Breaking News
Voice of Asia News

پنجاب کی ’مچھلی منڈی‘ کا اجلاسی رپورٹ محمد نوازطاہر

 
لاہور ( وائس آف ایشیا ) مہنگائی اور امن و امان پر بحث کے لئے حزبِ اختلاف کی ریکوزیشن پر بلایا جانے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایجنڈے کے قریب سے بھی گذرے بغیر جمہوریت ، حکومت اور جمہوری اداروں کی حیثیت کا’ پتہ‘ دیتا ہوا مچھلی منڈی کے ساتھ ساتھ حکومت اور اسمبلی میںخلیج کا باعث بن گیا ۔ ایک گھنٹے کی کارروائی کے دوران ایوان میں پولیس کی ’ اہمیت ‘ اور ارکانِ اسمبلی کی’ عظمت‘ اسمبلی کے کردار و کارکردگی کے’ گُن‘گانے، سیتا وائٹ ، ٹیریان کے لئے انصاف ،ایان علی کی حمایت کی صداﺅں سے لیکر’ آٹا چور‘ اور’ بیوی چور‘ کے نعرے گونجتے رہے ۔ حزبِ اختلاف نے صو بے میں امن و امان کی صورتحال اور مہنگائی پر بحث کے ایجنڈے کے ساتھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی تھی جس پر سپیکر نے یہ اجلاس طلب کیا اور قائدِ حزبِ اختلاف میاں حمزہ شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ رکن خواجہ سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنا ، ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں اجلاس کے ایجنڈے کی کارروائی سے قبل ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے صدر دروازے پر ڈپٹی سپیکر سے پولیس کے ناروا سلوک پر ایوان کی جوکمیٹی بنائی گئی تھی ، اس کا نتیجہ کیا نکلا اور اس کی رپورٹ تاحال ایوان میں پیش کیوں نہیں کی گئی ؟ انہوں نے کہا اراکینِ اسمبلی کی تکریم درحقیقت انہیں ووٹ دینے والوں کا احترام ہے لیکن ان کے وقار کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا ، پولیس کے دفاتر میں اراکینِ اسمبلی کی تو سیکیورٹی کے نام پر تلاشی لی جاتی ہے لیکن کیا کبھی آئی جی سمیت کسی پولیس افسر کی بھی پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے سے پہلے تلاشی لی گئی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر سے ناروا سلوک صرف ایک ذات اور حکومت یا اپوزیشن نہیں بلکہ پوری اسمبلے کے وقار کا معاملہ ہے ، جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا تب تک وہ اس اجلاس کی کارروائی غیر ضروری سمجھتے ہیں اور کسی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے رانا مشہود ، وارث کلُو اور سمیع اللہ خان سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکین نے بھی سید حسن مرتضیٰ کی تائید کی جس پر ڈپٹی سپیکر ن وزیر قانون راجہ بشارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے جو کمیٹی بنائی تھی اس کا کیا بنا ، اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہئے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا ، یہ اجلاس، اس نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیرقانون نے کہا کہ جس افسوسناک واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے اور اس کے ردِ عمل میں ہونے والی کارروائی سے سبھی آگاہ ہیں جہاں تک آئی جی سے تحریری جواب لینے اور رپورٹ پیش کرنے کا معاملہ ہے تو اس کی حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک مجھے کمیٹی قائم ہونے کا نوٹیفکیشن ہی نہیں ملا ، جب تک کسی کو نوٹس نہیں جاری کیا جاتا تب تک تحریری جواب کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ اس معاملے میں خواہ مخواہ حکومت کی تضحیک نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ وزیر قانون نے اپنی رپورٹ پیر کے روز پیش کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن اس سے ایوان کا ماحول تلخ ہوگیا جبکہ اسی دوران صحافی سندھ کے اپنے ساتھی عزیز میمن کے قتل پر احتجاج کرتے ہوئے پریس گیلری سے واک آﺅٹ کرگئے تو سپیکر نے وزیر پبلک پراسیکیوشن چودھری ظہیرالدین اور وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کو صحافیوں سے مذاکرات کے لئے بھیجا ، صحافیوں نے وزراءکی کمیٹی کے اظہارِ یکجہتی کے بعد اپنا علامتی واک آﺅٹ ختم کردیا جس کے بعد چودھری ظہیرالدین نے ایوان کے صحافیوں سے ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا اور ان کے ساتھ دوبارہ یکجہتی کا اظہار کیا اور وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ صحافیعزیز میمن نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کردیا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے گا اور وہ بتایا کرے تھے کہ انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں ، انہیں پیپلز پارٹی نے ہی قوتل کرایا ہے اس لئے قتل کے اس مقدمے کی تفتیش میں پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی شامل کیا جائے اور ایم این اے ابراشاہ کو بھی گرفتار کیا جائے ، جس پر سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے ، پیپلز پارٹی نے قربانیاں دی ہیں اور اس کے ساتھ اس مشن میں صھافیوں نے بھی قربانیاں دی ہیں ، پیپلز پارٹی کی قیادت متاثرہ خاندان کی کے اطمینان کے مطابق اس کیس کی تحقیقات کروانا چاہتی ہے ، اگر اندازے کی بنیاد پر بلاول بھٹو کو شاملِ تفتیش کرنا ہے تو فیاض الحسن چوہان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔ اس طرح ایوان میں دو طرفہ بحث کے بعد نعرہ بازی شروع ہوگئی جس میں منی لانڈرنگ کیس سے مقبول ہونے والی ماڈل ایان علی عمران خان کی مبینہ بیوی سیتا وائٹ اور اس کی بیٹی ٹیریان کے بھی کئی بار ذکر ہوا ۔ اس دوران پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین اراکین احتجاج کےلئے سپیکر کی ڈائس کے سامنے پہنچ گئیں اور کچھ وزراءنے بھی احتجاجی واک آﺅٹ کیا ۔ اس مرحلے پر وزیر قانون نے ڈپٹی سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاسس چلانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ وزراءکی بات نہ سنی جائے ، ایجنڈے کی کارروائی شروع نہ کروائی جائے اور اپوزیشن کے اراکین کو بار بار بات کرنے کا موقع دیا جائے جس کا سپیکر نے نوٹس نہ لیا اور جبکہ اپوزیشن رکن سردار اویس خاں لغاری بات کرنے کی کوشش کرتے رہے جس دوران چودھری ظہیرالدین اور اویس لغاری میں تند جملوں کاتبا دلہ بھی ہوا ، کچھ وزراءسمیت حکومتی اراکین کی بڑی تعداد ایوان سے باہر نکل جانے اور جمعہ کا وقت ہونے پر ڈپیٹی سپیکر نے اجلاس چوبیس فروری پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •