Voice of Asia News

اقوام متحدہ اور مسئلہ کشمیر پر اس کامنافقانہ کردار: محمد قیصر چوہان

 
25 اپریل، 1945ء سے 26 جون، 1945ء تک سان فرانسسکو، امریکا میں پچاس ملکوں کے نمائندوں کی ایک کانفرس منعقد ہوئی، اس کانفرس میں ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام پر غور کیا گیا چنانچہ اقوام متحدہ یا Nations United کا منشور مرتب کیا گیا۔ لیکن اقوام متحدہ 24 اکتوبر، 1945ء میں معرض وجود میں آئی ،اوراس کا نام امریکا کے سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے تجویز کیا تھا۔اقوام متحدہ کے منشور کی تمہید میں لکھا ہے کہ ’’ہم اقوام متحدہ کے لوگوں نے ارادہ کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچائیں گے۔انسانوں کے بنیادی حقوق پر دوبارہ ایمان لائیں گے اور انسانی اقدار کی عزت اور قدرومنزلت کریں گے۔مرد اور عورت کے حقوق برابر ہوں گے۔ اور چھوٹی بڑی قوموں کے حقوق برابر ہوں گے۔ایسے حالات پیدا کریں گے کہ عہد ناموں اور بین الاقوامی آئین کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھایا جائے۔ آزادی کی ایک وسیع فضا میں اجتماعی ترقی کی رفتار بڑھے اور زندگی کا معیار بلند ہو۔لہٰذایہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے رواداری اختیار کریں۔ہمسایوں سے پر امن زندگی بسر کریں۔
بین الاقوامی امن اور تحفظ کی خاطر اپنی طاقت متحد کریں۔ نیز اصولوں اور روایتوں کو قبول کر سکیں اس بات کا یقین دلائیں کی مشترکہ مفاد کے سوا کبھی طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔تمام اقوام عالم اقتصادی اور اجتماعی ترقی کی خاطر بین الاقوامی ذرائع اختیار کریں۔اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 1 کے تحت اقوام متحدہ کے مقاصد میں ’’مشترکہ مساعی سے بین الاقوامی امن اور تحفظ قائم کرنا۔قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھانا۔بین الاقوامی اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانوں کو بہتری سے متعلق گتھیوں کو سلجھانے کی خاطر بین الاقوامی تعاون پیدا کرنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کیلئے لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا کرنا۔ایک ایسا مرکز پیدا کرنا جس کے ذریعے قومیں رابطہ عمل پیدا کر کے ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کر سکیں‘‘۔
آرٹیکل نمبر 2 کے تحت تمام رکن ممالک کو مرتبہ برابری کی بنیاد پر ہے۔ہر امن پسند ملک جو اقوام متحدہ کے منشور کی شرائط تسلیم کرے اور ادارہ کی نظر میں وہ ملک ان شرائط کو پورا کر سکے اور اقوام متحدہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے تیار ہو برابری کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا رکن بن سکتا ہے۔ شروع شروع میں اس کے صرف 51 ممبر تھے۔ بعد میں بڑھتے گئے اور اس وقت اقوام متحدہ کے ارکان ممالک کی تعداد 193 ہے۔ سیکورٹی کونسل یا سلامتی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی اراکین کو معطل یا خارج کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی رکن اقوام متحدہ کے منشور کی مسلسل خلاف ورزی کرے اسے خارج کیا جا سکتا ہے ۔سلامتی کونسل معطل شدہ اراکین کے حقوق رکنیت کو بحال کر سکتی ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں اب تک رونما ہونے والے انسانی المیے کی واحد وجہ اقوام متحدہ ہی ہے کہ وہ اب تک اپنی ہی متفقہ منظور کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ابھی تک بھارت کو مجبور نہیں کیا جاسکا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے۔ اسے اقوام متحدہ کی ناکامی قرار دیا جائے یا دہرا معیار کہ جہاں پر مسلمانوں کا معاملہ ہوتا ہے وہاں پر اقوام متحدہ کا کردار محض نشستند ، گفتند اور برخاستند تک ہی محدود رہتا ہے تاہم اگر جنوبی سوڈان یا مشرقی تیمور جیسے معاملات ہوں تو پھر اقوام متحدہ کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر اقوام متحدہ اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کررہی ہوتی تو آج دنیا میں جنگ و جدل کا بازار یوں نہ گرم ہوتا۔ امریکا نے جس ملک پر بھی چڑھائی کی ، اس کیلئے اخلاقی جواز اقوام متحدہ نے ہی مہیا کیا۔ اسی طرح کمزور ممالک یا فریق کو ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ نے کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اسرائیل کا فلسطین پر اور بھارت کا جموں وکشمیر پر قبضہ ، ایسے ہی معاملات ہیں جو نصف صدی سے زاید سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب موجود ہیں مگر اقوام متحدہ جیسا ادارہ انہیں حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے اورکشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں۔ جناب انتونیو گوتریس یہ بتائیں کہ جب ایک فریق کسی کے علاقے پر زبردستی قبضہ کرلے اور کسی بھی صورت میں کوئی معقول بات سننے کیلئے تیار نہ ہو تو پھر کیا راستہ بچتا ہے۔ کم از کم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس فریق کا بائیکاٹ کرنے کا ہی فیصلہ کیا جائے اور اگر جنگ اتنی بری چیز ہے تو پھر اقوام متحدہ نے عراق، لیبیا اور دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی کیوں اجازت دی۔ بھارتی قیادت نے جناب گوتریس کو یہ کہہ کر آئینہ دکھا یا کہ بھارت کو عالمی دباؤکی کوئی پروا نہیں ہے اور کشمیر سے متعلق فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حیرت انگیز طور پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تو بات کی مگر انہوں نے ایک مرتبہ بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی ریاست میں ضم کرنے کے فیصلے پر منہ سے بھاپ بھی نہیں نکالی۔ اس پوری صورتحال کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت نے جو کچھ بھی کیا ہے ، اس پر اقوام متحدہ کو نہ تو کوئی تشویش ہے اور نہ ہی کوئی اعتراض۔ جناب انتونیو گوتریس اگر اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ادارے کو چلا نہیں سکتے تو کم ازکم اس امر کا اعتراف تو کریں کہ ان کا ادارہ اپنے قیام کے مقاصد کو پورا کرنے میں یکسر ناکام ہوچکا ہے اور اسے ناکام ادارہ قرار دینا زیادہ درست ہوگا۔ وہ اگر اسرائیل اور بھارت کو ان کی چیرہ دستیوں سے نہیں روک سکتے تو کم از کم ان کے مظالم کی مذمت تو کریں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •