Voice of Asia News

علم کی روشنی سے ہی جہالت کے اندھیرے ختم ہوں گے براق ہائی سکول کے پرنسپل ذیشان علی کا ’’وائس آف ایشیا ‘‘ کو خصوصی انٹرویومحمد قیصر چوہان

 
فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے عقب میں واقع جہانگیر پارک میں موجود ’’براق ہائی سکول ‘‘ صوبائی دارالحکومت کاایک اہم تعلیمی درسگاہ ہے۔جس نے اپنے تعلیمی معیار کی بدولت اہم مقام حاصل کیا ہے اورطلبہ ء کی معیاری اوربنیادی تعلیم کو یقینی بنانے کا عزم لئے خدمات سر انجام دے رہا ہے۔یہ ادارہ بچوں کی مضبوط تعلیمی بنیاد رکھنے کیلئے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ منفرد کام کرنے کا جذبے لے کراس میدان میں آنے والے ذیشان علی ایک متحرک، فعال ،جدت پسند اور اپنے کام سے مخلص انسان ہیں۔جو ’’براق ہائی سکول ‘‘کو بڑے ِ احسن انداز میں چلا رہے ہیں۔ان کی محنت اور لگن کی وجہ سے ’’براق ہائی سکول ‘‘لاہور کے بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی فہرست میں شامل ہے۔گزشتہ دنوں ایڈیٹر ’’وائس آف ایشیا ‘‘نے پاکستان کے نامور ماہر تعلیم اور ’’براق ہائی سکول ‘‘کے پرنسپل ذیشان علی کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس میں ادارے کی فکر اور اس کے تدریسی نظریئے اور تعلیمی مسائل پر گفتگو ہوئی جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال:آپ کے نزدیک تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟
ذیشان علی: میں تو تعلیم کو روح کی غذا سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک تعلیم بندوق کی گولی سے زیادہ طاقتور ہے۔تعلیم و تربیت ہی وہ زیور ہے جس سے آراستہ ہو کر ہم ملک و قوم کی اصلاح، ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہی وہ آلہ ہے جس کی مدد سے حق اور باطل کے درمیان تمیز ممکن ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کی بدولت غربت، جہالت، پسماندگی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اندھیروں سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے۔ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو کہ انسان کیلئے اس طرح سے ضروری ہے جیسے آکسیجن زندگی کیلئے ضروری ہے تعلیم کے بغیر انسان بالکل حیوان کی مانند ہے یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کرتی ہے اور زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرتی ہے بغیر علم کے انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر چل نہیں سکتا ہے تعلیم وتربیت ہی انسان کو راہ حق کی جانب لے جاتا ہے۔تعلیم ہی ترقی وخوشحالی کا زینہ ہے۔
سوال: ’’براق ہائی سکول ‘‘کابنیادی مقصد کیا ہے؟
ذیشان علی: ہمارا مقصد ایسے طلباء اور طالبات پیدا کرنا ہے جو کہ خود شناس ذمہ دار شہری ہوں اورمعاشرے کی سماجی ، معاشی ، ثقافتی اور سیاسی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔ مفکرانہ سوچ کا فروغ بذریعہ تعلیم ، تحقیق اور جدت کے ذریعے کرنا بھی ہمارا مقصدہے۔ہم اس بات کے حصول کیلئے کوشاں ہے کہ ہمارے طلباء اور طالبات معاشرتی مسائل کے حل کیلئے اپنے اندر تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر مختلف شعبہ جات باہم مل کر مفکرانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خدمت خلق اور اخلاقی قدروں کا فروغ ہمارا نصب العین ہے۔
سوال: ’’براق ہائی سکول ‘‘کیسے دوسرے پرائیویٹ سکولوں سے منفرد ہیں؟
ذیشان علی: جس طرح زندہ رہنے کیلئے پانی ،ہوا اور غذا جبکہ انسان کوتن ڈھاپنے کیلئے لباس کی اشدضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسان کی دنیا میں بقا اور آخرت کی فلاح اور روح کی غذا کیلئے تعلیم حاصل کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ ’’براق ہائی سکول ‘‘نے اپنے سلیبس سے لے کر ٹیچرز کی تدریس اور نونہالانِ قوم کو ایک فطری ماحول میں تعلیم و تربیت کا ایک شاندار میعار قائم کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں سکھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سائنس کے طلبہ و طالبات کیلئے سائنسی آلات سے آراستہ لیبارٹریز موجود ہیں جہاں عملی تجربات کروائے جاتے ہیں،جدید کمپیوٹر لیب، لائبریریاں موجود ہیں۔’’براق ہائی سکول ‘‘میں ایسے اساتذہ تعلیم دیتے ہیں جو کْل وقتی اساتذہ ہی ہیں جبکہ اکثر نجی تعلیمی اداروں میں بے روزگار نوجوان ہی ’’اساتذہ ‘‘ ہیں، انہیں جب کوئی بہتر ملازمت ملتی ہے، تو وہ سکول کی جاب چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض نجی سکولوں میں ایک سیشن میں طلبہ وطالبات کے کئی اساتذہ تبدیل ہوجاتے ہیں جس کا برا اثر طلبہ وطالبات پر پڑتاہے۔ براق ہائی سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات اس نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔اکثر سکولوں میں بچوں کی جسمانی تعلیم وتربیت کا اہتمام نہیں ہوتالیکن ہم نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی جانب بھی راغب کرتے ہیں۔اساتذہ کو جدید زمانے کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونے لئے وقتاََ فوقتاََ مناسب ٹریننگ دی جانی چاہیے۔ ’’براق ہائی سکول ‘‘میں اساتذہ کی تربیت کا بھی بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بیرون ممالک کے تعلیمی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ ’’براق ہائی سکول ‘‘ میں کوالیفائیڈ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔
سوال: تعلیم کے فروغ کیلئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے کردار پرآپ کیا تبصرہ کریں گے؟
ذیشان علی: کسی بھی مہذب معاشرے کی تکمیل میں تعلیم و تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے خصوصاً اس وقت جب کسی ملک کے عوام اپنی اقدار کو بھول چکے ہوں ان کو راہ راست پر لانے کیلئے علم کی روشنی بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے سرکاری تعلیمی اداروں اور تعلیمی پالیسی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاہم نجی تعلیمی اداروں کو بھی بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے تاکہ جہاں علم و ہنر، تعلیم و تربیت اور تعلیم و تحقیق کے عمل کو جاری رکھ کر قوم کو اندھیروں سے نکا ل کر اُجالوں میں لایا جا سکتا ہے وہاں ہر معاشی، معاشرتی بحران سے بھی بآسانی بچایا جا سکتا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے فروغ تعلیم کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن حکومت ان اداروں کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی۔ حکومت قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کو یقینی بنائے تاکہ ہر طبقہ کے افراد قومی ترقی کے عمل میں یکساں طور پر حصہ لے سکیں۔
سوال:پاکستان کے ہرگلی محلے میں درجنوں سکول کھمبیوں کی طرح اْگے ہوئے ہیں،یہ ایک بھیڑچال ہے۔ آپ اس کا حصہ کیوں بنے ہیں؟
ذیشان علی: ’’براق ہائی سکول ‘‘اس بھیڑچال کا حصہ نہیں ہے کیونکہ ہم نے تعلیمی ادارہ کمرشل عزائم لے کر شروع نہیں کیا بلکہ ہمارے پیش نظر وہی ارفع و اعلیٰ مقاصد ہیں جو علم کے ہونے چاہیں۔ جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے جہاں وہ محبت و چاہت کے سائے میں پلتا بڑھتا ہے جب یہ ہونہار اس کائنات میں بکھرے علوم کو اپنے اندر سمونے کی خاطر جدوجہد کے تقاضوں سے آشنائی حاصل کرنے کی خواہش کرتاہے تو ایسی درسگاہوں کی طرف رجوع کرتاہے، جہاں وہ تعلیم وتربیت کے ذریعے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو ُابھارسکے۔ ’’براق ہائی سکول ‘‘ایسی عظیم درسگاہ ہے جہاں بچوں کو دورجدید کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ یہاں طلبہ وطالبات کوبہترین تہذیب و ثقافت کا حامل تعلیمی ماحول فراہم کیاجاتاہے۔ ہمارے ہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ، تربیت یافتہ اساتذہ کا انتظام موجود ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ’’براق ہائی سکول ‘‘ اعلیٰ معیار اور اقدار کا حامل تعلیمی ادارہ ہے جہاں تزئین سیرت وکردار اور تعمیر مستقبل پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
سوال: آپ تعلیم کے اعلیٰ مقاصد کی بات کررہے ہیں جبکہ نجی تعلیمی اداروں کا مزاج اس کے برعکس ہے، کیا پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے تعلیم کوکمرشل نہیں کردیاہے؟
ذیشان علی: میرا خیال ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے، پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر حکومت نے ٹیکسوں کا بھاری بھرکم بوجھ لاد رکھاہے، ایسے میں وہ اپنا انتظام وانصرام برقرار رکھنے کیلئے نسبتاً زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں۔ اگرحکومت نجی تعلیمی اداروں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرے اور ان پر بھی دست شفقت رکھے تو اس کے نتیجے میں وہ اپنا کردار مزید بہتر اندازمیں ادا کرسکتے ہیں اور عوام کو بھی زیادہ فیسوں کے بوجھ سے بچا سکتے ہیں۔ ساری دنیا میں سرکاری وپرائیویٹ تعلیمی ادارے مل جل کر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اگر حکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ’’غیر ‘ ‘ سمجھنا بند کردے تو اسی میں ملک و قوم کا بھلا ہے۔
سوال: پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے فروغ کی بڑی وجہ کیا ہے؟
ذیشان علی: پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے فروغ کی بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آئینی تقاضے پورے کرے۔ سستی اور معیاری تعلیم مہیا کرنا ریاست کا فرض ہے اور اگر ریاست اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی کرے گی تو پھر یقینی طور پر نجی ادارے اس کمی کو پورا کرنے کیلئے سامنے آئیں گے۔ حکومت کی اسی کمزور تعلیمی پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی اداروں کی بھرمار ہو گئی ہے اور بعض اداروں نے تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے جس کے باعث جو ادارے تعلیم کو ایک مشن کے طور پر لے کر چل رہے ہیں ان کا تشخص بھی ایک حد تک پامال ہو رہا ہے۔ بڑی تعداد بچے سرکاری سکولوں سے پرائیویٹ سکولوں میں منتقل ہورہے ہیں جس کی وجہ ہزاروں سرکاری سکولوں میں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی ہے۔ جہاں نہ باؤنڈری وال موجود ہے نہ پینے کاصاف پانی، نہ ہی بچوں کے بیٹھنے کا کوئی معقول انتظام ہے نہ صفائی ستھرائی کا بندوبست۔کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا کہ اقوام عالم کی ترقی کا دار و مدار ان کی تعلیمی میدان میں ترقی سے وابستہ ہے۔ اور تعلیم کی موثریت کا اندازہ اس کے نظامِ تعلیم سے لگایا جا سکتا ہے۔جو اقوام اپنے نظام تعلیم کو اپنی قومی ضروریات کے مطابق ترتیب دیتی ہیں اور پھر اس کو معاشرے میں اس کی روح کے ساتھ پوری محنت اور قوت سے نافذ کرتی ہیں کیونکہ نظامِ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو معاشرے کی ہر جہت کو درست سمت میں متعین کرتا ہے۔وہی اقوام دُنیا میں کامیاب نظر آتی ہیں۔پاکستان میں1947 لے کر اب تک کئی ایجوکیشن کمیشن بنے مگر ملک کو یکساں اور موثر نظامِ تعلیم نہ دیا جاسکا۔اب ملک میں کئی اقسام کے نظام تعلیم رائج ہیں۔اگر نجی تعلیمی ادارے اپنا کردار ادا نہ کرتے تو شعبہ تعلیم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہوتا۔حکومتی سطح پر تعلیم کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔جس کی وجہ سے سرکاری و نجی سکولوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔انہی وجوہات کی بناء پر نجی شعبے کو فروغ حاصل ہواہے۔ اگر دیکھا جائے تو نجی تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔
سوال: خواتین کو تعلیم دلانا آپ کے نزدیک کتنی اہمیت کا حامل ہے؟
ذیشان علی: آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جو بھی ملک تعمیر و ترقی کا خواہاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کا بھی متلاشی ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ویسے حصول علم ہر مرد وزن کا حق ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کیلئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کرنی ہوتی ہے آئندہ آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچوں کی صحت و تعلیم اور تربیت کا زیادہ بہتر طور پر خیال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے زیادہ توانا اور تعلیم کے میدان میں جلد ترقی کرنے والے ہوتے ہیں۔ پڑھی لکھی مائیں بچے کا شروع دن سے ہی بہتر خیال رکھتی ہیں اور خوراک مناسب ہونے کی وجہ سے وہ صحت مند رہتے ہیں بہتر قوم اس وقت بنتی ہے جب مائیں پڑھی لکھی اور باشعور و سمجھدار ہوں آج جب ہر طرف سوشل میڈیا اپنے اثرات لوگوں پر مرتب کر رہا ہے انٹرنیٹ، کیبل اور ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ایسے میں ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ہی اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کے ان اثرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت درست خطوط پر کر سکتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ باشعور ہونے کی وجہ سے وہ اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کر سکتی ہے جو کہ اس کے بچوں کو ایک اچھا انسان اور مفید شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے اس لئے ہمارا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی کیونکہ تعلیم یافتہ اور نیک ماں ہی بچے کو معاشرے کا اچھا فرد بنا سکتی ہے۔
سوال:آپ کے نزدیک سماجی علوم کی کیا اہمیت ہے؟
ذیشان علی: سماجی علوم جسے عمرانیات کہا جاتا ہے،بنیادی طور پر افراد کو معاشرے کے پس منظر میں رکھ کر مطالعہ کرنے کا نام ہے۔ یہ سماجی اور بین الااقوامی مسائل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ جرم ، کرپشن ، انتہا پسندی ، دہشت گردی ، غربت، ٹاؤن پلاننگ میں بہترین نقطہ نظر دے سکتی ہے۔ عمرانیات طلبہ میں افہام و تفہیم ،تنظیمی کارکردگی اور معاشرے کی منصوبہ بندی کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کر تا ہے۔ عمرانیات نے انسانی ثقافت کی تقویت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس شعبہ کے مضامین میں پڑھایا جانے والا مواداپنے طلبہ کیلئے کسی مذہب ، رسم و رواج ، اخلاق اور اداروں سے متعلق سوالات کیلئے ایک عقلی نقطہ نظر رکھتا ہے۔ عمرانیات ہم پر ذاتی تعصبات، عزائم اور طبقاتی نفرت پر قابو پانے کی ضرورت کو آشکار کرتی ہے۔پاکستانی معاشرہ کثیر الثقافتی اورکثیراللسانی معاشرہ ہے۔ لہٰذا سماجی علوم طبقات کے باہم تعلقات میں موثر کردارکے حامل ہیں۔معاشرتی مسائل کے حل کیلئے سماجی علم حاصل کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ سماجی علوم ملک میں تبدیلی کی سمت کی شناخت کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ سماجی علوم طاقت کے ڈھانچے ، عدم مساوات، سماجی نمائندگان ، سماجی ناانصافی ، امتیازی سلوک، شہری منصوبہ بندی، سماجی ترقی،اور معاشرے کے اندر آبادی کے مختلف طبقات کے درمیان فرق کو کم کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سماجی علوم میں تحقیق ملکی ترقی سے وابستہ شعبہ جات میں اصطلاحی ضرورت کی شناخت میں مدد کرتی ہے۔ یہ مختلف ملکی مسائل سے نمٹنے اور ان کے آپس کے نسلی تعلقات ، پسماندہ گروپوں کا تحفظ، بہتر اسلوبِ حکمرانی ،قوم کی تعمیر ، ریاستی تعمیر اور ملک کی سیاسی ، سماجی اور اقتصادی ترقی کے ممکنہ حل کی شناخت میں بھی مدد کرتے ہیں۔ سماجی علوم ہمیں معاشرے کو سمجھنے اور اس کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو تا ہے۔یہ انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سماجی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرنے کے قابل ہوسکیں۔سماجی علوم کے تحت پڑھائے جانے والے نظریات کی مختلف جہتیں ، تحقیق کو اس طرح سے منظم کرتی ہیں کہ سماجی زندگی کا سائنسی اصولوں کے تحت مطالعہ کیا جائے یہ طلبہ کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کا سائنسی انداز فکر کے تحت حل نکال سکیں۔اکیسویں صدی کی معاشی منڈی کی صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اختراع ، جدت ، تنقیدی ، تجزیاتی ابلاغیات کا عالمی تناظر میں مطالعہ دور حاضر کی ضرورت ہے۔سماجی علوم کے فارغ التحصیل طلبہ معاشرے کے مختلف معاملات کو بہتر طور پر جانچتے پرکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔سماجی اقدام کی مضبوطی اور تحقیقی پہلوؤں کی تفہیم کے بغیر معاشرے کے سماجی ڈھانچے کا سائنسی انداز میں تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔
سوال: ایک وقت تھا کہ ہمارے نوجوانوں کے ہیروز قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، راشد منہاس اور میجر عزیز بھٹی شہیدہوا کرتے تھے مگر اب کرکٹرز اور فلمی ہیروز ہیں اس پستی کی وجہ کیا ہے؟
ذیشان علی: اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ دراصل ہمارے اردگرد ایسے ٹول آگئے ہیں جن کے مثبت استعمال کے اچھے اور منفی استعمال کے برے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ سماجی لحاظ سے ہم پستی کا شکار تو ہوئے ہیں اور یہ بدلاؤ سماجی سطح ہی سے آیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ سیاسی قیادت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا فوجی قیادت کو بھی اس کا ذمہ دار کہا جاتا ہے۔ ماضی کے نوجوانوں میں یکجہتی و حب الوطنی کے حوالے سے ایک جذبہ موجود تھا۔ آج کی نوجوان نسل میں ماضی والا جذبہ دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے ملک کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس کے باوجود ہمارے ہاں آج تک کسی حکومت نے سنجیدگی سے نوجوانوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی نہ ہی ان مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس وجہ سے نوجوان جرائم مثلاً لوٹ مار، انتہا پسندی، منشیات ، رشوت، ملاوٹ، خودکشی جیسے اور دیگر سنگین برائیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد کا زیادہ ہونا پاکستان پر اﷲ کی رحمت ہے اگر ان نوجوانوں کو روزگار دیا جائے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں تو نوجوان نسل پاکستان کی تقدیر بدل کستی ہے۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کو سیاسی نعروں کی حد تک قوم کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے۔ جن اصولوں پر ہمارے قائدین کار بند رہے انہی کو ہی اپنا مشن بنا کر آگے بڑھنا ہو گا۔
سوال: آپ کے خیال میں حکومت کوتعلیم کو فروغ دینے کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
ذیشان علی: پاکستان کے ہر شہری کو تعلیم کے بہتر مواقعوں کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن قیام پاکستان سے آج تک یہ ذمہ داری پوری نہیں کی گئی حکومت ہر بچے کیلئے تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ تعلیم کیلئے حکومت کا مختص بجٹ بہت ہی کم ہے اگر ہمیں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا کرنا ہے تو اس کیلئے پیٹ کاٹ کر مالی وسائل مہیا کرنا ہوں گے۔ تعلیم کوہنگامی بنیاد پر توجہ دینا ہو گی کیونکہ تعلیم کو فروغ دے کرہی غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ماں اور بچے کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر ملک سے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ قلم اورکتاب ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے لہٰذابچوں کو قلم وکتاب سے روشناس کرانے کیلئے عملی اقدامات کرناہوں گے جبکہ بچوں کے ہاتھوں سے قلم وکتاب چھین کرانہیں اوزار پکڑوانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ تعلیم عوام کا بنیادی آئینی حق ہے جسے ہر ایک تک پہنچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، علم کے ذریعے سے امن ،بھائی چارہ اور محبت کی شمع روشن کی سکتی ہے ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن اور تعلیم کے فروغ سے ہی وابستہ ہے ،علم کی روشنی سے دہشت گردی کے اندھیروں کو شکست دے کر امن قائم کیا جا سکتا ہے لہٰذاحکومت نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید نصابی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے۔ علم کے فروغ سے معاشرے میں امن و استحکام آئے گا لہذا حکومت فوری طور پر ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ نافذ کرے، تعلیم کے بغیرکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ، شخصیت کی تعمیرصرف تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، علم کی روشنی سے ہی جہالت اوردہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے ،تعلیم ہی ایک ایسا ہتھیارہے جس کے زریعے سے انتہا پسندی ،دہشت گردی اورجہالت کوشکست دی جاسکتی ہے، پاکستان کی ترقی اورعوام کی خوشحالی تعلیمی انقلاب سے ہی وابستہ ہیں لہٰذاحکومت جی ڈی پی کا 8فیصدبجٹ تعلیم کیلئے مختص کرے تاکہ ہرپاکستانی بچے کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیا جاسکے ۔اس کے علاوہ اسٹریٹ چلڈرن کیلئے ملک بھرمیں سکول قائم کیے جائیں جن میں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کیساتھ ساتھ کھانے پینے کی سہولیات سمیت بچوں کوماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے ۔ حکومت علم کی روشنی سے محروم بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے کیونکہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خو شحالی کا راز تعلیم کے فروغ میں ہی پوشیدہ ہے۔ اس وقت ملک بھرمیں 60 لاکھ سے زائد بچے اوربچیاں یتیم اوربے آسرا ہے ان میں بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اورخوراک کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں لہذا یتیم اوربے آسرا بچوں کی کفالت حکومت سمیت مخیرحضرات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔
سوال: کسی بھی ملک کیلئے اعلیٰ تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟ ہائیر ایجوکیشن کی کارکردگی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں اورآپ کے خیال میں اسے مزید کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
ذیشان علی: کسی بھی ملک کیلئے اعلیٰ تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے دنیا بھر ہر کامیاب ابھرتی ہوتی معیشت کا راز ان کی نالج بیسڈ اکانومی میں تبدیل ہونا ہے جس کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادی قوت بنیادی اہمیت کی حامل ہے، ہایئر ایجوکیشن کے سلسلے میں ایک عمومی تاثر کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کہ تعلیم کو (Expenditure) نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے کیونکہ ہایئر ایجوکیشن میں خرچ کرتے ہوئے دراصل ہم اپنے مستقبل پر خرچ کر رہے ہوتے ہیں ہمیں یہ بات اپنے صاحب اقتدار، عوام الناس اور پالیسی سازوں کو ذہن نشین کرانا ہو گی کہ اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری ہی سب سے بہتر انوسٹمنٹ ہے۔ ہایئر ایجوکیشن کے شعبے کو حکومت کی جانب سے مناسب توجہ نہ ملنے پر ناقابل تلافی نقصان ہوا، ہایئر ایجوکیشن کیلئے بجٹ بڑھا کر جامعات کو ملکی تعمیر و ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
سوال: ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبوں کے حوالے کیا گیا ہے اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
ذیشان علی: ہائر ایجوکیشن کمیشن کی صوبوں کی منتقلی سے فرق ضرور پڑا ہے۔ صوبائی سطح کے اپنے معاملات ہوتے ہیں اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ صوبوں کی اپنی ضروریات کے حساب سے کام کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ ان کی پالیسیاں اپنی ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھیں تو فرق پڑرہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جائے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے مزید بہتری کے امکان پیدا ہوں۔ اگر ہم اس تبدیلی کو ایک واضح وژن کے ساتھ آگے لے کر چلیں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کی ذمہ داری اہل لوگوں کو سونپی جائے۔ حکومت ایک واضح پالیسی کے تحت اس شعبے کو متحرک کرے تو اس کے ثمرات سے نہ صرف صوبے کو بلکہ ملک کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے سنجیدگی کے ساتھ چلانا ہو گا۔ اﷲ نہ کرے اگر ہائر ایجوکیشن کو بھی ہمارے مروجہ تعلیمی نظام کی مانند چلایا گیا تو اس کے نتائج مثبت کے بجائے منفی بھی ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں اس شعبے میں جو بہتری آئی ہے اس سے آگے کی بات کرنی ہو گی اس سے آگے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تب ہی ہم ترقی کی جانب سفر جاری رکھ سکیں گے۔
سوال: دنیا بھرکی طرح پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تحقیق کی صنعت کے ساتھ وابستہ کئے جانے کا رجحان کیوں نہیں ہے؟
ذیشان علی: ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں میں ریسرچ کیلئے یونیورسٹیوں کو مامور کیا جاتا ہے ان ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی ڈیپارٹمنٹ کو اپنے اپنے شعبے میں تحقیق کی اجازت دی جانی چاہیے۔ پاکستان میں صنعتی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کا فقدان نظر آتا ہے۔ دنیا میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو صنعتی تحقیق کے ساتھ وابستہ کیا جاتا ہے اور کارخانہ دار اپنے صنعتی مسائل حل کرنے کیلئے ان سے مدد لیتے ہیں اس سلسلے میں مالیاتی اداروں کو پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ یونیورسٹی کی سطح پر ہونے والے تحقیقی کام کی مالی مدد کریں۔ ہماری نوجوان نسل میں قابلیت اور صلاحیت کی کمی نہیں ہمارے پاس ہر شعبے کے ماہرین موجود ہیں۔ متعدد شعبے ایسے ہیں جہاں تحقیق کے وسیع مواقع موجود ہیں مثلاً سولر انرجی میں بہت کام ہو سکتا ہے ہم سورج کی توانائی ضائع کرتے ہیں اسی طرح سے ملک کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے ذرائع بھی وافر مقدار میں موجود ہیں یونیورسٹیز میں ان تمام شعبوں میں ریسرچ سے معاشی انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ انڈسٹری اور جامعات کے درمیان موجود خلاء کو ختم کرنے سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو کام کرنے کا موقع دیں تووہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ جو یونیورسٹی تحقیق کی طرف توجہ نہیں دیتی اسے جامعہ کہلانے کا حق ہی نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جامعات میں تحقیق کا عمل انڈسٹری کے تعاون سے جاری رہتا ہے مگر پاکستان میں اس کا تصور ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے ریسرچ کے اثرات انڈسٹری کو نہیں مل رہے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ تعلیمی ادارے تحقیق کے ذمہ دار ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانا انڈسٹری کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیر و ترقی، نیا علم اور تحقیقی رجحان پروان نہیں چڑھ رہا اور ہماری انڈسٹری کو یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ تحقیق کا تعلق صرف میڈیکل یا انجینئر میں جاری ریسرچ تک محدود نہیں، سوشل سائنسز میں تحقیق سے بھی انڈسٹری کو فائدہ ہو گا۔
سوال: آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں کتاب کی اہمیت کم کیوں ہو رہی ہے؟
ذیشان علی: گو کہ انٹرنیٹ کا دور آگیا ہے لوگ اب کمپیوٹر کے ذریعے کتابیں پڑھنے لگ گئے ہیں لیکن کتاب کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ یہ اہمیت ختم ہوئی ہے اور نہ ہی کبھی ہو گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ نوجوان نسل میں کتاب شاید اتنی مقبول نہیں رہی۔ اس کا سبب وقت اور ماحول کے اثرات بھی ہیں۔ آج کل نوجوان کو موبائل اور کمپیوٹر کی شکل میں اتنی مصروفیات مل گئی ہیں کہ اس کے پاس کتاب بینی کیلئے وقت ہی نہیں بچا۔ اس کے علاوہ اس میں ہمارے حکمرانوں کا بھی قصور ہے کہ انہوں نے وہ ماحول آج کے نوجوان کو نہیں دیا جو ان کو میسر تھا۔ ماضی میں جو لائبریری کا کردار تھا وہ آج نہیں ہے۔ آج وہ لائبریاں نہیں ہیں ان کی جگہ ویڈیوز اور میوزک لائبریئریوں ہیں ان میں بھی ایسا پر کشش ماحول نہیں ہے کہ نوجوان اس طرف متوجہ ہو سکیں۔ میرے خیال میں جہاں کھیل کے میدان یا سیر گاہیں بنائی چاہیں ان کے ساتھ لائبریئریاں بھی بنائی جانی چاہئیں۔ لائبرریوں میں رکھی کتابیں عام آدمی کی دسترس میں ہونی چاہئیں۔ میرے خیال میں تو اب بک سیلرز کو بھی اپنے گاہکوں کو لائبریریوں جیسا ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ بک ڈسپلے سنٹرز میں کسٹمرز کے بیٹھنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ وہاں وہ اپنی مرضی کی کتاب بیٹھ کر پڑھیں اچھی لگے تو خرید لیں وگرنہ ضرورت کے نوٹس بنا کر وہیں رکھ دیں ایسا دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔ ہمیں بھی کتاب کی مقبولیت کیلئے ایسے ہی اقدامات کرنے چاہئیں۔ مہنگائی اور دیگر مسائل کے سبب کتاب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے۔ حکومت کو کتاب کو عام آدمی کی دسترس میں لانا ہو گا۔
سوال: آپ ایجو کیشن کی بہتری کے حوالے سے مزید کوئی بات کرنا چاہیں گے؟
ذیشان علی: پاکستان اﷲ تعالیٰ کی طرف سے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ اﷲ نے پاکستان کو تمام قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ پاکستان ہماری شناخت ہے۔ ہماری آن، بان شان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے قول و فعل اور اپنے کردار سے سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کیلئے متحدہ ہو کر کام کریں۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے آپس کے اختلافات بھلا کر ایک محب وطن قوم بن کر ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دے کر انتھک جدوجہد کرنا ہو گی۔ آنے والے وقتوں میں ہمارا مقابلہ مورچوں میں نہیں بلکہ کلاس روم، تجربہ گاہوں اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ہو گا ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی و عروج حاصل کرتی ہیں جنہوں نے تعلیم کے شعبے پر بھرپور توجہ دی۔ آج جتنے بھی ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں ان کی ترقی کا اصل راز تعلیم کے شعبے کا فروغ ہے۔ تعلیم کے شعبے میں خرچ کی گئی ایک پائی بھی رائیگاں نہیں جاتی لہٰذا اس شعبے میں جتنا بھی خرچ کیا جائے کم ہے اس سے بڑی اور بہتر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی۔ تعلیم کے شعبے کی مضبوطی ہمارے روشن مستقبل، قومی دفاع اور سلامتی کی ضامن ہے۔ لہٰذا تعلیم کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے ہمارے حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ وسائل وقف کرنا ہوں گے۔ کیونکہ جس طرح ستارے آسمان کی زینت ہیں اسی طرح تعلیم یافتہ لوگ زمین کی زینت ہیں جبکہ قلم و کتاب انسان کے بہترین دوست اور ترقی وخوشحالی کا زینہ ہیں۔ قلم اورکتاب ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے لہذا بچوں کو قلم وکتاب سے روشناس کرانے کیلئے عملی اقدامات کرناہوں گے ۔ تعلیم عوام کا بنیادی آئینی حق ہے جسے ہر ایک تک پہنچانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ، علم کے ذریعے سے امن ،بھائی چارہ اور محبت کی شمع روشن کی سکتی ہے ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی امن اور تعلیم کے فروغ سے ہی وابستہ ہے ،علم کی روشنی سے دہشت گردی کے اندھیروں کو شکست دے کر امن قائم کیا جا سکتا ہے لہذا حکومت نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید نصابی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے۔ علم کے فروغ سے معاشرے میں امن و استحکام آئے گا لہذا حکومت فوری طور پر ’’تعلیمی ایمرجنسی ‘‘ نافذ کرے، تعلیم کے بغیرکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ، شخصیت کی تعمیرصرف تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، علم کی روشنی سے ہی جہالت اوردہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔بہتر تعلیمی اور تدریسی نظام سے بہتر نتائج کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ اساتذہ ، والدین اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی تال میل اور رابطوں کو موثر بنایا جائے۔ طلباء اور اساتذہ کے درمیان فاصلوں کو بتددریج کم کرنے، طلباء کو رٹے کی عادت ڈالنے کی بجائے طالب علم کا کتاب اور استاد سے براہِ راست تعلق مضبوط و استوار کیا جائے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت و کتاب کے ساتھ تحقیق و جستجو اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کیلئے طلباء و طالبات کے درمیان مقابلہ و مسابقت کی فضاء قائم کی جائے۔تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں، بزم ادب تحریری و تقریری مقابلوں، حسن قرات و نعت اور دیگر تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کے نکھار کیلئے مناسب حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا اہتمام کیا جائے۔ تعلیمی شعبے کو ترقی دیئے بغیر ملک کو نہ تو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لاعلمی و پسماندگی ترقی پذیر ممالک کی خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور آئندہ وہی قومیں دنیا پر حکمران ہوں گی جو ٹیکنالوجی کے میدان پر عبور حاصل کریں گی۔’’تعلیم و تربیت کی اصلاح اور تحقیق پر توجہ بڑھانے سے ہی ملک و قوم کا مقدر سنورے گا۔ جو قوم اپنے اساتذہ کی تکریم اور وقار کو بھول جائے گی اس کا انجام مختلف بحرانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے علم کا سرچشمہ استاد ہیں تو ہونہار طلبہ قوم کا چمکتا ستارہ ہیں علم کے حصول میں سمجھوتا ملکی پستی کا باعث بن سکتا ہے آج طلبہ و طالبات خوش نصیب ہیں کہ ان کے پاس ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کی دستیابی یقینی ہے ضرورت صرف سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ہے۔آج ملک و قوم کی ترقی کا انحصار صرف اور صرف علم و تحقیق کے فروق پر ہے اس لئے حکومتی سطح پر اس پر یعنی فروغ تعلیم پر جتنی بھی سرمایہ کاری کی جائے کم ہے تعلیم کا فروغ نتائج کے حصول کیلئے تو ہوتا ہی ہے تاہم اس کا مقصد علم کی ترویج ہونا چاہیے۔ اصل کام نوجوان نسل کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے ہمیں یقین ہے کہ حکومت اس معاملہ پر جہاں پرائمری ایجوکیشن کے فروغ کو مزید بہتر بنائے گی وہاں تحقیق کے عمل اور ہائر ایجوکیشن پر بھی خصوصی توجہ دے گی جس کیلئے جی ڈی پی کا 8 فیصد مختص کرنا ہو گا۔
سوال:آپ نئی نسل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ذیشان علی: ہماری نوجوان نسل شارٹ کٹ کے چکر میں پڑی ہوئی ہے۔ یہ ہر شعبے میں نظر آرہا ہے کہ آج ہی نوکری ملی اور کل ہی افسر بننے کے خواب دیکھنے لگے ایسا نہیں ہوتا محنت کر کے آگے بڑھنا بہت ضروری ہے، محنت اور صرف محنت ہی آپ کو آگے لے کر جا سکتی ہے۔ جتنی زیادہ محنت کرو گے اتنے آگے جاؤں گے اپنا بھی بھلا کرو گے اور ملک کا بھی ۔ نوجوان نسل میں محنت کا کلچرپروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •