Voice of Asia News

سعودی عرب کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 386 افراد گرفتار

ریاض (وائس آف ایشیا) سعودی عرب میں چند سال قبل کرپشن میں ملوث بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تھا، جس میں کئی نامور سرمایہ کار اور سعودی شہزادے بھی شامل تھے۔ اس کریک ڈاؤن کے بعد سعودی خزانے میں سینکڑوں ارب درہم کی رقم جمع کرائی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر سعودی حکام نے کرپٹ عناصر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ جس میں زیادہ تر اہم سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی شامت لائی جا رہی ہے۔سعودی ویب سائٹ سبق کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کرپشن کی روک تھام اور نگرانی کے ادارے کی جانب سے بدعنوانی اور اپنے عہدے کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں 386 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان گرفتار شدگان پر فردِ جُرم بھی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز مزید 475 افراد سے اپنے عہدے کے اختیارات سے تجاوز کرنے کے معاملے پر تفتیش کی جا رہی ہے۔اگر ان میں سے بھی کسی پر کرپشن میں ملوث ہونے کا شُبہ ہوا تو مزید افراد کوگرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر سرکاری مال ضائع کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی طور پر دولت جمع کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت الگ الگ مقدمات چلائے جائیں گے۔ گرفتار کیے گئے افراد مجموعی طور پر 170 ملین ریال کی کرپشن میں ملوث بتائے جا رہے ہیں۔مجموعی طور پر مبینہ کرپشن کے درجنوں معاملات میں 1294 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ۔ جن میں سے ذمہ داروں کی نشاندہی ہونے کے بعد انہیں عدالتوں میں پیش کر کے ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مملکت کی سرکاری املاک اور مال عوام کی امانت ہیں، کسی کو بھی اس امانت میں خیانت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کوئی بھی کرپٹ شخص یا عناصر اب قانون کے پھندے سے زیادہ دیر تک بچ کر نہیں رہ سکیں گے۔ واضح رہے کہ مملکت میں کرپشن کے معاملات کی اطلاعات دینے کے رحجان میں ماضی کی نسبت کئی گُنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جس کے باعث کرپٹ عناصر کی بیخ کُنی اور انہیں سزا دلوانے کی راہ میں بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •