Voice of Asia News

خطے میں رہنے کے انتظامات‘امریکا مشرق وسطی میں اتحاد بنانے کا خواہاں صدر ٹرمپ انکی انتظامیہ   

واشنگٹن (وائس آف ایشیا) عراق میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اٹھنے والا طوفان خاموش ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے مطالبات بھی دھیمے پڑ گئے ہیں۔ شاید تمام فریقوں بالخصوص امریکیوں اور ایرانیوں کا یہ موقف ہے کہ انہیں ایک نئی حقیقت کا سامنا ہے۔جہاں تک امریکیوں کا تعلق ہے تو وہ مختصرا اپنا موقف اس طرح بیان کرتے ہیں کہ امریکا خطے کو چھوڑ کر ہر گز نہیں جائے گا۔ وہ اب عراق اور مشرق وسطی میں باقی رہنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان مشرق وسطی میں ایک نئے انداز سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے واسطے کام کر رہے ہیں۔اس کا مرکزی پہلو مشرق وسطی میں بقاء اور نیٹو اتحاد اور علاقائی قوتوں کے ساتھ زیادہ تعاون ہے۔امریکیوں کی جانب سے باور کرایا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی میں درپیش خطرات میں داعش، القاعدہ اور ان کی ذیلی تنظیموں کی دہشت گردی کے علاوہ ایران اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کا خطرہ شامل ہے۔اس کے برعکس سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے نزدیک خطرات کی فہرست میں تیل کا بہاؤ روکنا اور اسرائیل اور دوست ممالک کے امن کو درپیش خطرات شامل تھے۔ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے سیکورٹی ڈھانچے کے لیے کوشاں ہے تا کہ داعش کی عدم واپسی اور امریکی مفادات اور شہریوں کو ایرانی حملوں اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں کے خطرات سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح خطے کے امن و استحکام کو پائیدار اور دیرپا بنانا ہے۔امریکی انتظامیہ کے ایک ذمہ دار نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ نیٹو اتحاد کے ساتھ بہت سے موضوعات پر بات چیت چل رہی ہے۔ان میں مشرق وسطی اور وہاں نیٹو کا زیادہ بڑا کردار شامل ہے۔ امریکی ذمے دار نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ خصوصی طور پر اس بات پر توجہ دے رہی ہے کہ دیگر فریقوں کو اخراجات کے بوجھ میں شریک کیا جائے۔ اسی طرح امریکی انتظامیہ نیٹو اتحاد کے قائدانہ کردار میں بھی دل چسپی رکھتی ہے۔عرب ٹی وی کے ساتھ امریکی ذمے دار کی گفتگو خاص طور پر عراق کی صورت حال پر منطبق ہوتی ہے۔نیٹو اتحاد میں امریکی خاتون سفیر یہ کہہ چکی ہیں کہ تجویز میں یہ شامل ہے کہ عراق میں امریکا کے زیر قیادت داعش تنظیم کے خلاف لڑنے والے موجودہ اتحاد کو ایک تربیتی مشن میں تبدیل کر دیا جائے اور یہ مشن نیٹو اتحاد انجام دے۔لہذا برسلز میں نیٹو اتحاد کے ممالک کے وزراء دفاع کا آئندہ اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل ہو گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •