Voice of Asia News

آئی ایم ایف،98 سرکاری اداروں کی نجکاری اور نئے ٹیکس :محمد قیصر چوہان

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ پچھلے چور حکمرانوں کی وجہ سے آج ملک اس حال کو پہنچا ہے تو یہ وہ معاملہ ہے جس میں حکومت سچ بول رہی ہے۔ پچھلی حکومت اُس سے پچھلی اور ان سے پچھلی حکومتیں بھی آئی ایم ایف کی غلام تھیں اور عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خود کشی کرناقرار دیتے تھے اب وہ پوری قوم کو لے کر خود کشی کر چکے ہیں لہٰذا پاکستان تحریک انصاف حکومت کی کیفیت اس نشے کے عادی جیسی ہو گئی ہے کہ وہ ایک پڑیا کی خاطر اپنا گھر بار ، بیوی بچے سب کو بیچ دیتا ہے اسی طرح ہماری حکومت45 کروڑ ڈالر کی پڑیا لینے کی خاطررواں سال ستمبر تک 98 ادارے ختم کرنے پر تیار ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے وفد سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کو 98 سرکاری اداروں کی نجکاری اور نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔عالمی مالیاتی فنڈنے پاکستان میں ٹیکس وصولیوں میں کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چونکہ پاکستان میں موجودہ حکومت بھی قرضوں پر انحصار کرتی ہے اس لیے قرضے کی نئی قسط کی خاطر ہر شرط ماننے کو تیار ہے۔ چنانچہ حکومت نے فوری طور پر سرکاری اداروں کی تعداد کم کرنے سے اتفاق کرلیا اس معاملے میں تیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر تک98 ادارے ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔مزید یہ کہ 2پاور پلانٹس سمیت6 ادرے اور27 جائیدادیں فروخت کر دی جائیں گی۔ اس سب کے عوض پاکستان کو6 ارب ڈالر قرض میں سے 45 کروڑ ڈالر کی ایک اور قسط مل جائے گی۔
کیا مشیر خزانہ کو یہ نہیں معلوم کہ 98 ادارے اور 2پاور پلانٹس ختم کرنے سے معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ کتنے لوگ بے روز گار ہو جائیں گے۔ دنیا بھر میں اچھی حکومتیں ادارے بناتی ہیں اور ہماری حکومتیں ادارے ختم کرتی ہیں۔ یہ سوچ لیا جائے کہ صرف پاکستان اسٹیل آج اپنی استعداد کے مطابق 70 فیصد ہی پیدا وار کر رہی ہوتی تو پاکستان کو سی پیک میں کس قدر فائدہ ہوتا۔ اب بھی اسٹیل ملز کو چلا کر یہ کام لیا جا سکتا ہے لیکن یہاں تو بیچو اور بھاگو۔ ’’لٹوتے پھٹو‘‘ والا محاورہ چل رہا ہے۔45 کروڑ ڈالر کی پڑیا لے کر یہی اقدامات کر رہے ہوں گے کہ اگلی قسط اور اگلے مذاکرات شروع ہو جائیں گے ، مزید وعدے اور مزید شرائط ۔یہ غیر ملکی اور عالمی اداروں کے مشیر ملک کو کہاں لے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم اربوں روپے کے پیکیج کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ رقم کہیں سے کاٹ کر دیں گے۔ تو جہاں سے رقم کاٹی جائے گی وہاں کیا ہو گا۔ ادارے ختم کرنے اور لوگوں کو ملازمت سے فارغ کرنے کیلئے تین تین ماہ کی تنخواہیں دینی ہوں گی۔ یہ رقم بھی کہیں سے حاصل کی جائے گی اور وہاں مسائل پیدا ہوں گے انہیں سابقہ حکمرانوں کا ورثہ قرر دے دیا جائے گا۔ قرض کی معیشت میں یہی ہو گا۔ سودی نظام میں ایسا ہی ہوگا اور عالمی اوپن مارکیٹ میں بھی یہی ہو گا۔ اگر حکمران کچھ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے سود سے جان چھڑائیں ، سودی قرضوں کے جال سے نکلیں، ادارے بند نہیں کریں ادارے بنائیں۔ ان کواصولوں اور ضوابط کے مطابق چلائیں روزگار دیں۔ حکومت کے اقدامات سے روز گار بھی چھن رہا ہے اورمہنگائی بھی بڑ ھ رہی ہے۔اب تو صدر مملکت بھی شکوہ کرنے لگے کہ دوبرس میں22 لاکھ افراد کا بے روز گار ہو جانا تشویش کا باعث ہے۔ صدر نے اب لوگوں کو فارغ کرنے کا کہا ہے اور وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ مشیر خزانہ اورگورنر اسٹیٹ بینک کسی صورت تبدیل نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ان کے بقول یہ لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم بھی عجیب انکشافات کرتے ہیں۔ اب جبکہ ایف بی آر کے چیئر مین ٹیکس وصولی میں ناکام ہو گئے ہیں تو کہا جارہا ہے کہ میری درخواست پر صرف6ماہ کیلئے شبر زیدی آئے تھے۔ تو وزیراعظم فرمائیں کہ6 ماہ میں ان کی درخواست پر کیا تیر مارے گئے اور سارے تیر کس کو لگے۔عمران خان یہ بھی بتا دیں کہ وہ کس کی درخواست پر کتنے عرصے کیلئے آئے ہیں۔پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کو جس چیز کی یقین دہانی کرائی ہے آئی ایم ایف کو اس پر پہلے بھی یقین تھا کہ جوکہیں گے کریں گے۔ لہٰذا یقین دہانی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ نتائج ہیں جو عوام کوبھگتنا ہوں گے۔بجلی مہنگی، پیٹرول مہنگا ، گیس مہنگی ، ایل این جی مہنگی ، سی این جی مہنگی اور غائب،بے روز گاری عام ہو گئی ہے ۔ان سب کی قیمت صرف45 کروڑ ڈالر ہے۔ اگلے45 کروڑ ڈالر کیلئے تحریک انصاف کی حکومت مزید تباہی کا سامان کرے گی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •