پرویز مشرف اور نوازشریف: سیف اعوان

 
نو اکتوبر 1999کووزیر اعظم میاں نوازشریف سے ایک سینئر ملٹری آفیسر ملنے آئے ان آفیسر کی ریٹائر منٹ میں صرف چھ ماہ باقی تھے لیکن یہ وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ چاہتے تھے۔یہ آفیسر اہم ترین عہدے پر تھے اور وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے وزیراعظم نے ان سے پوچھ لیا آخر آپ اتنی جلدی ریٹائرمنٹ کیوں چاہتے ہیں آفیسر نے جواب دیا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد فارغ نہیں بیٹھنا چاہتے بلکہ مصروف رہنا چاہتے ہیں فوجی فاونڈیشن کے ایک ادارے فوجی فرٹیلائز کمپنی (ایف ایف سی) کے چیئر مین عہدہ خالی ہے اگر انہیں اس کمپنی کا چیئر مین بنادیا جائے تو ان کو ایک اچھی اور صحت مند زندگی گزارنے کا موقع مل جائے گا ایف ایف سی فوج کا ایک اہم ترین ادارہ ہے جس کا چیئر مین آرمی چیف کی مرضی کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ اس وقت دبئی جارہے ہیں واپسی پر آپ کی سفارش خود آرمی چیف جنرل مشرف ے کرینگے امید ہے آپ کا کام ہو جائے گا۔ان آفیسر نے اس کو نیم رضامندی سمجھا اور سیدھے آفیسر میس چلے گئے میس میں ریٹائر آفیسرزکی ایک گیٹ ٹو گیدر میٹنگ چل رہی تھی اس آفیسر نے ان ریٹائرز آفیسر کو بتایا کہ وہ بھی جلد ان کی صف میں شامل ہو جائیں گے مطلب ریٹائر ہو جائیں گے۔یہ آفیسر ڈی جی آئی ایس آئی ضیاء الدین بٹ تھے۔جو اپنی ریٹائر زندگی پلان کرچکے تھے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ٹھیک 72 گھنٹوں بعد ان کو 360 دن کی قید تنہائی کاٹنا پڑے گی۔10 اکتوبر کو وزیراعظم لاہور میں اپنی رہائشگاہ جاتی امرا پہنچے وہاں ان کی ملاقات اپنے چھوٹے بھائی شہبازشریف جو اس وقت پنجاب کے وزیراعلی تھے ان سے ملاقات ہوئی یہاں انہوں نے پہلی بار اپنے بھائی کو بتایا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے ہیں یہ بات سن کے شہبازشریف حیران رہ گئے شہبازشریف نے کہا اگر جنرل مشرف کو ہٹانا تھا تو چار ماہ پہلے جون میں ہی ہٹادینا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت نیول اور ایئر چیف دونوں کارگل آپریشن پر مشرف کیخلاف شکایات کررہے تھے اس وقت ان کو ہٹانے کا نتیجہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مارشل لاء بھی لگ جائے۔ اس وقت نوازشریف کچھ نہ بولے شاید وہ اس فیصلے کے بعد پیش آنے والے متوقع نتائج کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔اس فیصلے سے متعلق انہوں نے اپنی قریبی لوگوں کو اعتماد میں لینا شروع کردیا۔وزیر اعظم نے اپنے ملٹری سیکرٹری برگیڈیئر جاوید اقبال کو قریب آنے کیلئے کہا اور کہا کہ اپنا موبائل بند کردیں۔اسی دوران وزیراعظم نے اپنا موبائل بھی بند کردیا یہ دونوں فون انہوں نے ایک ملازم کے حوالے کیے جو فونز لے کر چلا گیا۔وزیراعظم نے ان سے کہا کہ انہوں نے مشرف کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے جاوید اقبال کی بھی شہبازشریف کی طرح زناٹے میں آگئے۔
جاوید اقبال نے کہا سر یہ خطرناک ہو گا آپ کو یاد ہے جنرل ضیاء الحق ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کے پھندے تک لے گئے تھے۔وزیراعظم نے کہا آخر قانونی اور آئینی طور پر میرے اس فیصلے میں کیا غلط ہے۔جاوید اقبال نے تفصیل سے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے وہ ساتھی جنرلز جہنوں نے کارگل کا ناکام آپریشن کیا ہے وہ کسی صورت یہ نہیں چاہیے گے کہ ان کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کا کورٹ مارشل کیا جائے۔یہ لوگ آخری حد تک جائیں گے خوا ان کو آپ کو ہی کیوں نا ہٹانا پڑے۔برگیڈیئر نے وزیراعظم پر واضع کیا راولپنڈی کی کور کمانڈر جنرل محمود جو کارگل آپریشن کے مرکزی کردار تھے جن کے انڈر ٹریپل ون برگیڈ تھی جو مارشل لاء کی صورت میں وزیراعظم ہاوس،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر قبضہ کرتی ہے وہ اپنے باس جنرل مشرف کی برطرفی ٹھنڈوں پیٹوں برداشت نہیں کرینگے اور لازمن ہٹ بیک کرینگے۔یہ میٹنگ ختم ہوئی تو وزیراعظم کو ملنے کیلئے ایک سینئر صحافی جاتی امراء میں موجود تھے۔انہیں ایک اہم کام کیلئے یہاں بلایا گیا تھا یہ صحافی تھے نذیر ناجی۔انہیں وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کے ساتھ مل کر ایک تقریر تیار کرنا تھی جو وزیراعظم نے جنرل مشرف کی برطرفی کے بعد پی ٹی وی پر کرنا تھی۔یہ راز (جنرل مشرف کو برطرف کرنے اور کارگل پر انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے) صرف پانچ لوگوں کو علم میں تھا۔ان میں وزیراعظم نوازشریف،ملٹری سیکرٹری جاوید اقبال،صحافی نذیر ناجی،حسین نواز اورسیکرٹری وفاع جنرل افتخار علی خان شامل تھے ۔یہ راز شہبازشریف اوروزیراعظم کے قریبی ساتھی چوہدری نثار علی خان کو بھی نہیں بتایا گیا تھا ۔وزیراعظم نے شہبازشریف سے مشاورت تو کی تھی لیکن اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔11 اکتوبر 1999 کونوازشریف دبئی روانہ ہوئے جہاں انہوں نے یواے ای کے صدر شیخ زید بن النہیان سے بہت اہم ملاقات کرنا تھی۔اس ملاقات کے دو بنیادی ایجنڈے تھے ایک مسئلہ یہ تھا کہ دبئی سرکار کے پاکستانی بینکوں میں 45 کروڑ ڈالر جمع تھے شیخ زید انہیں دبئی منتقل کرنا چاہتے تھے۔ایٹمی دھماکوں اور کارگل کے بعد پابندیاں سمیت پاکستان کے معاشی حالات اچھے نہیں تھے ان حالات میں ملک میں ڈالرز کی اشد ضرورت تھی۔اس لیے پاکستان چاہتا تھا کہ دبئی یہ رقم پاکستانی بینکوں میں ہی رہنے دے۔دوسرا مسئلہ طالبان کا تھا کہ پاکستان چاہتا تھا کہ دبئی اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی تربیتی کیمپس بند کرائے تاکہ پاکستان میں دہشتگردی نہ ہو۔کیونکہ یہ افغانستان کا معاملہ تھا اس سلسلے میں وزیر اعظم کو بریفنگ بھی چاہیے تھے انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین بٹ کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔جنرل ضیاء الدین بٹ نے جہاز کے اندر وزیراعظم کو افغانستان اور کشمیر کے امور پر بریفنگ دی۔اسی دورے کے دوران ہی وزیر اعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کو اشارہ تا بتادیا تھا کہ وہ انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے ہیں۔اسی جہاز میں حسین نواز اور صحافی نذیر ناجی وزیراعظم کی جنرل مشرف کی برطرفی اور کارگل انکوائری کے حوالے سے تقریر تیار کررہے تھے۔(جاری)
saifawan60@gmail.com