Voice of Asia News

کورونا وا ئرس کی بڑھتی ہوئی دہشت :محمد قیصر چوہان

 
کوروناوائرس کی بڑھتی ہوئی دہشت نے پوری دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اس کی وجہ سے صرف خوف وہراس ہی نہیں پھیلا بلکہ اس نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ کورونا وائرس نے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔ خوف کے باعث لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عاید کردی گئی ہے جس کی وجہ سے سیاحت ، ہوابازی ، ہوٹل ، ریستوران ہر چیز میں زبردست مندی ہے۔ جس جس ملک میں کورونا وائر س کی اطلاع پائی گئی، اس کا مقاطعہ کردیا گیا اور سرحدیں بند کردی گئی ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک میں کورونا وائرس کے وبائی صورت اختیار کرنے کی وجہ سے عملی طور پر پاکستان خود محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستان کی زمینی سرحدیں بھارت ، چین ، افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں اور ان چاروں سرحدوں پر پاکستان نے خود ہی آمد و رفت پر پابندی عاید کردی ہے۔ اس طرح سے پاکستان زمینی طور پر ازخود محصور ہو کر رہ گیا ہے۔اب صرف فضائی اور بحری راستے ہی آمد و رفت کیلئے کھلے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے بدلتی صورتحال کے باعث سارے ہی ممالک پیش بندی بھی کررہے ہیں اور اس کا توڑ کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔
جہاں تک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا معاملہ ہے تو چین میں یہ ہلاکتیں 3500سے زایدہو چکی ہیں۔ ہمسایہ ملک ایران میں اموات کی تعداد 291،سعودی عرب میں 13اور اٹلی میں97افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اٹلی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لگ بھگ پورا ملک بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 19تک جا پہنچی ہے۔ کوروناوائرس سے متاثرہ پاکستانی شہریوں میں سے متعدد صحت یابی کے بعد گھروں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ کراچی، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے جن چند افراد کے متاثر ہونے کا شبہ ہے ان کو کورونا وائرس کیلئے مخصوص علاج گاہ میں رکھا جا رہا ہے۔ اب تک کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کرونا سے کافی حد تک پاک ملک ہے۔ جو چند متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں وہ حال ہی میں ایران، شام اور دوحا کا سفر کر چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے انسداد کیلئے پاکستانی حکومت نے حفاظتی قدم اٹھاتے ہوئے کہ چین، ایران ،افغانستان اور بھارت سے ملحق سرحدوں کو بند کر دیاہے۔ اس فیصلے کے معاشی اور انسانی حوالے سے بعض پہلو اس لحاظ سے زیر بحث رہے ہیں کہ چین میں کئی سو طلبا اور تاجر وطن واپس نہیں آسکتے، ایران میں ہزاروں پاکستانی زائرین ضروری سکریننگ اور علاج کے بغیر اپنے گھر نہیں آسکتے۔ ان افراد کا وائرس زدہ ممالک میں تسلی بخش معائنہ اور علاج کے بغیر وطن واپس آنا گویا پورے ملک کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ صورت حال اس لحاظ سے اور بھی پریشان کن ہو سکتی ہے جب پاکستان میں کوروناوائرس سے نمٹنے کی سہولیات کی عدم دستیابی دکھائی دیتی ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے سب سے پہلا کام تو پاکستان کے لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت اپنے طور پر بھرپور حفاظتی تدابیر اختیار کر رہی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے مخصوص ہسپتالوں میں انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے تیار ہزاروں کٹس ان شہروں کو بھیج دی گئی ہیں۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے عالمی ادارہ صحت سے پاکستانی حکام مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ ایک چیلنجنگ صورت حال ہے جس نے پاکستان اور دنیا کے باقی ممالک کو اپنی ترجیحات از سر نو ترتیب دینے کی راہ دکھائی ہے۔ معاشی اور تجارتی قواعد اور تعلقات ہر قسم کی صورت حال سے جڑے ہوئے ہیں۔ بہت سے ممالک جنگوں سے منافع کماتے ہیں۔ کئی نفرت اور تعصب سے دولت حاصل کرتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی میں آگے اقوام بیماریوں سے فوائد حاصل کریں مگر کورونا وائرس نے دولت مند اور غریب ریاست میں تمیز نہ کر کے راستہ دکھایا ہے کہ انسانیت کو نئی ہلاکت خیز آزمائشوں کیلئے متحد ہونا ہو گا۔
کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں مندی نے دوسرے ممالک کی طرح امریکی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے جس کے توڑ کیلئے امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا نے فوری طورپر شرح سود میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ بیشتر یورپی ممالک میں شرح سود یا تو صفر ہوچکی ہے یا صفر کے قریب ہے۔ پاکستان کے حالات اس کے بالکل برعکس ہیں گو کہ مسلمانوں کیلئے سود لینا اور دینا سخت گناہ ہے تاہم آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم رضا باقر جو اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ہیں ، شرح سود 13.25 کی سطح پر لے آئے ہیں جو دنیا میں بلند ترین ہے۔ اس بلند ترین شرح سود کی وجہ سے پاکستان میں ساری ہی معاشی سرگرمیاں انجماد کا شکار ہوچکی ہیں بلکہ اب تو منفی صورتحال درپیش ہے۔ اتنی بھاری شرح سود پر کوئی بھی معاشی سرگرمی قابل عمل نہیں رہی ہے۔ رہی سہی کسر بجلی اور گیس کے بھاری نرخوں نے پوری کردی ہے۔ اس وقت پٹرول کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں 30ڈالر فی بیرل ہیں مگر پاکستان میں اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ عمران خان بتائیں کہ اس طرح کیسے ملک کی گاڑی چل سکتی ہے۔ اس وقت سود کی ادائیگی میں بجٹ کا سب سے بڑا حصہ چلا جاتا ہے۔ بھاری شرح سود کی وجہ سے حالات مزید گمبھیر ہوگئے ہیں۔ باہر سے لوگ بینکوں سے کم شرح سود پر قرض لیتے ہیں اور پاکستان کے ٹریڑری بل خرید لیتے ہیں۔ تین ماہ یا چھ ماہ کے بعد وہ بھاری شرح سود سمیٹتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے صرف شرح سود کی مد میں کی جانے والی ادائیگی 1900 ارب روپے سے بڑھ کر 2900 ارب روپے ہوگئی ہے۔ عمران خان آخر کیوں ملک دشمن پالیسی کو برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔ وہ کیوں شرح سود کو پانچ یا چھ فیصد پر نہیں لاتے۔ جب ملک میں معاشی سرگرمیاں ہوں گی تو ہر قسم کا ٹیکس بھی ملے گا اور حکومت کو ریونیو کی کمی کا بھی مسئلہ نہیں رہے گا۔ یہ آسان سا وہ نسخہ ہے جس پر عمران خان نیازی نامعلوم وجوہات کی بناء پر عمل کرنے سے پہلے دن سے انکاری ہیں۔ ابھی امریکا پر وہ اثرات نہیں آئے ہیں جو پاکستان پر آچکے ہیں مگر امریکا نے فوری طور پر شرح سود میں کمی کردی۔ پاکستان کے تو حالات انتہائی خطرناک ہیں ، عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت روز زوال کا ایک نیا سنگ میل عبور کرتی ہے۔ ڈالر کی بے قدری کے احمقانہ فیصلے نے پہلے ہی معیشت کی چولیں ہلادی ہیں کہ اب کورونا کی وجہ سے پاکستان عملی طور پر محصورہوکر رہ گیاہے۔ ایسے میں عاقبت اندیشی تو یہی تھی کہ بجائے لوگوں کو محصور کرنے کے ، انہیں مزید سرگرم کیا جاتاتاکہ معیشت کا پہیہ چل سکے۔ چین ہی دنیا میں بڑی پیداوار والا ملک رہا ہے۔ چین اور دیگر ممالک کی سرحدیں بند ہونے سے دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پاکستان آگے بڑھ کر اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتا۔ اس سے پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں دوبارہ سے اپنا مقام حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی۔ اب بھی وقت ہے کہ عمران خان عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ایجنٹوں سے چھٹکارا حاصل کریں اور اہم کلیدی اسامیوں پر محب وطن اہل افراد کا تقرر کریں جو آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے بجائے ملک کے مفاد میں پالیسیاں تشکیل دیں۔ روپے کی قدر کو بتدریج بہتر کیا جائے ، پٹرول کی عالمی منڈی میں کم ہونے والی قیمت کا فائدہ پاکستانی صارفین کو پہنچایا جائے ، بجلی اور گیس کے نرخوں کو نہ صرف کم کیا جائے بلکہ بجلی اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی چور بازاری سے نجات دلائی جائے اور سب سے بڑھ کر بینکوں کی شرح سود کو حقیقی سطح پر نیچے لایا جائے۔ اس کے بغیر ملک میں معاشی سرگرمیاں نمو نہیں پاسکتیں اور جب تک معاشی سرگرمیاں نمو نہیں پائیں گی ، عمران خان نیازی کو ہمیشہ ریونیو کے شارٹ فال کا سامنا رہے گا اور آمدنی میں کمی کا مطلب ہے آئی ایم ایف کے سامنے سجدہ ریزی۔ آئی ایم ایف کی غلامی سے چھٹکارے کا واحد راستہ خود انحصاری ہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ جتنی جلد ہوسکے عمران خان ملک کو خود انحصاری کے راستے پر ڈال دیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •