Voice of Asia News

کرونا وائرس اور پاکستان :راجہ حسن اختر

 
چین کے اندر تیزی کے ساتھ پھیلنے والا کرونا وائرس ابھی تک کنٹرول سے باہر ہے – فی الحا اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ واقعی ہی یہ ایک قدرتی آفت ہے یا پھر کسی دشمن کی طرف سے استعمال کیا گیا بائیولوجیکل ہتھیار ہے – چین اقتصادی لحاظ سے تمام دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو پیچھے چھوڑ چکاہے ، انسانی تاریخ کے اندر اس تیزی کے ساتھ ترقی کرتی ہوئی قوم کوئی شاذو نادر ہی نظر آتی ہے – میرے لیے یہ بات باعث حیرت ہے کہ وائرس کا حملہ وہاں ہوتاہے جو اقتصادی لحاظ سے مرکز سمجھا جاتا ہے ، ووہان کا صوبہ اور اس کے گرد نواح کے تقریبا 14 صوبے چین کی اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں اور پھر ایک عجیب بات کہ یہ 14 صوبے چین کی جی ڈی پی کا 70فی صد حصہ سے بھی زیادہ ان صوبہ کا حصہ شامل ہوتا ہے ، چین کی اقتصادی شہہ رگ کو زخم لگانے کا مطلب چین کی ترقی کو روکنے کے مترادف ہے ، چین کو اس وقت ہر روز کروڑوں نہیں اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ، مارچ، اپریل میں گوائنزو کینٹن فیئر کا انعقاد بھی ناممکن نظر آرہا ہے ، کینٹن فیئر اگر نہیں ہوتا تو اس سے بھی چین کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا ، چین کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں چینی حکومت اپنی عوام کے ساتھ ملکر بہت اچھے انداز سے اس ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کررہے ہیں، تاہم چینی عوام اور چین کی حکومت جب اس وائرس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائے گی تو پھر اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور اگر یہ بائیولوجیکل حملہ ثابت ہوگیا تو پھر یہ دنیا نئے خطرات سے دوچار ہوجائے گی -پاکستان سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک اور کھیت کھلیاں سے لے کر بڑی سے بڑی صنعت تک ہم چین کے مرہون منت ہیں حتی کہ اب تو ہمارے کچن کی بیشتر اشیاء بھی چین سے درآمد شدہ ہیں حالانکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور سبزیاں پھل پیدا کرنے میں خود کفیل ہے اس کے باوجود ادرک، لہسن اور دیگر اشیاء ضرورت کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں چین سے یہ اشیاء درآمد کرنا پڑتی ہیں اس وقت بھارت کے ساتھ پاکستان کی تجارت کلی طور پر بند ہے اور اگر کرونا وائرس کا بحران طول پکڑتا ہے تو پھر ہمیں یہ بات پیش نظر رکھتی چاہیے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو اشیاء ء خورونوش کی قلت کا سامنا کرنا ہوگا، اس وقت چین کے ساتھ ہماری تجارت بند ہے اور خاص طور پر ادرک ، ٹماٹر، لہسن اور دیگر سبزیات اور دالیں چین سے منگوانا ایک بہت بڑا رسک ہے ، حکومت پاکستان کو صورتحال کی نزاکت کا اندازہ لگانا چاہیے اور ابھی سے آئندہ آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار رہنا چاہیے، میرے خیال میں پاکستان جس نازک دور سے گذر رہا ہے ہمیں اپنے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ زمینی اور فضائی راستے کھول دینے چاہیں- ایران ، بھارت، افغانستان اور چین کے راستے کھول دینے چاہیں تاکہ ہم زیادہ بہتر طریقے سے آنے والے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرسکیں-چین اس وقت مشکل حالات سے گذر رہا ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان مشکل حالات میں چین کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیے – بیجنگ کے اندر پاکستان ایمبیسی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور کھوکھلے دعوے کرنے میں مصروف عمل ہے، ایمبیسی کو وہاں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ سے لے کر چین کے کرونا وائرس پر موثر بات کرنی چاہیے، پاکستان اپنے پیرا میڈیکل سٹاف کو ووہان بھیج کر ایک لافانی محبت کی تاریخ رقم کرسکتا ہے ، ہماری این جی اوز کو آگے آنا چاہیے اور اس وقت چین کی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے یہ وقت ہے کہ ہم چین کی عوام کے ساتھ مزید قربتیں بڑھا سکتے ہیں، دنیا چین کو چھوڑ کر بھاگ رہی ہے ہمیں چین کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے – زندگی اور موت اﷲ کے اختیار میں ہے مگر ہمیں اپنے دوست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور پھر اگر ہم یہ کر گزرے تو آنے والی تاریخ پاکستان اور پاکستانی عوام کا کردار ہمیشہ یاد رکھے گی، ایک مثالی اور لازوال دوستی کے لیے قربانی دینا ہوگا – دوستی کے رشتوں کو مضبوط کرنا ہوگا – یہ ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم دنیا پر ثابت کرسکیں کہ چین ہمارا واقعی ہی ہمسایہ دوست ہے اور مجھے امید ہے کہ چین رہتی دنیا تک پاکستان کے اس کردار کو فراموش نہیں کرسکے گا-کرونا وائرس نے چین اور پاکستان کے درمیان تجارت کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے ، چین کو کی جانے والی ایکسپورٹ بھی متاثر ہوگی، چین نے پہلے ہی پاکستان سے کھانے پینے والی اشیاء پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں اب کرونا وائرس کے حملہ کے پیش نظر ان پابندیوں کو مزید بڑھا دیا جائے گا، ایسے میں پاکستان کے ادنر اشیاء خورودونوش کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوگی ، اس تناظر میں ہمیں آئندہ آنے والے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حکومت کو ابھی سے اس کی پلاننگ شروع کردینی چاہیے- ہمیں انڈیا، ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنی تجارت پر ابھی سے گفت و شنید شروع کردینی چاہیے ورنہ ہمیں مہنگے داموں دنیا کے دیگر ممالک سے اشیاء خوردونوش مہنگے داموں امپورٹ کرنا ہوگا – حالات جیسے بھی ہوں ہمیں آنے والے دنوں کے لئے تیار رہنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ کسی غفلت کے نتیجے میں پاکستان خوراک کی کمی کی وجہ سے قحط سالی کا خدشہ نہ پیدا ہو، چین پاکستان کا دیرینہ اور قابل اعتماد دوست ہے ، پاکستان اس مشکل گھڑی میں چین کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔
rajahassanakhtar@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •