Voice of Asia News

وزیراعظم کی زیر صدرات مہنگائی، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی  کے خلاف اقدامات بارے جائزہ اجلاس،

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدرات مہنگائی، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطحی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا جس میں صوبوں نے وزیراعظم کو ضروری اشیاء کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دی، وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومتوں کو ملاوٹ کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی، فوڈ پرائس مانیٹرنگ ، نیشنل ڈیمانڈ اینڈ سپلائی سیل اور بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی ہدایات دیں ۔جمعرات کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں مہنگائی،ملاوٹ کرنیوالوں اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاسکو سندھ کو 4لاکھ ٹن گندم جاری کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا پتا چلانے والی لیبارٹری موجود ہی نہیں جس پر وزیراعظم نے فوری طور پر بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ زراعت 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملہ ہے لیکن نیشنل ڈیمانڈ اینڈ سپلائی سیل کے قیام کے بعد صوبوں میں کسی بھی قسم کی قلت کا فوری پتہ چلے گا اور دیگر صوبوں سے اس بارے بروقت معاونت حاصل کر کے کسی بھی قسم کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملاوٹ کی روک تھام سے متعلق جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لئے صوبائی حکومتوں کوایک ہفتے کا وقت دیا ہے ۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد ہٹانے کیلئے کمپنیوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا تھا،کشمیر پر پاکستانی صارفین جب اظہار خیال کرتے تو سوشل میڈیا کمپنیاں ان کا اکاؤنٹ بلاک کر دیتی ہیں، معاشرے میں عریانی پھیلانے کیلئے بھی سوشل میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں تھا،ان تمام ضروریات اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ضروری تھا، انہی ضروریات کے تحت سوشل میڈیا سے متعلق ضروری قواعد و ضوابط بنائے گئے، نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا کمپنیز متنازع مواد 6گھنٹے میں ہٹانے کی پابند ہونگی،نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا کمپنیز کا پاکستان میں دفتر ہونا ضروری ہو گا، سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا ڈیٹا بینک پاکستان کیساتھ شیئر کرنا لازمی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ مختلف عناصر جعلی اکاؤنٹس بنا کر سوشل میڈیا پر پاکستانی سلامتی کیخلاف محاذ آرائی کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کا مقصد سوشل میڈیا پر رائے کے اظہار کی آزادی پر قدغن لگانا ہر گز نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنی کو پاکستان میں بند کیا جاسکے گا، سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے خلاف فیصلے پر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکیں گی۔ایک سوال کے جواب میںا نہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مہذب مہاشروں میں یہ قوانین موجود ہیں ،پہلے ہم نے اپنا پھر دوسرے کا تحفظ کرنا ہے ،73فیصد موبائل فون صارفین سوشل میڈیا استعمال کررہے ہیں ،پی ٹی اے نے گوگل، فیس بک، ٹویٹر ،انسٹا گرام کے ساتھ مشاورت کی ہے ،ان کی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے تحفظ میں قوانین بنیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کسی کو ہدف بنا کر اشتہارات کو بند نہیں کیا گیا ،ابھی اشہتارات کی کوئی ایسی مہم نہیں آئی جس میں کسی اخبار کو اشتہار نہ دیا گیا ،اگر اردو اخبارات میں اشتہارات ہیں تو یہ کلائنٹ کی خواہش پر ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کر راستے کی رکاوٹیں اور غلط فہمیاں دور کرنی ہیں، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہوں ،اگر کہیں ناانصافی ہورہی ہو تو اس میں میں آپ کی وکیل بنوں گی ۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات تک رسائی قانون کے لئے کمیشن بن چکا ہے ،کمیشن نے بہت سی درخواستیں نمٹا دی ہیں ،ان کے رولز بنے ،بجٹ بھی منظور ہے اور ملازمین بھی دیدیئے گئے ہیں، وزارت قانون کے پاس ان کا کوئی عمل زیر التواء ہے اسے بھی دیکھ رہے ہیں ۔
image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •