Voice of Asia News

شہر یار آفریدی کی مدارس میں منشیات کے استعمال کا بیان ، اپوزیشن کا احتجاج ،شور شرابا

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کی جانب سے مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا گیا۔جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار آفریدی کا کہنا تھا نواجوانوں اور خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہے۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا منشیات کی روک تھام سے آگہی کے لیے زندگی کے نام سے ایپ لانچ کر دی ہے، تمام تعلیمی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی بات چیت ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں کافی حد تک منشیات داخل ہو چکی ہے، یہ ایک پارٹی یا حکومت کی بات نہیں اس کے خاتمے کے لیے والدین بھی حصہ لیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جائے گا۔شہریار آفریدی کے اس بیان پر ایم ایم اے کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا، ایک مدرسے کے نام پر تمام مدارس کو بدنام نہیں کرنے دیں گے۔مدرسے کا نام لینے پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا جس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ میں نے کسی مدرسے کا نام نہیں لیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سارے معاشرے میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں کہیں اچھے لوگ بھی نہیں ہوتے، مدارس نے جو کچھ کیا ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔شفقت محمود نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا معیار ایسا ہے کہ دنیا کے لوگ اپنے بچے یہاں بھیجتے ہیں لیکن جہاں جہاں کوئی برائی ہے ہم نے اس برائی کو برا کہنا ہے۔اسعد محمود نے کہا کہ آپ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام مدارس کوشک کی نگاہ سے نہیں دکھا سکتے، شہریار آفریدی نے غلط بیانی کی ہے، اس ایک مدرسے کو منظر عام پر لایا جائے، کسی ایک کا نام لیکر سارے مدارس کو نشانہ بنانا ٹھیک بات نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •