Breaking News
Voice of Asia News

بھارت: خواتین ملازمین کو فٹنس  کیلئے برہنہ کرکے حمل ٹیسٹ کرانے کا انکشاف

گجرات(وائس آف ایشیا) بھارت میں خواتین ملازمین کو فٹنس ثابت کرنے کیلئے برہنہ کرکے حمل کے ٹیسٹ کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے شہر گجرات میں درجنوں خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دفاتر میں اپنی فنٹس ثابت کرنے کے لئے نسوانی ٹیسٹ کرانے پر مجبور کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے معاملے کی تحققات شروع کر دی ہیں، امید کی جا رہی ہے کہ رپورٹ 15 دن میں سامنے آجائے گی۔بتایا گیا ہے کہ ٹرینی ملازمین ہاسٹل میں تھی جہاں خاتون ٹیچر وں نے ماہواری چیک کرنے کے لئے لڑکیوں کے کپڑے اتر وائے۔ کل68 لڑکیوں کو کلاس سے نکال کر اکیلے اکیلے واش روم میں جایا گیا اور کپڑے اتروائے گئے۔ تازہ شکایت جمعرات کو سورت میونسپل کارپوریشن کی نجی یونین کو موصول ہوئی جہاں خواتین کے سو سے زائد گروپ کام کررہے ہیں۔یونین نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ ٹیسٹ ہر اس خاتون کے لئے ضروری ہے جو تین سال کی آزمائشی نوکری کے بعد بھی کام جاری رکھنا چاہتی ہیں۔تاہم لڑکیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ 10، 10 کے گروپ میں تقسیم کیا گیا اور ایک سات کمرے میں برہنہ کھڑا ہونے پر مجبور کیا گیا۔کمرے کا درواہ بھی ٹھیک سے بند نہ تھا۔ صرف ایک پردے کے ذریعہ سے کمرے میں موجود برہنہ خواتین کو باہر سے گزرتے افراد کی نگاہوں سے چھپایا گیا تھا۔ یونین کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کے خلاف نہیں ہیں تاہم جو طریقہ کار استعمال کیا گیا وہ بلکل درست نہیں ہے۔ یونین کی سربراہ احمد شیخ کہا کہ کسی ملازم کی صحت سے متعلق کوئی شبہ نہیں تھا تاہم اگر ٹیسٹ ضروری تھے تو ا یک اچھا طریقہ اپنایا جا سکتا تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •