مقبوضہ جموں وکشمیر میں 37نئے بھارتی قوانین منظور: محمد قیصر چوہان

 
عالمی دہشت گرد ممالک امریکا اور اسرائیل کی آشیرباد سے اقلیتوں اورامن کے دُشمن بھارت نے پانچ اگست2019 کوآئین کی شق370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ بنایاتھا۔اور اب 37 نئے قوانین بنا کر کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کی عملی کوشش شروع کردی گئی ہے۔ اب بھارتی شہری مقبوضہ کشمیر میں اراضی خرید سکیں گے اور جائداد بھی بنا سکیں گے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی موجودگی میں بھارت یہ نہیں کرسکتا تھا لیکن اب بھارتی حکومت نے29 فروری کو 37 نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں سروسز ایکٹ، انکم ٹیکس ایکٹ، گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ، مردم شماری ایکٹ، دیوالیہ پن ایکٹ وغیرہ بھی جموں وکشمیر میں نافذ ہو جائیں گے۔
مقبوضہ جموں و کشمیرمیں اب تک رونما ہونے والے انسانی المیے کی واحد وجہ اقوام متحدہ ہی ہے کہ وہ اب تک اپنی ہی متفقہ منظور کی گئی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود ابھی تک بھارت کو مجبور نہیں کیا جاسکا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کروائے۔ اسے اقوام متحدہ کی ناکامی قرار دیا جائے یا دہرا معیار کہ جہاں پر مسلمانوں کا معاملہ ہوتا ہے وہاں پر اقوام متحدہ کا کردار محض نشستند ، گفتند اور برخاستند تک ہی محدود رہتا ہے تاہم اگر جنوبی سوڈان یا مشرقی تیمور جیسے معاملات ہوں تو پھر اقوام متحدہ کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر اقوام متحدہ اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کررہی ہوتی تو آج دنیا میں جنگ و جدل کا بازار یوں نہ گرم ہوتا۔ امریکا نے جس ملک پر بھی چڑھائی کی ، اس کیلئے اخلاقی جواز اقوام متحدہ نے ہی مہیا کیا۔ اسی طرح کمزور ممالک یا فریق کو ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ نے کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اسرائیل کا فلسطین پر اور بھارت کا جموں وکشمیر پر قبضہ ، ایسے ہی معاملات ہیں جو نصف صدی سے زاید سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب موجود ہیں مگر اقوام متحدہ جیسا ادارہ انہیں حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کا تعلق ہے تو ہمارے حکمرانوں کو بھی سمجھ لینا چاہیے یہ ادارے مسلمانوں کے کسی کام کے نہیں۔ امت مسلمہ میں شامل ممالک کے حکمران بھی زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کر سکے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دو رنگی تو دیکھیں پاکستان آکر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو لازمی قرار دیا اور امریکا جا کر بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں اور دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر محض تشویش کا اظہار کردیا۔ اقوام متحدہ اگر سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل کرے تاکہ کشمیر میں استصواب رائے کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔ اقوام متحدہ نے جس علاقے کو متنازع تسلیم کیا ہوا ہے بھارت اسے اپنے ملک میں کیسے شامل کر سکتا ہے۔ اس پر کوئی اقوام متحدہ سے پوچھے کہ اس پر اقوام متحدہ نے بھارت کے خلاف کیا کارروائی کی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کو سات ماہ سے یرغمال بنا رکھا ہے اس پر اقوام متحدہ نے کیا اقدام کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران خود کشمیر کیلئے جرات مندانہ قدم اٹھائیں تو اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے خود چل کر مسئلہ کشمیر حل کرانے آئیں گے۔

qaiserchohan81@gmail.com