Voice of Asia News

امریکہ طالبان معاھدہ اورپاکستان کی کامیاب ڈپلومیسی :راجہ حسن اختر

 
دوحہ میں 50 سے زائد ملکوں کی نمائندوں کی موجودگی میں امریکہ اور طالبان میں معاہدہ طے پاگیا۔معاہدے پر زمے خلیل زاد اور طالبان کی طرف سے نائب امیر ملا برادرز نے دستخط کوے اس تقریب کے دوران ہال اﷲ اکبر کے نعروں سے گونجتا رہا- اس معاہدہ کے تحت 135 دن میں 8 ہزار امریکی فوجی رہ جاویں گے اور طالبان افغانستان کی سرزمین کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، اس معاہدے کے نتیجے میں 19 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگئی ہے – اس موقعہ پر امریکی وزیر خارجہ نے قطر اور پاکستان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تمام فریقین نے مثبت کردار ادا کیا ۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ طالبان پر پابندیاں ختم کرے گا اور 10 مارچ 2020 تک 5 ہزار طالبان قیدی رہا کرے گا۔جبکہ طالبان ایک ہزار سے زائد افغان اہلکاروں کو رہا کردے گا۔ معاہدے پر دستخطوں کے بعد افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات شروع ہوجائیں گے، فوجی انخلاء کے لحاظ سے اگلے 14 مارہ اہم ہیں جبکہ امریکی فوجیں افغانستان کی سرزمین سے اپنا انخلا مکمل کریں گے اس معاہدہ 4 ضروری نکات پر مشتمل ہے ۔نمبر1 معاہدہ کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، نمبر2 ،14 ماہ میں تمام امریکی اور نیٹو فوجی نکل جاویں گے، نمبر3- ابتدائی 135 دنوں میں امریکہ 9 ہزار تک اپنے فوجی کم کردے گا – نمبر4 قیدیوں کا تبادلہ بھی بتدریج جاری رہے گا، اس وقت افغانستان میں 14 ہزار امریکی اور 39 ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل 17 ہزار فوجی شامل ہیں- ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد افغان جنگ ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا جو کہ انہوں نے سچ کردکھایا- اب معاہدے کی کامیابی کا انحصار تمام فریقین پر عائد ہوتا ہے – طالبان اور امریکہ نے اگر معاہدے کی پاسداری کو تو پھر یقینا افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا- اس امن معاہدے کی وجہ سے پورے افغانستان میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا- یہ معاہدہ افغانستان میں امن ، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہوگا- طالبان نے اس معاہدے کو جہاد کی فتح قرار دیا اور انہوں نے اس موقعہ پر برملا یہ کہا کہ طالبان جنگ جیت چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایک طویل جنگ پر شکست خوردہ ہوکر امن معاہدہ کرنے پر آمادہ ہوا ۔افغان باقی ِہسار باقی- الحکم اﷲ، الملک اﷲ، یقینا یہ جہاد کی ہی برکت ہے کہ آج پھر ایک اور سپر پاور افغانستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد واپس ہورہی ہے ، امریکی وزیر خارجہ پومیو نے اس سارے عرصہ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ پاکستان کے عوام اور خواص یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس سارے کارھائے نمایاں کو سرانجام دینے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے مثبت کردار ادا کیا – چیف آف آرمی سٹاف سے لے کر ایک عام فوجی اور اہلکار تک شاباش کے مستحق ہیں- پاکستان کے دفتر خارجہ کی ڈپلومیسی کو پاکستانی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے – پاکستان کے اس کردار کو تمام دنیا نے بہت سراہا- پاکستان کے دفتر خارجہ نے امن معاہدے کی کامیابی تک مسلسل جدوجہد کو جاری رکھا ۔ بیک ڈور ڈپلومیسی کے اس شاہکار کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو مل کر پاکستان کی اس کامیابی پر حکومت کو اور فوجی اداروں کو مبارکباد دینی چاہیے ۔ جہاں اپوزیشن ہر وقت حکومت پر تابڑ توڑ حملے کرتی رہتی ہے وہاں یہ موقعہ ہے کہ ہم اس معاہدے میں شامل پاکستان کے تمام کرداروں کی دل کھول کر تعریف کریں – ہمیں ایک سنجیدہ قوم جیسا رویہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے یہ بہترین موقعہ ہے کہ ہم اس کامیابی پر فوج کو مبارکباد دیں- فوجی اداروں کے مثبت رول کی تعریف کریں اس کے علاوہ دفتر خارجہ کی کوششوں کو سراہا جانا ضروری ہے – دفتر خارجہ نے بے شک اس سارے عرصہ میں انتھک محنت کی – ہمارے وہ لوگ جو پس پردہ بھاگ دوڑ کرتے رہے جو خاموشی سے اپنی منزل کی طرف گامزن رہے انہیں بھی داد دینی چاہیے ، ان کے کردار کو سراہا جانا ضروری ہے – حکومت پر تنقید ضروری ہوتی ہے مگر جہاں تعریف کا موقعہ ہو وہاں ہمیں تعریف بھی کرنی چاہیے میڈیا سے بھی التماس ہے کہ وہ پاکستان کی اس بہت بڑی کامیابی کو اپنے ٹاک شوز میں زیر بحث لائے – میں پچھلے دو دن سے دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے میڈیا نے پاکستان کی اس بے مثال کامیابی پر اتنی آواز نہیں اٹھائی جتنی آواز اسے اٹھانی چاہیے تھی – ہمارا پرنٹ میڈیا بھی خاموش ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ان کامیابیوں کا ذکر بھی اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح ہم برائیوں کو اچھالتے ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اس پر بات کرنی چاہیے ، یہ معاہدے خطے میں پائیدار امن کے ضامن ثابت ہوں گے – اس سے پاکستان خطے میں اپنا رول ادا کرسکے گا۔ پاکستان اس معاہدے کے ذریعے افغان عوام کو اپنے قریب لے کر آیا ہے ، دنیا بھرمیں پاکستان کے مثبت اقدامات کو سراہا گیا- پاکستان افغانستان کے راستے سنٹرل ایشاء کے ممالک کے ساتھ سڑک کے ذریعے رابطے کے قابل ہوجائے گا اور اگر یہ راستہ کھل جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، پاکستان کی تاجر برادری اور پاکستان کے عوام فوج کو، دفتر خارجہ کو ، حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
rajahassanakhtar@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •