Voice of Asia News

کورونا وائرس اور حکومتی اقدامات:اسرار احمد چغتائی

یہ بات تو طے ہے کہ ملک میں کورونا کا مرض درآمد شدہ ہے۔ سب سے زیادہ مریض ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہی یہ تھا کہ ایران سے آنے والے افراد کو ائرپورٹ پر یا سرحد پر ہی قرنطینہ کردیا جاتا اور جب تک وہ کلیئر نہ ہو جاتے انہیں عام آدمیوں میں گھلنے ملنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ اس کے برخلاف پاکستان میں عجیب و غریب کام یہ کیا گیا کہ حکومت میں شامل دو وزراء نے تفتان کے راستے ایران سے آنے والے زائرین کو ملک میں براہ راست داخل کیا۔ اب کہا جارہا ہے کہ ان افراد کا کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور انہیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا ، اب تک تو جو تقصان ہونا تھا ، ہو چکا ہوگا۔ اسی طرح جن افراد کو تفتان میں واقع قرنطینہ کیمپ میں رکھا گیا ، ان کی بھی صورتحال بہتر نہیں تھی۔ سارے افراد مل جل کر بیٹھے رہتے تھے ، ان میں سے ایک بھی آئسولیشن میں نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ کورونا کا شکار نہیں تھے ، وہ بھی اس کا شکار ہوگئے۔ یہ تو وفاقی حکومت کا معاملہ ہے ، بداحتیاطی میں سندھ حکومت بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ سندھ حکومت نے ایران سے آنے والے زائرین کے لیے سکھر میں قرنطینہ کیمپ قائم کیا ہے۔ وہاں کے جو بھی وڈیو کلپ سامنے آئے ہیں ، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ سکھر میں بھی صورتحال خوش کن نہیں ہے۔ سکھر میں مقیم افراد کو جس طرح سے رکھا گیا ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں پر بھی مقیم افراد میں یہ وائرس محدود رکھنے کے بجائے اس کے پھیلاوؤکا سبب ہی بن رہا ہے۔ حکومت سندھ کے معاملات بھی عجیب و غریب ہیں۔ معاملات کو تدبر سے نمٹانے کے بجائے ہر وہ قدم اٹھایا گیا جس سے صوبے میں زبردست خوف و ہراس پھیلے۔
شادی ہالوں پر پابندی عایدکردی گئی جس کے بعد لوگوں نے مجبور ہو کر ریستورانوں میں ضیافت کا اہتمام کرلیا۔ پولیس کے مطابق ریستورانوں میں ویسے تو لوگوں کے جمع ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے مگر شادی والے آئیں گے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا اور پیر کو پولیس نے کیا بھی ایسا ہی۔ حکومت سندھ نے ہفتہ واری بچت بازاروں پر پابندی ، شادی ہالوں میں پروگراموں پر پابندی ، ریستورانوں پر پابندی ، شاپنگ مالز پر پابندی، بازاروں کے کھلنے پر پابندی جیسے جتنے بھی اقدامات کیے ہیں ، ان سے عام فرد شدید متاثر ہوا ہے۔ اب سید مراد علی شاہ بتائیں کہ جو لوگ روز کماتے اور کھاتے ہیں ، وہ اب کیا کریں۔لوگ کورونا سے متاثر ہوں یا نہ ہوں، سید مرادعلی شاہ کے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں بھوک اور مفلوک الحالی سے ضرور مر جائیں گے۔
کورونا کے نام پر جتنے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ، وہ ناقابل سمجھ ہیں۔ کورونا کے نام پر پورے ملک میں افراتفری پھیلادی گئی ہے۔ سارے تعلیمی ادارے بند ، مدارس بند، پارک ، سنیما گھر سمیت ساری تفریح گاہوں پر تالا ، تمام درگاہیں و مزارات بند ، عرس پر پابندی ، یوم پاکستان کے سارے پروگرام منسوخ ، اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے بغیر پی ایس ایل کے میچ ،بعد ازاں پی ایس ایل کے دونوں سمیئی فائنل اور فائنل میچ منسوغ کردیا گیا۔ شادی بیاہ کے اجتماعات پر پابندی، نماز جمعہ مختصر ترین وقت میں ادا کرنے کا حکم وغیرہ وغیرہ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں خوف کا ماحول بنادیا گیا ہے۔سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اس معاملے میں زیادہ پھرتیلے ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے وہ اقدامات بھی کرڈالے ہیں جو شاید کسی قدرتی آفت کی صورت میں بھی سندھ حکومت نہ کرتی۔ سمجھ میں نہیں آرہا آخر عمران خان نیازی اور سید مراد علی شاہ چاہتے کیا ہیں۔ کیا انہیں اندازہ ہے کہ اْن کے ان اقدامات سے ملک پر اور شہریوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کورونا سے تو شاید ملک میں کوئی نہ مرے مگر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں غربت اور بھوک سے لوگ ضرور مرجائیں گے۔ اگر کوئی آفت آبھی جائے تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بردباری کا مظاہرہ کرے اور شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے مذکورہ آفت کے تدارک کے لیے اقدامات کرے۔ حکومت بتائے کہ اس نے کورونا وائرس سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔ اب تک حکومت کے جو اقدامات سامنے آئے ہیں وہ محض قرنطینہ کا قیام ہے۔ پاکستان میں اب تک جتنے بھی افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے ، وہ سب دیار غیر سے وطن واپس لوٹے ہیں اور وہیں پر انہیں کورونا کا مرض لگا۔ ابھی تک پاکستان میں بھی ایک ایسا مریض سامنے نہیں آیا ہے جسے پاکستان کے اندر ہی کسی دوسرے فرد سے یہ مرض لگا ہو۔ یہ انتہائی خوش کن صورتحال ہے اور اس وائرس کو روکنے میں انتہائی ممد و معاون بھی ہے۔ یعنی باہر سے آنے والے افراد پر نظر رکھی جائے اور بس۔ حکومت یہ سب کربھی رہی ہے تو پھر ملک میں شادی ہالوں پر تالے ، نماز جمعہ کے اجتماعات کو مختصر کرنے ، تفریح گاہیں بند کرنے ، مزارات و درگاہیں بند کرنے جیسے اقدامات کیوں کیے جارہے ہیں۔ تعلیمی ادارے کیوں بند کردیے گئے ہیں اور امتحانات وقت پر لینے کے بجائے کیوں منسوخ کردیے گئے۔ کیا حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں مزید تباہی پھر جائے۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک پہلے ہی شدید معاشی دباؤکا شکار ہے۔ عمران خان کی احمقانہ معاشی پالیسیوں نے ملک کو ایسی دلدل میں پھنسادیا ہے جہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ پہلے تو ملک آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے دیے گئے املا پر چلا کرتا تھا ، عمران خان نیازی نے تو مزید کمال یہ کیا کہ ملک کی معیشت ہی آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے کارندوں کے براہ راست حوالے کردی۔میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ ملک میں کورونا کے نام پر غیر ضروری اقدامات کرنے سے گریز کیا جائے اور شادی ہال ،مزارات اور تفریح گاہیں بند کرنے جیسے اقدامات کو واپس لیا جائے۔ اسی طرح تعلیمی ادارے بھی کھولے جائیں اور نویں جماعت کے امتحانات بھی بروقت لینے کے انتظامات کیے جائیں۔ کورونا وائرس پر ضرور نگاہ رکھی جائے اور غیر ممالک خصوصی طور سے ایران سے آنے والوں کی ضرور سخت چیکنگ کی جائے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر پورے ملک کا لاک ڈاؤن کردیا جائے۔ حکومت کورونا کے پیچھے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے بجائے اصل کاموں پر توجہ دے۔ وفاقی حکومت ترقیاتی کاموں پر توجہ دے ، روپے کی قدر کی بہتری ، پٹرول و گیس کے نرخوں میں کمی اور بجلی کی مسلسل فراہمی اور اس کے نرخوں میں کمی کرے۔ ملک میں مسلط آئی ایم ایف کی ٹیم کی چھٹی کی جائے اور ملک کے مفاد میں معاشی اقدامات کیے جائیں۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ قوم اس وائرس سے نہ گھبرائے، وہ خود کورونا کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیکن حکومت کے تمام اقدامات اس کے برعکس ہیں اور قوم کو خوف میں مبتلا کر رہے ہیں۔
asrarchughtai007@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •