Voice of Asia News

طاقتور دیوتا اور ناقدین:سیف اعوان

 
چار ہزار سال پہلے دریائے نیل کے کنارے رہنے والے مصری سورج کو ’’را دیوتا‘‘ کہتے تھے۔را دیوتا سب سے طاقتور تھا اور اس کا فرض تھا کہ اندھیرے کو ختم کرکے روشنی کو لائے۔ایک دن را دیوتا نے اپنا تخت و تاج چھوڑدیا اور اپنی کشتی لے کر آسمان کی جانب نکل پڑا اور مصری تہذیب کے بقول رادیوتا آج بھی آسمان پے اپنی کشتی میں تیر رہا ہے۔رادیوتا کی کشتی سارا دن آسمان پر تیرتی ہے اور رات ہونے کے قریب وہ سمندر کے کنارے پہنچ جاتی ہے جس کے بعد ہر طرف اندھیرا ہو جاتا ہے اور دنیا مکمل تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔اس تاریکی میں رادیوتا کو بارہ گھنٹے مسلسل جنگ لڑنا پڑتی ہے۔مصریوں کے بعد رومن تہذیب آئی یہ تہذیب مصریوں سے تھوڑی جدید تھی لیکن ان سے کافی مشاہدہ رکھتی تھی۔اس تہذیب کی کہانی مصریوں سے قدر ماڈرن بھی تھی۔رومن دیوتا ’’ہیلیس ‘‘ کشتی کی بجائے چار گھوڑوں والی بھگی میں مشرق سے مغرب کی جانب سفر کرتا تھا۔رومن دیوتا ہیلیس جب ایک محل میں سفر کرنے کیلئے رکتا تو رات ہو جاتی۔آج اس مصری تہذیب کو چار ہزار پانچ سو سال اور رومن تہذیب کو دو ہزار سال ہو چکے ہیں۔لیکن آج کے سورج دیوتا کی داستان مصریوں اور رومن سے بہت جدید اور مختلف ہے۔
بیسویں صدی میں سورج دیوتا ہر خطے میں الگ الگ ہیں ۔امریکہ میں سورج دیوتا ٹرمپ ہے روس میں ولادیمیز پوٹن ،چین میں شی جن پنگ ،عرب میں محمد بن سلمان ،ترکی میں رجب طیب اردوان،مصر میں ڈکٹیٹرالسیسی،برطانیہ میں بورس جانسن،ایران میں آیت اﷲ خامنائی،بھارت میں آج کل مودی جبکہ پاکستان کے دیوتاہمیشہ نامعلوم ہی رہے ہیں ۔جو کسی دور میں نمایاں ہو جاتے ہیں اور کسی دور میں پردوں کو پیچھے ہی رہتے ہوئے ملک پاکستان میں کبھی دن کو اندھیرے کردیتے ہیں اور کبھی رات کو روشنیاں کردیتے ہیں ۔لیکن یہ دیوتا جب بھی نمایاں ہوتے ہیں یا پوشیدہ پاکستان دس سے پندرہ سال پیچھے چلاجاتا ہے۔پاکستان میں پہلے دیوتا سکندر مرزا تھے جہنوں نے میں ملک کو اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا ،دوسرے دیوتا ایوب خان تھے۔ایوب خان نے پاکستان میں جو اجالے کیے وہ آج تک قائم دائم ہیں ۔ایوب خان نے پاکستان کو اپنے علاوہ تین سورج دیوتا دیے ،ایک تو دیوتا خود تھے دوسرا منگلا ڈیم اور تیسرا تربیلا ڈیم دیا ،ایوب خان کے پاکستان کو دیے دو دیوتا کی بدولت آج بھی ملک میں روشنیاں نمایاں ہیں ۔پھر تیسرے دیوتا یحییٰ خان تھے انہوں نے بھی ملک کو اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا ۔پھر پاکستانی قوم کو ایک نیا دیوتا ضیاء الحق کی شکل میں ملا ۔اس دیوتا کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست ہے جو یہاں بیان کرنا مشکل ترین کام سمجھتا ہے۔کیونکہ ایک مرتبہ پہلے مجھے ایسے ہی دیوتا کے متعلق سچ لکھنے کا نتیجہ باخوبی بھگتنا پڑ چکا ہے ۔کیونکہ دیوتاؤں کی توہین کرنے والوں کو کبھی جلاوطنی ملی اورکبھی پھانسی ملی آخر میں کم ترین سزا کبھی لاپتہ ہوئے ۔پھر جن کی اچھی قسمت ہوئے جن پر دیوتاؤں کو رحم آجائے یا دیوتا ؤں کے قریب لوگ جن گستاخوں کی سفارش کردیں ان کو جلد رہائی بھی مل جاتی ہے۔کچھ دیوتاؤں کے گستاخ ایسے ضد کے پکے ہوتے ہیں وہ پھانسی پر چڑ جاتے ہیں یا جلاوطن ہوتے جاتے لیکن کبھی سفارش نہیں کراتے۔معذرت سے میں یہاں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوں گیا ہوں دیوتاؤں کی شان بیان کرتے کرتے میں ذاتی تجربات تک پہنچ گیا ہوں۔دیوتا ضیاء الحق کے بعد پاکستان کو پرویز مشرف کی شکل میں ایک عظیم دیوتا ملا ۔کہنے والے تو اس عظیم دیوتا کیخلاف بھی بہت کچھ بولتے ہیں لیکن ان کو شاید معلوم نہیں کہ اس دیوتا نے پاکستان کو کیا کچھ نہیں دیا ۔اس عظیم دیوتا کے ناقدین تو ان پر پاکستان میں دہشتگردی لانے کے الزامات بھی لگاتے ہیں ۔شاید ان کو دیوتا کی خوبیاں اور کارنامے سننے کی عادت نہیں ہے اس لیے عظیم دیوتا کی توہین کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ایک جج نے تو ان کیخلاف فیصلہ سناتے ہوئے تو حد ہی کردی تھی ۔اس عظیم دیوتا کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے سامنے والا جو چوک ہے’’ڈی چوک‘‘ وہاں تین دن تک لٹکانے کا فیصلہ تک سنادیا لیکن اﷲ بلا کرے لاہور کے ایک جج کا جس نے یہ جج کی عدالت کے قیام کو ہی غیر آئینی قراردے دیا۔لیکن یہاں ایک بات کا ذکر میں لازمی کرنا چاہوں گا ۔گزشتہ ستر سالوں سے دیوتا اپنے ناقدین کو غدار ثابت کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں لیکن کسی ناقد کو غدار ثابت نہیں کر سکے ۔لیکن ایک جج نے ایک عظیم دیوتا کو غدار ثابت کردیا۔ یہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔آج کل یہ غداری کے سرٹیفکیٹ کبھی نوجوانوں کو اور دیوتاؤں کے شدید ناقدین کو دیے جارہے ہیں ۔ نامعلوم اور پوشید دیوتاؤں سے گزارش ہے کہ وہ صرف تہواروں پر چڑھاوے اور نذارنے ہی قبول کیا کریں ۔دیوتا زیادہ جذباتی بھی نہ ہوا کریں کیونکہ زیادہ جذباتی ہونے سے ناقدین کا ایک ٹولہ اس جذباتی پن کو برداشت نہیں کرتا۔دیوتا صرف اپنی عوام کی حفاظت کریں اور ان کے خیر خواہ بنیں اور ناقدین پر توجہ کم دیں ۔جب دیوتا عوام کے خیر خواہ بن جائیں گے توان کے ناقدین بھی ان پر تنقید نہیں کریں ۔ناقدین بھی دیوتاؤں کی توہین کرتے ہوئے ارسطور اور فیثاغورث کا انجام اپنے ذہن میں رکھیں ۔دیوتاؤں کی توہین کرنے پر ارسطور کو زہر کا پیالہ پینا پڑا اور فیثاغورث کو جلاوطنی کاٹنا پڑی۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •