Voice of Asia News

’’ حکومت نے مہنگائی کی کمر توڑ دی‘‘:محمد قیصر چوہان

 
پاکستا ن تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو ایسا لگتا تھا کہ عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی عوام کو پیٹ بھر روٹی، سستی گیس و بجلی ،پینے کاصاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی آسانی سے ملنے لگیں گی جبکہ قوم کو آئی ایم ایف کے چنگل سے بھی نجات مل جائے گا اور ملک کے ہر شہری کو انصاف ملے گا۔ دو پاکستان نہیں ایک پاکستان ہوگا جہاں سب سے یکساں سلوک ہو گا۔ انہی دعوؤں اور وعدوں کی بنیاد پر بہت سے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا کہ بس اب قسمت بدل جائے گی اور عمران خان کی صورت میں قوم کو مسیحا مل گیا ہے۔ لیکن ہوا اس کے بر عکس ہے۔ پتا نہیں عمران خان کبھی اپنے ان دعوؤں اور تقریروں کی ریکارڈنگ بھی سنتے ہوں گے یا نہیں۔
وفاقی وزیر اسد عمر چند دن پہلے کہہ رہے تھے کہ ’’ کوئی شک نہیں مہنگائی بہت بڑھ گئی ، اس کی کمر توڑی جائے گی ‘‘۔مہنگائی کی کمر توڑنے والی تحریک انصاف کی حکومت کے وزیر اعظم عمران خان کو18 ماہ بعد تنخواہ دار طبقے اور عوام کی مشکلات کا احساس ہواتو انہوں نے کہا کہ ’’ مافیا اور مہنگائی سے مقابلہ ہے ، عوام کو ریلیف دے رہے ہیں‘‘۔ چند دن قبل عمران خان کی صدارت میں کابینہ کا اہم اجلاس ہوا تھاجس میں غریب عوام کیلئے پندرہ ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا۔ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جو چینی اب تک68 روپے کلو میں بک رہی تھی اب وہ 70 روپے کلو ہو گی اور گھی یا خوردنی تیل جو170 روپے میں مل رہا تھا،اب وہ’’سستا‘‘ ہو کر175 روپے کلو میں ملے گا۔ یہ اشیائے ضرورت سستی ہوئی ہیں یا مہنگائی کو قانونی شکل دے دی گئی ہے۔ اگر یہ مذاق ہے تو اس کا نقصان حکمرانوں ہی کو ہو گا کیونکہ عوام تو ایسے مذاق کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ عمران خان کی ترجمان فردوس عاشق اعوان فرما رہی تھیں کہ چینی70 روپے کلو ملے گی اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کہہ رہے ہیں کہ چینی68 روپے کلو ملے گی۔ یعنی خود حکمران طبقے میں اتفاق نہیں یا اشیائے ضرورت کی قیمتوں سے آگاہی نہیں۔ مشیر خزانہ نے ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کی رپورٹ دی ہے۔ حکمران طبقہ گالی پروف ہو چکا ہے اس کے باوجود قومی اسمبلی میں اگر کوئی وزیر اعظم کی کارکردگی پر تنقید کرے تو سیاست میں نو آموز’’چھوٹے‘‘ برہم ہو جاتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے چند دن پہلے جن اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ ان میں50 ہزار نئی پرچون دکانیں کھولنا بھی شامل ہے۔ جہاں سے سستی اشیاء ملیں گی دُکانداروں کو5لاکھ روپے تک کا قرض دیا جائے گا ،60 فیصد مال یوٹیلیٹی سٹورز دیں گے۔ ایسے اقدامات پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ کیا پرچون کی یہ دْکانیں ہر شہر کے ہر محلے اور گاؤں ، دیہات میں بھی کھلیں گی یا یہ بھی یوٹیلیٹی سٹورز کی طرح محض چند مقامات پر ہوں گی؟ یوٹیلیٹی سٹورز کے بارے میں یہ کوئی رازنہیں کہ وہاں معیاری اشیاء دستیاب نہیں اورقیمت میں بھی کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔ حکومت سے یوٹیلیٹی سٹورز تو سنبھل نہیں رہے اور پرچون کی دکانیں کھولی جار ہی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی نیت صاف ہے۔ یقینا ایسا ہی ہو گا لیکن ملک اور حکومت چلانے کیلئے صاف نیت کے علاوہ انتظامی صلاحیت اور صحیح فیصلے کرنے کی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ شام کو ٹی وی چینلز پر بیٹھ کرکچھ لوگ ان کے خلاف بولتے ہیں لیکن عزت اور ذلت اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اﷲ رب العزت کا فرمان ہے اور اس کے مطابق ذلت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔صرف حکمرانی مل جانا عزت کی علامت نہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کہیں بھی نکل جائیں ، ہر شخص ان کو برا کہہ رہا ہے اور یہ ٹی وی چینلوں اور تجزیہ کاروں تک محدود نہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تمہارے سب سے خراب حکمران وہ ہیں جو تم کو برا کہیں اور تم ان کو برا کہو۔ مہنگائی کے گرداب میں پھنسا ہوا ہر شخص حکمرانوں کو برا کہہ رہا ہے۔ گھریلو خواتین کوسنے دے رہی ہیں۔ لیکن عمران خان کا اب بھی دعویٰ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو اپنانجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب! یہ بات بہت پرانی ہو چکی۔ اب توغریب لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے نجات کی دُعائیں مانگ رہے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •