Voice of Asia News

زرعی ملک میں آٹے اور چینی کا بحران، محمد قیصر چوہان

 
زرعی ملک میں آٹے اور چینی کے بحران کو حکمرانوں کی نا اہلی کی انتہا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے پاکستان مختلف بحرانوں کی زد میں ہے۔ پورے ملک میں آٹے کا بحران تو جاری ہی تھا ، اب چینی کا بحران بھی شروع ہو گیا ہے۔آٹے اور چینی سمیت ہر شے کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں۔ دالیں ،چاول، مصالحہ جات ، سبزیاں ، چائے کی پتی ، دودھ کون سی چیز ایسی ہے کہ جس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ نہیں کردیا گیا ہے۔ دوائیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور ان کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ا س کے جواب میں شہریوں کی تنخواہیں تو کیا بڑھائی جاتیں ، انہیں بے روزگاری کا تحفہ دیا گیا۔ اب تو معاملات واضح ہوگئے ہیں کہ ملک میں آٹے کا بحران تھا نہیں بلکہ پیدا کیا گیا ہے۔ اسے عمران خان کی حکومت کی ناکامی کہا جائے یا بیڈ گورنس کہ آٹے کا بحران پیدا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور انہیں عبرتناک سزا دینے کے بجائے کہا جارہا ہے کہ ملک بھر میں سستے آٹے کے سٹال لگائے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں، چور بازاری کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے چند مقامات پر سستے آٹے کے سٹال لگانے کا مطلب واضح ہے کہ یہ ذخیرہ اندوز سرکار کی صفوں میں شامل ہیں۔ شوگر مافیا کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں کہ درجنوں شوگر ملوں کے مالک تو صرف زرداری اور شریف خاندان ہی ہیں۔بقیہ شوگر ملوں کے مالکان حکومت میں بیٹھے ہیں یا پھر بااثرکلب کا حصہ ہیں۔پاکستان میں گنّے کا کرشنگ سیزن سرکاری طور پر نومبر میں شروع ہوجانا چاہیے مگر شوگر ملوں کے مالکان نے بائیس جنوری تک گنے کی کرشنگ شروع نہیں کی ، اس کا جواب ان ملوں کے مالکان سے نہ صرف طلب کیا جانا چاہیے بلکہ اس پر انہیں بھاری جرمانہ بھی کیا جانا چاہیے۔ گنّے کی کرشنگ بروقت شروع نہ کرنے کا دو طرفہ نقصان ہوا ہے۔ سب سے پہلے تو کاشتکار مارے گئے کہ ان کی پیداوار بروقت فروخت نہیں ہوسکی اور گنا سوکھنے سے وزن کم ہونے کی وجہ سے انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ پورے پاکستان کے باسیوں کو چینی کی اضافی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے جبکہ اس کا فائدہ چند سو مالکان اٹھارہے ہیں۔ تاہم اس پر بھی سرکار خاموش ہے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے جیسے نعروں کی گردان جاری ہے۔ سرکار میں بیٹھے ہوئے تمام ہی معاشی دانشور جانتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کو روکنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ گوداموں پر چھاپا مارا جائے یا پھر ریٹیل میں فروخت کرنے والے دکانداروں کو گرفتار کرکے ان پر بھاری جرمانے عاید کیے جائیں۔ جتنے بھی بڑے ذخیرہ اندوز ہوتے ہیں ، انہوں نے اپنی اجناس کے ذخیرہ کے عوض بینکوں سے کروڑوں روپے کے قرض حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ ذخیرے بینکوں کے پاس گروی ہوتے ہیں۔ چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کاآسان ترین طریقہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان تمام بینکوں کو ہدایت جاری کرے کہ چینی اور گندم کے عوض جاری کیے گئے قرض واپس لے لیے جائیں گے۔ جیسے ہی بینک قرض واپس لینے کے نوٹس جاری کرتے ہیں ، یہ ذخیرہ اندوز اپنے ذخیرے کو مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ بینک کا قرض واپس کرسکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تمام طریقوں کوجانتے بوجھتے سرکار میں بیٹھی ہوئی مافیا کوئی موثر اقدام کرنے کے بجائے یا تو زبانی توپیں چلاتی رہتی ہے یا پھر سستے آٹے کے سٹال جیسے نمائشی اقدامات کرکے لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ عمرا ن خان بھی اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کو لانے والے سلیکٹرز بھی کہ پاکستان میں مہنگائی کا طوفان مصنوعی ہے اور یہ سب کچھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بیٹھے آئی ایم ایف کے کارندوں کا کیا دھرا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سربراہ رضا باقر ہی صرف آئی ایم ایف کے ملازم نہیں ہیں بلکہ اسٹیٹ بینک میں اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ ہی درمیانے درجے کی انتظامیہ میں بھی ان کی شمولیت جاری ہے۔ مرتضیٰ سید کی اسٹیٹ بینک میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر تعیناتی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مہنگائی کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کے بجائے چور بازاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اس الزام کو درست ثابت کرتی ہے کہ عمران خان مصنوعی مہنگائی کے طوفان میں عوام کو غرقاب کرکے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں۔ پاکستانی عوام کبھی سی این جی بھروانے کیلئے رات بھر لائن میں کھڑے ہوتے ہیں تو کبھی سستا آٹا خریدنے کیلئے دن بھر سستے آٹے کے سٹال کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ قدرتی گیس اور بجلی کے نرخوں میں کئی گنا اضافے نے ان کے کس بل پہلے ہی نکال دیے ہیں۔ اب نہ تو کسی کو کرتار پور یاد ہے اور نہ ہی سقوط کشمیر۔ اخبارات اورالیکٹرونک میڈیا میں آٹا اور چینی ہی چھایا ہوا ہے مگر پاکستان میں عمران خان نیازی اور ان کے سرپرست خوش ہیں کہ پاکستانی قوم کو مہنگائی کے سمندر میں غوطے دیے جا رہے ہیں۔ آٹے، چینی سمیت ہر شے کی مہنگائی سرکاری کرپشن ہے۔ شوگر مافیا میں 45 فیصد حصہ حکمرانوں کا ہے۔عمران خان کے برسراقتدار آتے ہی پٹرول و گیس کی قیمتوں میں جو اضافہ شروع ہوا ہے ، وہ اب تک تھمنے میں نہیں آیا۔ بجلی کے نرخ ماہانہ بنیادوں پر بڑھائے جارہے ہیں تو اب گیس کی قیمتوں میں 214 فیصد اضافے کی خبر سنادی گئی ہے۔ یعنی گیس کے نرخوں میں دگنا سے زاید اضافہ جو اطلاعات کے مطابق یکم فروری سے نافذ العمل ہوگا۔
گزشتہ برس جون ہی میں جب ملک میں گندم کی قلت کے اشارے آنے شروع ہوگئے تھے تو وفاقی کابینہ نے گندم کی برآمد پر پابندی لگانے سے انکار کردیا۔ گندم کی برآمد پر پابندی پر عملدرآمد ستمبر میں اس وقت کیا گیا جب کھیت چگ کر چڑیاں اْڑ چکی تھیں۔ اکتوبر سے ہی گندم کی قلت کا شور مچا کر بتدریج قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کردیا گیا تھا مگر جنوری میں تو گویا آٹے کی قیمت کو پر ہی لگ گئے۔ نہ صرف آٹا بلکہ چینی سمیت دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ کردیا گیا۔ اس کے جواب میں ذمہ دار افراد اور ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں ہی سے کام چلا رہے ہیں۔
دفاعی حکمت عملی کے تحت گندم کے وافر ذخائر ملک میں رکھنے کی واضح پالیسی موجود ہے ، اس کے باوجود کیسے اور کیوں کر گندم کے گودام خالی کردیے گئے ، یہ اہم سوال ہے جس کی ذمہ دار وفاقی کابینہ بھی ہے جو اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے محض عمران خان کے ربر اسٹیمپ کا کام کررہی ہے۔ پاکستانی قوم کے ساتھ یہ سفاکانہ مذاق ہی ہے کہ پہلے بلا سوچے سمجھے گندم برآمد کر دی گئی اور اب اس کی درآمد پربھاری زرتلافی دیا جائے گا۔ملک میں پہلے ہی زرمبادلہ کا بحران ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کیلئے بھاری سود پر قرضے لیے جارہے ہیں مگر اس خوفناک سکینڈل کے کسی ایک بھی کردار کو کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اسی طرح گندم کی ذخیرہ اندوزی کرکے عوام سے اربوں روپے سمیٹنے والوں کو بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔جب عمران خان مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے اور حقیقی قیمتوں پر اشیائے صرف کی فراہمی عوام کو یقینی نہیں بناسکتے تو اقتدار کی کرسی پر انہیں بٹھانے والے سلیکٹروں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •