Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ظلم کی تصویر۔۔۔بے حس عالمی ضمیر: محمد قیصر چوہان

 
دنیا کی سیاست کا مرکزی نقطہ ’’دہشت گردی‘‘ کا خاتمہ بنادیا گیا ہے۔ اس نصب العین کے باوجود دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ کیونکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد امریکااور اسرائیل سمیت دیگر عالمی طاقتیں اور ان کی خفیہ ایجنسیاں دنیا بھر میں دہشت گردی کی پشت پناہ ہیں، اس کے ساتھ ہی ریاستی دہشت گردی کی پشت پناہی بھی کررہی ہیں۔ اس دوغلی پالیسی کی سب سے بڑی شہادت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ ہے جس سے اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ عا لمی دہشت گرد ممالک امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی کی بدولت بھارتی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریکِ آزادی کو سبوتاژ کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنالیاہے۔ نریندرمودی نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے ریاست کو دو یونین علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں منقسم کردیا ہے۔خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ اس سے قبل اِس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اس کے ساتھ سرکاری نوکریوں اور ریاستی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق بھی صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔لیکن اب آئین کی شق 370 اور 35 اے کو منسوخی کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو آبادی، جغرافیہ اور مذہبی لحاظ سے تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم کیا جا رہا ہے، اس لئے اب وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسانے کا عمل تیز کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر تین حصوں جموں، وادی کشمیر اور لداخ میں منقسم ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ لداخ اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی رہتے ہیں۔وادی کشمیر دنیا میں جنت نظیر خطہ ہے جو اپنے خوبصورت دریاؤں، شفاف اور جگمگاتی جھیلوں اور آبشاروں سے ستاروں کی مانند برستے جھرنوں، گل رنگ و گل رخ کشمیریوں اور وہاں کی پاک حسین تہذیب و معاشرت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن 72سال سے زاید یہی جنت نظیرخطہ انگریزوں اور ہندو ؤں کی ساز باز اور 95 فیصد مسلم آبادی پر مسلط ہند مہاراجے کے غلط اور غیر منصفانہ فیصلے کے نتیجے میں جہنم بن چکاہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ آج بھی آزادی کی صبح کے متلاشی ہیں۔ جہاں پھولوں کی خوشبوں کی بجائے بارود کی ہمک غالب ہے، جہاں کی سرزمین پھولوں کی رنگینی کی بجائے کشمیریوں کے خون سے رنگیں ہو چکی ہے۔اس وقت مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ سال پانچ اگست سے وسیع پیمانے پر کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل و حرکت اور عوامی جلسوں اور جلوسوں کے انعقاد پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ پورے جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 180 دن گزر چکے ہیں۔کشمیریوں پر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم کی ہر حد کو پار کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کی نشل کشی کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے اور بھارت کی 9 لاکھ فوج گزشتہ 72 سال سے بے رحمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا رہی ہے ۔کشمیریوں کے اس قتل عام پر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ اوآئی سی ایک مردہ ادارے کی صورت میں سامنے موجود ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھر میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پھیلی ہوئی انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظمیں اگر کسی ملک میں کسی ایک شخص پر ہی جائزو ناجائز ظلم کی اطلاع پاتی ہیں تو چیخنا چلانا شروع کر دیتی ہے لیکن بھارت کے زیر تسلط وادی کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پر توڑے جانے والے ظلم و ستم کا سلسلہ 72 سال سے دراز ہے لیکن انسانی حقوق کی تحفظ کی تنظیمیں اور دنیا بھر کے ملک خاموشی کے ساتھ یہ تماشا دیکھ رہے ہیں اور عالمی میڈیا کو بھی بھارتی سکیورٹی فورسز کا ظلم و تشدد نظر نہیں آتا۔کشمیر ظلم کی تصویر بن چکا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بے حسی کی زندہ وجاوید مثال بن گئے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کو اکتوبر 1947 میں بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہروخود اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے۔اور انہوں نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے ۔اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں جنگ بندی کرادی تھی اور اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیاجائے۔بھارتی حکومت نے جنگ بندی پر عملدرآمد کے آغاز پر ہی اپنی فوج بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے کشمیر میں پہنچانا شروع کر دی تھی ۔اور جب بھارت نے اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کر لی تو بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ریاست میں رائے شماری کا اپنا وعدہ نت نئی تاویلات میں الجھا کر رکھ دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نا صرف اقوام عالم کے سامنے عالمی ادارے کے رو برو کیا گیا وعدہ فراموش کردیا بلکہ جموں وکشمیر کو اپنا جز ولاینفک قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کر دی۔بھارت خود کو سیکولو یالا مذہب ریاست کہتا ہے حالانکہ بھارت میں انتہا درجہ کا مذہبی تعصب پایا جاتا ہے اور یہاں مسلمان، عیسائی، سکھ سمیت تمام اقلیتی مذاہب کے لوگ ہندوؤں کے تعصب کا شکار رہتے ہیں اس وقت بھارت میں تقریباً 67 آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔آزادی ہر انسان کا حق ہے اور اگر کشمیری اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ساری دنیا کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
بھارت نے دنیا کی ہر عیاری، دھوکا دہی، جعل سازی، دھونس، دھاندلی، ظلم وتعدی کا سہارا لے کر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر آفرین ہے کشمیری قوم کے عزم و ہمت پر کہ جو72سال سے زایدعرصہ سے مسلسل ایک ہی حرف انکار بلند کیے ہوئے ہیں کہ وہ بھارتی نہیں، نہ بھارتی بن سکتے ہیں۔ کشمیری آج بھی پنڈت نہرو کے اقوال اور وعدوں کی چتا کو کاندھوں پر اْٹھائے پھر رہے ہیں مگر بھارت بطور ریاست ان اصولوں اور وعدوں سے انکاری ہوچکا ہے۔ کشمیر یوں کا بھارت کے ساتھ یہی یک نکاتی جھگڑا ہے۔ وہ بھارت سے بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور جنگ آزادی کے بانی پنڈت نہرو کے ’’اقوالِ زریں‘‘ کی پاسداری چاہتے ہیں۔ وہ ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ نامی شہرہ آفاق خود نوشت کے مصنف کشمیر کو اپنی محبوبہ کہنے والے پنڈت نہروکی تقریروں اور وعدوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔وقت کے گھڑیال پرکشمیریوں کے جذبات کی سوئی 1948 کے پہلے یوم سیاہ سے 2020 تک انہی وعدوں پر اٹک کر رہ گئی ہے۔ جو بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرنے کئے تھے۔بھلا نظریات کے اس تسلسل کو اس دھارے کو فوج کے ذریعے موڑا جا سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پنڈت نہرو کے وعدے تاریخ کا ایسا قرض ہیں اور بوجھ ہیں جنہیں چکائے بغیر، اتارے بغیر بھارت کو سکون وآرام حاصل نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت، دنیا کے سب سے بڑی جمہوریہ، مغرب کی پسندیدہ ترین ریاست، اسرائیل اور امریکا جیسے طاقتور ملکوں کی اسٹرٹیجک پارٹنر، معاشی آسودگی، سیاسی استحکام، داخلی امن وامان کی بے شمار منزلیں عبور کرنے، میزائلوں کا انبار لگانے کے باوجود پنڈت نہرو کے وعدوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی کشیدگی کی کلید کشمیر ہے اور کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رکھ کر دونوں ملکوں میں مثالی تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔
کشمیریوں کی وکالت کاسب سے بڑاذمہ دار ملک پاکستان ہے لیکن پاکستان کی حکومت کا رویہ ایسا ہے جیسا کہ مختلف کہانیوں اور واقعات میں غیر ذمے دار حکمرانوں کا بتایا جاتا تھا۔ مشاعرے، مباحثے یا حلوہ پکانے کے احکامات گویا ایک مذاق تھا۔ اور یہ مذاق اب بھی جاری ہے۔ اب ہمارے حکمران جوابی طور پر صرف بیانات کی توپیں چلاتے ہیں۔ جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکمرانوں کی کمزوری اور بھارت کی عیاری کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر غائب ہو جائے گا، تو ایسا ہی ہوگیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس کے بعد متنازع شہریت بل کے بعد یہ یقین ہو چلا تھا کہ اب کشمیر اصل مسئلہ نہیں رہے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اس پر بابری مسجد کا متنازع فیصلہ بھی ہمارے حکمران خاموشی سے پی گئے بلکہ عین اسی روز سکھوں کے نام پر قادیانیوں کیلئے کرتارپور کا راستہ کھول دیا گیا۔اقوام متحدہ ، او آئی سی، حکومت پاکستان، انفرادی طور پر امریکا، برطانیہ اور یورپی ممالک نے ایک ہی بات کہنا شروع کردی کہ کرفیو اٹھایا جائے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں، مواصلاتی رابطے بحال کیے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیر کو آسان نہ لے۔ عالمی برادری تسلیم کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا فاشسٹ نظریہ مسلط ہے۔ مودی کی سفاک پالیسیوں کا نشانہ مسلمان ہیں۔ وہ پتا نہیں کس کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بھارت کا نظریہ خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مقبوضہ وادی میں 80 لاکھ افراد محاصرے میں ہیں۔ خون خرابا ہو سکتا ہے۔ یہ خون خرابا تو ہو رہا ہے۔ بھارت روز مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے، لیکن جنگ نہیں ہوسکتی۔ مسلمانوں کا خون تو بہتا رہے گا۔ بھارتی فوج کا خون محفوظ رہے گا اور پاک فوج کو بھی اس خون خرابے سے دور رکھا جا رہا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کا تازہ بیان بھی اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر غت ربود ہو چکا،اب جو کچھ ہو گا کشمیریوں کی اپنی جدوجہد سے ہو گا۔ پاکستانی حکمران کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ ایلس ویلز نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کشمیر میں تمام سیاسی رہنماؤں کو فوراً رہا کرے۔ اس سے کشمیریوں کا مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بھارتی حکومت ہمارے سفارتکاروں کو کشمیر تک مسلسل رسائی دے۔ اور بہت بڑی بات یہ ہے کہ ہم بھارت کے متنازع شہریت بل کا کڑا جائزہ لے رہے ہیں۔ تو اس سے کشمیریوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، اگر سب مل کر کشمیریوں کے حق خودارادی کے بجائے انسانی حقوق، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری، سفارتکاروں کی رسائی اور موبائل اور انٹرنیٹ کی بات کریں گے تو یہی باتیں ہوں گی لیکن کشمیریوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کشمیر میں سیاسی رہنما گرفتار ہی اس لیے ہوتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کو ان کا حق نہیں دینا چاہتا۔ کشمیر میں مظالم بھی اس لیے ہو رہے ہیں کہ بھارت جذبہ حریت کو دبانا چاہتا ہے۔ وہاں انٹرنیٹ سروس، موبائل وغیرہ بند ہونے اور غیر ملکی سفارتکاروں یا انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی نہ دینے کا مقصد بھی یہی ہے کہ بھارت کشمیر کا اصل مسئلہ چھپانا چاہتا ہے۔ یہ سارے مسائل کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کے سبب ہیں اگر دنیا کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا چاہتی تو آسانی سے کر لیتی۔ اسے مطالبات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امریکا جس چیز کو درست سمجھتا یا قرار دیتا ہے اس کے مطابق فیصلے کر ڈالتا ہے۔ اس نے عراق پر حملہ کیا، افغانستان پر حملہ کیا، دنیا کے 14 اسلامی ملکوں میں اس کی فوج برسرپیکار ہے۔ سلامتی کونسل نے کسی ملک کو اس کی اجازت نہیں دی امریکا نے خود فیصلہ کیا اور جہاں چاہا کود گیا۔ عمران خان، امریکا یا عالمی برادری سے یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کو آسان نہ لیں۔ ارے کشمیر سے زیادہ آسان تو کوئی کیس نہیں ہے، اقوام متحدہ کی قرارداد بھی موجود ہے اور کشمیریوں کا فیصلہ بھی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ مدعی سست ہے۔ ہمارے حکمران ہی ہمت سے عاری ہیں، بلکہ سب مل کر اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب بھارت وہاں ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں کے برابر کر لے گا۔ ویسے بھی مسلمانوں کو پابند کرکے چند لاکھ کشمیریوں سے بھی استصواب میں اپنے حق میں ووٹ ڈلوائے جا سکتے ہیں۔ خوامخواہ دنیا کو خوفزدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جب امریکا کو افغانستان، عراق، شام، فلسطین وغیرہ میں جنگ کا خوف نہیں تھا تو کشمیر میں کیوں خوف دلایا جا رہا ہے۔ جس دن بھارت کو کشمیر میں جنگ کا خوف تو دور کی بات ہے شائبہ بھی ہوگیا اس دن کشمیر میں صورتحال بدلنا شروع ہو جائے گی۔مسلم ممالک کے حکمران اگر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کریں توبھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ لیکن اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔ اگر 72برس سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جا رہا تھا تو آج اسے دشمن کے مکمل قبضے میں دیکھ کر اطمینان کیوں ہے۔ اسے چھڑانے کیلئے بے چین کیوں نہیں ہیں۔ احتجاج، مطالبے اور مظاہرے کرنا حکمرانوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہمت ہے تو اقدام کریں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں پاکستان کو مجاہد قیادت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیر مذاکرات اور بیانات سے آزاد نہیں ہو گا بلکہ کشمیر کی آزادی کا راز صرف اور صرف جہاد میں ہی مضمر ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •