رشتہ کیسے جڑے گا؟ سچا اور اچھا ادب کیسے لکھا جائے گا اور کس کے لیے لکھا جائے گا؟دوسری طرف آج کا لکھنے والا گروہ بندیوں میں مصروف ہے۔ اس کے پاس حقیقی مسائل کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے، ان سے آنکھیں ملانے اور ان کے او پر لکھنے کی فرصت نہیں ہے۔
سوال : حکومت نے ادب اور ادیبوں کے فروغ کیلئے جو اقدامات کئے اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
سفینہ سلیم: شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ شاعر اور ادیب معاشرے میں نئی سوچ بیدار کرتا ہے اور ترقی سوچ کے بغیر نہیں ہوتی۔ یورپ اور دیگر ممالک میں شاعر اور ادیب کو بڑی عزت و احترام ملتا ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں پر شاعروں اور ادیبوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی حکومت نے ادیبوں اور شاعروں کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ خونِ جگر سے ادب اور شاعری کشید کرنے والوں کی راہ میں اور ادب کی ترقی اور فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب تک ادیب خوشحال نہیں ہوگا پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔
سوال : آپ کے خیال میں ادب کو فروغ دینے سے معاشرے کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
سفینہ چوہدری:میں سمجھتی ہوں کہ ادب کو فروغ دے کر
معاشرے سے انتہا پسندی کی سوچ کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ادب پیار، محبت اورامن کا درس دیتا ہے۔ مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے۔ دوسروں کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے۔ ادب زندگی دیتا ہے۔ ادب زندگی گزارنے کا ڈھنگ دیتا ہے۔ ادب زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ لہٰذا اگر ادب کو فروغ دیا جائے تو معاشرے سے انتہاپسندی کی سوچ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
سوال : ادب میں خواتین کا جو کردار ہے آپ اس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
سفینہ سلیم: ادب میں خواتین کا بہت زیادہ کنٹری بیوشن ہے کوئی ایسی صنف نہیں جس میں خواتین نے طبع آزمائی نہ کی ہو۔ خواتین نے بہترین ناول لکھے، بہترین افسانے لکھے، بہت خوبصورت اور جاندار شاعری کی حتیٰ کہ تحقیق اور تنقید میں بھی سامنے آئیں ہیں۔
سوال :معاشرتی ترقی میں شاعری اور ادب کا کیا کردار ہے؟
سفینہ سلیم: اچھی شاعری اور اچھے ادب کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ انسان کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ علامہ اقبال کو دیکھ لیں ان کی فکر نے پورے معاشرے کو پلٹ کر رکھ دیا شاعر فکر دیتا ہے۔ فکر ہی انسان کی سوچ میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔اچھی شاعری اور ادب تہذیب کا رخ بدل کر رکھ دیتی ہے۔
سوال : خواتین کے ادب کو کیسے جانچا جا سکتا ہے؟ مروج تنقیدی نظریات کی روشنی میں یا نئے نظریات وضع کر کے؟
سفینہ سلیم: ادب کی عمرانیات کے بارے میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ادب کے ذریعے تخلیق کار معنی کو منضبط اور منور کرتا ہے اور اس کی فنی تخلیق اپنے دامن میں بے شمار تجربوں اور بصیرتوں کو سموئے ہوئے ہوتی ہے اس لیے جنس کے حوالے سے ادب کو جانچنا غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل فہم بات ہے بلکہ بہتر یہ ہوگا کہ تخلیق کار کی تخلیقات کو معاشرے، نظام فطرت اور عصری تقاضوں کے تناظر میں جانچا جائے۔کسی بھی غیر جانبدار نقاد نے آج تک جنس کے حوالے سے فن پارے کو نہیں جانچا بلکہ لفظ کے حوالے سے جانچا ہے۔ یہی رویہ مستقبل میں بھی مقیاس العمل ٹھہرے گا کیونکہ ادب تو ادب ہی ہے۔ اس کو مردانہ اور زنانہ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ عورتوں کے ادب کو جانچنے کیلئے کوئی علیحدہ پیمانہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک نئے تنقیدی نظریات وضع کرنے کا تعلق ہے تو وہ صرف عورت کے لیے ہی کیوں؟ البتہ خواتین کی نگاشارت کو جانچنے کیلئے اس معاشرتی پس منظر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں رہ کر انہیں ادب تخلیق کرنا ہے۔
سوال : دُکھ اور سکھ ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں آپ کے نزدیک دُکھ کی کیا اہمیت ہے؟
سفینہ سلیم: دُکھ اور سکھ زندگی کی تصویر کے دو پہلو ہیں ایک روشن اور ایک تاریک۔ دُکھ کی تحریر ہوتی ہے جو ہماری زندگی کی سلیٹ پر مقدر سے لکھی جاتی ہے۔دکھ پیاراساتھی ہے۔ دکھ ایک بہترین استاد بھی ہے جو ہماری تربیت کرتا ہے۔ دکھ کے بھی انسانوں کی طرح مزاج ہوتے ہیں آنکھ، پاؤں، ہاتھ اور دل بھی ہوتا ہے زندگی میں دکھ سے زیادہ وفادار کوئی چیزیں نہیں ہوتی۔ دو دُکھ ایسے ہیں جو آپ سے کبھی بھی دور نہیں ہو سکتے ایک آپ کی ذات کی ناقدری کا دُکھ اور دوسرا آپ کی ماں کی موت کا دُکھ۔ اپنی ذات کے دُکھ جینے نہیں دیتے یہ جیون بھر کا عہد مانگ لیتے ہیں اپنے دکھوں کے ساتھ رہتے رہتے ہم اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ انہیں کھونا نہیں چاہتے۔ دُکھ دشت ہجراں کے سفر میں سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔ دُکھ میں انسان اونچے چراغوں کی خواہش کرتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایسی تاریک وادی میں گرد سفر ہے جہاں سے صرف اس کا مقدر ہی اسے واپس لا سکتا ہے۔ دُکھ اور آس کادامن چولی کا ساتھ ہے کبھی آس پوری ہو تو دُکھ دے جاتی ہے کبھی پوری نہ ہو تو دکھ دے جاتی ہے۔ اگر آس ٹوٹ جائے تو ہم بے بھرم ہو جاتے ہیں۔ دُکھ ہمیں صبر کرنا سکھاتا ہے صبر ایک ایسی سواری ہے جو کبھی بھی اپنے سوار کو نہیں گراتی، گویا یہ دکھ کی مرہون منت ہے۔ اگر آپ کے پاس صبر کا زاد راہ ہو تو انسان کو منزل مل جاتی ہے۔ وہ آدمی ہمیشہ خوشیوں کی بہار کی قدر کرتا ہے جس نے دُکھ کی خزاں میں زخم کھائے ہوں۔ دکھ ایسے زخم بھی دے جاتے ہیں جنہیں نیند نہیں آتی کھرنڈ بھی نہیں جمتے، ہمیشہ ہرے ہی رہتے ہیں۔ زندگی میں جب تک غم نہ آئیں اس میں چمک پیدا نہیں ہوتی، مصیبتیں اور دکھ ہمیشہ اپنی کم ہمتی کے باعث زیادہ خوفناک نظر آتے ہیں۔ دکھ دل والوں کا اثاثہ اور میراث ہوتے ہیں یہ دو انسانوں کو ایک ایسی ڈور میں باندھ دیتے ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتی۔دُکھوں سے دل والوں کے آنگن میں میلے لگتے ہیں۔ دکھ بڑا درد نواز ہوتا ہے جو ہماری جھولی میں درد ڈالتا ہے۔ مٹھی میں درد کی دولت نہ ہوتو انسان زندگی بھر اپنی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ دُکھ ہماری دعاؤں کو اثر بھی بخشتے ہیں۔
سوال : کوئی پیغام؟
سفینہ سلیم:سب رشتے سنبھال کررکھیں ہررشتہ ہماری تربیت کرتاہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •