Voice of Asia News

تصوف کے نفسیاتی و معاشرتی فوائد:صوفی محمد ناظم منظور ناظم

انسان شروع آفرینش سے ہی ’’خود کو جاننے‘‘، ’کائنات کو سمجھنے‘ اور خالق کائنات کی ذات کے ساتھ اپنے اردگرد ماحول کو جاننے کیلئے بے شمار علمی، سائنسی اور جذباتی کاوشیں کر چکا ہے۔ انہی کاوشوں کے نتیجے میں دنیا میں فلسفہ، سائنس،روحانی علوم اورمختلف طریقہ کاروں نے جنم لیا ہے۔ اگر خالق کائنات سے روحانی (مشتمل بر جذبات دیگرے و عشق) تعلق کے دعویدار وں پر غور کریں تو ہر مذہب میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو عرف عام میں اہل تصوف یا اہل ویدانت بھی کہا جاتا ہے اور کسی نے خوب فرمایا ہے کہ شریعت سر کو جھکانے اور طریقت دل کو لگانے کا نام ہے۔ یہ دل کو لگانا ہی بنیادی طور پر بندگی (روح)کا (رب)خالق کے ساتھ تعلق کو کہتے ہیں جو انسان اور خدا کے مابین ہوتا ہے۔ صوفیاء کرام جس کو ’روح‘قرار دیتے ہیں بعض مقامات پر ماہرین نفسیات بھی ’’لاشعور‘‘ کو روح کے معنوں میں استعما ل کرتے ہیں۔ مغرب میں اہل تصوف کے بہت سے مشاغل (مراقبہ و تصور)کو اور فلسفہ حیات کو انسانی صحت و زندگی کیلئے مختلف پہلوؤں سے فائدہ بخش قرار دے رہے ہیں۔ نہایت افسوس ناک امر ہمارے معاشروں کیلئے یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں اور انکے تبرکات کو پوجا کی حد تک عقائد میں شامل تو کر چکے ہیں مگر ان کے زندگی گزارنے کے فن کو، انسانی تعلقات و معاملات،سلوک و محبت اور بھائی چارے کو چھوڑے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تصوف جو کبھی نام سے موجود نہ ہوتا تھا مگر روح تصوف موجود تھی، آج وہی تصوف نام سے موجود ہے مگر اس کی روح نایاب ہے۔ آج اصل مشائخ عظام بھی جعلساز صوفیاء کے ہتھکنڈوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور عوام الناس سب خام و پختہ کو ایک ہی پلڑے میں تول رہے ہیں جس سے اصل و نقل کے امتیازات اْٹھ چکے ہیں اورخانقاہوں کا وہ قدیم اور سحر انگیز حسن برباد ہو تا جا رہا ہے اور جاذب نظری میں واقعتا کمی واقع ہو رہی ہے۔
علامہ اقبال صاحب نے مشائخ و خانقاہوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن، جہاں کچھ خواص کی حالت تو عجیب ہے وہاں عوام الناس کا تو ذکر ہی چہ معنی دارد؟۔ خانقاہوں اور سلاسل طریقت کی رسموں کے سماجی اور روحانی فوائد و نقصانات کو اہل علم و نظر بخوبی واقف ہیں کہ کچھ میں تو شریعت بغیر طریقت کے بہت زیادہ پھل پھول رہی ہے اور کچھ مقامات پر صرف طریقت بڑھ رہی ہے مگر شریعت مفقود ہوتی جا رہی ہے آج اگر یہ کہا جائے کہ صوفی حضرات کو اہل حدیث بنانے کی ضرورت ہے اور اہل حدیث حضرات کو صوفی بنانے کی ضرورت ہے تو یہ بات غالباً خاطر خواہ حد تک جائز ہو گی۔ بہرحال تصوف اور خانقاہوں کی موجودہ صورتحال اور معاشرتی بحران کے ضمن میں بہت سی مثبت کاوشیں دنیا بھر کی صوفی خانقاہیں سرانجام دے رہی ہیں جو کہ واقعتا قابل ستائش عمل ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ جو تحقیق و ترتیب سلوک و معاشرتی علوم کیلئے کتابوں یا رسالوں تک محدود ہے اس کی اصل روح کو عوام الناس تک کیسے پہنچایا جائے اور کس طرح تصوف کو معاشرے کیلئے فائدہ بخش بنایا جائے۔
نفسیاتی فنون کو صوفیاء کرام کس طرح تصوف کے میدان استعمال کرتے ہیں مغربی ماہرین اس موضوع کو زیر بحث لا رہے ہیں انگریزی زبان کیلیفورنیا یونیورسٹی کی پروفیسر صاحبہ Omnia EL Shakry نے ایک کتاب ’’عربی فرائڈ، جدید مصر میں تحلیل نفسی اور اسلام 2017ء میں شائع کی تھی جس میں حضرت محی الدین ابن عربی? اور فرائیڈین طریقہ علاج پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ کتاب مذکورہ میں اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈکی متعارف کی گئی اصلاحات شعور، لاشعور اور تحت الشعور کو خود سگمنڈ فرائڈ سے کافی عرصہ قبل محی الدین ابن عربی نے بھی استعمال کیا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ پر بھی اردو انگریزی و جرمن زبانوں میں کافی ذخیرہ علم عام قارئین کی دسترس میں موجود ہے۔ انکے طریقہ علاج تحلیل نفسی (جو کہ غالباً 1890?ء میں متعارف کروایا گیا) کا مقصد انسان دماغ کے مطالعہ و تجزیہ علاج کے طریقوں کا ایک مجموعہ ہے جس کا مقصد ذہنی صحت کی خرابیوں کے علاج کا طریقہ کار وضع کرانا ہے۔ تحلیل نفسی نے جدید نفسیات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں جن پر آج تک بحث و مباحثے جاری و ساری ہے اور سگمنڈ فرائڈ کو جدید نفسیات کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ عام لفظوں میں تحلیل نفسی کے ایک طریقہ کار میں مریض کی زندگی کی تاریخ و معاملات کو ڈاکٹر بڑے انہماک سے سنتا ہے اور بچپن جوانی یا بڑھاپے کے اس حصے میں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جس میں مریض کو لاشعوری یا شعوری طور پر نفسیاتی صدمات پہنچے ہوتے ہیں پھر اسی صدمے یا چوٹ کو لاشعور یا جس حصے میں موجود ہو،متاثرہ حصے سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے ذہنی امراض پر خاطر خواہ فائدہ ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر خانقاہوں کے طریقہ کار پر غور کیا جائے تو وہاں بھی انسان کو اپنی کہانی و آپ بیتی سنانے کا پورا موقعہ دیا جاتا ہے اور صدمات کو تسلیم و رضا کے مرہم سے درست کیا جاتا ہے۔ کسی دانشمند کا قول بھی ہے کہ اﷲ نے انسان کو دو کان دیئے ہیں تاکہ زیادہ سنے اور ایک زبان دی ہے تاکہ وہ کم بولے، صوفیائے کرام کا کم بولنے کو ترجیح دینے سائل زیادہ سننے سے بھی جڑا ہے۔ تحلیل نفسی اور صوفیائے کرام کا طریقہ کار بھی باقاعدہ ایک مکمل تصنیف کا حامل موضوع ہے جس پر مختصر مضمون میں لکھنا مشکل ترین امر ہے۔
صوفیائے کرام کی اصلاح ’’وصل حقیقی‘‘ بھی خود اعتمادی کی اعلیٰ منزل کا نام ہے جو انسان کو روح کے اطمینان سے حاصل ہوتی ہے جس کو صوفیاء کی اصلاح میں نفس مطمئنہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے معاشی، گھریلو، معاشرتی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں جن میں بڑا عنصر خود اعتمادی کی کمی یا بد نیتی کا شامل ہونا ہے۔ جدید نفسیاتی ماہرین بھی منفی جذبات کو خود انسان کیلئے انتہائی مہلک قرار دے رہے ہیں آپ نے کبھی خود غور فرمایا ہے کہ ڈپریشن اور منفی جذبات کی زیادتی کے اوقات میں تناول کیا گیا کھانا بھی معدے کے السر اور بلڈ پریشر جیسے خطرناک امراض کو جنم دیتا ہے۔ بدنیتی بھی منفی جذبہ ہے جس کے نقصانات بے شمار ہیں جس پر جدید نفسیاتی ماہرین بہت سی کتابیں بھی تصنیف کر چکے ہیں۔ ماہرین طب بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ انسان میں اولین منفی خیال جنم لیتا ہے بعد ازاں وہی منفی خیال یا جذبہ جسمانی بیماری کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ تصور شیخ اور نیکی کی ترغیب کس طرح منفی خیالات و جذبات کو قابو کرتا ہے یہ کوئی وارد الوجود صوفی سے پتہ چل سکتا ہے۔
درویشی یا فقر کو اگر سخت کوشی ہی سمجھ لیں تو فقر کی زندگی سراسر جہاد ہے جس کا احادیث و ملفوظات میں کثرت سے ذکر موجود ہے۔ اس کوشش (فقر) میں نہ تو کوئی شان و شکوہ کی تمناہوتی ہے، نہ ہی عوام کی طرف تعریف کی خواہش، نہ کوئی دکھاوا اور نہ ہی جھوٹ یا دغا ہوتا ہے۔ جب ہم اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو حصول دولت و جاہ کیلئے ہماری موجودہ نسل دیوانگی کی حد تک پہنچ چکی ہے حصول دولت کی دوڑ نے ہمیں سوائے غربت و افلاس کے بے جا خوف اور دیگر معاشرتی جرائم کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا۔ قرآن حکیم میں سورہ فرقان کی آیت نمبر 3میں ہے کہ ’’میرے بندے نہ تو اپنی ذات کیلئے کسی نفع و نقصان کے مختار ہیں اور نہ موت و حیات یا حشر و نشر پر کوئی اختیار و تصرف رکھتے ہیں۔‘‘ حدیث نبوی ؐمیں ہے کہ حضور اکرم ؐنے فرمایا کہ ’’جو شخص اﷲ کی رضا اور مشیت پر راضی نہیں ہوتا اور اس روگردانی اختیار کرتا ہے اس نے اپنے قلب کو دنیا و مافیہا سے وابستہ کر لیا، شرک کی راہ اختیار کی اپنے جسم کو مصائب و آلام میں مبتلا کر دیا۔ حضور اکرم? نے فقر کے اس حصے کی تشریح کیا ہی خوب فرمائی ہے کہ مصائب و آلام کی راہ میں مبتلا ہو گیا۔ یہی غربت و افلاس کے خوف کے مارے ہم لوگ آج مسلسل دولت و جاہ کے حصول میں مگن ہیں بلکہ جو شخص اس دوڑ میں شامل نہیں اس کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ رزق جس سے انسان اپنا پیٹ بھرتا وہ تو اﷲ کسی نہ کسی ذریعے سے عطا فرما ہی دیتا ہے مگر معاشرتی اسٹیٹس اور زیبائش کو قائم کرنے یا قائم رکھنے کیلئے اعلیٰ و ادنی طبقات کے لوگ زندگی کے اہم امور تک کو مکمل نہیں کر پاتے جس کا لازمی نتیجہ نفسیاتی بیماریاں اور ڈپریشن کا جنم لینا ہے۔حضرت مخدوم علی ہجویری فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی کرم اﷲ وجہہ سے لوگوں نے حضرت ابو ذر غفاری کے اس قول کے متعلق استفسار کیا ’’میرے نزدیک فقر، غنا سے زیادہ محبوب ہے اور بیماری تندرستی سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ آپ نے جوابا ارشاد فرمایا اﷲ! بو ذر غفاری پر رحم فرمائے لیکن میں کہتا ہوں جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ جو کچھ اور جیسا کچھ اﷲ نے اْس کیلئے پسند فرمایا ہے وہی سب سے بہتر و مبارک تر ہے وہ خدا کی عطا بخششوں کے علاوہ کوئی اور شے کو پسند نہیں کرتا‘‘ پس اس سے ظاہر ہے کہ سچی تسلیم و رضا بندوں کو مصنوعی اور خود ساختہ رنج و تشویش سے نجات دیتی ہے۔ (کشف المحجوب)‘‘ مادی دولت کی اہمیت کا انکار بھی مشکل ہے۔ بہرحال دولت، افلاس سے تو بہتر ہے اور اعلیٰ مقاصد کیلئے دولت کا حصول جائز بھی ہے لیکن ایسا شخص اس دولت کی دوڑ میں بمشکل ہی ملے گا جو اہلیان تصوف کی مانند حصول زر کو صرف دولت طلبی کی بجائے صالح الفکر انسان بنانے کیلئے کوشاں ہو۔ صوفیاء کرام کی حصول زر کو مقصد زندگی بنانے سے منع کرنا ہمارے معاشرے کیلئے خوف افلاس اور بہت سے جرائم کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ صوفیاء کرام سمجھتے تھے کہ یہ زر اندوزی سانپ کی مانند ہے اسی لئے خزانے کی جگہ پر زہریلے سانپوں کا بسیرا کہاوت بن چکی ہے وہ دولت و خزائن پر سانپ دراصل یہ جرائم و بے جا خوف ہی ہیں جو ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پھیلاو کر چکے ہیں۔ فقر کا باب بہت وسیع ہے جس کو الفاظ و معنوں میں بیان کرنا شاید مشکل امر ہے لیکن فقر کے باب میں ’’مادی علائق سے چھٹکارا‘‘، ’’بے طمع ہونا‘‘، ’’مردانہ بے نیازی‘‘، ’’اعمال کو معیار حیات سمجھنا نہ کہ دولت و جاہ کو‘‘، یہ سمجھنا کہ ’’میں ہوں، میرے پاس کیا ہے‘‘اس سے بھی بے غرض رہنا، ’’قربانی پر کامل آمادگی‘‘، ’’اپنے مرشد کیلئے کامل سپردگی‘‘اور ’’ہمت و شجاعت‘‘بھی فقر میں ہی داخل ہیں۔ محرومی دولت کا خوف ہماری زبان بندی نہ کر سکے گا۔سعدی شیرازی (جاری ہے)
nazim.rao@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •