Voice of Asia News

یومِ کشمیر، کون کیا روش بدلے: محمد نوازطاہر

 
مقبوضہ کشمیر میں حق خود اردیت کے عالمی فیصلے کی تائید ،کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی سے اظہارِ یکجہتی اور مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر کے خلاف پانچ فردوری کو پاکستان میں سرکاری سطح پر یومِ کشمیر منایا جاتا ہے جسے دنیا بھر میں کشمیریوں کے موقف کی تائید کرنے والے بھی مناتے ہیں اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھارت کی مذمت جبکہ اقوامِ متحدہ سے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ قیامِ پاکستان سے اب تک کشمیر یوں کے موقف کی تائید پاکستان نے نصب العین بنا کھا ہے اور جبکہ پانچ فروری کی یومِ کشمیر منا نے کا یہ تیسراعشرہ مکمل ہو رہا ہے جس کی ابتدا سنہ انیس سو نوے میں اس وقت کے فوجی حمایت یافتہ سیاسی اتحاد ( اسلامی جمہوری اتحاد ) نے کی تھی ۔ مسلم لیگ ن کے بانی میاں نوازشریف کی سربراہی میں اس اتحاد کے انتخابی منشور میں کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے تک بھارت سے دوستانہ تعلقات ( اس سے مراد سفارتی تعلقات نہیں ) نہ بڑھانے اور ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ سب سے اہم نکات تھے۔ تبھی یہ نعرہ ’ ’بھارت مذمت نہیں مرمت سے مانے گا‘‘ مقبول ہوا تھا۔کشمیریوں کے موقف کی غیر مشروط حمایت پاکستان کے عوام کا قومی اتفاقِ رائے ہے اور تمام سیاسی جماعتیں یہی موقف رکھتی ہیں ۔ سنہ انیس سو ترانوے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں پارلیمان کی قومی کشمیر کمیٹی بنائی گئی تو اُس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اسے قومی کشمیر کمیٹی قرار دیکر بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراﷲ خوں کو اس کا سربراہ بنایا جنہوں نے اپنی باقی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس کمیٹی کو خاص طور پر عالمی سطح پر متحرک کیا ۔
اب ہر سال کشمیر ڈے منایا جاتا ہے مگر اس سال اس کی اہمیت اس لئے بڑھ گئی ہے کہ بھارت نے اقوام ِ متحدہ کے فیصلے پر بھی کاری وار کرتے ہوئے کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو سرکاری قبضہ قراردیدیا ہے اور اس مقصد کیلئے انتہائی بھونڈے انداز میں اپنی پارلیمانی طاقت کا بھی استعمال کیا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے پارلیمان میں اٹھائے جانے والے اِس قدم کو بھارت کی سیاسی ( اپوزیشن )جماعتیں بھی پارلیمان پر شب خون مارنے جیسا اقدام قراردیتی ہیں اور اس حتی المقدور مذاحمت کر رہی ہیں بھلے مقامی طور پر ان کا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے موقف کچھ بھی رہا ہو ۔ دنیا کی تاریخ میں طویل ترین کرفیو کا نفاذ اور اس کے بعد مسلسل بندشیں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی ہمت توڑنے میں بُری طرح ناکام رہا ہے بلکہ ان کے جذبے میں مزید جوش پیدا ہوا ہے اور پوری دنیا ان کے،عزم و استقلال کی معترف ہوئی ہے اور بھارتی انتہا پسندی کا بھی مشاہدہ کررہی ہے ۔ بھارت نے قبضے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کردیا تھا جسے کشمیریوں اور پاکستان نے کبھی تسلیم نے کیا بلکہ اسے ہمیشہ اپنی شہ رگ قراردیا ہے ۔ اور کشمیر کے بغیر پاکستان کو نا مکمل کہا جاتا ہے جبکہ بانی پاکستان نے ’ کشمیر بنے گا پاکستان ‘ ایک نصب العین دیا جو اب کشمیریوں کا نعرہ ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو یہ باور کروایا کہ بھارت توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے جس پر انتہا پسند مودی سرکار نے خود ہی مہر لگادی ہے ، یہ مہر صرف کشمیریوں پر مظالم کی انتہا سے ہی نہیں بلکہ بھارتی شہریت کا متعصب قانون بنا کربھی بھارت کے ترنگے کو پوری دنیا میں سیکولر سوچ کے دعوے سمیت رسوا کروادیا ہے اور اس منفی اقدام پر پورے بھارت میں وہاں کئے باشعور لوگ مظاہرے کررہے ہیں جن لوگوں کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کے بارے میں گمراہ کیا گیا تھا، اب وہ بھی حقائق کو جاننا ، سمجھنا شروع ہوگئے ہیں اورکشمیریوں کے موقف کے حامی بنتے جارہے ہیں ساتھ ہی بھارت کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کی حمایت بھی بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جو خالصتان تحریک کو بارود سے کچلنے کے بعد لگتا تھا کہ ٹھنڈی پڑ گئی ہیں ، جہاں تک خالصتان تحریک کا معاملہ ہے تو یہ نہ ختم ہوئی ہے نہ ہی اس نے دم توڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ موثر اور جاندار ہوگئی ہے، اس تحریک کے سرخیلوں نے سکھوں کی نسل کُشی رکوانے کیلئے حکمت عملی تبدیل کی ہے اور پوری دنیا میں اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے اور ثابت کیا ہے کہ سکھ درحقیقت امن پسند ہیں اور ان کی تحریک بھی پُر امن تھی جسے ریاستی جبر کے ساتھ پرتشدد بنایا اور دکھایا گیا ، پھر نسل کُشی کی گئی ۔ برطانیہ میں خاص طور پر اسے پذیرائی ملی ہے ، کینیڈا میں بھی اس کا پورا زو بتایا جاتاہے ۔ خالصتان تحریک چلانے والے رواں سال عالمی ریفرنڈم کروارہے ہیں جسے ریفرنڈم ٹوئنٹی توئنٹی (2020) قراردیا گیا ہے۔ بھارت میں سکھ برادری کھل کر کشمیریوں کے موقف کی حمایت کرتی ہی ، پانچ فروری کو یا جب بھی کشمیری دنیا بھر میں جہاں بھی مظاہرے کرتے ہیں ، سکھ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان میں شریک ہوتے ہیں ۔ یوں اب مسئلہ کشمیر پوری دنیا کو واضح طور پر سمجھ آرہا ہے ۔
ایک بات مقامی سطح پر بہر حال سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب بھارت نے کشمیر میں جبر کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اوراس کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری تھے تو انھی دنوں میں ہی قومی کشمیر کمیٹی کے ایک سابق سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مقامی سیاسی معاملات پر دارالحکومت میں دھرنا دیا جس سے بھارت مخالف مظاہروں کی شدت میں کمی واقع ہوئی اورپھر یہ مظاہرے نہ ہونے کی حد تک ہی رہ گئے ، اب پانچ فروری کو یومِ کشمیر کے موقعے پر ممکنہ طور پر مظاہروں کا تسلسل بن سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو دوبارہ سے کوئی دھرنا ان مظاہروں میں کمی کا باعث نہیں بننا چاہئے ۔ لیکن اگر تاریخ دہرائی گئی تو پھر نہتے اور مظلوم کشمیریوں کیلئے ان پر جبر کرنے والے انتہا پسندوں اور پاکستانیوں میں فرق کیا رہ جائے گا ۔ یہ سوچنا حکومتِ وقت ہی کی ذمہ داری نہیں ، پاکستان کے عوام کی اس سے پہلے ذمہ داری ہے جبکہ پاکستان میں کشمیر ایک غیر متانذع ایشو ہے اور سبھی یک زبان کشمیریوں کے حامی بھی ہیں ۔ اس حمایت کا ثبوت ثابت قدمی سے ہی دیا جاسکتاہے ۔ سداتھ ہی حکومت کو یہ جائزہ بھی لینا ہوگا کہ کشمیریوں کی حمایت کا جو جمعہ کے جمعہ ایک گھنٹے کی اظہارِ یکجہتی کا فیصلہ کیا گیا تھا ، اس کے اثرات کیا ہیں اور اسے تبدیل کرکے کیا نئی اور موثر حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے جس سے کشمیریوں کی منزل آسان بنائی جاسکے اور حکمت عملی کا وزیراعظم کو خود اعلان کرنا ہوگا ۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •