Voice of Asia News

کورونا وائرس عالمی وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت

نیویارک(وائس آف ایشیا) عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس عالمی وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے، اس لئے تمام ممالک کو اس بیماری سے ترجیحی طور پر نمٹنے کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈرس ایڈھانم گیبریسس نے جنیوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر توجہ اپنے مقصد پر مرکوز ہے اور ہماری تمام ممالک سے درخواست ہوگی کہ وہ کورونا وائرس کی چنگاری کو ایک بڑی ا?گ بننے سے روکنے کا موقع ضائع نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ کہ مختلف ممالک میں کورونا وائرس ایسے افراد میں رپورٹ ہوا جنہوں نے چین میں کچھ وقت گزارا یا وہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ ممالک میں یہ وائرس مسلسل تیزی سے پھیل رہا ہے جس پر ہمیں گہری تشویش ہے ، یہ صورتحال اب تک صرف ایک چنگاری ہے اورتاحال اس نے بڑی وبا کی صورت اختیار نہیں کی۔عالمی ادارہ صحت متاثرہ ممالک کو ماسک ، دستانوں اور میڈیکل ٹیسٹوں کے لئے مطلوبہ سامان بھیج رہا ہے تاکہ وہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں۔ گزشتہ روز تک چین میں کورونا کے 40235 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ، دیگر 24 ممالک میں یہ تعداد 319 ہے۔ پچھلے دو روز میں برطانیہ اور فرانس میں بھی اس وائرس سے انفیکشن کی اطلاعات ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اموات کے بارے میں بتایا کہ یہ واقعی بہت زیادہ ہیں تاہم وائرس کہاں پھیل رہا ہے اور کہاں کنٹرول ہو رہا ہے ، ایسے سوالات کا فی الحال جواب موجود نہیں۔انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ ڈاکٹر بروس ا?ئلورڈ کی زیر قیادت عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ٹیم بیجنگ بھیجی گئی ہے تاکہ اس وبا کیخلاف چینی حکام کی مدد کی جاسکے۔ ڈاکٹر بروس آئلورڈ نے حال ہی میں مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا کے حوالے سے مربوط کام کیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او آئیوری کوسٹ ، کینیا ، تیونس اور زیمبیا سمیت 14 ممالک کی لیبارٹریوں کو انفیکشن کی شناخت کے حوالے سے کٹس فراہم کر رہا ہے۔دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے وبائی مرض امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سیلوی برائنڈ کا کہنا ہے کہ 80 فیصد مریضوں میں علامات ہلکی جبکہ 15 فیصد میں نمونیا سمیت شدید نوعیت کی تھیں ، تین سے پانچ فیصد مریضوں کو تک انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مچل ریان نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے وائرس کی تشخیص کی بہتر صلاحیت کی حامل 168 لیبارٹریز کی نشاندہی کی ہے اور اس حوالے سے 14 روزہ پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔انہوں نے بتایا کہ جاپان کے شہر یوکو ہاما میں پناہ گزینوں کے جہاز پر سوار افراد اور عملے کو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے خدشے پر 19 فروری تک زیر مشاہدہ رکھا جائے گا تاکہ دیکھا جائے کہ ان افراد میں سے کوئی کورونا وائرس میں مبتلا مریض سے قریبی رابطے میں تو نہیں۔
وائس آف ایشیا11 فروری2020 خبر نمبر57

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے