Breaking News
Voice of Asia News

معاہدہ لوزان اور رجب طیب اردوان: سیف اعوان

ترک صدر رجب طیب اردوان اس وقت پوری اسلامی دنیا میں ایک ہیرو کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان ان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پاکستان میں رجب طیب اردوان کے سب سے زیادہ مداح ہیں ۔ترکی کے ساتھ پاکستانیوں کا لگاؤ ایک قدرتی عمل ہے۔خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے کے بعد ترکی کو شدید مالی اور انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ایسے مشکل وقت میں برصغیر پاک و ہند کی مسلم خواتین نے اپنے زیوارات بیچ کر ترک قوم کی مدد کی ۔جس کی ترک قوم آج بھی شکرگزار ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران اس بات کا ذکر بھی کیا ۔پاکستان میں گزشتہ دس سالوں کے دوران ترکی کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہو ئے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ پنجاب میں شہبازشریف کی حکومت ہے۔شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے ان کے دور حکومت میں ترکی کی مختلف کمپنیوں کے ساتھ اربوں روپے کے معاہدے کیے گئے جو ماضی میں کسی پاکستان کی حکومت یا صوبائی حکومت نے نہیں کیے۔شریف برداران کا ترکی کے ساتھ ایک پیار و محبت کا رشتہ تھا۔جس کی وجہ سے میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف نے ترکی کے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا ۔میں شہبازشریف حکومت کے ترکی کے ساتھ کیے معاہدوں کی یہاں زیادہ تفصیلات جگہ کم ہونے کی وجہ سے نہیں بیان کرسکتا لیکن میں یہاں دو معاہدوں کا ذکر لازمی کروں گا۔میرا تعلق بھی لاہور سے ہے اس لیے میں شہبازشریف حکومت کے ایک ایسے ہی معاہدے کے متعلق بتاتا چلو کہ شہبازشریف نے ترکی کی دو کمپنیوں کے ساتھ لاہور کی صفائی کا معاہدہ کیا ان میں اوزپاک اور البراک شامل ہیں ۔ان دو ترک کمپنیوں کے ساتھ شہبازشریف حکومت نے امریکہ اور چین سے سستے معاہدے کیے جس کی باقاعدہ بولی کرائی گئی۔لیکن بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت نے ان کمپنیوں کے الٹے تین ارب بھی ہڑپ کرلیے ۔دونوں ترک کمپنیوں نے واضع الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر ہماری ادائیگیاں نہ کی گئی تو ہم لاہور کا کچرا نہیں اٹھائیں گے۔آنے والے چند دن لاہوریوں کیلئے مشکل ہو سکتے ہیں کیونکہ لاہور میں ہر گلی اور کوچے میں کچرے کے ڈھیر نظر آئیں گے۔یاد رہے پنجاب حکومت نے نہ ان کمپنیوں کے معاہدوں میں توسیع کی ہے اور ان کی تین ارب کی ادائیگیاں کررہی ہے۔شہبازشریف کے دور میں مظفرگڑھ میں ترک حکومت کے تعاون سے رجب طیب اردوان ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا ۔شہبازشریف کے دور حکومت میں اس ہسپتال کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا تھا لیکن موجودہ حکومت نے پہلے سترہ ماہ اس منصوبے پر کوئی توجہ نہ دی ۔شہبازشریف نے اس ہسپتال کی توسیع کے منصوبے کا 28مئی 2018کو افتتاح کیا لیکن گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے شہبازشریف کی وہاں سے تختی اتار کر اپنی تختی لگوادی۔
اب میں اصل کہانی کی طرف آتا ہوں 1923میں پہلی جنگ عظیم کے بعد معاہدہ لوزان کے تحت سلطنت عثمانیہ کو ختم کرکے موجودہ ترک ریاست قائم کی گئی تھی۔اب کہا جارہا ہے کہ 2023میں معاہدہ لوزان ختم ہو جائے گا اور سلطنت عثمانیہ اپنی اصل شکل میں بحال ہو جائے گی۔یاد رہے معاہدہ لوزان سو سالہ معاہد ہ تھا۔معاہدہ لوزان جدید ترکی کے بانی مصطفےٰ کمال اتاترک نے عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت ترکی کو وہ علاقے نہیں ملے جو سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھے لیکن مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں موجودہ ترک وجود میں آگیا تھا۔عالمی سطح پر کوئی بھی کیا گیا معاہدہ سو سال بعد خود بخود ہو جاتا ہے۔معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی سلطنت عثمانیہ دوبارہ بحال نہیں ہو جائے گی کیونکہ معاہدے میں ایسا کہی بھی نہیں لکھا کہ سو سال بعد سلطنت عثمانیہ دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد ترکی خلفیہ کا عہدہ دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔کیونکہ عثمانی خلافت کو معاہدہ لوزان کے تحت ہی ختم کیا گیا تھا۔عالمی طاقتوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ شاید طیب اردوان ترکی میں خلافت کا منصف سنبھالنے کی تیار کررہے ہیں۔خلافت عثمانیہ میں عثمانی دور کے سلطان اس لیے خلفیہ کہلواتے تھے کیونکہ ان کے پاس مسلمانوں کے مقامات مقدسہ مکہ مقرمہ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس تھے۔ترکی اب چاہ کربھی خلافت دوبارہ بحال نہیں کر سکتا کیونکہ اسرائیل اور مصر جیسے ملک جو اب طاقتور ہیں جو کسی وقت میں خلافت عثمانیہ کا حصہ تھے ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ان ممالک پر قبضہ کرنا ترکی کیلئے ناممکن کام ہے۔اگر ترکی کو اپنے سابقہ علاقے فتح کرنے کی اجازت دے بھی جائے تو دوسرے ملک جن میں برطانیہ،روم ،فرانس اور روس دوبارہ اپنی سلطنتوں کو بحال کرنے کی کوشش کرینگے۔جس سے دنیا خوفناک تباہی کا شکار ہو سکتی ہے۔یاد رہے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے بھی پہلی جنگ عظیم کے دوران اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ واپس لینے کی کوشش کی لیکن جرمنی کا انجام ہم سب کے سامنے ہے ۔اب جرمنی میں یہ بات ایک ڈرؤنا خواب بن چکی ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ معاہدہ لوزان ختم ہونے سے خلافت عثمانیہ بحال نہیں ہو سکتی لیکن ترکی کو سفارتی فوائد لازمی مل سکتے ہیں۔جیسے کہ شام کے کرد علاقے ، عراقی علاقے موصل،بحیرہ روم کے بہت سے یونانی جزیروں پر ترکی کا کلیم مضبوط ہوسکتا ہے۔یہ وہ علاقے ہیں جن پر ترک اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے تھے لیکن معاہدہ لوزان کے بعد ترک ان علاقوں سے پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ان علاقوں میں یونانی جزیرے ترکی کیلئے بہت اہم ہیں ۔کیونکہ ان جزیروں کے چھین جانے سے ترکی کی سمندری حدود بہت کم ہو گئی ہے۔اپنی سمندری حدود میں کمی کی وجہ سے ترکی سمندر میں زیادہ دور تک ڈرلنگ نہیں کر سکتا اس کام کیلئے ترکی اپنی سمندری حدود کو پھیلانا چاہتا ہے ۔کچھ عرصہ قبل جب ترکی اور یونان کے درمیان ساپیرس کے قریب گیس کیلئے ڈرلنگ کرنے میں تنازعہ کھڑاہو گیا تو یورپی یونین نے ترکی کو پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔1996میں ترکی اور یونان کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی ۔حال ہی میں جب یونان نے بحیرہ روم کے قریب ہتھیار نصب کرنا شروع کیے تو ترکی نے اس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا۔ترکی نے گزشتہ برس لیبیا کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنی ساحلی حدود کو بڑھالیا ہے۔اس سے ترکی کی بحری حدود بھی بڑھ گئی ہیں ان جزیروں میں جزیرہ کریٹ بھی شامل ہے اس لیے یونان نے اس معاہدے پر اعتراض کرتے ہوئے لیبیا کے سفیر کو ملک بدر بھی کردیا تھا۔یونان اور ترکی کے درمیان جزیرہ ساپیرس پر 1974سے لے کر آج تک جھگڑا چل رہا ہے۔جبکہ شام اور عراق کے ساتھ ترکی کی کشیدگی پہلے سے چل رہی ہے۔ترک فوج اکثر عراق کے علاقوں پر حملہ کرتی ہے جبکہ شام کے اکثر علاقوں پر ترکی کا قبضہ ہو چکا ہے۔معاہدہ لوزان ختم ہونے کے بعد ترکی کے ہمسایہ ممالک جن میں عراق،شام اور یونان میں مزید شدت آسکتی ہے۔
رجب طیب اردوان نے کمال ذہانت کے ساتھ ترکی کو فوج اور عدلیہ کے ساتھ بناکسی تصادم کے اسلامی ترکی کی جانب گامزن کردیا ہے۔ترکی 1289سے 1923تک اسلامی خلافت کا مرکز رہا ہے۔کمال اتاترک کے دور میں ترکی سیکولر ترکی بن چکا تھا لیکن رجب طیب اردوان نے ترکی کو حقیقی معنوں میں اسلامی ملک بنادیا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ،فرانس اور جرمنی نے زبردستی ترکی کے ساتھ معاہدہ لوزان طے کیا ۔اس معاہدے کے بعد تین برے اعظموں پر پھیلی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کردیا گیا۔یہ معاہدہ کمال اتاترک نے کیا خلافت عثمانیہ ٹوٹنے کے بعد چالیس ملک وجود میں آئے۔ اس معاہدے کے تحت ترکی کے ہاتھ ایک سو سال کیلئے باند دیے گئے لیکن 2023میں ترکی کے ساتھ کیا معاہدہ ختم ہو جائے اور ترکی پہلے جیسا ترکی نہیں رہے گا۔2023کے بعد ترکی کا سرکاری مذہب بھی اسلام ہو گا،ترکی اپنی بندرگاہ باس فورس کا آزدانہ استعمال بھی کر سکے گا اورترکی اپنی مرضی سے سمندر میں جہاں چاہیے تیل بھی نکال سکتا ہے۔2023قریب آتے ہی عالمی طاقتوں کی نیند اس لیے اوڑ چکی ہے۔رجب طیب اردوان وہ پہلے مسلمان لیڈر ہیں جہنوں نے کھل کر فلسطین،شام،برما اور کشمیری مسلمانوں کیلئے آواز بلند کی جس کا سب سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہو رہا ہے۔طیب اردوان کی فہم فراحت نے تمام اسلامی ممالک کی قیادت کیلئے تیار کرلیا ہے۔دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک میں کوئی آفت یا مسئلہ آجائے تو رجب طیب سب سے پیش پیش ہوتے ہیں۔رجب طیب اردوان سے ترکی عوام کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2016میں ترک فوج نے ان کیخلاف بغاوت کی تو ترک قوم نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر طیب اردوان کی حکومت کو بچایا۔اس سازش کے ناکام ہونے کے بعد طیب اردوان مزید طاقتور اور مضبوط ہو چکے ہیں۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •