Voice of Asia News

طاقتوروں کی لڑائی اکھاڑا اُجاڑے گی ؟ کتنے مداح مارے گی : محمد نوازطاہر

دیہات کے بچے بڑے سادہ ہوتے ہیں ،جسم کے بالا خانے وہ بھی دماغ بھی رکھتے ہیں جس پر سوچنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ، فضائی آلودگی بھی کم ہوتی ہے پھر بھی انہیں بھولا ہی سمجھا جاتا ہے ، میرے گلوبل پِنڈ کا بچہ بھی سادہ سا تھا اور ابھی سادہ ہے لیکن سوچ سے عاری نہیں جیسے پیدا ہوتے ہی نہیں تھا ، اس نے کبھی پانی کو آگ نہیں سمجھا نہ ہی آگ کو پانی قراردیا ہے ۔ دیہات میں بچے کی طاقت کا اندازہ ڈنڈ بیٹھکوں اور سہاگے اٹھانے سے کیا جاتے ہیں ، چستی کا اندازہ اس کی دوڑنے کی رفار اور کبڈی یا کشتی سے کیا جاتا ہے ۔ مجموعی طور پر مقابلہ طاقت اور چستی چالاکی میں ہوتا ہے ۔
گلوبل کا بھولا دوسروں کی طاقت اور چستی ، چالاکی دیکھنے کا عادی تھا ، ابتدائی عمر میں ہی کئی دیہات کا پیدا سفر کرکے یہ شوق پورا کرتا تھا ، ابا کو بیٹے کے شوق سے اختلاف نہیں تھا ، عمر اور مسافت کے باعث تحفظات شفقتِ پدری آڑے لاتی تھی ، بھولا اکھاڑے میں دیکھی ہوئی چستی کے ساتھ ساتھ چالاکی سے بھی کچھ سیکھ گیا تھا جس کے استعمال سے وہ ابا کے تحفظات کی آڑ سے نمٹ لیتا ، یعنی چار کوس پیدل چلنے میں جتنا وقت لگتا ،اسے کم کرنے کیلئے دورانِ سفر ہر دو ڈھائی میل کے بعد میل سوا میل بھاگ لیتا یوں وقت کم لگنے سے یہ باور کروانے میں کامیابی مل جاتی کہ سارا سفر پیدال طے نہیں کیا ۔بھولا بڑے غور سے دیکھا کرتا تھا کہ طاقتور اور چالاک جب اکھاڑے میں اترتے ہیں تو وہاں انہیں کس قسم کی توانائی درکار ہوتی ہے اور اس کی فراہمی کا منبع اور ذریعہ کیا ہے ۔ یہ زریعہ اکھاڑے سے باہر ،پنڈال میں سے آٹھنے والی آوازیں ہوتی تھیں ، ان سے بڑا ذریعہ لاؤڈ سپیکر ہوتا تھا ۔ انسانی آوازیں ظاہر ہے لاؤڈ سپیکر کا مقابلہ تو نہیں کرسکتیں ۔۔ بھولا غور سے دیکھتا تھا کہ اکھاڑے میں اترنے والے کس طرح اکھاڑے کے باہر ایک دوسے کو ملتے، جپھیاں ڈالتے ، خوشی غمی میں شریک ہوتے ، اکھاڑے میں جیت ہار کے بعد وہ پھر سے چیلنج کرتے اور اگلے مقابلے کی تیاری کرتے ۔۔۔ اکھاڑے سے باہر پندال میں نعرے لگانے والوں کا جذبہ الگ ہوتا ، کئی بار دیکھا کہ اکھاڑے کے باہر نعرہ زن بھی اکھاڑا بنائے ہوئے ہیں اور وہان موجود دوسرے لوگ ان میں بیچ بچاؤ کروارہے ہوتے لیکن ان کیا عناد برقراررہتا جبکہ اکھاڑے والےء اکھاڑے سے باہر آتے ہیں نے اپنے اپنے نعرہ زن کی حوصلہ افزائی کرتا ۔۔ ایسے موقع پر ’او میرے شیر‘ عام طور پر دل کھول کر کہا جاتا ۔۔ ۔یوں لگتا جیسے اکھاڑے کا لومڑ کسی بکرے کو شیر بول رہا ہو یہ شیر پھر ایسا شیر بنتا کہ کبھی اپنی اصل حیثیت ماننے کو تیار نہ ہوتا ۔۔بھولا اب طاقتوروں کے اکھاڑوں سے نکل کر سیاسی اکھاڑے دیکھنے کا عادی بھی ہوگیا تھا یہاں جتنے نعرہ زن ہوتے ، وہ اتنے ہی ذہین سیاسی کارکن ہوتے ، انہیں ویسا ہی پروٹوکول ملتا اور جس بات سے اکھاڑے میں اترنے والے کو فائدہ پہنچتا اسے ہی شعور کی بات قرار دیا جاتا اور جب اس کی بات پر اجتماعی ہاں کی جاتی تو سب ’ہاں‘ کرنے والوں کی باشعور قراردیا جاتا ، پھر اس کی شکل بدل گئی اور پہلوانوں نے لاؤڈ سپیکر پر ہاتھ لہرا لہرا کر اپنے نعرہ زنوں کے لئے باشعور کا لفظ استعمال کرنا شروع کردیا حالانکہ وہ اکھاڑے میں اترنے والے پہلوانوں کی طرح جانتے تھے کہ جنہیں وہ شیر بول رہے ہیں وہ تو بکری کے بچے سے بھی کمزور ہیں ، یہی سوچ سیاسی اکھاڑوں میں نعرہ زنوں کیلئے تھی ۔بھولا دیکھتا رہا کہ دیہات والے تو بہت سادہ ہوتے ہیں لیکن شہرون والے جو جدید سہولیات کے ساتھ رہتے ہیں ترقی کے ذرائع بھی ان کی نظر کے سامنے ہوتے ہیں وہ بھی دیہات والوں جیسے ہی نعرہ زن ہوتے ہیں ۔ یعنی اس معاملے میں دیہات اور شہر میں کوئی فرق نہیں ، سبھی ایک جیسے ہیں ۔بھولا اب ان نعروں اور ، نعرہ زنوں اور نعرہ زنوں کو’با شعور‘ ہونے کے القابات ، خطابات کے طعنوں سے واقف ہوگیا تھا اور سمجھ گیا تھا کہ یہ تو سیدھی ، سدھی منافقت ہورہی ہے لہٰذا بھولا نعرہ لگاناس ترک کرتا گیا اور پھر نعرہ لگانا ہپی چھوڑ گیا البتہ اس کے اثرات سے فرار نہ ہوسکا اور استعمال کا وقت البتہ جان گیا اور صرف مخصوص حالات میں نعرہ لگاتا یا لگواتا۔ اور کئی بار شرارتاً بھی نعرہ لگواتا جسے اکھاڑے والے کو محسوس تو ہوتا کہ اس کی دساتھ ہاتھ ہوگیا لیکن اس کے پاس برداشت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ، نعرہ لگوانے کے اس انداز کو بھولا اکھاڑے میں لگائے جانے والا داؤ’ دھوبی پٹکا قرارادیتا‘ اور اپنی ذات میں ہی لطف اندوز ہوتا۔
بھولا دیکھتا رہا کہ کچھ کم طاقت والے بھی اکھاڑے میں اتیرتے ہیں ، جسم ان کا اکھاڑے میں اترنے والوں کے برابر تو نہیں ہوتا لیکن چستی ، چالاکی اور پھُرتی سے واقف ہیں ، انہیں اکھاڑے کی زبان میں کانگڑی پہلوان کہا جاتا ہے ، بھولا کئی کانگڑیوں کی کامیابی بھی دیکھتا رہا پھر بھولا یہ بھی دیکھتا رہا کہ پہلوانوں کے مقابلے کے دوران دو عناصر بڑی اہپمیت اختیار کرگئے ہیں اول مقابلے کا اہتمام کرنے والے منتظمین ، دوئم ریفری ۔۔ اب اکھاڑے میں منتظمین اور ریفری کے درمیان بھی باہر بیٹھے ایک میچ ہونے لگا یوں بھولا دیکھتا رہا کہ ایک وقت میں دو میچ ہونے لگے ہیں ، اکھاڑے کے اندر والوں کو بھی اب معلوم ہوگیا تھا کہ اندر کے ساتھ ساترھ اکھاڑے کے باہر بھی میچ چل رہا ہے اور ان کی اکجھاڑے کے اندر کی جیت ہار اکھاڑے سے باہر کی جیت ہار میں بہت اہمیت کی حامل ہے ، کھالڑی بھی جاننے لگے کہ ریفری کس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے وہ ہارنے کے بعد پنڈال کے باہر نعرہ زنوں کو یہ ضرور بتاتا کہ اگر نعروں کی قوت زیادہ ہوتی تو اسے مزید توانائی مل جاتی اور وہ مقابلہ جیت جاتا لیکن یہ بتانے سے گریز کرتا کہ اکھاڑے کے اندر رفری نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔ بھولا یہ بھی دیکھ چکا کہ کھلاڑی کو اب نعرہ زن بتانے لگے تھے کہ ریفری نے غلط فیصلہ دیا اور کہاں پر رعی کی (رعایت برتی) تھی اب کھاڑی کے لئے اکھاڑے کے اندر کے حالات بھی نعرہ زن سے شیئر کرنا پڑ گئے اور پھر بھولا یہ بھی دیکھتا ہے کہ نعرہ زن ریفری کے خلاف نعرے لگانے لگے ہیں ، باہر مقابلہ کرنے والی قوت کا ذکر بھی کرنے لگے ہیں لیکن ایک بات خود سمجھنے کے لئے راضی نہیں کہ نعرے لگاتے ہوئے شروع ہونے والے اختلافات لڑائی میں نہیں بدلنے چاہئیں بلکہ یہ لڑائیاں بڑھ گئی ہیں ، بھولا ان لڑائیوں پر افسردہ تو ہوتا لیکن کرکچھ نہیں سکتا کیونکہ ان نعرہ زنوں پر بڑا نعرہ زن یعنی لاؤوڈ سپیکر زیادسی اثر دکھا ر ہے ، اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوا تو وقت کی فرتار اور سائنسی ترقی سے نعرہ زنوں نے میگا فون استعمال کرکے لاؤڈ سپیکر کا اثر کم کردیا لیکن پھر بھی لاؤڈ سپیکر کا مقابلہ انکے بس میں نہیں تھا حالانکہ لاؤڈ سپیکر کا خرچہ بھی زیادہ تھا ، پھر بھی نعرہ زنوں پر کھلے عام توبھروسہ کیا جاتا لیکن اہمیت لاؤڈ سپیکر کو زیادہ دی جاتی ۔۔
بھولا یہ منظر اکثر یاد کرتا اور ذہن میں دہراتا ہے ۔ ایک عدالتی فیصلے کے بعد طاقت کے دو بڑے محور جس طرح کھلے اکھاڑے میں دکھائی دیتے ہیں اس سے لاؤڈ سپیکر کی طاقت ، استعمال اور اہمیت بڑھ گئی ہے اور بھولا ان بیچارے نعرہ زنوں کی کمزوری پر افسردہ ہے کہ انہیں اب بھی اہمیت نہیں مل رہی جبکہ وہ مسلسل نعرہ زن ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ مقابلہ کن کے درمیان ہے جہاں ان کے نعروں کی ضرورت نہیں، یہاں طاقت کا مقابلہ طاقت کے ساتھ ہے ، اتنی ہی طاقت ریفری میں ہے جتنی طاقت منتظمین میں ہے اور دونوں ہی لاؤد سپیکر پر اعتماد کرکے نعرہ زنوں کی طرف ہاتھ لپکا لپکا کر رہے ہیں کہ باشعور دیکھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ، باشعوروں میں سے اکثر کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے نعرے کے بجائے لاؤڈ سپیکر کے نعرے کے ساتھ ہم آواز ہیں اور دوسروں کو بھی کہتے ہیں کہ لاؤڈ سپیکر کی آواز سنو اور اس کے مطابق ہی نعرے لگاؤ۔۔ بھولا ایک میچ یاد کررہا ہے جو میچ سے بالکل نہیں تھا ، وہ کسی بات پر اکھاڑے سجانے والوں کی اکھاڑے کے باہر اپنی اپنی طاقت دکھانے کی لڑائی تھی ۔ جیسی آج کل عدلیہ اور فوج میں دکھائیی دے رہی ہے، بہت سے نعرہ زن اس لڑائی پر پریشان سوچ رہے ہیں کہ کیا ہوگا لیکن بھولا جانتا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا ، یہ لڑائی تھوڑا عرصہ چلے گی پھر کوئی شادی غمی کا وقت آئے گا اور دونوں طاقتیں بغلگیر ہونگی ، لیکن ایل سوال بھولا اپنی سادگی میں اپنے آپ سے کرتا ہے کہ اگر بغلگیر ہونے کا موقع دیر سے آیا تو باہر کے پہلوان اور نعرہ زن جان جائیں گے کہ اکھاڑے کے اندر مقابلوں میں رعئی ( رعایت ) کروانے والے اب اصل مقابلے میں کتنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، طاقت کے اس مقابلے میں اکھاڑے کے اقرد گرد جمع کتنے لوگ عجہ عناد اور بن جکائیں گے اور کتنے مسلے جائیں گے ، پھر یہ لڑائی کہیں اکھاڑے کی تباہی کا باعث تو نہیں بن جائے گی ؟
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •