Voice of Asia News

پاکستان دنیا کا سستا ترین سیاحتی ملک:محمد شاہ دوتانی(کوئٹہ)

جو ممالک سیاحت کی اہمیت سے واقف ہوتے ہیں اورسیاحت کو فروغ دینے کی جانب اپنی توجہ مبذول رکھتے ہیں وہ بے شمار فوائد سے بہرہ مند ہوتے ہیں، جن ممالک میں سیاحوں کی آمد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ عالمی تنہائی کا شکار نہیں ہوتے، مالی دشواریوں سے دوچار نہیں ہوتے، ان ممالک میں تجارت وصنعت اپنے عروج پر ہوتی ہے، عوام کے ذہنوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے، مختلف ممالک کی عوام کو آپس میں گھْلنے مِلنے اور ایک دوسرے کے کلچر کو سمجھنے میں مدد مِلتی ہے ،تعلیمی ترقی ہوتی ہے، اقوام عالم میں اہم مقام حاصل ہوتا ہے، لوگوں میں ترقی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی بے پناہ فوائد ملتے ہیں اگر ان فوائد کا عمیق نظر سے جائزہ لیا جائے تواحساس ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی اور عوام کے شعور کو جِلا بخشنے کیلئے سیاحت کا فروغ ایک اہم اور بنیادی جزو ہے، باقی تمام معاملات بعد کے ہیں تمام ممالک فروغ سیاحت کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور اس مقصد کی کامیابی کیلئے وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ سیاحت کی اہمیت کا احساس و شعور ہماری حکومتوں کو رہا ہے نہ ہی عوام کوہے۔بے شمار ممالک ایسے ہیں کہ جہاں ایسی کوئی قابل ذکر جگہ یا مقام نہیں ہے کہ جس کو دیکھنے کیلئے دور دراز کا سفر کیاجائے مگر ان ممالک نے کچھ عمارات اور مقامات کی اس قدر تشہیر کی ہے کہ ہر سال لاکھوں افراد یہ مقامات دیکھنے کیلئے ان ممالک کا رْخ کرتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں ہزاروں مقامات اور عجائبات ایسے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر فوراً یہ ا حساس اْبھرتا ہے کہ قدرت نے یہ خِطہ پیدا ہی سیاحت کیلئے کیا ہے۔ ہر شہر، ہر قصبے، ہر جگہ کی اپنی کوئی نہ کوئی انفرادیت ضرور ہے، مگر ابھی تک اقوام عالم ان سے ناواقف ہیں، اس کی اصل وجہ ہماری حکومتیں ہیں کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول ہی نہیں ہوئی۔ پاکستان حسن و خوبصورتی میں کسی ملک سے پیچھے نہیں، چمکتے دمکتے خوبصورت چہرے دیکھتے ہیں روح خوش ہو جاتی ہے، پاکستان میں ہزاروں تاریخی عمارات ہیں خوبصورت دریا ، دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ، دلفریب نظارے جھرنے،آبشاریں، ہرقسم کے پھول، ہرقسم کے پھل، ایک ہی وقت میں ہر قسم کے موسم، ہرقسم کے لوگ، لا تعداد زبانیں، مختلف ثقافتیں، مختلف تہذیبیں اور مختلف انداز فکر و سوچ ، یہاں ہر چیز ہے کسی ایک پہلو پر ہی لکھنے بیٹھیں تو کئی ضخیم کتابیں لکھی جا سکتی ہیں مگر پتہ نہیں ہمیں احساس کمتری ہے یا ہم لوگ دوسری ’’ تہذیبوں کے پروموٹر ‘‘ ہیں۔
دنیا میں بہت کم افراد کو علم ہے کہ غیر ملکیوں کیلئے پاکستان دنیا کا سب سے سستا سیاحتی ملک ہے، صرف چند سو ڈالروں میں پورے ملک کی سیاحت بشمول قیام و طعام کی سہولت کے ساتھ ممکن ہے، مگر اس بات کی بیرونی ممالک میں موثر تشہیر نہیں کی گئی۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ غیر ملکیوں کو تمام اخراجات کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ وہ قلیل رقم میں پاکستان کے گوشے گوشے کی سیاحت کر سکتے ہیں، اندرون اور بیرون ملک رہائش پذیر سیاحت کے شوقین پاکستانیوں کی بھی پاکستان کی سیاحت کی جانب توجہ دلوائی جائے۔
پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں ہر بڑے مذہب سے تعلق رکھنے والے بیشمار مقامات ہیں، سِکھوں کے تمام تقریباً مقدس مقامات اس خطے میں موجود ہیں، ہر سِکھ کی خواہش ہوتی ہے کہ زندگی میں ایک دفعہ ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب اور کرتارپور کی زیارت ضرور کرے۔ وہ مہاراجہ رنجیت سِنگھ کی مڑھی بھی ضرور دیکھنا چاہتے ہیں مگر بھارت کے کشیدہ تعلقات اور سکیورٹی وجوہات کی بِنا پر سکھوں کو مخصوص تعداد سے زیادہ ویزے جاری نہیں کئے جاتے، ریاستی مصلحتیں اپنی جگہ مگر اس جانب بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ہری پور اور ایبٹ آباد کے بعد والے علاقے میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے بے شمار نوادرات اور عجائبات موجود ہیں ان کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مگر بْدھ مت کے پیروکار وں کیلئے اس کی مذہبی اہمیت بہت زیادہ ہے، یہاں جین مت کے آثار بھی مِلتے ہیں ، مگر توجہ نہ دینے کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ آثار معدوم ہو رہے ہیں۔ مگر سیاحوں کیلئے ایسی جگہوں کیلئے زیادہ کشش ہوتی ہے وہ اپنی تحریروں اور ڈائریوں میں ان مقامات کا ذکر کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں کہ جن کے متعلق عام لوگ زیادہ نہیں جانتے، لکھاری سیاحوں کی تحریروں کا مرکز وہ مقامات اور افراد بنتے ہیں،جو دنیا کی توجہ سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔اس خطے میں لاتعداد مقامات ایسے ہیں کہ جو قدیم مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ متروک ہوتے ہوئے مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی مقامات یا نوادرات کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے کہ کسی بھی مذہب، دین اور ’’ازم‘‘ کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں مگر حکومت، متعلقہ اداروں اور لکھاریوں کی عدم توجہ کا شکار ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ایک اور بات بطور خاص محسوس کی جاتی ہے کہ یہاں کے اولیاء کرام اور صوفیاء کو صرف مذہبی پیشواوئں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ان کے مزارات کو بھی مذہبی اور دینی حیثیت دی جاتی ہے، جبکہ یہ تمام اولیاء کرام اور صوفیاء کرام انسانیت کے علمبردار تھے۔وہ تمام انسانوں کیلئے سراپا محبت اور پیکر ایثار تھے، ان کے مزارات کو عبادت گاہیں بنادیا گیا ہے، ان مزارات کے ساتھ ملحقہ مساجد کی اہمیت مسْلمہ ہے، حضرت داتا گنج بخش،حضرت سخی شہبازلعل قلندر،حضرت بہاؤالدین زکریا ،حضرت امام بری ،حضرت بابافرید الدین گنج شکر، حضرت عبداﷲ شاہ غازی،حضرت بلاول شاہ نورانی،حضرت بابا بلھے شاہ سمیت ہزاروں اولیاء کرام نے تاریخ کا دھارا بدلا، ملک کے چپے چپے پر ان اولیاء کرام اور صوفیاء کرام کے مزارات موجود ہیں، ان بزرگوں کی مذہبی اہمیت کے علاوہ تاریخی اہمیت بھی ہے ان کے مزارات سینکڑوں سالوں سے موجود ہیں، ان مزارات کو بھی سیاحتی مراکز کا درجہ دیا جائے۔اولیاء کرام اور صوفیاء کرام کی تعلیمات اور مزارات کو اپنی مخصوص فکرو سوچ کے خاص دائرے میں مقید کردیا ہے، ان کی زندگیاں انسانیت کی فلاح وبہبو دکیلئے تھیں انہوں نے انسانوں کو انسانوں کے ساتھ محبت کرنا سکھایا، امن کا درس دیا، کچلے ہوئے طبقات کو گلے سے لگایا۔
محکمہ اوقاف، محکمہ مذہبی اْمور، محکمہ سیاحت اور دوسرے متعلقہ اداروں کو مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے مربوط اور منظم سوچ پیدا کرنی ہوگی۔ تمام مذہبی مقامات کا ازسر نو سروے کرنے کی ضرورت ہے، قدیم مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور سیاحوں کی ان مقامات تک رسائی اشد ضروری ہے۔ اولیاء کرام کے مزارات کے ساتھ ایک ایسی جگہ یا گوشہ مخصوص کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ جہاں غیر مسلم اور غیر ملکی سیاحوں کی خاص دلچسپی اور توجہ کا سامان ہو، یہ بات بھی عجیب نظر آتی ہے کہ مغلوں کے دور میں قائم ہونے والی شاہی عمارات کو تاریخی اور عالمی ورثہ قرار دیا جاتا ہے مگر اسی دور میں قائم ہونے والے مزارات کی عمارتوں کو تاریخی ورثہ نہیں سمجھا جاتا، جبکہ بعض مزارات پر نقش کاری اور تعمیرات کے وہ نمونے نظر آتے ہیں، جن کی دوسری مثال نہیں ملتی، مغلوں کے دور سے بھی سینکڑں سال پہلے تعمیر ہونے والے مزارات کو بھی قدیم ورثہ نہیں سمجھا گیا اور انہیں صرف مذہبی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جبکہ فن تعمیر اور عمارات کا کوئی بھی مذہب نہیں ہوتا۔ آثار قدیمہ، اوقاف، سیاحت کے علاوہ تاریخ اور جغرافیہ کے ماہر ین کو مل کر ٹورازم کے فروغ کیلئے مربوط کوشش کرنی پڑے گی۔
جس خطہ میں پاکستان واقع ہے یہ خطہ ہمیشہ سے امن، سکون، محبت، ایثار اور مہمان نوازی کا گہوارہ رہا ہے، شائد دنیا بھر میں اس خِطے میں رہنے والوں سے پْر امن قوم کوئی نہیں، یہ قوم کبھی بھی جنگجو ، جھگڑالو یا جارحیت پسند نہیں رہی اپنے حال اور معاملات میں مَست رہنے والی قوم کا امیج پوری دنیا میں سامنے لایا جانا چاہیے تھا، مگر شائد ہم لوگ خود ابھی تک اپنی انسانی خوبیوں سے واقف نہیں ہیں۔اس خطے کی تاریخ اور تہذیب بہت پْرانی ہے، ہزاروں سال پْرانی، یہ قوم اپنے آپ میں مگن رہنے والی قوم ہے، دوسروں کے معاملات یا مال و دولت پر نظر رکھنے والی قوم نہیں ہے، مگر بیرونی دنیا میں اس کا عجیب سا امیج پیش کیا گیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل کا فرض ہے کہ وہ خود اس خطے کی اصل ثقافت سے روشناس ہو، پھر اس ثقافت کے تمام مثبت پہلو بیرونی دنیا کے سامنے لائے۔ اس خطے کی ہزاروں سال پہلے سے لے کر اب تک کی تہذیب سامنے لائی جائے۔اس دور میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے صحیح استعمال سے پوری دنیا کو اصل تصویر دکھائی جا سکتی ہے، یہ بات بھی عجیب نظر آتی ہے کہ ہمارے تمام چینلز اور سوشل میڈیا میں معاشرے میں رونما ہونے والے چند واقعات کو اس طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے کہ جیسے ہمارا پورا معاشرہ تشدد پسند اور منفی خیالات کا حامل ہو چکا ہے ہر وقت ایسے واقعات کی تشہیر سے ہمارا امیج بْری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اگر منفی واقعات کی شرح دیکھی جائے تو وہ اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ محبت و ایثار ، مہمان نوازی اور ایک دوسرے کے احساس کی شرح 70 فیصد سے بھی زیادہ ہے ، یہاں کے لوگ غیر ملکیوں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور اپنے ان جذبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔آج بھی ہماری ثقافت، رسم و رواج اور روایات صرف محبت کے اْصولوں پر قائم ہیں، ہماری فلموں میں بھی تشدد، ناانصافی اور ظلم دکھایا جاتا ہے۔ فلمی ادیبوں، فلمسازوں اور ڈائریکٹروں کے غیر ذمہ دارانہ روّیے کی وجہ سے ہمارا اصل امیج بْری طرح متاثر ہوا ہے۔پاکستان کے ان تما م مقامات کو اُجاگر کیا جائے، جنکی تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی اہمیت مسلمہ ہے ، شہری اور دیہاتی زندگی کے خاص اور مثبت پہلو سامنے لائیں، خوشی غمی کی رسومات ، میلوں اور تہواروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائیں اور اس پہلو سے بھی لوگوں کوآگاہ کریں کہ پوری دنیا کے برعکس اس قوم کے متعلق ہزاروں سال سے ایک واقعہ بھی ایسا نہیں مِلتا کہ جس سے یہ بات ثابت ہوکہ انھوں نے کبھی کسی بھی دوسری ریاست یا ملک کے خلاف جارحیت کی ہو، یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ ابھی 80 فیصد پاکستانیوں کو ہی اپنے ملک کے سیاحتی مقامات کا علم نہیں ہے، شمالی علاقہ جات بشمول گلگت، بلستان کی خوبصورتی کا اس وقت علِم ہوا کہ جب بعض فلمسازوں نے ان علاقوں میں فلمبندی کی۔ پاکستانی شہریوں کے دل میں یہ علاقے دیکھنے کا شوق پیدا ہوا مگر ابھی تک بہت کچھ تاریکی میں ہے، نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی قوم کا اصل سافٹ امیج اور ملک کے تاریخی اور جغرافیائی ورثے کو کس طرح بیرونی دنیا کے سامنے لاتی ہے۔
پاکستان میں ہزاروں سال پْرانی تہذبیوں کے آثار بھی موجود ہیں جن میں موئن جودڑو، ہڑپہ ، ٹیکسلا اور گندھارا شامل ہیں۔ ماضی سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کی تما م تر دلچسپی کا سامان ان کھنڈرات میں موجود ہے مگر ہم ابھی تک سیا حوں کی اصل توجہ اس جانب مبذول نہیں کروا سکے، مکلی کا قبر ستان ،چوکنڈی کا قبرستان اور بھمبھور جیسی جگہیں دنیا میں نہیں ہیں، مکلی کا قبرستان شائد دنیا کا سب سے قدیم اور بڑا قبرستان ہے، اس شہر خموشاں میں ہزار سال سے پْرانی قبریں بھی موجود ہیں۔ہمارے ملک میں قدیم اور تاریخی عمارات کی بہتات بھی ہے، مغلیہ دور کی بنی ہوئی عمارتیں، قلعے اور مساجد خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ہر عمارت سے ایک داستان جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کے قدیم شہروں میں آج سینکڑوں سال پْرانا کلچر کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، لوگوں کی بودو باش اور رہن سہن ابھی تک پْرانے دور کی یاد دلاتا ہے، پاکستان میں فلک بوس پہاڑی سلسلے موجود ہیں جہاں پورا سال برف جمی رہتی ہے۔ کاغان، ناران لولوسر جھیل، بابوسر ٹاپ، جھیل سیف الملوک، شنکیاری، کالام، بدین اور شگورہ کے علاوہ وادی سوات کا چپہ چپہ دیکھنے کے قابل ہے، گلگت، بلتستان جیسے خوبصورت علاقے کہیں بھی نہیں ہیں، وادی نیلم کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے، سکردوکی سیر کا اپنا ہی مزا ہے، جو لوگ وادی کیلاش اور چترال جاتے ہیں وہ سالوں تک ان علاقوں کے سحر میں کھوئے رہتے ہیں، آزاد کشمیر کے علاقے کِرن وغیرہ کی خوبصورتی انسان کو مبہوت کر دیتی ہے۔ پاکستان کی تقریباً سات سو کلومیٹر سا حلی پٹی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔کوسٹل ہائی وے پر ڈرائیونگ کا اپنا ہی مزا ہے، کراچی سے شروع ہونیوالی یہ سڑک گوادر تک جاتی ہے، ایک طرف ریگستان کی اداسی دوسری طرف سمندر کا سکوت اس سڑک پر سفر کرتے ہوئے عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ نانگا پربت کے بیس کیمپ پر قیام کے دوران جسم میں ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا کوئی ایسا چھوٹا بڑا شہر نہیں کہ جہاں کی کوئی نہ کوئی خصوصیت موجود نہ ہو۔ ہر جگہ کی اپنی انفرادی اہمیت ہے مگر اس کے باوجود یہاں غیر ملکی سیاحوں کا رش نظر نہیں آتا جبکہ اس سیاحتی ملک میں تو غیر ملکی سیاحتی جمگٹھے نظرآنے چاہئیں، شائدہم لوگ سیا حت کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں، ٹورازم کے فروغ کیلئے حکومت کے علاوہ فنوں لطیفہ سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو اس جانب توجہ دینی پڑے گی۔ ایسا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے کہ جِسے پڑھ کر خاص مقامات دیکھنے کا شوق پیدا ہو، ایسی کتابوں کا انگلش اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔ تمام چینلز کو بھی اس جانب بطور خاص توجہ دینی چاہیے۔
کسی بھی ملک میں فروغ سیاحت کیلئے یہ اشد ضروری ہے کہ عوام کو ’’ٹورازم‘‘ کی اہمیت کا حساس بھی ہو اور ہر فرد اس میں کسی طریقے سے شامل بھی ہو۔ عوام کا رویہ بھی غیر ملکیوں کیلئے بہت اچھا ہونا چاہیے بلکہ دوستانہ اور ہمدرد انہ ہونا چاہیے، اْن سے اشیاء کے دام زیادہ نہیں ’’ ہتھیانے ‘‘ چاہئیں، اخلاق اچھا ہونا چاہیے، ہرفرد غیر ملکیوں کو تحفظ اور اپنائیت کا احساس دے۔ اسکے علاوہ اب میڈیا بھی شخصیات کی بجائے نظریات کی صحافت شروع کرے، ہر چینل کم از کم ایک گھنٹے کا فروغ سیاحت پر دلچسپ پروگرام شروع کرے۔ یہ پروگرام ’’لیکچر‘‘ نہ ہوں بلکہ اس انداز میں پیش کئے جائیں کہ سیاحوں میں خاص دلچسپی پید اہو، ہر عمارت اور مقام سے لاتعداد کہانیاں جڑی ہوئی ہیں، انہیں پیش کیا جائے۔ ہمارے تمام ادیب اور قلمکار بھی اپنے افسانوں، کہانیوں، ناولوں اور دوسری تحریروں میں دلچسپ انداز میں سیا حتی، پہاڑی اور قدیم عمارات اور اہم مقامات کا ذکر ضرور کریں اور عوام میں سیاحت دوستی کے جذبات پیدا کریں۔وزیراعظم عمران خان سیاحت کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں، انہوں نے سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات بھی کئے ہیں، اگرچہ موجودہ حکومت نے 75 ممالک کیلئے ویزا اور سفری سہولتوں کوآسان بنانے کا اعلان کیا ہے، فروغ سیاحت کی ذمہ داری کسی بھی ایک محکمے کو نہیں سونپی جا سکتی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے تمام محکموں، تمام اداروں اور ساری عوام کی شمولیت انتہائی ضروری ہوتی ہے، ہر فرد میں اچھا ’’میزبان ‘‘ بننے کی خوبی پیدا ہونی چاہیے، پاکستان کو ایسا ملک بنانا پڑے گا کہ دنیا کے 6 ارب انسانوں کی آبادی کو اس ملک میں دلچسپی محسوس ہو ، یہاں انہیں اپنی دلچسپی کا ہر قسم کا سامان نظر آئے۔ہمارے حکمران سیاحت کو فروغ دے کر پاکستان میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں اور اس سے ملک کی معیشت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔
muhammadshahdotani@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •