Voice of Asia News

بھارت کی زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی:محمد قیصر چوہان

 
عالمی دہشت گرد ممالک امریکا اور اسرائیل کے تیسرے ساتھی بھارت میں انتہا پسندی سر چڑھ کر بولتے بولتے اب انسانیت کو بْری طرح روند رہی ہے ،پاگل پن کے شکار جنونی ہندوؤں نے 25 سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا، بے دردی سے مار مار کر قتل کیا گیا، دوسو سے زائدمسلمانوں کو زخمی کردیا گیا، مساجد پر حملے کیے گئے، ایک تصویر ساری دنیا کے میڈیا نے شائع کی کہ انتہا پسند مسجد کے مینار پر چڑھ کر اس کو توڑ رہے اور ترنگا لہرا رہے ہیں۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گلی کوچوں میں مسلمانوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکر اکھاڑ دیے گئے، جلاؤ گھیراؤ ہورہا ہے، دوسرے شہروں سے آنے والے مسلمان پھر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بعض علاقوں میں کرفیو لگایا گیا ہے لیکن کرفیو میں بلوائیوں کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی ہے۔ بھارت میں اس انتہا پسندی پر دنیا کا نام نہاد ضمیر مر گیا ہے۔دنیا بھر کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں چین کی نیند سو رہی ہیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ امریکی صدر جب بھی بھارت کا دورہ کرتا ہے تو بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ 2000 میں جب بل کلنٹن نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو 35 سکھوں کو ماردیا گیا تھا۔اس مرتبہ بھی ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقع پر سکھ ڈر اور خوف کے عالم میں تھے مگر اب کی مرتبہ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ دہلی میں بھارتی پولیس کے تحفظ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈے مسلم آبادی پر پل پڑے اور انہوں نے مساجد سمیت مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کیا ، انہیں شدید زدوکوب کیا اور زخمیوں کو ہسپتال لے جانے میں رکاوٹیں ڈالیں جس کی وجہ سے کئی مسلمان محض زیادہ خون بہہ جانے اور وقت پر ہسپتال نہ پہنچانے کی بناء پر جام شہادت نوش کرگئے۔یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ دنیا بھر میں اخلاق اور تہذیب کا درس دینے والے امریکا کے صدر کو بھارت میں ایک مرتبہ بھی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یاد نہیں آئے۔ اسے بھی مودی اور ٹرمپ کی ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر کے دورے کیلئے احمدآباد کو چنا گیا۔ احمد آباد میں 28 فروری 2002 میں مودی کی قیادت میں خونیں مسلم کش فسادات ہوئے تھے جن میں تین روز تک ریاست نے ہندو بلوائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کا تشدد کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی۔ مسلمانوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے کیلئے پولیس موجود تھی جبکہ ہندو بلوائیوں کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ گجرات فسادات کی مودی پر ذمہ داری عاید ہونے کی بناء پر امریکا میں مودی کے داخلے پر پابندی عاید تھی جو امریکی حکومت نے مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہٹائی۔ گجرات فسادات کی بناء پر ہی مودی کو قسائی کہا جاتا ہے۔ گجرات فسادات کی عین سالگرہ کے موقع پر احمدآباد میں امریکی صدر کی آمد ، اس موقع پر دہلی میں گجرات فسادات کا ری پلے امریکی اور بھارتی گٹھ جوڑ کی کہانی سنانے کیلئے کافی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے دورہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم ، مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے ، مقبوضہ کشمیر کا تنازع حل کرنے کے بجائے اسے بھارتی ریاست میں ضم کرنے ، دو سو سے زائددنوں سے مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈاؤن کرنے کے بارے میں ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہیں۔ دہلی کو دنیا بھر میں آبروریزی کا دارالحکومت کہا جاتا ہے مگر اس پر بھی امریکی صدر نے کچھ نہیں بولا۔ امریکی دعووں کے برعکس ٹرمپ نے یہ سب کچھ کرنے پر عملی طور پر مودی کی پیٹھ تھپکی اور امریکی کارپوریشنوں کیلئے تین ارب ڈالر کے سودے کر ڈالے جو بھارتی عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر ادا کیے جائیں گے۔
کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کے دکھوں کا ملجا و ماوا پاکستان تھا جب تک پاکستان سے ان مظالم کے خلاف توانا آواز اٹھتی رہتی تھی بھارتی مسلمان خود کو طاقتور محسوس کرتے تھے اور انتہا پسند اپنے بلوں میں دبکے رہتے تھے لیکن اب پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی اور کم ہمتی کے نتیجے میں بھارت میں انتہا پسندی گلی کوچوں میں اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ برس پانچ اگست کے اقدام پر پاکستان میں خاموشی، ہمیں جنگ نہیں لڑنی۔ گلگت بلتستان پر اس کا دعویٰ،پاکستان کا جواب،ہمیں جنگ نہیں لڑنی، بابری مسجد کا فیصلہ، یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، اب مسجدوں میں گھس کر بے حرمتی کی گئی ہے اب بھی خاموشی۔ ہاں 27 فروری 2019ء کا جشن موسیقی ضرور ہوا ہے۔بھارت میں سرکاری تحفظ میں ہونے والے مسلم کش اقدامات پر نہ تو اسلامی ممالک کی تنظیم نے کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ اس بارے میں اقوام متحدہ میں کسی نے کوئی تحریک پیش کی ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو مردہ گھوڑا کہنے پر عرب ممالک ناراض تو بہت ہوتے ہیں مگر کوئی یہ تو بتائے کہ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی داد رسی کیلئے کون اٹھے گا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم تحریک شروع ہوئے ایک سال ہونے کو ہے جس میں ہر روز تیزی آرہی ہے۔ متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد سے عملی طور پر بھارت کی زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی ہے جس کی ہر معقول سوچ رکھنے والے نے مذمت کی ہے۔ ٹرمپ تو اس وقت مسلم دشمن کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ اسرائیل بھی یہی کچھ فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے مگر اس کی حمایت میں ٹرمپ پیش پیش ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •