Voice of Asia News

بلوچستان کے دلکش سیاحتی مقامات : محمد شاہ دوتانی(کوئٹہ)

پاکستان میں سینکڑوں سیاحتی مقامات ہیں۔پاکستان کے شمالی حصے میں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مختلف قلعے ، تاریخی مقامات،آثار قدیمہ ،وادیاں ،دریاں،ندیاں،
جنگلات ،جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہیں۔سکردو میں دیوسائی کا خوب صورت ٹھنڈا صحرا قدرت کی بے نظیر کاری گری ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بھی سیاحوں کیلئے بڑے پرکشش ہیں۔ بلوچستان کے خوب صورت خشک پہاڑ،زیارت،کوئٹہ اور گوادر اپنی مثال آپ ہیں۔ سندھ کا ساحل سمندر،کراچی،مکلی کا قبرستان،گورکھ ہل سٹیشن دادو،صحرائے تھر،موئن جو دڑو اور بہت سے شہر اور دیہات اپنی خوب صورتی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا تاریخی شہر ملتان،بہاولپور کا صحرائے چولستان اور ضلع ڈیرہ غازی خان کا خوب صورت علاقہ فورٹ منرو بھی سیاحتی اہمیت کے حامل ہیں۔اگر ہم بلوچستان صوبے کی بات کریں تو پورا بلوچستان بے شمار حیرت انگیز اور خوبصورت مقامات سے بھرا پڑا ہے مگراسکے پہاڑ اور صحرا بہت پرکشش ہیں۔بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے ۔ اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خیبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ اس کی 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ جبکہ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔ بلوچستان کے30 اضلاح ہیں۔جن میں کوئٹہ،سبی، آواران،بارخان،بولان،پنجگور،پشین،جعفرآباد،جھل مگسی ،چاغی ،خاران ،خضدار،ڈیرہ بگٹی،زیارت،ژوب ،شیرانی ،قلات،قلعہ سیف اﷲ ،قلعہ عبداﷲ ،کچھی،کوہلو،کیچ،گودر ،لسبیلہ،مستونگ ،لورالائی
،موسی خیل،نصیرآباد،نوشکی اور واشک شامل ہے۔
بلوچستان فطری ماحول پر مبنی خوبصورت مناظر، دلکش اور دلفریب سیاحتی مقامات اور ثقافتی ورثے سے جگمگاتی سرزمین ہے۔ خوبصورت لینڈ اسکیپ سے سجی سرزمین بلوچستان کا ہر رنگ حسین اور ہر روپ ہی سہانا ہے۔اس سرزمین پر کہیں مٹیالے، کہیں سرخی مائل تو کہیں سرسبز پہاڑ ہیں تو کہیں خوبصورت فطری مناظر کا حْسن بکھیرتی وادیاں ہیں۔ان وادیوں میں قدرتی درے، غار اور صاف پانی کے گنگناتے چشمے دیکھنے والوں کو دعوت نظارہ دیتے نظر آتے ہیں۔دوسری جانب مکران سے ملحقہ 7 سو کلومیٹر سے زائد طویل سمندری پٹی ہے جہاں کنڈ ملیر جیسا دلکش ساحل ہے۔ پسنی کے سمندر میں قدرتی جزیرہ استولہ اور پھر ہنگول کا وسیع وعریض نیشنل پارک بھی ہے۔یہاں نادر جنگلی حیات اور ایک پہاڑی پر قدرت کا شاہکار امید کی شہزادی کا مجسمہ ہے جو دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتا ہے۔یہی نہیں بلکہ کوئٹہ کے نواح میں خوبصورت وادی ہنہ، اُوڑک اور ولی تنگی، بولان میں پیرغائب، کھجوری یا خضدار میں مولا چوٹک کا علاقہ یا پھر زیارت میں صنوبرکے جنگلات ہوں یا وہاں واقع قومی ورثہ کی حامل دیدہ زیب قائداعظم ریذیڈنسی، یہ تمام سحرانگیز مقامات سیاحوں کیلئے جنت سے کم نہیں ہیں۔بلوچستان کو مہرگڑھ کی صورت میں 9 ہزار سال قدیم تہذیب کا مسکن ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے ملی سیکڑوں سال قدیم ڈائناسارز جسے بلوچی تھرم کہا جاتا ہے، ان کی باقیات ہوں یا پنجگور میں پائی جانے والی قدیم قبریں، تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو ان مقامات کی کشش یہاں کھینچ لاتی ہے۔کیچ میں سسی پنوں کا قلعہ ہو، لسبیلہ میں شیریں فرہاد کا مزار ہو یا اندرون سنگلاخ پہاڑوں میں ہنگلاج کا مندر، یہ سب امن اور محبت کے متوالوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔بولان اور چمن کے پہاڑوں کا سینہ چیر کر تعمیر کی گئی انگریز دور کی سرنگیں اور وہاں بچھی ریلوے لائنیں بھی سیاحوں کو حیران کردیتی ہے۔ اسی طرح بولان اور ہرنائی کے پہاڑوں میں پائے جانے والے غار قدرت کا شاہکار ہیں۔ ان ہی غاروں میں سے ایک بولان کے علاقے میں واقع ملک کا سب سے بڑا غار ہے، جس کی لمبائی ایک ہزار 270 میٹر ہے۔سبی کوئٹہ ریلوے سیکشن ریلوے انجیئنرنگ کا شاہکار تو ہے ہی لیکن کوئٹہ سے چمن ریلوے ٹریک بھی کسی طرح دلچسپی سے کم نہیں۔ پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی ریلوے لائن، پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی سرنگیں، پہاڑی ندی نالوں پر تعمیر پل، پہاڑی دروں میں گونجتی ٹرین کے انجن کی سیٹی اور ریل گاڑی کی بل کھاتی بوگیاں آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں۔ بلوچستان میں سب سے پہلی ریل گاڑی جنوری1880 میں سبی تک آئی۔ مارچ1887 میں پہلی گاڑی ہرنائی ، شارگ، چھپر رفٹ، کچ، بوستان کے راستے کوئٹہ پہنچی۔ اس کے ساتھ ساتھ سبی سے ایک چھوٹی ریلوے لائن درہ بولان سے ہوتی ہوئی کوئٹہ تک بھی ڈالی گئی۔جسے 1895 میں الائنمنٹ تبدیل کر کے سبی ، آب گم ، مچھ، کولپور کی موجود لائن کی صورت دی گئی۔ یہ دونوں لائنیں کافی عرصہ تک ایک ساتھ استعمال ہوتی رہیں۔ لیکن 11 جولائی 1942 کو شدید بارش کی وجہ سے چھپررفٹ جو تین کلو میٹر طویل پہاڑی ہے وہاں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پڑنے والے شگافوں سے اس سیکشن کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا۔ اس جگہ ایک گینگ مین تعینات ہوتا تھا جو پیدل اس تین کلومیٹر علاقے کو چیک کرتا اور پھر وہ سگنل ڈاؤن کرتا تھا تو ریل گاڑی چلتی تھی۔ کوئٹہ سبی لائن کی لمبائی 140کلومیٹر ہے جس میں 20 سرنگیں آتی ہیں۔ سب سے طویل سرنگ پنیر سرنگ ہے جو تقریباً ایک کلومیٹر طویل ہے۔آب گم سے کولپور 37 کلومیٹر تک چڑھائی زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈبل انجن لگایا جاتا ہے اور اس حصہ میں ڈبل ٹریک بچھایا گیا ہے۔کوئٹہ صوبہ بلوچستان کی مثالی روایات کا امین شہر ہے یہاں بسنے والا ہر فرد اپنی قابلِ فخر روایات کی پاسداری کے تعلق کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اعلیٰ اقدار کی حامل انہی روایات میں سے مہمانوں کی تواضع صوبے کی ایسی روایت ہے جو اپنا ثانی نہیں رکھتی اور کوئٹہ شہر میں موجود ہوٹل اس روایت کے ناصرف امین ہیں بلکہ اپنی خدمات سے اپنے معزز صارفین کا دل جیتنے کے علاوہ صوبے کی روایتی مہمان داری کے وصف کی علامت بھی ہیں۔ کوئٹہ اپنے روایتی کھانوں کے حوالے سے ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ سجی، کھڈا کباب، تریت، لاندہی، تکہ کباب، روش، جائنٹ اورتندور کی خمیری روٹیاں اپنی مثال آپ ہیں۔کوئٹہ کی شہرت کی ایک اور وجہ تسمیہ اس کے موسم بھی ہیں۔ گرمی، سردی ،برف ، بارش چاروں عناصر کی موجودگی کوئٹہ کے موسم کو دو چند کر دیتی ہے۔ سیاحت کے حوالے سے موسم کا عمل دخل بھی نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ سال کے 7 مہینے کوئٹہ کا موسم خوشگوار رہتا ہے۔کوئٹہ میں شاپنگ کی کشش سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور وہ ہے یہاں کی دستکاریاں۔ جو بلوچستان کا عظیم ثقافتی ورثہ ہیں۔ یہ دستکاریاں صوبے کی تین بڑی اقوام کی مقامی روایات کی بخوبی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ اقوام بلوچ ، پشتون اور براہوی زبانوں پر مشتمل افراد کی شناخت ہیں۔ ثقافت کی شناخت صرف دستکاریوں سے ہی نہیں بلکہ لوک موسیقی، رقص اور پینٹنگز بھی اس کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور کوئٹہ میں یہ تما م اصناف جس ایک مقام پر یکجا نظر آتی ہیں۔وہ ہے ادارہ ثقافت بلوچستان۔
بلوچستان کی تاریخ صدیوں پر مشتمل ہے یہاں پر ایسے درجنوں تفریحی مقامات موجود ہیں، جو اپنی کشش اور دلکشی کے اعتبار سے پاکستان کے کسی مشہور تفریحی مقام سے کم نہیں۔بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ہے۔ اگر کوئٹہ کے تفریحی مقامات کی بات کی جائے، تو وادی اُوڑک کے خوبصورت مقامات، ولی تنگی ڈیم اور ہنہ جھیل کی سیر کیلئے ملک اور بیرون ممالک سے آتے ہیں۔ وادی اُوڑک کی ہنہ جھیل قدرتی حُسن کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے مشرق میں کوہ زرغون ہے۔پھلوں کے باغات سے آراستہ اس وادی میں پانی ہنہ جھیل میں جمع ہوتا ہے اور جب کوہِ زرغون کی اوٹ سے طلوع ہونے والا سورج ہنہ جھیل کے گرد واقع پہاڑیوں میں غروب ہونے لگتا ہے، تو اس کی کرنیں نیلگوں پانی میں سنہرا رنگ بھر دیتی ہیں۔ وادی اُڑک میں ولی تنگی کے نام سے مشہور ایک چھوٹا سا ڈیم بھی واقع ہے۔ یہ کوئٹہ سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر مشرق میں سطح سمندر سے 8,350فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں پر سیاحوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے جو ا س کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ہنہ جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کر کے چھاؤنی میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 20ویں صدی کے اوائل میں برطانوی حکومت نے ایک بند تعمیر کر کے اسے جھیل کی شکل دی۔ بند کی تعمیر 1901ء میں شروع ہوئی اور 1908ء میں اس کی تکمیل کے بعد اسے جھیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ بند کے ساتھ ہی موجودہ کلی حاجی عطا محمد کے مقام پر ایک ہیڈ ورکس بھی تعمیر کیا گیا، جسے ’’سرپل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں سے تقریباً ایک کلو میٹر طویل نہر کے ذریعے ہنہ ندی کا پانی جھیل تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ ہنہ جھیل کے نام کے حوالے سے بھی متضاد روایات ہیں۔ بعض دستاویزات کے مطابق، یہ جھیل برطانوی جنرل، جیک اینڈرسن کی بیگم کے نام سے منسوب ہے، جبکہ بعض مقامی باشندوں کے مطابق، وادی ہنہ میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کا نام ہنہ جھیل پڑا اور اس وادی کا ذکر، احمد شاہ ابدالی کے زمانے کی تاریخ میں بھی موجود ہے۔ برطانوی حکومت نے ہنہ ندی سے پائپ لائن کے ذریعے چھاؤنی کو پانی مہیا کیا تھا اور اس پائپ لائن کا ذکر بلوچستان کے تاریخی گزیٹیر میں بھی موجود ہے۔ ماضی میں ہنہ جھیل کوئٹہ کے مضافات میں واقع، نواں کلی سے ملحقہ کلی کوٹوال اور کلی ترین شار میں موجود باغات کو سیراب کرتی تھی۔ہنہ جھیل 818ایکڑ پر محیط اور 49فٹ گہری ہے اور اس میں کم و بیش 22کروڑ 20لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سیاحوں کیلئے واٹر سپورٹس کی سہولتیں اور جھیل کی سیر سے لطف اندوز ہونے کیلئے کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ہنہ جھیل اور وادی اُوڑک کے قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے بعد عقل انسانی اپنے پروردگار کے جمالیاتی ذوق پر دنگ رہ جاتی ہے۔ جھیل کی چاروں جانب بلند و بالا پہاڑ واقع ہیں، جن کے درمیان یہ ایک بہت بڑے پیالے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ موسمِ سرما میں ہونے والی بارشوں اور برف باری کی بدولت یہ سارا سال پانی سے بھری رہتی ہے، جسے اطراف میں پھیلے کھیتوں اور باغات تک پہنچایا جاتا ہے۔ یوں اس جھیل کو سیاحت کے علاوہ زراعت اور باغ بانی کے لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔سڑک اور جھیل کے درمیان ایک جنگلا نصب کیا گیا ہے۔ اصل جھیل سڑک سے تقریباً 30فٹ نیچے واقع ہے اور سڑک اور جھیل کے درمیان موجود ڈھلوان سطح پر سیّاحوں کیلئے سیڑھیاں، راہ داریاں اور ایک پختہ سائبان بنایا گیا ہے۔ جھیل میں کشتی رانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے، لیکن نجی کشتیاں چلانے کی بجائے ترقیاتی ادارے ہی کے زیر اہتمام کشتیاں اور موٹر بوٹس چلائی جاتی ہیں ، جو سیاحوں کو نہ صرف جھیل بلکہ اْس کے وسط میں واقع جزیرے کی بھی سیر کرواتی ہیں۔ جھیل پر ہر موسم میں سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ سیاح موسم سرما میں برف باری کے نظارے کیلئے یہاں کا رْخ کرتے ہیں، کیونکہ برف باری کے موسم میں اس جھیل کی دل کشی مزید بڑھ جاتی ہے۔
کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ پر 17 کلومیٹر کے فاصلے پر کوئٹہ کی ایک اور منفرد پہچان ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک۔ جہاں سیاح قدرت کے اْس رنگ سے آشنا ہوتے ہیں جو آمیزیشوں سے پاک اور حقیقت سے قریب تر ہے۔ جہاں ہر سو ہر جگہ پروردگار کی تخلیقات کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔1980ء میں اس جگہ کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہ نیشنل پارک 27 ہزار4 سو ہیکٹر پر مشتمل ہے اس نیشنل پارک میں جنگلی جانور مارخور، بھیڑیا، گیدڑ، لومڑی، چکور ، سی سی، گولڈن چیل اور پودوں کی اقسام میں جونیپر، خنجک، جنگلی بادام، جنگلی ایش پائے جاتے ہیں۔کرخسہ اسٹیٹ فاریسٹ جو دس ہزار ہیکٹر پر ہے اْس کو بھی اس پارک میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1990 ء میں کوہ سرخو اور دْز درہ کے علاقے کو بھی بطور گیم ریزرو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ یوں اس وقت ہزار گنجی نیشنل پارک47 ہزار ہیکٹر رقبہ پر موجود ہے۔
بلوچستان کے شہر خضدار کے قریب سیاحتی مقام مولہ چٹوک ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے ،مولہ چٹوک میں دراصل متعدد بڑی اورچھوٹی آبشارہیں۔ آبشاروں سے گرنے والے پانی کی مناسبت سے یہ علاقہ مولہ چٹوک یعنی مولہ کے آبشار کے نام سے مشہور ہے۔ مولہ چٹوک تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں لیکن ان میں سے دو راستے بلوچستان کے شہر خضدار سے نکلتے ہیں۔ مولہ چٹوک خضدار شہر سے شمال مشرق میں اندازاً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مولہ چٹوک پہنچنے کا ایک راستہ جھل مگسی روڈ ہے جو آر سی ڈی ہائی وے پر خضدار شہر کے تقریباً 20 کلومیٹر بعد دائیں جانب نکلتا ہے۔ اس روڈ کا اچھا خاصا حصہ پکا ہے لیکن اس کا 40 کلومیٹرحصہ دشوار گزار ہے۔ مولہ چٹوک پہنچنے کا دوسرا راستہ خضدار سکھر روڈ کا ہے جو تقریباً دس کلومیٹر کے بعد بائیں جانب ایک پتھریلا راستہ ہے۔اس پر صرف فور بائی فور گاڑیاں چل سکتی ہیں۔ مولہ چٹوک تک پہنچنے کے آسان راستے خضدار شہر سے نکلتے ہیں۔ خضدار، کوئٹہ کراچی ہائی وے پر کوئٹہ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ یہ کراچی سے بھی تقریباً اتنے ہی فاصلے پر ہے۔خضدار سے آگے کسی عام اورکمزور گاڑی میں سفر کی غلطی نہیں کرنی چائیے کیونکہ عام گاڑی تفریح کے سارے لطف کو کر کرا کرسکتی ہے۔اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ اسے خضدار ہی سے کرایے پر لیا جائے جو وہاں سے با آسانی مل جاتی ہیں۔ ضروری سامان ہمراہ رکھیں۔مولہ چٹوک جانے کیلئے ضرورت کی ہر چیز ساتھ ہونی چائیے۔ مولہ چٹوک چونکہ پہلے لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا اس لیے خضدار سے وہاں تک ہوٹل وغیرہ یا اس طرح کی دیگر سہولیات میسر نہیں۔ مولہ چٹوک کو سیاح خضدار کی ’چھپی ہوئی جنت‘ بھی کہتے ہیں کم و بیش چھ گھنٹوں پر مشتمل اس سفر میں درحقیقت ایڈونچر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان یکے بعد دیگر آبشاروں کے مناظر اور جھرنوں میں گنگناتا پانی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔
بلوچستان کی خوبصورتی تو اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سیاحتی مقامات اور ورثے کی ترقی اور ان تک رسائی کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ۔خوبصورت لینڈ اسکیپ سے سجی سرزمین بلوچستان کا ہر رنگ حسین اور ہر روپ ہی سہانا ہے، بس اسے دنیا پر آشکار کرنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔جس سے سیاحت کا شعبہ ایک صنعت کے طور پر صوبے کی معاشی و اقتصادی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔بلوچستان میں جہاں تاریخ بھی چھپی ہوئی ہے، وہاں پر مذہبی ، ثقافتی اور قدرتی سیاحت کے اس قدر مواقع موجود ہیں کہ جو شخص ایک دفعہ بلوچستان میں ان کو دیکھ لیتا ہے وہ زندگی بھر ان کا گروید ہ رہتا ہے۔

muhammadshahdotani@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •