Voice of Asia News

ریڈیو پاکستان کی آواز پھر کانوں میں گونجے گی : محمد نوازطاہر

السلام علیکم ، پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔۔۔یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ساتھ پاک سرزمین کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ، اس سے پہلے ہونے والے اعلان میں اسی مائیک سے آلآینڈیا ریڈیو سروس کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے ۔ قیامِ پاکستان اور اعلانِ پاکستان کا ذکر ان الفاظ کے بغیر نامکمل ہے ۔ یوں ریڈیو پاکستان اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں گو ، ریڈیو پاکستان ریاست کا ادارہ ہے لیکن جیسے ریاست کے زیر انتظام شائع ہونے والے پاکستان پریس ٹرسٹ کے اخبارات بشمول پاکستان ٹائمز اس کے باوجود بیچ دیے گئے کہ ٹرسٹ توڑے بغیر اس کی املاک بیچنا قانونکی نظر میں ایک غیر مناسب علم ہے ، بیچ دیے گئے ہیں ، بعید نہیں کہ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بھی کوئی حکمران یہی سلوک کرے خاص طور پر ایسے حالات میں جبکہ ریڈیو پاکستان کا حجم کرنے کی پاکستان تحریکِ انصاف ہی حکومت نے بھی کوشش کی جو ریڈیو پاکستان کے ملازمین ، کنٹری بیوٹرز اور سامعین کی کوششوں سے کامیاب نہ ہوسکی اور اب یہ تمام سٹیلک ہولڈر مطمئین ہیں کہ ریڈیو پاکستان بڑے آرام سے چل رہا ہے ۔ ریڈیو پاکستان پر ایک حملہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں کچھ عرصہ تک رہنے والے ایک ڈائریکٹرجنرل (مرتضیٰ سولنگی ) نے میڈیم ویوز چھ سے تیس کلو ہرٹس کی نشریات بند کرکے ریڈیو کو خاصا نقصانپہنچایا تھا اور پھر ریڈیو کے سامعین ہی کی کوششوں سے یہ نشریات بحال ہوئی تھیں ۔اب تازہ ہوا کا ایک اور جھونکا یہ خبر لایا ہے کہ ریڈیو پاکستان کی نشریات میں بہتری لانے ایک منصوبہ دستاویزات میں موجود ہے ۔ اس منصوبے کے تحت یڈیو پاکستان کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا اور جنوبی پنجاب میں فورٹ منرو کے مقام پر ایک بڑا ڈی ایم آر میڈیم ویوز ٹرانسمیٹنگ سسٹم لگایا جائے جس سے نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک ریڈیو پاکستان کی نشریات آسانی سے واضح طور پر سنی جاسکیں گی ۔ اس سے کوئی بھی اختلاف نہیں کرسکتا کہ پاکستان میں ریڈیو پاکستان نے مذہبی ، تعلیمی اخلاقی ، معلوماتی اور تفریحی حوالوں سے جو خدمات انجام دی ہیں وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سنہرہ باب ہے ۔ ریڈیو پاکستان کی نشریات ملک بھر میں پھیلانے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کئی ایک مقامات پر ریڈیو سٹیشن بنائے ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل حالات کی ٹھنڈ لگ گئی اور وہ سکڑنا شروع ہوگیا لیکن جیسے ہی ریڈیو پاکستان کی ترقی کے حوالے یہ دستاویزات سامنے آئی ہیں ان سے لگتا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو بھی ریڈیو کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے اور اب ریڈیو پاکستان بہتری کی شاہراہ پر چڑھنے والا ہے ۔
ریڈیو پاکستان کے سامعینکی تعداد میں کمی تسلیمکرنا پڑے گی جس کی بنیادی وجہ ایف ایم ریڈیو کی نشریات ہیں ،ابتدا میں یہ نجی شعبے میں ترقی کرچکیں تو ان کے مقابلے کیلئے ریڈیو پاکستان نے بھی ایف ایم چینل شروع کردیے جنھوں نے ریڈیو پاکستان کے سامعین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف واپس کھینچ لیا ۔ ممکن ہے کہ ایف ایم ریڈیو کی اسی کامیابی کے پیشِ نظر پی ٹی آئی کی حکومت نے خیال ظاہر کیا ہو کہ ریڈیو پاکستان کا حجم کم کرکے اسے سارے کا سارا ہی ایف ایم ریڈیو چینل میں تبدیلکردیا جائے ؟ اس معاملے پر ریڈیو کے حکام نے بھی ہوسجکتا ہے کوئی مزاحمت کی ہو لیکن جو مذاحمت ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے وزارتِ اطلاعات کی سربراہ بننے کے بعد کی گئی اور انہوں نے سرکاری عندیے پر عملدرآمد رکوانے کا جو وعدہ کیا ، وہ پورا کیا ہے جس پر انہیں کریڈٹ دینا پڑے گا کیونکہ وہ اطلاعات کے محکمے کی وزیر رہ چکی ہیں اور ریڈیو کی اہمیت کو جانتی ہیں ۔ انہیں بخوبی علم ہے کہ ایف ایم ریڈیو کی نشریات کادائرہ انتہائی محدود جبکہ میڈیم اور شارٹ ویوز کا انتہائی وسیع ہوتا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں نیا سسٹم لگانے سے ایک پہلو یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کو کتنی خاص اہمیت دیتی ہے ۔ جیسا بھی اگر حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد کرتی ہے تو یہ بہت بڑا کام ہوگا جبکہ یہ فوری شروع کیا جانے والا منصوبہ ہے جس میں تاخیر نہیں ہونا چاہئے ، اس کے ساتھج ساتھ حکومت کو اپنے دوسرے داروں کی مدد اور تعاون ایکایک ایسی اینڈورائیڈ ایپلیکیشن بھی بنانا ہوگی اور ہر اینڈورائیڈ ٹیلی فون پر اس کو ڈاؤمن لوڈ کرنالازم قار دلانا ہوگا تاکہ اس کی نشریات سے ہر کوئی استفادہ کرسکے کیونکہ اب ٹرانسسٹر رکھنا معمول نہیں رہا اور زیادہ تر ریڈیو اسی موبائل فون پر ہی سنا جاتا ہے اور ایف ایم ریڈیو کی مقبولیت یا اس کے سنے جانے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون ہی ہے جبکہ میڈیم ویوز اور شارٹ ویوز نہیں سنی جاسکتیں ۔
اس بات پر حکومت پاکستان کے ذمہ داران کوغور کرنا ہوگا کہ جو لوگ ایف ایم ریڈیو کی نشریات سُن رہے ہیں ، اُن میں سے کتنے ایسے ہیں جن کاقومی زبان اُردو کا تلفظ خراب ہوگیا ہے ؟ میڈیم اور شارٹ ویوز کی نشریات موبائل فون پر شروع کردی جائیں یہ قومی زبان کی بھی بہت بڑی خدمت ہوگی اور نجی ایف ایم ریڈیو چینلز کو بھی ریڈیو پاکستان جیسی( زبان و بیان کے لحاظ سے ) ذمہ دارانہ نشریات کی طرف لوٹنا پڑے گاورنہ وہ مقابلہ نہیں کرپائیں گے ۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •