Voice of Asia News

خاموش بزدار اور سنجیدہ بزدار:سیف اعوان

خاموشی کے لفظی معنی چپ رہنے کے ہیں مگر اہلِ تصوف کے نزدیک خاموشی باطنی توجہ کو کہتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی بات کہی جائے جس کی ضرورت ہو اور ہر اس بات سے بچا جائے جس میں کوئی دینی و دْنیوی منفعت کا پہلو موجود نہ ہو۔’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ان کے کچھ پیروکاروں نے عرض کیا گیا کہ ہمیں ایسا عمل بتائیں جس سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ آپ علیہ السلام نے خاموش رہنے کی تلقین فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ ایسا تو بہت مشکل ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ صرف بھلائی کی بات کی جائے۔‘‘انسانی معاشرہ باہمی تعاون اور محبت سے قائم ہوتا ہے او راسی رشتے کے مضبوط ہونے سے مستحکم ہوتا ہے، اگر افراد معاشرہ کے درمیان پیار ومحبت اور مددونصرت کا تعلق نہ رہے تو یہی معاشرہ خود غرضی اور نفرت وانتقام کا نمونہ بن سکتا ہے۔ اسلام بھی اپنے پیروکاروں کے درمیان اسی پیار و محبت اور مددو نصرت کا ایک ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جس میں ایک مسلمان نہ صرف دوسرے مسلمان کی عزت، جان ومال کا محافظ بن جائے بلکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ایسے شریک ہوں کہ وہ سب ایک جسم نظر آئیں۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی اسی فارمولے پر چل رہے ہیں ۔انہوں نے کبھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں اور نہ شبدہ بازی کی طرف توجہ دی۔دنیا میں اس وقت ساڑھے چھ ارب سے زائد لوگ موجود ہیں ۔ان سب کے کام کرنے اور بات کرنے کا اپنا اپنا طریقہ ہے ۔لیکن کچھ تھیٹر کے فنکار دوسرے انسان کی نقل اتارنے کے ماہر بھی ہوتے ہیں۔کچھ لوگ ایک چھوٹا سا معرکہ سر کرلیں تو پوری زندگی ہی اس کا کریڈٹ لینے میں سر کی بازی تک لگادیتے ہیں۔لیکن کچھ لوگ خاموشی سے ایسے کام کرتے رہتے ہیں جن کا فائدہ وہ خودتو نہیں اٹھاتے بلکہ کئی عام اور سادہ لوح افراد سے مستفید لازمی ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خاموشی اور کام کرنے کے طریقے سے کوئی لاکھ اختلاف رکھے لیکن عثمان بزدار پہلے دن سے ہی اپنے کاموں کی تشہیر پر یقین نہیں رکھتے ۔حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے نومبر 2019میں اپنے دورہ لاہور کے دوران عثمان بزدار کو اپنے اچھے کاموں کی تشہیر کرنے کا بھی کہا لیکن عثمان بزدار نے تشہیری مہم کی بجائے خاموشی سے اپنا کام کرنے کو ہی ترجیحی دی۔میں نے کچھ ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو عثمان بزدارسے ملے بھی نہیں اور نہ ان کی شخصیت سے واقف ہیں وہ بھی ان پر تنقید کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں اور یہ لوگ بزدار صاحب پر تنقید کرنا اپنا پہلا اور آخری جمہوری حق سمجھتے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے بیشتر مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو ہدف تنقید پر رکھا گیا ہے۔جبکہ حکومت کی سب سے اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین،سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے ہر موقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کھل کر حمایت کی ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے تو ایک مرتبہ جہانگیرترین سے بھی واضع اور کھولے الفاظ میں بیان کردیا تھا کہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور عثمان بزدار کو کام نہیں کرنے دے رہے۔حالات حاضرہ سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سے زیادہ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حامی ہیں اور کھل کے ان کی حمایت بھی کررہے ہیں۔جو لوگ کہتے ہیں عثمان بزدار ڈلیور نہیں کررہے ان کو عثمان بزدار جیسا سادہ اور شریف آدمی لگتا ہے ہضم نہیں ہو رہا۔عثمان بزدار سرکاری خزانے سے غیر ضروری اخراجات نہیں کرتے اور نامودو نمائش پر یقین رکھتے ہیں،اس لیے ان لوگوں کو عثمان بزدار پسند نہیں ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو اس وقت پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالے سترہ ماہ سے زائد ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی سیاسی مخالفت کا نام لے کر ان پر بلاجواز تنقید نہیں ۔لگتا ہے یہی عثمان بزدار کی سادگی ان کی دشمن ہے ۔دوسری جانب ہماری عوام کو بھی ایسا سیاسی لیڈر چاہیے جو کھل کے سیاسی مخالفین پر تنقید کرے اور مرچ مصالحے والی گفتگو کرے۔لیکن وزیراعلیٰ پنجاب اس مزاج کے انسان ثابت نہیں ہوئے ۔انہوں نے ہمیشہ تنقید کا جواب خاموشی ہی دیا ہے ۔لیکن بزدار صاحب کی زیادہ خاموشی ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے لیکن بزدار صاحب کو بھی چپ کا روزہ توڑنا ہو گا ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے شاندار اور قابل تعریف کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو یہاں بیان کرنا مشکل ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ کچھ لوگ میری ان باتوں کو ناپسند کرینگے کیونکہ لوگوں کو عادت ہو چکی ہے کہ جس انسان کی ایک غلط تصویر ان کے ذہن میں نقش کردی جائے وہ اس انسان کو کسی صورت اچھا اور بہترین انسان تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔لیکن جو حقیقت ہے اس کو تسلیم کرلینا چاہیے۔گزشتہ دنوں قبل ٹی وی چینلز پر ایک رکشہ ڈرائیور کی خبر نشر ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں اچھرہ کے رہائشی ایم اے انگلش اور ایم اے اردو پاس رکشہ ڈرائیور کو ایک لاکھ روپے کاچیک دیا تاکہ وہ اپنا کوئی چھوٹا سے روزگار شروع کر سکے اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔اس رکشہ ڈرائیور اور اس کی غریب فیملی کے دل سے عثمان بزدار کیلئے لاکھوں دعائیں نکل رہی ہوں گی۔کیونکہ عثمان بزدار اس غریب فیملی کیلئے مسیحا ثابت ہوئے ہیں۔پنجاب میں 20ناراض حکومتی ارکان نے اپنا الگ فاورڈ گروپ بھی بنالیا ۔ان ارکان کا مطالبہ تھا کہ ہمیں ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کیے جارہے ۔لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے بہترین حکمت عملی اور کامیاب سیاستدان ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ان تمام ناراض حکومتی ارکان کو منانے میں کامیاب ہو گئے۔بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے تمام اضلاع سے تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ ٹکٹ ہولڈر سے بھی ملاقاتیں شروع کردی۔عثمان بزدار اب نئے مشن کی جانب گامزن ہو چکے ہیں ان کا مشن ہے کہ اب 2020کا سال ترقیاتی کاموں کیلئے ہی مختص کیا جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر ایک ایسا بھی وقت آیا کہ ان پر الزام لگا کہ انہوں نے 30حکومتی ایم پی ایز کو اپنے ساتھ ملاکر ایک الگ گروپ بھی تشکیل دے دیا ہے لیکن جب وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی اور ان کی بھرپور حمایت کی تو عثمان بزدار پہلے کی نسبت مزید طاقتور وزیراعلیٰ بن گئے۔اب بزدار صاحب کیلئے دو مشورے ہیں اگر بزدار صاحب ان دو باتوں پر عمل کرنا شروع کردیں تو وہ واقع ہی ایک مضبوط اور عوامی وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔پہلے تو بزدار صاحب پنجاب میں تمام پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کریں۔ایک ماہ روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنر ز کا ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس طلب کیا کریں جس میں روزانہ کی بنیاد پر ان سے سرکاری ریٹس پر اشیاء خوردونوش کی خریدو فروخت کے متعلق اپنے اپنے اضلاع کی رپورٹس لیں ۔اگر ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں حقیقی معنوں میں اپنا ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کردیں تو پنجاب حکومت کی آدھی پریشانی ختم ہو سکتی ہے اور ناجائز منافع خوروں کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔بزدار صاحب کیلئے دوسرا مشورہ یہ ہے کہ وہ پنجاب کے تمام اضلاع میں جہاں جہاں سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں ان سڑکوں کی فوری تعمیر و مرمت کی احکامات جاری کریں ۔یہ دو ایسے کام ہیں جن کے متعلق صرف بزدار صاحب نے احکامات جاری کرنے ہیں اور باقی کام صرف ضلعی انتظامیہ کے افسران ہی کریں گے لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ بزدار صاحب روزانہ کی بنیاد پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے اس کی رپورٹس لازمی طلب کریں ۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •